347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 24)

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

” یار مجھے تو لگا تھا تو اس رامین کے عشق میں گودے گودے ڈوب چکا ہے۔”

” کون سا عشق کیسا عشق کہاں کا عشق؟” صارم کے لہجے میں حقارت واضح تھی۔

” تو رامین کے آگے پیچھے پھرتا رہتا ہے اور کہہ رہا ہے کون سا عشق؟ بے وقوف سمجھ رکھا ہے؟”

” ہاہاہا ہاں ہے تو وہ بے وقوف ہی۔ کہا تھا نا میں نے عام لڑکیوں جیسی ہے۔ یوں میرے جال میں پھنسی ہے۔” صارم نے تمسخر اڑایا۔

” نہیں صارم وہ عام لڑکیوں جیسی نہیں ہے۔ تمہیں اسے اپنے جال میں پھنسانے کے لیے دو سال لگے ہیں۔ وہ بھی نکاح کے باوجود۔” شہریار نے حقیقت پسندی سے کہا۔

” یار تم اس انتقام کو بھولے نہیں؟ اس کو ڈھونڈوا تو ایسے رہے تھے جیسے اس کی محبت میں پاگل ہو چکے ہو۔” اسد بھی حیران تھا۔

” ایسا ہی تھا شروعات میں میں اس گلٹ میں مبتلا تھا کہ میری وجہ سے اس کے پاپا کا انتقال ہو گیا۔ میں وہاں بہت تڑپا۔ دل چاہتا تھا وہ کہیں سے مل جائے اور اسے فارغ کروں۔ میرا انتقام یہاں سے جاتے ہوئے ہی ختم ہو گیا تھا لیکن جب میں واپس آیا۔ اپنے آفس میں پہلی بار اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں موجود بغاوت میرا خون کھولا گئی۔

اس نے میرے آفس میں مجھ سے جو پہلی بات کی اس کے پہلے جملے میں اس نے مجھ سے ڈیورس مانگی۔ اس بات نے میرے اشتعال کو ہوا دی۔ تب میں نے سوچا جس طرح میں ان پانچ سالوں میں تڑپا ہوں۔ اسی طرح اس کو تڑپاؤں گا۔ اپنی محبت میں گرفتار کروں گا۔ اپنے پیچھے خوار کروں گا۔ اس دنیا میں رسوائی اس کے مقدر میں لکھ دوں گا۔ لوگوں سے بھری دنیا میں وہ ذلیل و رسوا ہو گی۔ اس کی ذات کو سوالیہ نشان بنا دوں گا۔

لیکن یہاں اس کی قسمت ساتھ دے گئی اور کچھ بھی نہیں ہوا لیکن جب میں مکمل بور ہو چکا تھا اور اس گیم کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تب مجھے پتا چلا وہ مجھ سے محبت کرنے لگی ہے ہاہاہا۔

اس پوائنٹ پر میرا انتقام ختم ہوا مزہ آ گیا۔۔” صارم بے انتہا خوش تھا۔

” لیکن اس سارے عرصے میں میں نے بہت انجوائے کیا۔

صارم نہیں۔۔۔ پلیز نہیں۔۔ یہ ظلم مت کرو۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔” صارم نے قہقہہ لگایا۔

” تو اب تم اسے ڈیورس کب دو گے؟” شہریار نے سنجیدگی سے پوچھا۔

” کبھی بھی نہیں بالکل بھی نہیں دوں گا۔ آخری سانس تک تڑپے گی اور جب کبھی موڈ ہوا تو بلا لوں گا ہاہاہا۔”

رامین سے اس سے آگے سننا محال ہو گیا۔ وہ سن سی وہاں سے خاموشی سے نکل گئی۔ اس کو نہیں پتا تھا کہ اب اسے کہاں جانا ہے؟

” صارم تم غلط کر رہے ہو اسے ڈیورس کر دو۔ اسے زندگی میں آگے بڑھنے دو اور پھر اس سے زیادہ انتقام کیا لو گے؟” شہریار نے دوستانہ لہجے میں مشورہ دیا۔

” نہ نہ میرا ڈسا تو پانی بھی نہیں مانگتا۔”

شہریار اور اسد نے دکھ سے دیکھا۔

” ساری زندگی انتقام نبھاتے رہو گے؟ شادی نہیں کرو گے؟” اسد نے ہوش دلایا۔

” کیوں نہیں کروں گا؟ کروں گا شادی۔ مجھے رامین سے واقعی محبت نہیں ہوئی۔ ہاں وہ بہت خوبصورت ہے بہت حسین ہے۔ ایک حسین انتقام۔۔”

” چپ کرو صارم۔ فضول مت بولو۔ وہ ایک باحیا لڑکی ہے۔” اسد نے اسے جھاڑا۔

” وہ باحیا لڑکی ہی میرے ساتھ رہی ہے۔”

” اگر وہ تمہارے ساتھ تھی تو صرف ایک شوہر کی حیثیت سے اور یہ مت بھولو کہ تم نے اسے کسی قابل نہیں چھوڑا تھا۔” شہریار نے ڈپٹتے ہوئے آئینہ دکھایا۔

” اس نے مجھے خود مجبور کیا تھا۔”

شہریار اور اسد نے تاسف سے سر نہ میں ہلایا۔

——————–

رامین لفٹ سے غائب دماغی سے نکلی۔ اس نے لفٹ میں کوئی بٹن نہیں دبایا تھا۔ اسے خود نہیں پتا تھا کہ اب اس کی اگلی منزل کیا ہے۔

وہ غائب دماغی سے چھت کے کھلے دروازے سے وہاں آ گئی۔

چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی چل رہی تھی۔ اس کے اندر گھٹن حد سے سوا تھی۔ سناٹوں کا راج تھا۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتی تھی لیکن حلق سے آواز نکلنے سے قاصر تھی البتہ آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے۔

ایک طرف وہ تھی جہاں اس کا غرور توڑنے کے لیے اس کی ذات کو پامال کیا گیا تھا۔۔ دوسری طرف اس کے گھر والے۔۔ اگر وہ ایاز سے شادی نہ کرتی تو حسن بھائی رابعہ کو چھوڑ دینے کی دھمکی دے چکے تھے۔۔

صارم کی باتیں اس کے دماغ میں جھکڑ چلا رہی تھیں۔

آگے کیا کرے گی؟

آسمان وسیع تھا پر پیروں تلے زمین کب نکلی اسے پتا نہیں چلا۔

——————–

علی شاہ اور ثمینہ شاہ چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ علی شاہ کا موبائل مسلسل بج رہا تھا۔

” ایک منٹ یہ کال بہت امپورٹنٹ ہے۔”

” علی اس ٹائم یہ میرا ٹائم ہونا چاہیے۔ آفس کو گھر کیوں لے آتے ہو؟”

” یہ کال ایمپورٹینٹ ہے ثمینہ۔” علی شاہ سنجیدگی سے ٹوک گئے اور کال اٹھائی۔

” یس علی شاہ سپیکنگ۔”

” علی انکل میں رانیہ بات کر رہی ہوں رامین کی بہن۔”

” جی بولو بیٹا۔”

” رامین اب تک گھر نہیں آئی انکل۔ اس کا موبائل بھی آف جا رہا ہے۔ وہ کب تک گھر آئے گی؟” رانیہ نے پریشانی سے پوچھا۔

” گھر نہیں آئی؟” علی شاہ ٹیک چھوڑ کر آگے ہوئے۔

” وہ تو سوا چھ کی آفس سے نکل گئی تھی۔” علی شاہ نے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔ جہاں اب رات کے گیارہ بج رہے تھے۔

” سوا چھ کی؟” رانیہ کی جان نکل گئی۔

” وہ تو نہیں آئی۔”

” آپ پریشان مت ہوں۔ میں پتا کرتا ہوں۔” علی شاہ نے کال کاٹ دی اور اگلا نمبر ڈائل کرنے لگے۔

——————–

صارم اپنے دوستوں کے ساتھ پیزا انجوائے کر رہا تھا۔ وہ لوگ آج کافی ٹائم بعد اکٹھے ہوئے تھے اور آج ان کا خوب لمبا پروگرام تھا۔ صارم کا موبائل مسلسل بلنک ہو رہا تھا۔

” صارم انکل کی کال ہے۔” اسد نے اسے ہوش دلایا۔

وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔

” یس ڈیڈ۔” صارم نے کال پک کرتے ہی کہا۔

” کہاں ہو؟ کب سے کال کر رہا ہوں۔” علی شاہ ناراضگی سے بولے۔

” ڈیڈ وہ سائیڈ پر پڑا تھا۔ شہریار لوگوں کے ساتھ ہوں۔”

” رامین اب تک گھر نہیں پہنچی۔ میں اسے چھ بجے کے قریب آفس سے لے کر نکلا تھا لیکن اب تک گھر نہیں پہنچی۔ کچھ آئیڈیا ہے کہاں ہو گی؟”

” مجھے کیا پتا ڈیڈ اپنی مرضی کی مالک ہے۔ وہ مجھے کیوں بتائے گی؟ بلکہ مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی میں اسے اب اپنے ساتھ نہیں رکھوں گا۔ میں اس کی پروگریس سے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے اسے جاب سے ٹرمینیٹ کرنے کا۔”

” صارم اس سے زیادہ محنتی لڑکی نہیں ہے آفس میں۔ وہ تمہارے آفس میں کام نہیں کرے گی۔ اس کے آگے کا اختیار تمہارے پاس نہیں ہے۔”

” ڈیڈ میں اس کی شکل دیکھنے کا بھی روادار نہیں ہوں۔”

” ایسا ہی ہو گا۔ وہ تمہیں نظر نہیں آئے گی بات ختم۔ اب اسے ڈھونڈو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے ساتھ کوئی ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو۔”

” پولیس میں رپورٹ کرتا ہوں۔ جیسے ہی کوئی خبر آتی ہے بتاتا ہوں۔”

” پولیس میں رپورٹ نہیں کرنی دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔ باعزت لوگ ہیں کیوں انہیں ذلیل کرنے پر تلے ہو۔”

” پھر کیا کروں؟ وہ مجھے بتا کر تھوڑی نکلی ہے۔ پتا نہیں کس کے ساتھ ہے۔”

” صارم مجھے غصہ مت دلاؤ۔ اٹھو گے کوشش کرو گے تو پتا چل جائے گا۔ یہاں بیٹھ کر اس کے کردار پر باتیں کرنا بند کرو۔” علی شاہ نے زندگی میں پہلی بار صارم کو ڈانٹا۔

” اوکے ڈیڈ۔”

ان کی کال منقطع ہو گئی۔

——————–

” چلو گائز محترمہ رامین صاحبہ کو ڈھونڈیں۔ اب تک گھر نہیں پہنچی۔”

” اس کی بہن تمہیں اسی لیے کال کر رہی ہو گی۔” شہریار نے فکرمندی سے کہا۔

” دفع کرو۔”

وہ لوگ مین ڈور کی طرف بڑھے۔

” کوئی آیا تھا؟” صارم نے اپنے پاؤں کے نیچے آتے پھول کو دیکھا۔

” یہ بیگ کس کا ہے؟” اسد نے حیرت سے باہر گرے بیگ کو اٹھایا۔

” رامین صاحبہ کا ہے۔ میرا باپ اور اس کی بہن اس کی فکر میں ہلکان ہو رہے ہیں اور اس کی محبتیں سانس نہیں لیتیں۔” صارم نے حقارت سے کہتے ہوئے پھول بےدردی سے وہیں پھینک دیا اور اسے پیروں تلے کچلتا آگے بڑھ گیا۔

وہ دونوں پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

” مجھے لگتا ہے اس نے سب سن لیا ہے۔” اسد نے آہستگی سے کہا۔

” اس میں کوئی شک ہی نہیں رہا۔” شہریار نے تاسف سے کہا۔

وہ دونوں بھی اس کے پیچھے اپارٹمنٹ سے نکل گئے۔

——————–

” سر وہ لڑکی کیسی ہے؟” چوکیدار نے صارم کو تیزی سے بلڈنگ سے نکلتا دیکھا تو پیچھے سے آواز دی۔

” کون سی لڑکی؟” صارم نے گھور کر دیکھا۔

” وہی جو چھت سے گری ہے۔”

اسد اور شہریار نے جھٹکے سے ایک دوسرے کو دیکھا۔

” کون سی لڑکی؟” صارم نے پریشانی سے پوچھا اور ساتھ موبائل سے رامین کی پکچر ڈھونڈنے لگا۔ اس کے پاس رامین کی زیادہ پکچرز نہیں تھیں۔ ریڈ ساڑھی میں لی گئی پکچر کو دکھانے کا وہ ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اسے آج اندازہ ہوا تھا۔ وہ ساڑھی کسی طور قابل قبول نہیں تھی۔

” وہی جو آپ کے ساتھ آتی ہے۔”

” یہ والی؟” ایک پکچر صارم کو مل ہی گئی تھی۔ اس نے چوکیدار کو دکھائی۔

اس پکچر میں رامین کے سر پر دوپٹہ نہیں تھا۔ کندھوں پر دوپٹہ ٹکائے وہ اس کے برابر کھڑی تھی۔ صارم کو وہ دن پوری جزئیات سے یاد آیا۔

چوکیدار غور سے اس پکچر کا معائنہ کرنے لگا۔

” اتنا کیا گھور رہے ہو؟ ہے کہ نہیں؟” صارم غرایا۔

” سر آپ کے ساتھ ایک ہی تو آتی ہے۔” چوکیدار منمنایا۔

” تو پھر کیوں گھور رہے ہو؟ کیا ہوا تھا؟”

وہ سب بتاتا چلا گیا۔

چوکیدار کی بات سن کر وہ تینوں پریشان ہو گئے۔

——————–

رامین سن سی چل رہی تھی۔ سر پر آسمان تو تھا پر پیروں تلے زمین کب کھسکی اسے پتا نہیں چلا۔