Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 18)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
صارم علی شاہ کے آفس میں داخل ہوا تو وہاں رامین کو بیٹھے پایا۔
رامین کی باتیں اسے غصہ دلانے لگیں۔ وہ اس سے دور جانے کے لیے ٹائم کا دھیان بھی نہیں رکھ رہی تھی۔
تمہیں تو میں بتاتا ہوں رامین خالد۔ صارم خیالوں میں رامین سے مخاطب ہوا۔
اسی لمحے علی شاہ نے اسے بیٹھنے کا کہا۔ رامین کی رنگت اسے دیکھ کر ہی اڑ گئی تھی۔
اور مزے کی بات تو یہ تھی کہ اس کے ڈیڈ نے یہ میٹر اسی کے کورٹ میں ڈال دیا۔ جہاں سے رامین بھاگ کر آئی تھی۔
” صارم مجھے تمہیں بتانے کا خیال نہیں رہا۔” رامین کے جانے پر علی شاہ اس سے مخاطب ہوئے۔
” یہ ایماندار اور لوئیل ہے۔ نیڈی ہے تمہیں اس کا خود سے دھیان رکھنا ہو گا۔ خود دار ہے۔ یہ تم سے ایسے ہی پیسے نہیں لے گی۔ تمہیں خود سے دھیان رکھنا ہو گا۔”
” میں آئے دن اس کو بونس دیتا تھا۔ تم اس کی سیلری ڈبل کر دو۔ کام بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ وقت بڑھاؤ گے جو جیسا چل رہا ہے ویسے ہی چلنے دو۔ جوان بچی ہے اپنی ضرورتوں اور مجبوریوں کے آگے ٹائم کا خیال نہیں رکھ رہی۔”
” یس ڈیڈ۔”
” میں نے پہلی بار اسے ہاتھ پھیلاتے تب دیکھا تھا جب یہ ہاتھ باندھے ہاسپٹل کے دروازے پر ہر آنے جانے والوں سے پیسے مانگ رہی تھی۔ اسے اپنے باپ کی سرجری کے لیے پیسے چاہیے تھے۔” علی شاہ نے افسردگی سے بتایا۔
صارم زلزلوں کی زد میں آ گیا۔
” تم اس کا خیال رکھو۔ اتنے وفادار ایمپلائی اتنی آسانی سے نہیں ملتے۔” علی شاہ نے سمجھایا۔
صارم نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
” تم یہاں کیوں آئے تھے؟” علی شاہ نے اس کے آنے کی وجہ پوچھی۔
صارم کو جیسے یاد آیا اور اپنے آنے کی وجہ بتانے لگا۔
——————-
” سر سارا سٹاف جا رہا ہے میں بھی جاؤں؟ باقی کام کل کر لوں گی۔” رامین نے ایک نئی فائل تھامتے ہوئے کہا۔
” اتنے پیار سے کہو گی تو کیسے منع کروں گا؟” صارم نے کھینچ کر اسے دیوار سے دھکا دیا۔ اس کے بالوں میں لگا کیچر ٹوٹ کر کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
وہ اس سے پہلے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوتی صارم اس کی طرف بڑھا اور اس کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر اس کا راستہ بند کر دیا۔
” صارم۔۔”
” شش۔۔۔”
” تمہاری جاب ٹائمنگ اور ہے بڑھا دی گئی ہے۔
” کیا ٹائمنگ تھی وہاں کی۔” صارم نے جیسے یاد کرنے کی اداکاری کی۔
رامین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔ وہ کیا کہنے والا تھا؟
” پانچ سے ایک۔”
” لیکن میں تمہیں ایک بجے تک نہیں رکھوں گا۔ تم تو خوف سے ہی فوت ہو جاؤ گی۔”
” آٹھ بجے تک تمہیں میرے ساتھ رہنا ہو گا پھر میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔” رامین کانپ کر رہ گئی۔
صارم نے رامین کا دوپٹہ جھٹکے سے کھینچ کر دور اچھال دیا۔
رامین کا بغیر دوپٹہ کے رعنائیاں بکھیرتا سراپا اس کی نگاہوں کے سامنے تھا۔ اس کی صراحی دار گردن اسے اپنی جانب اپیل کر رہی تھی۔
صارم بےخود ہوتا اس پر جھکا۔
وہ اپنی شدتیں دکھانے لگا۔
وہ رامین کی گردن میں منہ چھپائے رامین کو کانپنے پر مجبور کر گیا۔
” صا۔۔ صارم پلیز۔” رامین اسے دور کرنے لگی۔
وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ کی قید میں لیے اس کی گردن میں جابجا اپنا لمس چھوڑ رہا تھا۔
صارم اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اس کے گرد حصار تنگ کیے ہوئے تھا۔
رامین کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ وہ اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
وہ دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ صارم اس پر قابض تھا۔
رامین کے بال اس کے چہرے پر بکھر گئے تھے۔
” کیوں رامین مجھے غصہ دلاتی ہو؟” صارم غصے سے غرایا۔
” تم مجھ سے دور جانے کے لیے یہ سب کر رہی ہو نا؟”
” نن۔۔ نہیں۔۔”
صارم نے اس کے آنسو اپنے لبوں پر چنے۔
” میں رانی کی سیمسٹر فیس کے لیے یہ جاب کر رہی ہوں۔”
” رانی کی فکر مت کرو اسے تو ہم پڑھا ہی لیں گے۔” صارم نے کہتے ہی اس کی سانسوں کو قید کر لیا۔
رامین بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھنسائے اسے خود کے مزید قریب کر گیا۔
رامین کی مزاحمت دم توڑ گئی۔ وہ بے جان وجود کی طرح اس کے حصار میں مقید تھی۔
وہ اس کے لبوں پر شدت سے حاوی تھا۔
رامین کی سانسیں پینے میں مصروف تھا۔ رامین کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہہ رہے تھے۔
بالآخر صارم نے اسے آزادی بخشی۔
وہ ایک جھٹکے سے اس سے پیچھے ہوا۔
رامین گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
اگر وہ اس کے حصار میں نہ ہوتی تو وہ گر چکی ہوتی۔
” ڈیڈ نے تمہاری صرف پے بڑھانے کا کہا ہے لیکن میرا دل تمہارے بغیر نہیں لگے گا اور پھر تمہیں سزا بھی تو دینی تھی۔ اس لیے میں نے تمہارا ٹائم بھی بڑھا دیا ہے۔
رومی باز آ جاؤ تم میرے پاس آیا کرو۔ تمہاری یہ حرکتیں مجھے مزید غصہ دلاتی ہیں۔” صارم نے اس کے بال کان کے پیچھے کیے۔
رامین ہل بھی نہ سکی۔
” اب جاؤ کل سے آٹھ بجے تک تمہاری ٹائمنگ ہے۔”
رامین دوپٹہ اٹھاتی وہاں سے بھاگ گئی۔
رامین تیز تیز سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ آج اس نے لفٹ میں جانے کی غلطی نہیں کی تھی۔
تیز تیز سیڑھیاں اترتی دو بار اس کا پاؤں لڑکھڑایا تھا۔
صارم اس سے بھی تیزی سے سیڑھیاں پھیلانگتا اس کے سر پر تھا۔
صارم نے اسے کہنی سے پکڑ کر کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔
” آرام سے اترو مسز صارم مجھ سے بھاگنے کی جلدی کیوں رہتی ہے؟ کیوں میرے غصے کو ہوا دیتی ہو؟ میں اب تک تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آ رہا ہوں۔ مجھے مجبور مت کرو حیوانیت پر۔” صارم نے چبا چبا کر کہا۔
رامین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔
” صارم تمہیں اللّٰہ بےبس کرے جتنی میں ہوں۔” رامین نے برستی آنکھوں سے کہا۔
” اپنا حلیہ ٹھیک کرو۔” صارم نے بنا اثر لیے کہا۔
رامین کو احساس ہوا۔ وہ فوراً اپنا حلیہ ٹھیک کرنے لگی۔
صارم وہاں سے تیزی سے اتر گیا۔ رامین بھی اس کے پیچھے تھی۔
——————
وہ بس سٹاپ پر کافی دیر سے کھڑی تھی اور بس تھی کہ آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
” بیٹھو گاڑی میں میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔” صارم نے اس کے قریب گاڑی لا کر کھڑی کی۔
” نہیں تھینک یو.” رامین نے صاف انکار کیا۔
صارم نے غصے سے لب بھینچے اور وہاں سے چلا گیا۔
تھوڑا آگے جا کر اسے احساس ہوا۔ اس نے فوراً گاڑی آفس کے راستے پر ڈالی۔
سڑک خالی تھی۔ اکا دکا لوگ آ جا رہے تھے۔ رامین کے قریب دو لڑکے لوفرانا انداز میں کھڑے دیکھ کر اسے غصہ آ گیا۔
وہ بہت پریشان لگ رہی تھی خیر پریشان تو وہ اس کی موجودگی میں بھی ہوتی تھی لیکن وہ تو اس کا شوہر تھا نا اور وہ کچھ بھی نہیں تھے۔ صارم نے تیزی سے گاڑی فٹ پاتھ کے پاس جا کر روکی۔
وہ لڑکے اور رامین جھٹکے سے متوجہ ہوئے۔
صارم کو ڈرائیونگ سیٹ پر دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔
” صارم۔۔” رامین کے فقط لب ہل۔ رامین تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔
” گاڑی میں بیٹھو۔” صارم نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
صارم کی دھاڑ پر جہاں رامین کانپی۔ وہ دونوں لڑکے بھی رفو چکر ہو گئے۔
” بیٹھو گاڑی میں۔” صارم ایک بار پھر دھاڑا۔
رامین دوڑتی ہوئی گاڑی میں بیٹھ گئی۔
صارم نے بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور مین روڈ پر ڈال دی۔
” سدھر جاؤ رامین۔” صارم نے شعلہ بار نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
” میں اتنا گیا گزرا ہوں کہ تم میرے ساتھ گھر بھی نہیں جا سکتی۔
آج کے بعد میں نے تمہیں اکیلے گھر سے باہر نکلتے دیکھا تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا اور پھر مجھے تمہاری وہیل چیئر چلانے پر کوئی شرم نہیں۔”
رامین کی روح کانپ گئی۔ وہ دروازے سے لگی ہوئی تھی۔
” کل سے میں تمہیں خود پک کروں گا۔ دس بجے تیار رہنا مجھے انتظار کرنا پسند نہیں۔”
” آفس ٹائمنگ نو بجے ہے۔” رامین منمنائی۔
” جب میں جاؤں گا تم تب جاؤ گی۔ ایک بار رومی ایک بار میری حقیقت اور ذات کو تسلیم کر لو تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی میں تمہیں تنگ کرنا چھوڑ دوں گا۔” صارم نے بےبسی سے کہا۔
صارم نے گاڑی روکی۔
رامین کو ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھا۔
” اپنے ساتھ لے جاؤں؟”
رامین ہڑبڑائی اور زور زور سے سر نفی میں ہلایا۔
” جاؤ پھر۔”
رامین اترنے لگی۔
” حلیہ ٹھیک کرو۔ آج کس کو مارنے کا ارادہ ہے؟”
رامین نے اپنا چہرہ صاف کیا۔ گہری سانس لیتی خود کو نارمل کیا اور گاڑی سے اتر گئی۔
” تمہیں خود سے محبت کرنے پر مجبور نہ کر دیا تو میرا نام بھی صارم علی شاہ نہیں۔” صارم ونڈ سکرین سے پار جاتی رامین سے مخاطب تھا۔
——————-
” سر مجھے آپ یہاں کیوں لائے ہیں؟ جب میرے لیے کوئی کام ہی نہیں تھا۔”
” اتنی کیا جلدی ہے؟ بتا دیتا ہوں۔”
” علی انکل مجھے کبھی سائٹ پر نہیں لاتے تھے۔”
” وہ نہیں لاتے تھے پر میں لاتا ہوں۔ میرے کام کرنے کا انداز ان سے تھوڑا مختلف ہے۔”
” کوئی کام ہی نہیں تھا۔ گرمی کتنی ہے۔” رامین نے دوپٹے سے پسینہ صاف کیا۔
” گرمی لگ رہی ہے؟ میم کے لیے امبریلا اور چیئر لے کر آئیں اور تم ٹھنڈا سٹرابیری شیک لے کر آؤ۔” صارم نے لمحوں میں سب کو متحرک کر دیا۔
رامین بوکھلا کر رہ گئی۔
کچھ لمحوں بعد صورتحال یہ تھی کہ رامین چیئر پر بیٹھی ٹھنڈا ٹھار شیک پی رہی تھی اور ایک بندہ اس کے سر پر چھتری لیے کھڑا تھا۔
رامین نے اپنے سے کچھ دور کھڑے صارم کو دیکھا۔ جو پسینے سے شرابور کھڑا کام کا جائزہ لے رہا تھا۔
صارم کا حلیہ دیکھ کر رامین کا دل کیا اپنے دوپٹے سے اس کا پسینہ صاف کرے لیکن خوامخواہ ہی شوخا ہو جاتا۔
اپنے ٹھاٹ سے بیٹھنے پر اور علی شاہ کے لاڈلے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر رامین کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آ گئی۔
رامین نے چہرہ پھیر کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔
لیکن یہ مسکراہٹ بھی صارم کی زیرک نگاہوں سے مخفی نہ رہ سکی۔
کچھ دیر بعد وہ اس کے پاس آیا۔
” آؤ اوپر چلیں۔” صارم نے اس کے ہاتھ سے شیک لے کر پیا۔
رامین نے گڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا۔
” میرا جانا ضروری ہے؟”
” ہاں۔”
” میں کیا کروں گی اوپر جا کر؟ مجھے پتا چل گیا ہے میرے لیے یہاں کوئی کام نہیں ہے۔” رامین نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” میں تمہیں اتنے مزدورں میں اکیلا چھوڑ کر اوپر جاؤں گا دماغ کام کرتا ہے تمہارا؟ تم عقلمند بنتی ہو مگر ہو نہیں۔” صارم نے اسے اچھا خاصا جھاڑ دیا۔
وہ منہ بناتی صارم کے پیچھے چل پڑی۔
” میں ایسی سیڑھیاں کبھی نہیں چڑھی۔ میں گر جاؤں گی۔” رامین نے خوف زدہ انداز میں کہا۔
” ڈونٹ وری ہماری کمپنی کا رول ہے کہ اگر کسی ایمپلائی کو کچھ ہو جاتا ہے تو اس کا ٹریٹمنٹ کمپنی کرواتی ہے اور اگر وہ سروائیو نہیں کر پاتا تو کمپنی اس کی سیلری بصورت پینشن اس کی فیملی کو دیتی رہتی ہے۔” صارم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” اس میں میرا تو کوئی فائدہ نہ ہوا۔”
” تمہیں محنت نہیں کرنی پڑے گی۔”
” میں محنت سے نہیں گھبراتی۔”
” ایک شوہر تم سے خوش ہوتا نہیں۔ بات کر رہی ہو محنت سے نہ گھبرانے کی۔” صارم نے بظاہر سنجیدہ لیکن مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
رامین نے اوپر آتے ہوئے آخری سیڑھی پر صارم کا پھیلا ہاتھ تھام لیا۔ صارم نے مضبوطی سے پکڑ لیا اور اسے اوپر لے آیا۔
اوپر آ کر صارم ارد گرد کا جائزہ لینے لگا اور کچھ تفصیلات سمجھانے لگا۔
ایک بار پھر وہ رامین سے لا تعلق ہو چکا تھا۔ رامین اس کے پیچھے چلتی ارد گرد نگاہیں دوڑا رہی تھی۔
پتا نہیں وہ کتنی دیر بیزاریت سے اس کے پیچھے ہی کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔
وہ ان کو ہدایات دیتا رامین کو چلنے کا اشارہ کرتا آگے بڑھ گیا۔
تھوڑا آگے جا کر وہ جھٹکے سے رامین کو کھینچ کر ایک طرف کر گیا۔
اس سے پہلے رامین کی چیخ نکلتی وہ رامین کے لبوں پر اپنا مظبوط ہاتھ رکھ کر اس کی چیخیں دبا گیا۔
رامین خوف سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” تمہیں کیا لگا تھا میں تمہیں یہاں لا کر بھول گیا ہوں۔ ایسا ہو سکتا ہے؟” صارم مسکراتے ہوئے اس کے قریب ہوا۔
” صارم کوئی دیکھ لے گا پلیز پیچھے ہٹو۔” رامین نے خوف زدہ ہوتے ہوئے دبی دبی آواز میں کہا۔
” میں نے سب کو مصروف کر دیا ہے۔ اب تمہیں تمہارا کام بتا دوں۔” صارم اس کے لبوں پر جھکا اور اس کی سانسوں کو قید کر لیا۔
رامین کی آنکھیں کھل گئیں۔
وہ صارم کو پیچھے کرنے لگی۔ صارم نے اس کے دونوں ہاتھ ایک ہاتھ میں پکڑ لیے۔ رامین کے لیے سانس لینا مشکل ہو گیا۔
کافی دیر یونہی گزر گئی۔
بالآخر صارم نے اس کے لبوں کو رہائی دی۔
رامین گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
” کیا رامین تم نے شیک پیا ہے اس کے باوجود تھک گئی۔ مجھے تو لگا تھا تم مجھے ٹھنڈک کا احساس دلاؤ گی۔ تم میرا برابر ساتھ دو گی۔” صارم نے شرارت سے اس کے بال کان کے پیچھے کیے۔
پنکھڑیوں جیسے سرخ کپکپاتے ہونٹ اسے ایک بار پھر اپنی طرف مائل کر رہے تھے۔
صارم بے خود ہوتا اس کے ارد گرد ہاتھ رکھتا اس کے فرار کے راستے بند کر گیا اور ایک بار پھر اس کی سانسوں پر قابض ہو گیا۔
رامین نے کندھوں سے اس کی شرٹ پکڑ لی اور اسے دور دھکیلنے لگی۔
صارم نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر حائل کرتے اور ایک ہاتھ اس کی گردن پر رکھے اسے خود کے مزید قریب کیا۔
رامین اسے مسلسل جھنجھوڑ رہی تھی اور خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
رامین کے لیے اب مزاحمت مشکل ہو رہی تھی۔
” سر..۔”
دور سے صارم کو کوئی پکارنے لگا لیکن صارم کا رامین کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
” سر آپ کہاں ہیں؟” آواز اب دھیرے دھیرے قریب آ رہی تھی۔
رامین اسے پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
بالآخر صارم نے رامین کو آزادی بخش دی اور دیوار سے نکل کر اس شخص کے قریب چلا گیا۔
رامین گہرے گہرے سانس لینے لگی اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو نارمل کرنے لگی۔
” جی۔۔” اس کا انداز اتنا نارمل اور مصروف تھا جیسے وہ پتا نہیں کس اہم کام میں مصروف تھا۔
” سر آپ سے کچھ پوچھنا ہے پلیز نیچے آئیے گا۔” اس شخص نے کہا۔
صارم اس شخص کے ساتھ ایسے کھڑا تھا کہ رامین اسے نظر نہیں آ سکتی تھی کیونکہ رامین دیوار کے اس پار تھی اور صارم اس شخص کے ساتھ دیوار کے اس پار سیڑھیوں کے قریب تھا۔
” آپ چلیں میں آ رہا ہوں۔” صارم نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔
” میرے ساتھ جو مس آئی تھیں وہ کہاں ہیں؟” صارم نے مصروف سے انداز میں پوچھا۔
” سر وہ نیچے ہی ہیں۔” اس شخص نے بتایا۔
” تم بچ گئی۔” صارم کی آواز نے اسے ڈرا دیا تھا۔ صارم اس کی نوز پن پر شدت سے جھکا۔
” صارم۔۔” رامین نے اسے پیچھے کیا۔
” وہ چلا گیا ہے۔” صارم نے ہنستے ہوئے بتایا۔
ابھی بچ گئی تھی؟ رامین نے صارم کو حیرت سے دیکھتے ہوئے سوچا۔
ہاں بچ تو وہ گئی تھی۔ رامین نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔
” چلو۔” صارم نے مسکراتے ہوئے اس کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے اسے اس کی سوچوں کی دنیا سے باہر نکالا۔
وہ اس کے ساتھ وہاں سے نکل گئی۔ وہ اس کے ساتھ ہی چل رہی تھی۔
” تمہیں مزہ آیا؟ مجھے تو یہاں زیادہ مزہ آیا۔” صارم نے شرارت سے کہا۔
رامین گھور کر رہ گئی۔
” اتنے پیار سے مت دیکھو کہیں میرا نیچے جانے کا ارادہ ہی نہ بدل جائے۔”
رامین نے بوکھلا کر نظروں کا زاویہ بدلا۔
” ہاں۔۔ یہ سیڑھیاں کہاں گئیں؟” رامین ڈر گئی۔
” لو دیکھو وہ لوگ بھی یہی چاہتے ہیں ہم اوپر ہی رہیں۔” صارم نے شرارت سے کہا۔
رامین نے ان سنا کیا۔
صارم کو آتا دیکھ کر ایک آدمی اس طرف سیڑھی لے آیا۔
صارم اس سیڑھی سے تیزی سے اتر گیا۔ جیسے دن میں کئی بار وہ یہ سیڑھی اترتا ہے۔
رامین شاکڈ سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
” صارم مجھے تو لے جاؤ۔”
” اگر یہیں چھوڑ دوں تو؟”
” ایسے کیسے بیویوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔” رامین نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
” میں تو دینے کو تیار ہوں پر بیوی لے بھی تو سہی۔” صارم نے مسکراتے ہوئے رامین کا ہاتھ اپنے مظبوط ہاتھ میں تھام لیا اور اسے سیڑھی اترنے میں مدد دی۔
یہ پہلی بار تھا جب رامین نے خود سے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جسے صارم شاہ نے خوشی سے تھام لیا۔
نیچے آ کر صارم ایک بار پھر اس سے لاتعلق ہو گیا تھا۔
—————–
رامین کی نظر جیسے ہی جینٹس شاپ سے نکلتے صارم پر پڑی وہ اپنا رخ پھیر گئی۔
” چلو رانی یہاں سے۔” رامین رانی کا ہاتھ پکڑے وہاں سے نکلنے لگی لیکن صارم انہیں دیکھ چکا تھا۔
جس طرح سے رامین نے اسے دیکھ کر چہرہ پھیرا تھا۔ اسے اسی وقت انداذہ ہو گیا تھا کہ یہ رامین ہے اور وہ اسے دیکھ چکی یے۔
وہ مسکراتا ہوا ان کی طرف بڑھا۔
” ہیلو بیوٹی فل گرلز۔” صارم نے انہیں پیچھے سے بلایا۔
” ایکسکیوز می آپ کون ہیں؟” رانیہ نے تجسس سے پوچھا۔
” رامین مجھے اچھے سے جانتی ہے۔ رامین تم نے انہیں کچھ نہیں بتایا؟”
” کون ہیں رامین؟”
” میرے باس۔”
” علی انکل انکل اتنے ینگ؟” رانیہ ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی۔
” کا بیٹا۔” رامین اور صارم نے یک زبان کہا اور پھر تینوں ہی ہنس پڑے۔
” صارم شاہ۔” صارم نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا۔
” رانیہ خالد۔” رانیہ نے مسکراتے ہوئے ہاتھ تھام لیا۔
صارم کے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ آئی۔
رانیہ اپنی بہن سے زیادہ سمجھ دار تھی۔ صارم نے مسکراتے ہوئے سوچا۔
” آپ لوگوں نے شاپنگ کر لی؟”
” جی۔”
” نہیں ابھی رہتی ہے۔”
رامین اور رانیہ ایک ساتھ بولے۔
” ہو گئی رانی بس بہت ہے چلو۔” رامین نے ناراضگی سے کہا۔
” یار رامین تم اور امی بعد میں کہتے ہو کرایہ لگتا ہے۔ رابعہ بھی باقی پیسے لے جائے گی۔” رانیہ نے سرگوشی کی۔
رامین نے اسے کہنی ماری۔
رانیہ نے زبان دانتوں تلے دبائی۔
” آپ لوگوں کی شاپنگ ہو گئی ہے تو میری شاپنگ میں مدد کر دیں مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔”
” شیور وائی ناٹ۔”
” ہمیں لیٹ ہو رہی ہے۔”
رامین اور رانیہ نے ایک بار پھر ایک ساتھ کہا۔
” تھینک یو رانیہ۔” صارم نے رامین کے جواب کو خاطر میں لائے بغیر کہا۔
” جو لوگ مجھے اچھے لگتے ہیں وہ مجھے رانی کہتے ہیں۔”
” اوکے رانی چلو پھر۔” صارم اور رانیہ آگے بڑھ گئے۔
پیچھے رامین بل کھا کر رہ گئی۔
————————-
رانیہ اور صارم کو کچھ پسند نہیں آ رہا تھا۔ دونوں بس کپڑوں پر اور بہت سی چیزوں پر تبصرے کرتے ہنس رہے تھے۔
” تمہاری بہن نہیں ہنستی رانی۔ تمہاری بہن تو پتا نہیں کس پر گئی ہے؟”
” میں پاپا پر گئی ہوں۔ رامین بھی اچھی ہے کم گو ہے اور تھوڑی زیادہ موڈی ہے۔” رانیہ نے ہنستے ہوئے بتایا۔
” لیکن دل کی بہت اچھی ہے جو ایک بار دل کو بھا جائے اسے کوئی اتار نہیں سکتا۔” رانیہ نے محبت سے اس کی تعریف کی۔
” اور جو دل سے اتر جائے؟” صارم نے شرارت سے پوچھا۔
” اسے کوئی چڑھا نہیں سکتا۔” صارم اور رانیہ نے ہنستے ہوئے ایک ساتھ کہا۔
صارم اور رانیہ ہنستے ہوئے اس کے بارے میں ایسے باتیں کر رہے تھے جیسے وہ کسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
” یہ کیسا لگ رہا ہے؟” رانیہ نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ اسے سمجھ نہیں آیا۔ وہ اسے کیسے مخاطب کرے۔
” جو لوگ مجھے اچھے لگتے ہیں وہ مجھے صارم بھائی کہتے ہیں۔” صارم نے اس کی مشکل آسان کردی۔
” اوکے صارم بھائی۔” رانیہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
” رامین آپ کو اچھی نہیں لگتی کیا؟”
” رامین کے اچھے لگنے کا لیول ہی کچھ اور ہے۔” صارم نے شرارت سے رامین کو دیکھا۔
رامین نے صارم کو جھٹکے سے دیکھا۔
” مطلب؟”
” مطلب یہ کہ ہم آفس میں ہوتے ہیں تو وہاں ہمیں پروفیشنل رہنا ہوتا ہے۔ اس لیے میں اور رامین بہت زیادہ کلوز ہیں۔ فرینڈز کی طرح کام کرتے ہیں۔”
” اوہ۔۔”
رانی کے صارم بھائی کو رانی کی طرح جلدی کوئی چیز پسند نہیں آ رہی تھی۔
بالآخر انہوں نے صارم کے لیے شاپنگ کر لی۔
رامین نے رانیہ کو بھی اپنی شاپنگ کمپلیٹ کرنے کا کہا۔
” چلو رانی اب بس کرو بہت دیر ہو گئی ہے۔” رامین نے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔
صارم اور رانی اس کی موجودگی سے لاتعلق اپنا ہی مگن تھے۔ تھوڑی سی دیر میں ہی ان کی بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی۔
” آئیں آپ لوگوں کو میں ڈراپ کر دوں۔” صارم نے آفر کی۔
” بہت شکریہ ہم چلے جائیں گے۔”
” کیا ہو گیا ہے رامین اتنا روڈ بھی مت ہو۔ شیور صارم بھائی۔”
وہ لوگ صارم کی گاڑی میں بیٹھنے لگیں۔
” رانی آگے آ جاؤ۔”
رانی مسکراتے ہوئے آگے بیٹھ گئی۔
” آئس کریم کھائیں گے؟”
” نہیں۔”
” شیور۔”
” رانی امی انتظار کر رہی ہیں ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکے ہیں۔” رامین نے سنجیدگی سے کہا۔
” یس صارم بھائی پھر کبھی۔”
” ابھی کیوں نہیں آئس کریم کھانے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟” صارم نے آئس کریم پارلر کے باہر گاڑی روکی۔
” کون سی آئس کریم لو گی؟”
” پائن ایپل مائی فیورٹ۔”
” آئی لو سٹرابیری۔ کوئی بیوقوف ہی ہو گا جو سٹرابیری نہ کھاتا ہو۔” صارم نے مسکراتے ہوئے تبصرہ کیا۔
صارم آرڈر دے چکا تھا۔
” رامین سٹرابیری نہیں کھاتی۔” رانیہ نے مسکراتے ہوئے اس کے گوش گزار کیا کیونکہ وہ رامین سے پوچھے بغیر آرڈر دے چکا تھا۔
” ریئلی؟ رامین نے کبھی بتایا نہیں۔”
حرکتیں اس کی دل سے اترنے والی تھیں۔ چاہتا وہ رامین کے دل میں چڑھنا تھا۔ صارم نے مسکراتے ہوئے سوچا۔
——————-
