347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 2)

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

” کلاس کہاں ہے؟” رامین نے اس لڑکے کے پیچھے چلتے ہوئے پوچھا۔

” بس تھوڑا آگے ہے۔ بی بی اے کے لیے نئی بلڈنگ بنی ہے۔ وہاں ہوں گی اب سے ساری کلاسز۔” اس لڑکے نے کوریڈور کے آخری حصے کی طرف اشارہ کیا۔

رامین پہلے بھی دو بار پوچھ چکی تھی اور وہ یہی جواب دیتا۔

” سٹوڈنٹس کیوں نظر نہیں آ رہے؟ کہاں ہیں؟” رامین نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔

کیونکہ وہ قدرے سنسان ایریا تھا۔ یہاں سٹوڈنٹس کا رش بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔

” سٹوڈنٹس لیٹ لطیف ہوتے ہیں اور پھر آج فرسٹ ڈے ہے۔ لیں آ گئی آپ کی کلاس۔ آپ ایسے ہی ڈر رہی تھیں۔” اس لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” یہاں سٹوڈنٹس نہیں ہیں؟

” آ جائیں گے تھوڑی دیر تک۔ آپ جلدی آ گئی ہیں.” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” میری کلاس ہے میں چلتا ہوں۔” وہ لڑکا چلا گیا۔

رامین ارد گرد دیکھتے ہوئے اندر آ گئی کہ سٹوڈنٹس بھی آ جائیں گے۔ وہ اندر آ کر ارد گرد دیکھنے لگی اور کلاس کا جائزہ لینے لگی۔

جب اسے اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ وہ جھٹکے سے پلٹی اور دروازہ پیٹنے لگی۔

——————-

خالد صاحب اور فرح بیگم کی تین بیٹیاں رابعہ، رامین اور رانیہ تھیں۔

خالد صاحب اور فرح بیگم کو بیٹے کی شدید خراہش تھی۔

رامین کو خالد صاحب کی یہ کمی خوب کھلتی تھی۔ وہ ان کا بیٹا بننا چاہتی تھی۔ وہ خوب دل لگا کر پڑھتی تھی تھی اور اسی محنت اور لگن کی بدولت اسے شہر کی بہترین یونیورسٹی میں سکالرشپ پر ایڈمیشن مل گیا تھا۔

——————–

” کھولو دروازہ۔۔” رامین زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔

اسے لڑکوں کے چھٹ پھاڑ قہقہوں کی آوازیں آئیں۔

” مس انجوائے یور فرسٹ کلاس ان نیو بلڈنگ۔” صارم نے ہنستے ہوئے کہا۔

“صارم کھولو دروازہ۔” رامین صارم کی آواز سنتے ہی تپ گئی۔

” اوئے ہوئے صارم تیرا تو نام بھی یاد ہو گیا ہے۔”

” اپنی پرسنیلٹی ہی ایسی ہے۔ ہر جگہ چھا جاتے ہیں۔ یہ تو پھر ایک معمولی لڑکی ہے۔” صارم نے غرور سے کہا۔

” تم ایک بار دروازہ تو کھولو صارم۔ میں پھر بتاتی ہوں تمہاری پرسنیلٹی کیسی ہے۔ ابھی زمین کے اوپر کھڑے ہو پھر گرے پڑے ہو گے۔” رامین نے تپے ہوئے انداز میں کہا۔

” ہائے میں ڈر گیا۔ میں نہیں کھولوں گا۔

مس مجھے ہراس مت کرو۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔” صارم نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی اور پھر قہقہہ لگاتے ہوئے پاس کھڑے لڑکے کو تالی ماری۔

” صارم میں تمہاری کمپلین کروں گی۔”

” ریگنگ کی کمپلین نہیں ہوتی صرف عقل استعمال کرنی ہوتی ہے۔”

” پلیز صارم دروازہ کھول دو۔ میری کلاس نکل جائے گی.” ” یہاں کی کلاسز کی بنیاد بہت مضبوط ہے۔ یہ کہیں نہیں جاتیں۔” صارم نے ایک بار پھر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

” صارم پلیز۔۔۔” ” پہلے اپنا نام بتاؤ پھر کھولوں گا۔”

” دروازہ کھولو صارم۔”

” پہلے نام۔”

” پکا کھولو گے؟”

” ہاں پکا کھولوں گا نام بتاؤ.”

” ماہا۔” رامین نے جھوٹ بولا۔

دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

رامین تیزی سے باہر آئی۔

” ماہا تم بزنس پڑھ کر کیا کرو گی؟ تمہیں چونا لگانا سب سے زیادہ آسان تھا۔”

رامین اسے اگنور کیے آگے بڑھ گئی۔

” تھرڈ بلڈنگ سیکنڈ فلور روم نمبر ون۔” صارم نے مسکراتے ہوئے ہانک لگائی۔

لیکن اس بار رامین کا اس کی بات سننے کا بالکل ارادہ نہیں تھا کیونکہ وہ قابل بھروسہ نہیں تھا۔

——————-

صارم شاہ علی شاہ اور ثمینہ شاہ کا اکلوتا بیٹا تھا۔

علی شاہ ایک بہت بڑے بزنس مین تھے۔ وہ بزنس کی وجہ سے بیشتر ٹائم شہر سے یا ملک سے باہر ہی ہوتے تھے۔ اسی لیے زیادہ وقت اپنی فیملی کو نہیں دے پاتے تھے۔ گو کہ انہیں اپنی فیملی سے بے انتہا محبت تھی اور انہیں اچھا لائف سٹائل دینے کے لیے وہ سر توڑ اپنے کام میں جتے رہتے تھے۔

ثمینہ شاہ کو علی شاہ کی یہ اگنورنس بہت کھلتی تھی۔ اسی لیے انہوں نے خود کو سوشل ورک میں الجھا لیا تھا۔

صارم شاہ جو ان کی اکلوتی اولاد تھی۔ وہ ماں باپ کی اگنورنس اور عدم توجہی کی وجہ سے بگڑا بد دماغ لیکن ذہین ترین لڑکا تھا۔

صارم شاہ کو لوگوں کو تنگ کرنے میں بہت مزہ آتا تھا۔ صارم شاہ کی ایک بہت بری عادت تھی۔ جو کام کرنے کی وہ ٹھان لیتا۔ اس کو ہر حال میں حاصل کرتا۔

———————–