Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Last updated: 10 November 2025
No Download Link
347.1K
26
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 1)Mein Tera Deewana Howa (Episode 2)Mein Tera Deewana Howa (Episode 3)Mein Tera Deewana Howa (Episode 4)Mein Tera Deewana Howa (Episode 5)Mein Tera Deewana Howa (Episode 6)Mein Tera Deewana Howa (Episode 7)Mein Tera Deewana Howa (Episode 8)Mein Tera Deewana Howa (Episode 9)Mein Tera Deewana Howa (Episode 10)Mein Tera Deewana Howa (Episode 11)Mein Tera Deewana Howa (Episode 12)Mein Tera Deewana Howa (Episode 13)Mein Tera Deewana Howa (Episode 14)Mein Tera Deewana Howa (Episode 15)Mein Tera Deewana Howa (Episode 16)Mein Tera Deewana Howa (Episode 17)Mein Tera Deewana Howa (Episode 18)Mein Tera Deewana Howa (Episode 19)Mein Tera Deewana Howa (Episode 20)Mein Tera Deewana Howa (Episode 21)Mein Tera Deewana Howa (Episode 22)Mein Tera Deewana Howa (Episode 23)Mein Tera Deewana Howa (Episode 24)Mein Tera Deewana Howa (Episode 25) 2nd Last EpisodeMein Tera Deewana Howa (Episode 26) Last Episode
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
" سر یہ فائل۔" رامین دس منٹ میں اس کے سامنے تھی۔
صارم نے فائل لے کر سائیڈ پر کر دی۔
" میں تمہارے کام سے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔ میں تمہارا کیبن چینج کر رہا ہوں۔
فلحال یہاں بیٹھ کر کام کرو۔" صارم نے اسے ایک نئی فائل کا کام دیتے ہوئے لیپ ٹاپ اس کے سامنے کیا۔
رامین کام کرنے لگی۔
وہ رامین کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا۔ جو محویت سے اپنا کام کر رہی تھی حالانکہ وہ اپنے اوپر صارم کی نظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی لیکن اس نے نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔
صارم گہری سانس بھرتا اپنی چیئر سے اٹھا اور رامین کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔
رامین کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔
صارم رامین پر جھٹکے سے جھکا۔ ایک ہاتھ رامین کے ہاتھ پر رکھا دوسرا رامین کے دوسری طرف سے ٹیبل پر رکھا۔ اس طرح کے رامین اس کے حصار میں تھی۔
رامین نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا۔
صارم نے اس کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
صارم کے پرفیوم کی خوشبو اس کے حواسوں پر سوار ہونے لگی۔
اے سی کی ٹھنڈک کے باوجود اسے پسینہ آنے لگا۔
" میرا ہاتھ لگانا تمہیں بہت کھلتا ہے۔ صارم نہیں۔۔ پلیز نہیں۔۔ یہ ظلم مت کرو۔۔ اویس کے ساتھ کس خوشی میں ٹکرائی تھی؟ میں نے سہارا دیا تو پوری یونی میں ذلیل کر دیا اور اس کو اپنے حال بتانے لگی۔ جب کہ یہ تمہیں دیکھ کر ٹکرایا تھا. آج کیوں نہیں اسے پورے آفس میں ذلیل کیا؟ کیوں ایک نہیں جڑی؟ کیسے کیٹگرائز کیا اسے اور مجھے؟ جب کہ تمہیں چھونے کا پورا حق موجود ہے میرے پاس۔" صارم ایک ایک لفظ چباتا اس کے کان میں غرا رہا تھا۔ رامین جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔ وہ ہل بھی نہ سکی۔
وہ یہ نہ کہہ سکی کہ تمہارے غصے سے ہی یہ سبق لیا ہے کہ خاموشی سے نکل جاؤ۔ مڑ کر دیکھنے پر پتھر کے بن جاؤ گے۔
صارم لیپ ٹاپ پر جھکا پتا نہیں اور کیا کیا کر رہا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہ آئی۔
صارم سیدھا ہوتا ایک غصیلی نظر اس پر ڈالتا واپس اپنی چیئر پر بیٹھ گیا۔
رامین بظاہر اپنا کام کر رہی تھی لیکن اس کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔
