347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 20)

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

رامین گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی۔ صارم جو ابھی اس کی سسکیوں کی آواز پر اٹھا تھا۔ رامین کو روتا دیکھ رہا تھا۔

” بس بھی کرو ایسا کون سا ظلم کا پہاڑ تم پر ٹوٹ پڑا ہے جو یہ آنسو بہا رہی ہو؟” صارم نے کہنی کے بل بیٹھتے سر ہاتھ میں ٹکایا۔

” تم ایک انتہائی گھٹیا اور دھوکے باز انسان ہو۔ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے۔ نہیں تھی نا کوئی شادی؟ کوئی میٹنگ بھی نہیں تھی۔ تم مجھے جھوٹ بول کر یہاں لائے ہو۔ میں نے تم پر یقین کیا ہی کیوں؟ تم انتہائی گرے ہوئے ہو۔ میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔” رامین پھٹ پڑی۔

” میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ ویسے کب پکڑو گی؟ آج رات کو یا کل رات کو؟” صارم نے شرارت سے کہتے اس کا ہاتھ پکڑا۔ اس کی ڈھٹائی عروج پر تھی۔

رامین نے اپنا ہاتھ کھینچا۔

” دور رہو صارم ورنہ میں علی انکل کو سب بتا دوں گی.”

” کیا بتاؤ گی؟” صارم ڈرے بغیر بولا۔

” شروع سے لے کر آخر تک انہیں سب کچھ بتاؤں گی۔ میں انہیں بتاؤں گی کہ تم مجھے دھوکے سے یہاں لائے ہو۔ میں انہیں یہ بھی بتاؤں گی کہ اول روز سے تم میرے ساتھ کیا کرتے پھر رہے ہو اور یہ بھی کہ تم نے کس طرح میرے ساتھ زبردستی نکاح کیا ہے اور اب کس طرح سے زبردستی کی ہے۔”

” شوق سے بتاؤ مگر وہ تمہارا یقین کریں گے۔ اس بات کا یقین تمہیں کیسے ہے؟ تمہارے پاس نکاح نامہ ہے؟ کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس تمہاری یہاں موجودگی کا؟”

رامین سن رہ گئی۔ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اس کے پاس تو نکاح کا کوئی ثبوت ہی نہیں تھا۔

رامین کے چہرے کا اتار چڑھاؤ دیکھ کر صارم مطمئن ہوا۔

” میں ان کا بیٹا ہوں۔ وہ بغیر ثبوت کے تمہارا یقین کیوں کریں گے؟” صارم نے اس کے سر پر بم پھوڑا۔

” تم انتہائی گھٹیا انسان ہو۔ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔ مجھے تم سے نفرت ہے۔” رامین غصے سے چلائی۔

” یہ سب کرنے پر بھی تم نے مجھے مجبور کیا ہے۔ بار بار تم مجھ سے ڈیورس کی ڈیمانڈ کر رہی تھی۔ وہ بھی اس تھرڈ کلاس سے ایاز کے لیے۔ جس کی نہ کوئی پرسنیلٹی ہے نہ کوئی عقل۔ تم اس کی خاطر مجھ سے ڈیورس لینا چاہتی تھی۔ صرف یہی نہیں مجھ سے دور جانے کے لیے وہ سٹوپڈ سی پارٹ ٹائم جاب لے آئی۔ بچہ سمجھا ہے کہ ریزیگنیشن سے دال نہیں گلی تو پارٹ ٹائم جاب کا کھڑاک لے آئی۔ اس لیے مجھے یہ سب کرنا پڑا۔ نہ تم یہ ڈیورس کی رٹ لگاتی نہ میں ایسے زبردستی کرتا۔ میں تمہاری مرضی کے بغیر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن تم باز نہیں آئی اور ویسے بھی یہ میرا حق تھا۔”

رامین غصے سے اٹھ کر واش روم میں چلی گئی اور دھاڑ کی آواز سے دروازہ بند کیا۔

صارم کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔

صارم نے سر بیڈ پر گرا لیا۔

اس نے جان بوجھ کر رامین کا دھیان دوسری طرف لگایا تھا تاکہ وہ اس کے ڈیڈ کے پاس نہ جائے کیونکہ صارم یہ بات اچھے سے جانتا تھا کہ اگر رامین ان کے پاس جاتی تو وہ بغیر کسی ثبوت کے بھی اس پر اعتبار کر لیتے اور پھر صارم کی خیر نہیں تھی۔ اس کی شامت یقینی تھی۔

صارم دھیرے سے ہنسا۔

——————-

” آپی آپ یہ لے لیں اور اپنے لیے کپڑے بنوا لیں۔” رانی نے اس کی طرف پیسے بڑھائے۔

” تمہارے پاس اتنے سارے پیسے کہاں سے آئے؟” رابعہ نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔ ساتھ اس نے چمکتی آنکھوں سے پیسے لے لیے۔

” رامین نے مجھے سیمسٹر کی فیس کے پیسے دیے ہیں۔ میں اس سے پھر لے لوں گی۔”

” کتنی فیس ہے تمہارے سیمسٹر کی؟ اور بھی پیسے ہیں؟”

رانی چپ ہو گئی۔

” رانی پلیز میری پیاری بہن مجھے دے دو۔ اگر میں کپڑے بنواؤں گی تو میری ساس اور نندیں مجھے چھوڑیں گی نہیں۔ حسن الگ طعنے دے گا۔”

” آپی وہ میری سیمسٹر کی فیس ہے۔”

” رانی دے دو۔” فرح بیگم نے حکمیہ انداز میں کہا۔

” امی رامین۔۔۔”

” دے دو رانی۔ رامین سے اور لے لینا.” فرح بیگم نے بات ختم کی۔

——————-

رامین ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی گیلے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی۔ اس کی نظر جیسے ہی مرر سے نظر آتے صارم کے عکس پر گئی۔ اسے نئے سرے سے غصہ آنے لگا۔ اس نے غصے سے نگاہیں پھیریں۔

صارم جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ناراضگی سے رخ پھیرنے پر ہنس پڑا۔

وائٹ کلر کے سادہ سے سوٹ میں نکھرا بےداغ حسن صارم کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا۔ خفگی میں بھی وہ کوئی اپسرا معلوم ہو رہی تھی۔ آج اس کی چھب ہی نرالی تھی۔

” اپنے بال بڑھاؤ مجھے چھوٹے بال نہیں پسند۔” صارم نے دھونس سے کہا۔

” ہر جگہ تمہاری مرضی نہیں چلے گی۔ نہ یہاں کوئی تمہاری فرمائشیں چلیں گی۔”

” کیوں نہیں چلیں گی۔ تم میری بیوی ہو اور میں جیسے چاہوں جو چاہوں تم سے کروا سکتا ہوں۔”

” انہیں بڑھاؤ۔”

” یہ نہیں بڑھتے۔” رامین نے جیسے بات ہی ختم کی۔

” ایسے ہی نہیں بڑھتے۔ ہر لڑکی بڑھاتی ہے۔ تمہیں کیا بات ہے؟ جو چاہیے مجھے بتاؤ جیسے بڑھتے ہیں انہیں بڑھاؤ۔” صارم نے پیچھے سے آ کر اسے اپنے حصار میں لیا۔

رامین کا ٹھنڈا نرم نرم سراپا صارم کے جلتے اعصاب پر پھوار بن کر گرا۔ صارم مدہوش ہونے لگا۔

رامین نے تڑپ کر اس کا حصار توڑنا چاہا لیکن مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔

” اچھا نا سوری رومی۔” صارم نے اس کے گیلے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتارتے ہوئے کہا۔

” تم ہو ہی دھوکے باز جھوٹے۔” رامین نے ایک بار پھر اسے پیچھے کرنا چاہا۔

اس نے اس کے کندھوں پر سے دوپٹہ ہٹایا۔

رامین نے ہڑبڑا کر دوپٹہ لینا چاہا لیکن صارم نے اثر نہ لیا اور دور صوفے پر اچھال دیا۔

اس نے رامین کے بال آگے کیے اور اسے پینڈنٹ پہنایا۔ اس نے اپنا چہرہ اس کے گیلے بالوں میں چھپا لیا۔

” قصور میرا نہیں تمہارا ہے۔ تم ریڈ ساڑھی میں اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ میری نیت خراب ہو گئی اور اب بھی تم دیکھو میری محبت کا رنگ تم پر کتنا حسین چڑھا ہے کہ پھر سے میری نیت خراب ہو چکی ہے۔” اپنے لب اس کے ٹھنڈے کان کی لو پر رکھے۔

” سو ایڈوریبل تمہاری خوشبو بہت مسحور کن ہے۔ تم میں ایک نشہ ہے جو پتا نہیں کب مجھے تمہارا دیوانہ بنا گئی۔” صارم نے اس کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے کہا۔

رامین اس کے بےباک جملوں اور انداز سے خود میں سمٹنے لگی۔

اس نے تیزی سے دوپٹہ لینے کے لیے اس کے حصار سے نکلنا چاہا لیکن ناکام ٹھہری۔

صارم نے کندھے سے اس کی شرٹ ہلکے سے کھسکائی اور اپنے لب رکھے۔

وہ بے خود ہو رہا تھا۔

” نہیں صارم اب نہیں۔” رامین نے جھٹکے سے اسے دور دھکیلا۔

” اب نہیں یا کب نہیں یہ تم نہیں میں ڈیسائیڈ کروں گا۔” صارم اسے جھٹکے سے پکڑ کر دھاڑا۔

” صارم تم اس طرح میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے۔” رامین اس سے اپنا چھڑانے لگی۔ وہ اس پر خوامخواہ ہی حاکم بن کر بیٹھ گیا تھا۔

” کیوں نہیں کر سکتا؟ اس ایاز کی خاطر مجھے دھتکار رہی ہو؟ رومی تم مجھے اس طرح بار بار نہیں دھتکار سکتی۔ بیوی ہو میری۔” صارم نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔

اگلے ہی لمحے صارم نے اسے اپنی طرف کھینچا۔ اس کے لبوں پر شدت سے جھکا اور اپنی پیاس بجھانے لگا۔

رامین اپنا آپ چھڑوانے لگی۔

صارم اسے ایسے ہی بانہوں میں اٹھائے بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔

رامین تڑپ کر اپنا آپ چھڑوانے لگی۔

صارم ایک بار پھر اس پر قابض ہو چکا تھا۔ رامین کی مزاحمت کا صارم پر کوئی اثر نہ ہوا۔ بالآخر اس کی مزاحمت دم توڑ گئی۔

——————-

” رامین مجھے سیمسٹر کی فیس سبمٹ کروانی ہے۔” رانیہ نے اپنے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔

” ہاں تو کروا دو پیسے تو ہیں تمہارے پاس۔” رامین نے مصروف سے انداز میں کہا۔

” وہ۔۔۔ پیسے نہیں ہیں۔” رانیہ نے بلاسٹ کیا۔

” کیوں کیا مطلب کہاں گئے؟” رامین نے جھٹکے سے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔

” رابعہ آپی کو ضرورت تھی تو میں نے انہیں دے دیے۔”

رامین کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔

” رانی تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو؟” رامین نے روتے ہوئے اسے دیکھا۔

رامین روتے ہوئے گھر سے نکل گئی۔

” رامین ناشتہ تو کر لو۔” رانیہ اس کے پیچھے لپکی۔

” بھر گیا پیٹ۔” رامین نے بغیر مڑے کہا۔

” اسے کیا ہوا؟ ناشتہ نہیں کرنا تھا تو پہلے بتا دیتی۔” فرح بیگم نے لاپرواہی سے دیکھا۔

” امی فیس کا کہا تھا تو ناراض ہو گئی۔”

” دے دے گی تم فکر مت کرو۔”

” امی مجھے نہیں دینے چاہیے تھے۔”

” کیوں نہیں دینے چاہیے تھے؟ بہن ہے تمہاری فرض بنتا ہے۔ اب رامین تو اس کی مدد کرتی نہیں ہے تو ہم بھی کیا کریں؟” فرح بیگم نے پراٹھا اس کے آگے رکھا۔

” رامین تم سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتی۔ فیس بھی دے دے گی تم ناشتہ کرو۔” فرح بیگم نے اسے ریلیکس کیا۔

——————–