Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 1)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
صارم اور عبداللہ ٹیبل پر آمنے سامنے تھے۔ ان کے گروپ کے لوگ ان کے ارد گرد موجود تھے۔ دونوں پنجا لڑا رہے تھے۔ دونوں کے چہرے کے تاثرات انتہائی سنجیدہ تھے۔
” صارم۔۔۔
صارم۔۔۔
عبداللہ۔۔۔
عبداللہ۔۔۔”
ان کا گروپ ہوٹنگ اور شور سے انہیں بک اپ کر رہا تھا۔
صارم ہارنے والا تھا اور عبداللہ جیتنے والا تھا۔
” لگتا ہے اس بار بازی عبداللہ لے جائے گا۔” ایک لڑکے نے اشتیاق سے کہا۔
” صارم نے کبھی ہار نہیں مانی۔” دوسرے لڑکے نے فخر سے کہا۔ وہ غالباً صارم کا حمایتی تھا۔
” لیکن آج ہار رہا ہے۔” پہلے نے تبصرہ کیا۔
جب عبداللہ جیتتے جیتتے ہار گیا۔
” صارم۔۔۔۔
صارم۔۔۔۔
صارم۔۔۔۔”
” صارم ہاری ہوئی بازی کو پلٹنا بھی خوب جانتا ہے۔” صارم نے اس لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر غرور سے کہا۔
” صارم تم نے چیٹنگ کی ہے۔”
” میں انصاف سے کھیل کر جیتنا جانتا ہے۔ تم اپنی شرط پوری کرو۔”
” صارم کیا یار ہر بار خود جیت جاتے ہو۔”
” محبت اور جنگ میں سامنے والا دشمن ہوتا ہے۔ چاہے وہ سگا بھائی ہو۔”
صارم مغرور چال چلتا آگے بڑھ گیا۔ پیچھے عبداللہ تلملاتا رہ گیا۔
—————-–
” ایکسکیوز می بی بی اے فرسٹ سیمسٹر کی کلاس کہاں ہو گی؟” رامین نے کسی لڑکی کو روک کر پوچھا۔
وہ لڑکی کندھے اچکا کر آگے بڑھ گئی۔
” ایکسکیوز مس مے آئی ہیلپ یو؟” صارم نے مسکراتے ہوئے پر اعتماد انداز میں پوچھا۔
” یس بی بی اے فرسٹ سیمسٹر۔” رامین نے کہا۔
” اوئے انہیں بی بی اے فرسٹ سیمسٹر کی کلاس میں چھوڑ دے۔” صارم نے پاس سے گزرتے ایک لڑکے کو آواز دی۔
” آئیں۔” وہ لڑکا سر اثبات میں ہلاتا دوسری جانب بڑھا۔
” نہیں صرف بتا دیں۔” رامین نے ہچکچاتے ہوئے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا۔
” آج آپ کا پہلا دن ہے اور آپ ہماری مہمان ہیں تو خاطر مدارت تو بنتی ہے۔ مجھے صارم شاہ کہتے ہیں بی بی اے لاسٹ سیمسٹر۔” صارم نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس معصوم سی لڑکی کو دیکھا۔ جو سر پر دوپٹہ ٹکائے کالی جھیل جیسی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” ہیلو۔” رامین نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
صارم نے مسکراتے ہوئے وہی ہاتھ اپنے سر پر پھیرا۔
” چل چھوڑ دے۔” صارم نے اسے اس لڑکی کے ساتھ بھیجا کیونکہ فلحال وہ اس کا نام نہیں جانتا تھا لیکن عنقریب وہ اس کے پیچھے پھرنے والی لڑکیوں میں شامل ہونے والی تھی۔
” تھینک یو۔” رامین نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اس نے یونی میں بہت سی لڑکیاں ٹاپ ٹراؤزر کھلے بال دوپٹوں کے بغیر دیکھی تھیں لیکن ایسے نمونے اسے کم کم ہی دیکھنے کو ملتے تھے اور جو ملتے تھے وہ بہت جلد اپنے رنگ ڈھنگ دکھا دیتی تھیں۔
وہ جانتا تھا بہت جلد یہ لڑکی بھی اسی فیشن شو کا حصہ بننے والی تھی۔
رامین اس لڑکے کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔ پیچھے صارم مسکراتا ہوا چلا گیا۔
——————-
