347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 13)

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

” اینی پرابلم؟” علی شاہ نے ان دونوں کے چہروں کو دیکھا تو پوچھ بیٹھے۔

” نہیں ڈیڈ.” صارم نے سنبھلتے ہوئے کہا۔

رامین کی زبان تالو سے چپک گئی۔

” صارم تمہیں کوئی اعتراض ہے؟” علی شاہ نے خدشے کے تحت پوچھا۔

” مجھے دل و جان سے قبول ہے۔”

علی شاہ نے صارم کی بات سمجھنی چاہی۔

” مطلب آپ نے میرے لیے سیلیکٹ کی ہے تو یقیناً کچھ سوچ کر ہی کی ہو گی۔” صارم نے سنبھلتے ہوئے کہا۔

” بالکل اس میں ایک سپارک ہے ایک جنون ہے۔ بہت ایماندار اور قابل لڑکی ہے۔ تمہیں اچھا لگے گا اس کے ساتھ کام کر کے۔” علی شاہ رامین کی تعریفوں میں پل باندھنے لگے۔

” اب ایسا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ صارم تم اٹینڈ کرو گے اور رامین آپ انہیں آج کی میٹنگ کے حوالے سے بریفننگ دیں گی۔ باقی صارم یہ فائل سٹڈی کر لو تو تمہیں آسانی ہو گی۔” علی شاہ نے وہ فائل صارم کی طرف کھسکا دی۔

” مس رامین یہ فائل میرے آفس میں لے آئیں۔” صارم سنجیدگی اور رعب سے کہتا نکل گیا۔

——————

رامین اپنے آفس میں آتے ہی فائل ایک طرف رکھتی چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور بے تحاشا رونے لگی۔

” یہ کیا ہو گیا؟ یہ کیوں میری زندگی میں واپس آ گیا؟”

” کاش یہ علی شاہ کا بیٹا نہ ہوتا یا یہ ان کا بیٹا نہ ہوتا یا پھر وہ یہاں ہوتی ہی نہ۔ اس کی زندگی کے امتحان ختم ہی نہیں ہو رہے تھے۔”

” جب اسے یہ لگنے لگا تھا کہ اس کی زندگی میں اب سب ٹھیک ہو رہا ہے تو یہ اس کی زندگی اجیرن کرنے کے لیے آ گیا تھا۔”

اس کے آفس کا انٹر کام مسلسل بج رہا تھا۔

رامین نے بالآخر اٹھا ہی لیا۔

” مس رامین کہاں رہ گئی ہیں؟ فائل لے کر میرے آفس میں فوراً آئیں۔” صارم کی اجنبی اور سرد آواز انٹر کام کے سپیکر سے ابھری۔

اس کی آنکھوں میں آنسوں ایک بار پھر جمع ہونے لگے۔

پانی کا گلاس غٹاغٹ پیتے اس نے خود کو کمپوز کیا۔

گہری سانس لیتی فائل اٹھا کر اس کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔

—————–

آفس کا دروازہ ناک کر کے رامین اندر داخل ہوئی۔

رامین کو آتا دیکھ کر صارم کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ وہ بالآخر اسے مل ہی گئی تھی۔ وہ تھوڑی چینج ہو گئی تھی لیکن وہ اسے بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ سکن کلر کا سادہ سا سوٹ پہنے میک اپ سے پاک چہرہ لیے ناک میں دمکتی نوز پن پہنے وہ اس کی توجہ کھینچ رہی تھی۔ سر پر ہمیشہ کی طرح دوپٹہ سیٹ کیے وہ اس کے رو برو تھی۔ شاید وہ دوپٹہ پبلک پلیس میں لینے کی عادی تھی۔

” سر یہ فائل۔” رامین نے اس کی طرف فائل بڑھائی۔

” اس کو بعد میں دیکھتے ہیں۔” صارم نے فائل ایک طرف رکھ دی اور آگے بڑھ کر اسے خود میں بھینچ لیا۔

رامین کو لگا اس کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی۔

” کہاں چلی گئی تھی؟ میں نے تمہیں بہت ڈھونڈا۔ تم ٹھیک ہو؟ انکل کا سنا بہت افسوس ہوا.” صارم اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا۔

” تم پریشان ہو گئی ہو گی کہ کہاں چلا گیا ہوں؟ میں یو ایس چلا گیا تھا ایم بی اے کے لیے اور پھر وہاں کا آفس دیکھنے لگا اینڈ ناؤ تمہارے سامنے۔” صارم نے ہاتھ پھیلا کر کہا۔

” کیا ہوا کچھ بول کیوں نہیں رہی؟”

” مجھے ڈڈ۔۔ ڈیورس چاہیے۔ میری امی میری شادی کرنا چاہتی ہیں۔” رامین نے خود کو کہتے سنا۔

رامین کے منہ سے غیر متوقع بات سن کر صارم نے بے یقینی سے دیکھا پھر اس کے تاثرات پتھریلے ہو گئے۔

” ناممکن۔” صارم نے کھردرے لہجے میں کہا۔

” صار۔۔۔”

” مس رامین مجھے آفس ٹائمنگ میں پرسنل گفتگو نہیں پسند ناؤ لیو۔”

” پلیز میری بات۔۔ ” رامین کی آنکھوں سے دو موتی پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر آئے۔

” آؤٹ.” صارم دھاڑا۔

رامین نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور وہاں سے بھاگ گئی۔

اس کے جاتے ہی صارم نے ہاتھ مار کر ساری فائلز زمین پر پھینک دیں۔

—————–

بورڈ آف ڈائریکٹرز سے صارم کی میٹنگ بہت اچھی رہی تھی۔ علی شاہ نے صارم کو بہت سراہا تھا۔ رامین اس کے بعد اس کے آفس نہیں آئی تھی اور نہ ہی صارم نے اسے بلایا تھا۔ اس نے خود ہی فائل سٹڈی کر کے میٹنگ اٹینڈ کر لی تھی۔

اس دوران اس نے کسی ورکر کے ہاتھ رامین کو کام دے کر مصروف رکھا تھا۔

اب وہ میٹنگ سے فارغ ہو کر اپنے آفس میں آیا تھا۔

آفس کا دروازہ ناک کر کے رامین اندر آئی۔

” سر یہ فائلز چیک کر لیں۔”

تھری پیس سوٹ پہنے وہ پہلے کی طرح ہی وجاہت کا شاہکار معلوم ہو رہا تھا۔ آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ازلی ذہانت لیے پر اعتماد انداز میں اپنی سیٹ سے اٹھ کر اس کے مقابل آیا۔ دوپہر جیسا والہانہ پن اور اپنائیت مفقود تھی۔ آنکھوں میں نفرت کی آگ لیے جلا کر بھسم کرنے کی خواہش لیے آخری ملاقات جیسا صارم رامین کو یاد آیا۔

رامین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔

رامین اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہاں سے بھاگنے کے پر تولنے لگی۔ اس سے پہلے وہ وہاں سے بھاگتی صارم نے اسے دروازے کے پاس سے جا لیا اور اپنی طرف کھینچا۔

رامین کے ہاتھ میں موجود فائلز ادھر ادھر بکھر گئیں اور وہ کٹی ڈال کی طرح اس کے ساتھ آ لگی۔

” اتنی جلدی کیا ہے بھاگنے کی؟ پہلے مل تو لو اپنے شوہر سے۔” صارم نے اس کی مزاحمت کا رتی برابر اثر نہ لیا اور اسے دیوار سے دھکا دیتے ہوئے لگایا۔ اس کا دوپٹہ کندھے پر گر گیا۔

رامین کی چیخ نکل گئی۔

” پانچ سال سات ماہ چودہ دن بارہ گھنٹے پچیس منٹ میں تمہیں ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا۔ تمہاری امی تمہاری شادی کرنا چاہتی ہیں۔ تمہیں تب بھی اپنا پہلا شوہر یاد نہیں آیا۔

رامین کا دوپٹہ صارم سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش میں نیچے گر گیا تھا۔

کیوں رومی؟” صارم اس کے بے حد قریب ہوا۔

” میں نے تمہیں کتنا مس کیا۔” صارم نے اس کے چہرے پر آئے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا۔

رامین نے خوف سے اس کے ہاتھ جھٹکنے چاہے لیکن مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔

” کوئی دن کوئی رات کوئی لمحہ تمہاری یاد کے بغیر نہیں گزرا۔”

” میں نے تمہاری خوشبو کو بہت مس کیا۔” صارم اس کی گردن میں منہ چھپائے بول رہا تھا۔

رامین کا وجود بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس کے ہونٹ اس کی گردن سے مس ہو رہے تھے۔

” صارم پلیز مجھے چھوڑ دو۔”

” میں نے تمہیں کیا کہا تھا کہ تم مجھے خواب میں بھی بھولنے کی غلطی مت کرنا اور تم تو جاگتی آنکھوں میں یہ غلطی کر گئی۔ سزا تو بنتی ہے۔” وہ اس کی بیوٹی بون پر جھکا اپنی شدتیں دکھانے لگا۔

” صارم نہیں پلیز۔۔۔” رامین بری طرح رونے لگی اور اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ ذرا لوز ہوتی صارم اس پر اپنی پکڑ مزید مضبوط کر دیتا۔

وہ اس کی گردن پر اپنی شدت بھرے لمس چھوڑ رہا تھا۔

” صارم نہیں پلیز۔۔۔ یہ ظلم مت کرو۔”

” یہ ظلم تم نے اپنے ساتھ خود کیا ہے۔ میرا انتقام ابھی پورا نہیں ہوا تھا اور تم بھاگ نکلی۔ تمہیں لگتا ہے اپنا گھر چھوڑ دینے سے یونیورسٹی چھوڑ دینے سے نمبر بدل لینے سے صارم شاہ سے بچ نکلو گی؟ بہت بڑی بھول تھی تمہاری۔”

” نہیں صارم پلیز مجھے معاف کر دو۔” رامین نے روتے ہوئے فریاد کی۔ کمرہ ساؤنڈ پروف تھا اس لیے آواز باہر نہیں جا سکتی تھی۔ ویسے بھی آفس مکمل خالی تھا۔ کس نے آنا تھا؟

وہ اس کے لبوں پر شدت سے جھکا اور اس کی سانسوں کو قید کر لیا۔ اس کی آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اگر صارم نے اس کو نہ پکڑا ہوتا تو وہ زمین بوس ہوتی۔ رامین کو اپنے منہ میں خون کا ذائقہ کا گھلتا محسوس ہوا۔ اسے اپنی سانسیں بند ہوتیں محسوس ہوئیں۔ صارم کا پھر بھی اسے چھوڑنے کا ارادہ نہیں تھا۔

رامین کی مزاحمت دم توڑ رہی تھی۔ وہ نڈھال ہو گئی تھی۔ صارم نے اس کے گرد حصار مزید تنگ کیا۔

بالآخر صارم شاہ نے اس کی سانسوں کو آزادی بخشی۔ وہ اس کی گرفت میں ہی اس کے کندھے پر سر گرا گئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔

صارم شاہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کبھی نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ وہ تڑپا تھا اس کے لیے اور اس پر اس کی یہ ڈیمانڈ صارم شاہ کے سوئے ہوئے طیش کو ہوا دے گئی تھی۔ اس پر شام تک کا انتظار ایک ایک لمحہ صدیوں کے برابر محسوس ہوا تھا۔ اس کی تڑپ کا یہ جواب جو اس کے طیش کو وبال بنا گئی۔ اب اس کو سزا دینی تو بنتی تھی۔

اگلے ہی لمحے وہ رامین کو زمین پر دھکا دے گیا۔

” چلی جاؤ رامین اس سے پہلے میرا تمہیں بھیجنے کا ارادہ بدل جائے۔”

رامین پھولتی سانسوں سے ہانپتی کانپتی زمین سے دوپٹہ اٹھاتی باہر بھاگ گئی۔

——————-

صارم خود کو کمپوز کرتا اپنے آفس سے نکلا۔ لفٹ کی طرف بڑھتے ہوئے اسے ایک کیبن سے موبائل کی رنگ ٹون کی آواز سنائی دی۔ وہ اس کیبن کی طرف بڑھا۔

یہ رامین کا کیبن تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر موبائل اٹھایا جو بند ہو چکا تھا۔ کال دوبارہ آنے لگی۔ کسی رانی کی کال تھی۔

صارم نے کال کاٹ دی اور اس کے موبائل میں اپنا نمبر سیو کیا اور موبائل پاکٹ میں ڈال کر آگے بڑھ گیا۔

——————-