347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 26) Last Episode

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

رانیہ بہت اُداس تھی۔ وہ آج ہاسپٹل سے ریزیگنیشن دے کر جا رہی تھی۔ ڈاکٹر حمزہ نے اس کا اسلام آباد میں جاب کا انتظام بھی کیا تھا. جہاں اس نے جاتے ہی جوائننگ دینی تھی۔

ڈاکٹر حمزہ نے اپنے احساسات کا اظہار بھی رانیہ سے کیا تھا کہ وہ اسے چاہتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہاں سے نہ جائے لیکن رانیہ اپنی بہن کی خاطر یہاں سے جانا چاہتی تھی۔ حالانکہ رامین نے اسے کہا تھا کہ وہ یہیں اپنی جاب کنٹینیو رکھے اور وہ اسلام آ باد چلی جاتی ہے۔ وہ ہاسٹل میں رہ لے گی۔ کسی کو اپنی لائف ڈسٹرب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن رانیہ کا کہنا تھا کہ رامین نے اب تک سب کچھ تنہا فیس کیا ہے اور ایک بار پھر اسے تنہا ہی چھوڑ دیا جائے۔ وہ اس بات کے لیے بالکل بھی راضی نہیں تھی۔ اس لیے اس نے بھی رامین کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جب بچیاں ہی دوسرے شہر جا رہی تھیں تو فرح بیگم یہاں رک کر کیا کرتیں؟

لیکن رانیہ اپنا دل یہیں ڈاکٹر حمزہ کے پاس چھوڑ کر جا رہی تھی۔ اگر رامین کو ذرا سا بھی اندازہ ہوتا تو وہ رانیہ کو ساتھ لے جانے کی حامی کبھی نہ بھرتی۔

———————-

” کیا ہوا آج ڈاکٹر اتنا برہم کیوں ہے؟“ شہریار حمزہ کے پیچھے ہی اس کے کمرے میں آیا جو منہ لٹکائے بیٹھا تھا۔

” مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی بھائی آپ بھی جائیں۔“

” یار تمہاری بھابھی نے آج اتنا مزے کا کھانا بنایا ہے اور تم مجھے جانے کا کہہ رہے ہو؟“

” ہاں بھائی آپ جا کر کھا لیں مجھے بھوک نہیں ہے۔“

” ایسے ہی کھا لیں اور تمہیں بھوک کیوں نہیں ہے؟ مجھے بھی تو بتاؤ کیا ہوا ہے؟“

” بھائی وہ کراچی چھوڑ کر جا رہی ہے۔“

” کون؟“

” رانیہ خالد۔۔ میرا دل لے کر وہ خاموشی سے یہ شہر چھوڑ کر جا رہی ہے۔”

” تو میرا بھائی چاہتا ہے کہ اسے روک لیا جائے.”

” آف کورس بھائی میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ بہت ہی قابل ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ میری محبت بھی ہے۔ وہ دل پر حکومت کرنا بھی جانتی ہے۔”

” چلو تمہارا یہ مسئلہ میں ابھی حل کرواتا ہوں۔” شہریار نے مسکراتے ہوئے موبائل نکالا اور کال ملا لی۔

” ہیلو صارم کیسے ہو؟”

صارم نے پہلی ہی بیل پر کال اٹھا لی۔

” میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟“

” مجھے چھوڑو کہاں پہ ہو؟”

” سائٹ پر جا رہا ہوں۔”

” تم سائٹ کے چکر لگاتے رہنا تمہاری زندگی سائیڈ سے گزر جائے گی.”

” کیا بک رہے ہو سیدھا سیدھا بولو۔”

” سیدھا سیدھا یہ معاملہ ہے کہ تمہاری بیوی شہر چھوڑ کر جا رہی ہے۔”

” کب کیوں کس لیے؟”

” آج ہی جا رہی ہے تم سے بچ کر اور تم سے پیچھا چھڑانے کے لیے۔ باقی سوال کے جواب وہ خود دے گی۔”

” تمہیں كس نے بتایا؟”

” تمہارے ہم زلف نے۔“

” حسن نے۔“

” نہیں یار میرا بھائی تمہاری کسی گنتی میں نہیں ہے۔ ایسا تو نہ کرو۔ میرا بھائی بھی بہت قابل ڈاکٹر ہے ہینڈسم بھی ہے. تمہاری سالی کو بہت خوش رکھے گا۔”

” یار شہریار سیریس ہو جاؤ۔“

” آئی ایم ریئلی سیریس وہ آج شام کی ٹرین سے اسلام آباد جا رہی ہے۔”

” ٹرین میں جا رہی ہے دماغ خراب ہے اس کا۔ اتنی لمبی بیماری سے اٹھی ہے اور اتنا لمبا ٹریول کرے گی عقل سے بالکل ہی پیدل ہے۔”

” عقل سے پیدل صارم شاہ کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنے کے لیے عقل سے پیدل رامین خالد ہی چلنی چاہیے۔“

” بولنے میں تو غلطی کر رہا ہے رامین صارم۔“

” یار آپ دونوں تو اپنی باتوں میں لگ گئے ہو۔ میری ٹرین نکل جائے گی۔

بھائی آپ کہہ رہے تھے کہ آپ اسے روک لیں گے آپ تو یہاں یہ سب لے کر بیٹھ گئے ہیں۔” حمزہ تیزی دروازے کی طرف بھاگا۔

” میرے بھائی کیونکہ روکنے کا کام اب صارم کا ہے۔ صارم نے روک لیا تو تمہاری گاڑی بھی رک جائے گی۔“

” بات سن جگر میرے بھائی کا دل بھی اسی ٹرین میں اسلام آباد جا رہا ہے جلدی پہنچو سٹیشن۔“ وہ دونوں تیزی سے سیڑھیاں اُترنے لگے۔

صارم نے گاڑی سٹیشن کے راستے پر ڈال دی۔

——————–

رامین رانیہ اور فرح بیگم سٹیشن پر پہنچ چکے تھے۔ رابعہ حسن اور اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی عمارہ کے ساتھ انہیں سٹیشن پر چھوڑنے آئی تھی۔

ٹرین تیسرے پلیٹ فارم پر آنی تھی۔ وہ لوگ اپنا سامان اٹھائے تیسرے پلیٹ فارم پر پہنچ چکے تھے۔ ٹرین کے آنے کا انتظار تھا۔ اسٹیشن پر بھانت بھانت کی بولیوں کا شور تھا۔

ان کی ٹرین آنے سے پہلے سائرن دے چکی تھی اور اپنے آنے کا پتا بھی دے چکی تھی۔

ٹرین کے پلیٹ فارم پر آتے ہی رش بڑھ گیا۔ لوگ ایک دوسرے کو دھکا دے کر ٹرین میں چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے اور اپنا سامان رکھ رہے تھے۔

تینوں بہنوں اور فرح بیگم کی آنکھیں نم تھیں۔ کب سوچا تھا انہوں نے کہ زندگی انہیں اس نہج پر لے آئے گی۔ لوگ بھاگ رہے تھے اور وہ چاروں تھم گئی تھیں اور ایک دوسرے سے نگاہیں چرا رہی تھیں۔

رامین کا دل بھی یہاں سے جانے کا نہیں کر رہا تھا لیکن وہ مجبور تھی۔ اسے یہاں سے جانا تھا۔ اگر وہ یہاں رہتی تو صارم اسے چین سے نہ رہنے دیتا۔

پھولے پھولے گالوں والی دو پونیوں کو باندھے ڈیڑھ سالہ عمارا بہت خوبصورت بچی تھی۔ وہ آنکھیں مٹکا مٹکا کر رامین کو دیکھ رہی تھی۔

رامین نے جھک کر اس بچی کے پھولے گالوں پر پیار کیا۔

عمارہ بھی ماں نانی اور خالہ کو آنسو بہاتا دیکھ کر بے چین تھی۔

صارم کو ان کی سیٹ اور ڈبہ نمبر نہیں پتا تھا لیکن تیسرے پلیٹ فارم پر آتے ہی اسے دور سے ہی حسن نظر آ گیا۔

وہ بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔

شہریار اور حمزہ بھی اس کے پیچھے ہی تھے۔

رامین کی جیسے ہی نظر صارم پر اٹھی تو اس نے پلٹ کر رانیہ کو دیکھا۔

” تم نے بتایا ہے؟“

” نہیں رامين ٹرسٹ می۔“

” رومی پلیز مت جاؤ تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟“

” صارم مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔”

” پلیز رومی ایسے مت کہو۔ میری بات ایک بار سن لو۔”

” رامین پلیز ایک بار تو ان کی سن لو۔” رانی نے رامین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسرار کیا۔

رامین خاموش ہو گئی۔ جیسے بات کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

” پلیز مت جاؤ تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟“

” کیوں تمہارا انتقام ابھی پورا نہیں ہوا؟“ رامین نے صارم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” کون سا انتقام میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔”

” تاکہ تم مجھے یہاں سے جانے کی سزا دے سکو؟”

” نہیں تاکہ میں اپنے دل کو قرار دے سکوں۔”

” صارم شاہ میں تم سے ڈیوورس کا مطالبہ نہیں کروں گی تاکہ تمہاری نام نہاد ایگو ہرٹ نہ ہو۔”

” تم یہاں سے جاتے ہوئے چار دل توڑ رہی ہو۔ رانی حمزہ سے محبت کرتی ہے۔ تم نے آج تک رانی کی کوئی خواہش ادھوری نہیں چهوڑی تو آج ایسا کیسے کر سکتی ہو؟”

رامین نے بے یقینی سے رانی کی طرف دیکھا۔ رانیہ نے بوکھلا کر صارم کو پھر حمزہ کی طرف دیکھا۔ جس نے اسے آنکھ ونک کی۔

” میں نے تو ڈاکٹر حمزہ کو کبھی نہیں ہتایا تو انہیں کیسے پتا چلا؟” رانیہ نے حیرت سے سوچا۔

رامین نے حمزہ کی طرف دیکھا۔

” آج بھی رانی کی کوئی خواہش ادھوری نہیں رہے گی۔”

” میں اور تم ہمارے دلوں کا کیا؟ میں اور تم بھی تو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔”

” تم اپنی بات کرو صارم۔ میں تم سے محبت نہیں کرتی۔” آنکھیں خاموشی سے آنسووں سے بھرنے لگیں۔

” اگر تم مجھ سے محبت نہیں کرتی تو اب تک پینڈینٹ کیوں نہیں اتارا؟”

کمینہ پینڈینٹ نظر آ بھی گیا۔ رامین نے گھور کر دیکھا۔

صارم تیر نشانے پر لگتا دیکھ مسکرا دیا۔

” میں بھی تو تم سے محبت کرتا ہوں۔”

” نہیں صارم مجھے دیکھ کر تمہاری ایگو ہرٹ ہوتی ہے اور غصہ ختم نہیں ہوتا۔ میں اپنی ذات کو مزید پامال ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔

تمہیں ایک اور موقع نہیں دے سکتی کہ تم اس آوارہ شہریار کے پاس بیٹھ کر پھر سے میرا مذاق بناؤ۔”

” میں آوارہ نہیں ہوں۔ میں تو بیوی بچوں والا شریف انسان ہوں۔ آوارہ یہ ہے۔ اس کو زنجیریں ڈالنے کی ضرورت ہے۔”

” پلیز رومی مت جاؤ۔ مجھے معاف کر دو۔” صارم اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

” صارم پلیز مجھے جانے دو۔” رامین نے بہتی آنکھوں سے کہا۔

” ٹھیک ہے اگر تم نہیں رکی تو یہ ٹرین پہلے مجھے کچلے گی اور پھر تمہارا اسلام آباد کا سفر شروع ہو گا۔”

رامین کے دل کو ہاتھ پڑا۔

” پھر تم کہو گے یہ انتقام تھا۔”

” تم دو تھپڑ اور لگا دینا۔”

” نہیں پھر میں تم سے انتقام لوں گی۔” رامین نے انگلی اٹھا کر وارن کیا۔

” ہاں ٹھیک ہے پر پلیز مت جاؤ۔ میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر۔”

رامین نے ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا۔ صارم نے اُسے ساتھ لگایا۔

پورا سٹیشن تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔

” تم بہت بدتمیز ہو۔ ہر کام دھونس سے کرتے ہو۔”

” میری ڈھٹائی کو تم مان جو لیتی ہو۔” صارم نے اس کے سر پر بوسہ دیا۔

رامین ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی۔

” آنٹی میں آج آپ کی بیٹی کا ہاتھ مانگتا ہوں۔”

” ایسے نہیں آپ گھر آئیں۔” حسن نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔

” ہاں ہم گھر آ کر رشتہ لے کر جائیں گے۔” شہریار بھی ایکسائٹڈ ہوا۔

” جی نہیں میں اسے ابھی رخصت کروا رہا ہوں۔ اس کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ یہ اچانک پلٹ جائے گی۔

فارمیلٹی ایونٹ اس ویکینڈ پر ہو گا۔” صارم نے رامین کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے۔

” اوئے یار جا کہاں رہا ہے؟” شہریار بھی اس کے پیچھے تھا۔

” پہلے ہم سائٹ جائیں گے پھر گھر۔” صارم نے رامین کو آنکھ ونک کی۔

” سدھر جاؤ۔” رامین نے اس کے کندھے پر مارا۔

سبھی ہنس دیے۔

———————-

رانیہ اور رابعہ سٹیج پر آئیں۔ ان کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا۔

” بات سنو دودھ پلائی مجھ سے لے لینا ابھی اپنی رخصتی کی ڈیٹ فائنل کرواؤ۔” شہریار کی سرگوشی بھی اتنی واضح تھی کہ سٹیج پر موجود سب نے سنا۔

سب ہنسنے لگے۔

” حمزہ تو تمہارا ہی ہے رانی دودھ پلائی مانگو۔”

سب کے چہرے خوشی سے ٹمٹما رہے تھے لیکن ان سب سے زیادہ خوشی صارم کی آنکھوں میں تھی۔

” صارم بھائی مجھے رامین کی خوشی چاہیے۔ آپ وعدہ کریں اسے ہمیشہ خوش رکھیں گے۔” رانی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” تم نے پھر سے میرے لیے مانگ لیا۔ اپنے لیے کچھ مانگو۔”

” یہ میرے لیے ہی ہے۔ اس وعدے کو توڑیے گا مت ورنہ ہماری ناراضگی کنفرم ہے۔”

صارم نے مسکراتے ہوئے دو کیسز اُن کی طرف بڑھائے۔ جن میں رنگز تھیں۔

” رومی اپنی رانی بہت جذباتی ہے بالکل تمہاری طرح۔ یہ اپنے لیے بھانجہ مانگتی تو میرا بھی فائدہ ہوتا۔” صارم نے شرارت سے کہا۔

رامین نے صارم کو گھور کر دیکھا۔ کیمرے کی آنکھ نے یہ منظر ہمیشہ کے لیے قید کر لیا۔

———————-

” یار صارم بھائی ہمارے بارے میں بھی سوچیں ہم کب تک بندھ کر کھلے رہیں گے؟” حمزہ نے دہائی دی۔

” مجھے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ چاہو تو ابھی ابھی سٹیج پر بیٹھو اور رخصتی لے لو۔”

” بالکل نہیں حمزہ صارم بھائی خود آپ لوگوں نے کتنی شاپنگ کی ہے اور ہمیں ایسے ہی چلتا کریں گے۔ ہم بھی پہلے خوب ساری شاپنگ کریں گے پھر شادی۔” رانی نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے کہا۔

” چلو بھئی حمزہ تمہاری دلہن تو تیار بیٹھی ہے۔ کل سے شاپنگ شروع کرو اگلے مہینے تم لوگوں کی دھوم دھام سے شادی ہو گی۔” شہریار نے فائنل کیا۔

حمزہ نے رانیہ کو محبت سے دیکھا۔

ہر طرف ان کے خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔

———————-

دو سال بعد

آج رانیہ کے بیٹے طلحہ کی پہلی سالگرہ تھی۔ سبھی رشتے دار مدعو تھے۔

پورا گھر بلو بلونز سے سجایا گیا تھا۔

رامین نے شرارتی سے طلحہ کو دیکھتے ہی اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اسے چٹاچت پیار کرنے لگی۔

” صارم اسے دیکھو یہ پورا اپنی مما جیسا ہے شرارتی سا۔”

صارم اس کی طلحہ کی لیے والہانہ محبت کو عقیدت سے دیکھ رہا تھا۔

صارم نے اس کی ہر خوشی ہر سکھ کا خیال رکھا تھا لیکن ایک چیز جو اس کے بس میں نہیں تھی۔ وہ اولاد کا سکھ تھا۔

ڈاکٹر کے مطابق کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ کافی ٹائم کوما میں رہنے کی وجہ سے اس کی انر باڈی کافی کمزور ہو گئی تھی۔ اس لیے یہ سب ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔

صارم رامین کی اس تڑپ کو بہت دکھ سے دیکھتا تھا اور اس کی دعاؤں میں مزید شدت آجاتی تھی۔

صارم نے جھک کر رامین کی بانہوں میں پکڑے طلحہ کو پیار کیا۔

صارم کی خوشبو رامین کو ڈسٹرب کرنے لگی۔

” طلحہ کے ساتھ ساتھ اس کی خالہ بھی بہت پیاری ہے۔” صارم نے رامین کو اپنے حصار میں لیا۔

کیمرے کی آنکھ نے ان کی یہ پکچر کیپچر کر لی۔

” اس کی آنکھیں اپنے پاپا پر گئی ہیں۔” صارم نے اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔ صارم نے جھک کر کو پیار کیا۔ رامین نے مسکراتے ہوئے سر صارم کے کندھے پر ٹکا دیا۔

بہت دھوم دھام سے اس کا برتھ ڈے سیلیبریٹ کیا گیا۔

———————-

علی شاہ نے رامین کے لیے نیا آفس بنوایا تھا لیکن صارم اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا تھا اور اس کا ٹیبل اپنے آفس میں ہی رکھوایا تھا۔

دونوں کی زندگی بہت خوشحال گزر رہی تھی۔

وہ ابھی آفس سے واپس آئے تھے۔ رامین روز کی طرح صارم کی ٹائی کی ناٹ کھولنے لگی۔ وہ صارم کا ہر کام خود کرتی تھی۔ صارم اس کی کمر میں بازو حمائل کیے اس پر جھکا۔

” صارم باز آؤ۔”

” کیوں میں اپنی زندگی کے ساتھ ہوں۔” صارم اس کی گردن پر جھکا اسے محسوس کے رہا تھا۔ جب اچانک رامین اس کا حصار توڑ کر واش روم بھاگی۔

صارم فکر مند ہوا۔

واش روم سے رامین کی وومٹنگ کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

” رومی آر یو اوکے؟” صارم پریشانی سے پوچھنے لگا۔

” ہمم دل گھبرا رہا ہے۔” رامین نے چہرہ ٹاول سے صاف کرتے ہوئے کہا۔

” کب سے؟”

” کافی دیر سے۔”

” اور یہ تم مجھے اب بتا رہی ہو؟

چھوٹا صارم آ رہا ہے۔”

” بی سیریس صارم۔” رامین کا دل دھڑکا۔

” سیریس ہوں یار چلو ڈاکٹر کے پاس۔”

صارم بہت ایکسائٹڈ تھا۔

رامین نے اس نیوز کے سچ ہونے کی اور صارم کی دائمی خوشیوں کی دعا کی۔

وہ لوگ حمزہ کے ہاسپٹل گئے تھے۔ وہاں رامین کے فوراً ٹیسٹ ہوئے اور اس خبر کی تصدیق ہوتے ہی ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

حمزہ اور رانی نے انہیں ہاسپٹل میں ہی کھانے پر روک لیا۔

گھر آتے ہی علی شاہ اور ثمینہ شاہ نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔

ثمینہ شاہ نے صدقے کے بکرے دیئے۔

———————-

تین سال بعد

رامین ٹرے میں دو گلاس اسٹرابیری شیک کے رکھے لان میں آئی۔

” صائم بیٹا شیک بریک۔” رامین نے لان ٹیبل پر ٹرے رکھی اور اپنے لاڈلے کو بلایا۔

صائم بال وہیں پھینک کر ماں کے پاس آیا۔

صارم بھی مسکراتے ہوئے اُن ماں بیٹے کے پاس چلا آیا۔

رامین نے مسکراتے ہوئے اپنے دوپٹے سے اس کا پسینہ صاف کیا اور پیار کیا۔

صارم شیک اٹھا کر ماں بیٹے کا پیار ملاحظہ کرنے لگا۔

رامین اُسے گود میں بٹھائے شیک پلا رہی تھی۔

” ڈیڈ اب میں جیتوں گا۔”

” کیوں؟”

” کیونکہ میں شیک پی رہا ہوں اور میں سٹرانگ ہو گیا ہوں۔”

صائم شیک پی کر دوڑ گیا۔

” کیا صارم تم ایک بچے کو ہرا رہے ہو؟”

” میں اسے اس لیے ہراتا ہوں تاکہ اسے جیتنا آئے۔”

رامین گلاس اکٹھے کرتی اٹھی۔

” میں نے نوٹس کیا ہے تم صائم سے زیادہ محبت کرتی ہو۔ مجھ سے محبت نہیں کرتی۔ میں تم سے کرتا ہوں۔” صارم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا۔

رامین نے مصنوعی گھوری سے نوازا۔

” میں تمہارا پسینہ صاف کروں گی تو مجھے تم سے بھی محبت ہے؟”

رامین نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا اور صارم کے روبرو آ کر اس کے ماتھے پر آیا پسینہ اپنے دوپٹے سے صاف کیا۔

” نہیں تم نے صائم کو پیار بھی کیا ہے۔”

رامین جانے لگی۔ جب صارم نے اس کا ہاتھ پکر لیا۔

” صائم خود کو بہت اکیلا محسوس کرتا ہے۔”

” بالکل بھی نہیں صائم کے پاس تم ہو میں ہوں۔ اس کے دادا دادو نانو ہیں اس کی عمارہ آپی ہیں طلحہ بھائی ہیں۔”

” صائم وانیہ کو مس کر رہا ہے۔”

” کون وانیہ؟” رامین حیران ہوئی۔

” ہماری کیوٹ سی چھوٹی سی رامین اچھا نام ہے نا؟” صارم نے محبت سے اس کے بال کے کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔

” بالکل صارم نے اپنی فیملی کے لیے کچھ ڈیسائیڈ کیا ہے تو غلط ہو سکتا ہے؟“ رامین نے اس کے کندھے سے شرٹ کی نادیدہ سلوٹیں نکالتے ہوئے کہا۔

صارم اسے مسکراتے ہوئے ساتھ لگا گیا۔

” آئی لو یو وائفی۔”

” آئی لو یو ٹو صار۔۔۔”

” آئی لو یو ٹو مما۔” صائم رامین کی ٹانگوں سے آ کر لپٹ گیا۔

رامین نے ہنستے ہوئے اسے گود میں اٹھا لیا۔

” سارے رومینس کا بیڑا غرق کر دیا تمہارے بیٹے نے۔” رامین ہنستے ہوئے صارم کو دیکھنے لگی۔ جو افسوس سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔

” آئی لو بوٹھ آف یو۔” رامین نے صائم کے دونوں گالوں پر پیار کیا۔

” مما ڈیڈ کو بھی کریں۔” صائم نے اس کی گردن کے گرد بازو رکھے۔

” صائم مما مجھے پیار بعد میں کریں گی۔” صارم نے رامین کے گرد بانہیں حمائل کیں۔

رامین گھور کر رہ گئی۔

” آئی لو مائی ہول ورلڈ۔” صارم نے رامین کے سر پر اور صائم کے گال پر بوسہ دیا۔

صارم اپنی اس چھوٹی سی فیملی کے ساتھ بہت خوش تھا۔ بس اسے اب اس فیملی میں وانیہ کا اضافہ چاہیے تھا۔

ختم شد