347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 25) 2nd Last Episode

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

رامین سن سی چل رہی تھی۔ سر پر آسمان تو تھا پر پیروں تلے زمین کب کھسکی اسے پتا نہیں چلا۔

وہ آٹھ منزلہ عمارت پر محیط بلڈنگ کی چھت سے نیچے گری۔ نیچے سے گزرتی گاڑی کے بونٹ سے جا ٹکرائی۔ گاڑی کی رفتار تیز ہونے کے باعث وہ دور مین روڈ پر جا گری۔

بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کو جھٹکے سے بریک لگے اور تائر چرچرا اٹھے۔ پُرسکون ماحول ایک دم سے افرا تفری میں بدل گیا۔

ٹریفک کا بےہنگم شور لوگوں کی چیخ و پکار سے ماحول میں ارتعاش برپا ہوا۔ لمحے میں بھاگتی دوڑتی دنیا ساکت ہوئی اور سڑک خون سے بھر گئی۔

گاڑی والے پر لوگ چلانے لگے۔

” مجھ پر چلانا بند کریں۔ میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا۔ یہ لڑکی اس بلڈنگ سے گری ہے۔ مجھے تو پتا بھی نہیں تھا۔

کوئی اس بےچاری کو ہاسپٹل لے کر جاؤ مر جائے گی۔ بہت خون بہہ رہا ہے۔”

” ان کی فیملی کو بتا دیں۔ میں انہیں سٹی ہاسپٹل لے کر جا رہا ہوں۔”

اسی گاڑی والے نے رامین کے بے سدھ پڑے وجود کو اٹھا کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا اور گاڑی آگے بھگا لے گیا۔

——————–

ایمرجنسی میں رامین کا ٹریٹمنٹ شروع کیا گیا۔

پہلے تو اسے خودکشی کیس کے باعث ڈاکٹر اس کا ٹریٹمنٹ کرنے سے انکاری تھے پھر اس گاڑی والے نے کسی طرح اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے ٹریٹمنٹ شروع کروایا۔

رامین کا خون بہت ضائع ہو چکا تھا۔ اسی بندے نے اس کا بلڈ ارینج کروایا تھا۔

بازو اور ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ پٹیوں سے جکڑا اس کا وجود وہ زندہ تھی مگر کسی لاش کی طرح۔ اسے ہوش نہیں آ رہا تھا۔

وہ بندہ ابھی تک وہیں موجود تھا۔ اس لڑکی کے گھر والوں کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔

ایسا کیا ہوا تھا جو اتنی کم عمر لڑکی کو خودکشی کرنی پڑی؟

اس شخص کی فلائٹ کا ٹائم ہو چکا تھا۔ اسے اب نکلنا تھا۔

وہ ڈاکٹر سے اس لڑکی کا ٹریٹمنٹ مکمل کرنے کی تاکید کرتا وہاں سے چلا گیا۔

——————–

صارم ریش ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس کی گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔ وہ علی شاہ کو کال پر بتا چکا تھا۔ خود اس کا رخ ہاسپٹل کی طرف تھا۔

” صارم تم تو یہی چاہتے تھے کہ تمہاری اس سے جان چھوٹ جائے۔ اب وہ مر کے چھوٹے یا زندہ رہ کر۔ تمہاری تو جان بخشی ہو گی۔ دعا کرو وہ مر ہی جائے کیونکہ جیتے جی تو تم اسے چین نہیں لینے دو گے۔” شہریار نے جان بوجھ کر اپنے لفظوں کے ذریعے اس کے دل پر وار کیا۔

صارم نے بےبسی سے سر نفی میں ہلایا۔

اس کے دل کو کچھ ہو رہا تھا۔

ہاسپٹل کے باہر گاڑی روکتے ہی وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر پاگلوں کی طرح اندر بھاگا۔

” اسے کیا ہوا؟ اس کے لیے تو یہ انتقام تھا جو ختم ہوا۔” اسد نے حیرت سے پوچھا اور ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ بند کیا۔

” یہ رامین سے محبت کرتا ہے اور بدقسمتی سے اس بات سے خود بھی انجان ہے۔ دیکھا نہیں تھا اس کی تصویر گارڈ کو گھورتے دیکھ کر کیسے جھاڑ دیا تھا۔ حالانکہ خود اسے روند رہا تھا۔” شہریار نے اندر کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔

” رامین خالد۔۔” صارم نے ریسیپشن پر جا کر تیزی سے کہا۔

ریسیپشن پر موجود لڑکی نے تیزی سے ٹائپنگ کر کے چیک کیا۔

” سوری سر اس نام کی ہمارے پاس کوئی پیشنٹ نہیں ہے۔”

” یہ کیسے ممکن ہے آج ایمرجنسی میں آئی ہے۔ چھت سے گری ہے۔”

” دیٹ وے سر۔” اس لڑکی نے اشارہ سے راستہ بتایا۔

وہ تیزی سے بھاگا۔ شہریار اور اسد بھی اس کے پیچھے تھے۔

ایمرجنسی وارڈ میں جا کر صارم نے رامین کو تلاشا پر نظریں خالی لوٹیں۔

” ایکسکیوز می ڈاکٹر آج شام میں ایک لڑکی آئی ہے ایمرجنسی میں۔ وہ کہاں ہے؟”

” آئی سی یو میں ہیں۔ کہاں تھے آپ؟ کیا لگتی ہیں وہ آپ کی؟” ڈاکٹر نے فکرمندی سے بتایا۔

” وائف ہیں میری۔”

” آئیں میرے ساتھ۔”

” وہ ٹھیک تو ہیں نا۔”

” آئی وش میں ایسا کہہ پاتا۔ وہ زندہ ہیں لیکن حالت بہت خراب ہے۔ کوما میں جا چکی ہیں۔ بہت زیادہ انجریز آئی ہیں۔ ہڈیاں ٹوٹی ہیں۔۔”

” کیا؟” صارم کو شاک لگا۔ وہ لڑکھڑایا۔ پاس کھڑے اسد نے اسے سہارا دیا۔

” اسے کب تک ہوش آ جائے گا؟”

” سر پر چوٹ بہت گہری ہے۔ کہنے کو دو دن میں آ جائے نہ آنے کو ساری زندگی نہ آئے۔”

صارم نے رامین کے پٹیوں سے جکڑے وجود کو دیکھا۔ جو اس وقت ہر احساس سے عاری ساکت اور منجمد۔۔

صارم کی آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ کر گرے۔

ڈاکٹر صارم کا کندھا تھپک کر آگے بڑھ گیا۔

ان تینوں کو چپ لگ گئی تھی۔ وہ تینوں کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں رہے تھے۔

” یہ میں نے کیا کر دیا؟” صارم نے بہتی آنکھوں سے کہا۔

” کیا ہوا ہے صارم رامین ٹھیک ہے؟” علی شاہ نے ان کو کاریڈور میں کھڑے دیکھا تو ان کی طرف آئے۔

صارم باپ کو دیکھ کر ان سے لپٹ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔

” ڈیڈ میں نے اسے مار دیا۔ میری وجہ سے وہ زندہ لاش بن گئی۔”

” کیا ہوا ہے؟”

” کیا ہوا ہے صارم؟” علی شاہ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر خود سے الگ کیا۔

صارم شرمندگی اور احساس جرم سے نظریں جھکا گیا۔

وہ بہتی آنکھوں سے علی شاہ کو شروع سے آج تک بتانے لگا۔

اس کی ساری بات سنتے ہی علی شاہ نے ایک زناٹے دار تھپڑ اسے رسید کیا۔

” یہ کیا کیا صارم تم نے؟ ایک ہنستے گھر کو برباد کر دیا۔ ایک لڑکی ایکسپلوئٹ کر دی۔ اگر وہ لڑکی تم سے بات نہیں کرتی تھی تو اس بات کو انا کا مسئلہ کیوں بنا لیا؟”

” تمہاری اس نام نہاد ایگو نے اس لڑکی کے سر سے باپ کا سہارا چھین لیا اور اب تم نے اس کے خاندان سے ان کا واحد سہارا بھی چھین لیا۔ یہ تم نے کیا کیا؟

ابھی میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا ہے مجھ سے بھی انتقام لو۔ مارو مجھے۔ مجھے بھی برباد کرو۔”

رانیہ اور فرح بیگم جو پیچھے ہی آ چکی تھیں۔ ان کی سب باتیں سن کر بھونچکا رہ گئیں۔

” ڈیڈ آپ کہیں نا اس سے میں مر جاؤں گا۔ اس احساس سے کہ یہ میں نے کیا کر دیا؟ آپ اسے کہیں نا کہ اٹھ جائے ورنہ میں مر جاؤں گا۔”

” رامین کیسی ہے؟ کہاں ہے؟ وہ ٹھیک تو ہے نا صارم بھائی؟” رانیہ تیزی سے آگے آئی۔ اس کے لہجے میں ہزار اندیشے تھے۔

” صارم بھائی کیوں کہہ رہی ہو؟ صارم ایگو اسٹک کہو یہ کیا بتائے گا یہ ہی تو تمہاری بہن کے اس حال میں ہونے کی وجہ ہے۔ وہ آج جس مقام پر ہے وہاں پہنچانے والا ہی یہ ہے۔”

” دیکھا میں نہ کہتا تھا دال میں کچھ کالا ہے۔ تمہاری بہن ایسے ہی ایاز کے رشتے سے انکار نہیں کر رہی تھی۔” حسن نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

رابعہ خاموش رہی۔

” رامین کا کردار پہلے دن سے ہی مشکوک تھا۔” حسن نے ایک بار پھر آگ لگائی۔

” اپنے کردار کے بارے میں کیا کہو گے۔ ایک کم عمر اور کم تعلیم یافتہ لڑکی کے ٹکڑوں پر پلنے والے خاندان کے بارے میں کیا کہو گے؟ تم سب نے مل کر اس لڑکی کو تباہ کر دیا۔”

” کبھی اسے اپنی بہن کا گھر بچانا تھا، کبھی ماں کو بیٹے کی کمی نہ ہو، کبھی باپ کے خواب کو اپنا خواب بنا کر پورا کرنے کی فکر اور کبھی تمہارے جیسے انسان سے اپنی عزت بچانے کی فکر۔” علی شاہ نے صارم کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے اسے دھکا دیا۔

صارم کا سر جھکا ہوا تھا۔

” اور مجھ سے غلطی وہاں ہوئی صارم جب میں نے اس معصوم کی ذمے داری تمہیں دے دی۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی۔”

علی شاہ تھک کر پاس پڑی چیئر پر بیٹھ گئے۔

حسن شرمندگی سے سر جھکائے کھڑا تھا۔

فرح بیگم رابعہ رانیہ اور صارم ان سب کی آنکھوں سے پچھتاوے کے آنسو رواں تھے۔

——————–

ہاسپٹل روم میں رامین کے آس پاس اس کے سبھی اپنے موجود تھے۔

سب کی آنکھوں سے آنسوں رواں تھے۔ کسی کو آج اس سے پیسے نہیں چاہیے تھے۔ سب اس کی زندگی کے لیے دعا گو تھے اور یہ سب دیکھنے کے لیے رامین وہاں ہو کر بھی وہاں نہیں تھی۔

اسے یہ شکوہ تھا کہ اپنے پاپا کے انتقال کے بعد اس نے تمام رشتے کھو دیے لیکن آج وہ تمام رشتے اس کے پاس تھے لیکن یہ تمام رشتے محسوس کرنے کے لیے رامین وہاں ہو کر بھی وہاں نہیں تھی۔

رانیہ رامین کے ڈاکٹر سے مل کر آئی اور رو رہی تھی۔ اس نے رامین کی میڈیکل فائل کی پکچر اپنے ٹیچر کو سینڈ کی تھی۔ جن کے مطابق رامین کی باڈی کسی بھی میڈیسن کو رسپانس نہیں کر رہی۔ جیسے وہ جینے کی تمنا چھوڑ چکی ہے۔

رانیہ روتے ہوئے رامین کے پاس بیٹھی۔

” رامین دیکھو ہم سب تمہارے پاس ہیں۔ پلیز جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ۔ آج ہم میں سے کسی کو تم سے کچھ نہیں چاہیے۔ صرف تمہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ پلیز ٹھیک ہو جاؤ۔” رانیہ اس کا پکڑے اس سے مخاطب تھی۔

رابعہ نے روتے ہوئے رانیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ روتے ہوئے رابعہ کے گلے لگ گئی۔

” آپی آپ اسے بولیں نا ایسے مت کرے۔” رانیہ نے بلکتے ہوئے کہا۔ ان دونوں سے رامین کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔

——————–

ہماری کمپنی کا رول ہے اگر کسی ایمپلائے کو کچھ ہوتا ہے تو کمپنی تمام تر اخراجات پورے کرتی ہے اور ہر مہینے اس کی فیملی کو اس کی سیلری کا ایک حصہ دیتی ہے۔

اس میں میرا کیا فائدہ ہے؟ صارم ایک بار پھر دیوار سے سر ٹکائے آنکھیں موند گیا۔

آنسو ایک بار پھر اس کی آنکھوں سے نکلنے لگے۔

کہتے ہیں مرد روتے نہیں ہیں کیوں نہیں روتے؟ وہ بھی تو انسان ہوتے ہیں۔ جب وار دل پر ہو اور کاری ہو تو ضبط ٹوٹ جایا کرتے ہیں اور مضبوط سے مضبوط مرد بھی چھلک پڑتے ہیں۔ جیسے صارم شاہ آج رامین خالد کے لیے رو رہا تھا۔ اسے آج اور اسی پل یہ ادراک ہوا تھا کہ اسے رامین خالد سے محبت ہے بے پناہ محبت۔۔۔

رانی خاموشی سے صارم کے پاس آ کر کھڑی ہوئی۔

” آپ کیوں رو رہے ہیں سر؟ آپ کا انتقام تو پورا ہوا۔”

” ایسا مت کہو رانی۔ تمہارے لیے میں پہلے دن بھی صارم بھائی ہی تھا اور آج بھی وہی ہوں۔ رامین سے انتقام تو صرف ایک بہانا تھا۔ میرا دل تو کب کا دغا دے گیا تھا۔ یہ دل تو آج بھی اس کے پاس رہنے کی ضد کرتا ہے۔ تبھی اسے تنگ کرنے کے بہانے ڈھونڈتا تھا۔ میرا چین میرا سکون اندر بے سدھ پڑی لڑکی کے وجود میں ہے۔

بےبس وہ ہی نہیں میں بھی ہوں۔”

” مجھے ایسا لگ رہا ہے میں زندہ ہو کر بھی زندہ نہیں ہوں۔ سانس تو لے رہا ہوں پر جی نہیں رہا۔

پیروں تلے زمین اور سر کے اوپر آسمان نہیں۔”

رانی کی آنکھیں بھی برابر برس رہی تھیں۔

” صارم بھائی ہم سب اس کے مجرم ہیں۔”

دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔ اس خاموشی کو صارم نے ہی توڑا۔

” رانی تم تو میڈیکل سٹوڈنٹ ہو۔ تم رامین کی میڈیکل رپورٹس پڑھ کر بتاؤ۔ وہ کب تک ٹھیک ہو گی؟ اور پلیز کچھ ایسا مت کہنا کہ تمہارے صارم بھائی کا دل دھڑکنا بھول جائے۔”

” صارم بھائی رامین کی باڈی کسی میڈیسن کو رسپانس نہیں کر رہی۔ وہ ہم سب سے شدید ناراض ہے۔”

” وہ ہم سب سے ناراض ہو سکتی ہے رانی لیکن تم سے نہیں۔ وہ تم سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ پلیز تم اسے کہو۔ وہ تمہاری ہر خواہش پوری کرنا چاہتی ہے۔”

رانی کی آنکھوں میں بھی شرمندگی کے آنسو تھے۔

——————–

رامین کو گھر آئے دو ماہ ہو چکے تھے لیکن حالت تاحال وہی تھی۔

علی شاہ نے اسے گھر شفٹ کروا لیا تھا اور ایک کل وقتی نرس اس کے سر پر ہائر تھی کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق رامین کو ہوش کب آئے گا؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔

وہ ان کی بہو تھی۔ ان کے بیٹے کی ذمے داری تھی۔ اس کا سارا ٹریٹمنٹ وہ خود کروا رہے تھے۔

رامین صارم کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔ یہ رامین ہوش میں آنے کے بعد ڈیسائیڈ کرے گی۔

صارم یو ایس کے ڈاکٹرز سے بھی رامین کی میڈیکل رپورٹس ڈسکس کر چکا تھا۔ انہوں نے بھی کوئی مثبت جواب نہیں دیا تھا۔

شب و روز سست روی سے گزر رہے تھے۔ علی شاہ ہفتے میں ایک بار آ کر اس کی کنڈیشن ضرور دیکھتے تھے۔ اگر وہ صارم کی بیوی نہ بھی ہوتی تو بھی وہ انہیں بہت عزیز تھی۔

——————–

چھ مہینے ہو چکے تھے اور صارم روز آفس سے واپسی پر اس کے پاس آتا تھا۔ وہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھ کر ڈھیروں باتیں کرتا تھا۔

آج بھی وہ سیدھا آفس سے آیا تھا۔ اس نے رانی کی طرف دو اینویلپ بڑھائے تھے۔ ایک میں رانی کی فیس تھی اور دوسرے میں رامین کی سیلری تھی۔۔

ہر مہینے جب وہ اینویلپ دیتا تھا۔ اسے اپنا کہا جملہ یاد آتا تھا کہ اگر کوئی ایمپلائی سروائیو نہیں کر پاتا تو کمپنی اُس کی سیلری اُس کی فیملی کو بصورت پینشن دیتی ہے۔

صارم اور رانی اکٹھے چائے پیتے اور رامین سے ڈھیروں باتیں کرتے۔ وہ دونوں اپنی دن بھر کی روئے داد اسے سناتے۔

” رومی یار کب اٹھو گی؟ میں تمہیں بہت مس کرتا ہوں۔” صارم نے ہمیشہ کی طرح دہرایا گیا جملہ آج پھر دہرایا اور اس کے ہاتھ کو چوما۔

” تم اُٹھو گی تو ہی کوئی سزا دو گی لیکن چپ رہ کر اتنی لمبی سزا مت دو۔”

” آئی لو یو۔” صارم نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

اس لمس میں کیا کچھ نہیں تھا۔ محبت، دیوانگی، تڑپ، عقیدت، احترام۔۔۔

——————–

” صارم آگے بڑھ جاؤ۔ اسے جب بھی ہوش آئے گا۔ وہ تمہارے ساتھ نہیں رہے گی۔ موو آن کر جاؤ۔” ثمینہ شاہ نے تکلیف سے کہا۔

” نہیں مام میں موو آن نہیں کروں گا۔ جب تک اسے ہوش نہیں آئے گا۔ بیشک وہ مجھے چھوڑ دے لیکن میں اس کا انتظار کروں گا۔” صارم نے قطعیت سے کہا۔

” ہاں ثمینہ میں بھی اسے موو آن نہیں کرنے دوں گا کیونکہ پہلے بھی یہ اسے پیچھے کر کے آگے بڑھ گیا تھا۔ اب اس کی زندگی جامد کر کے اسے آگے نہیں بڑھنے دوں گا۔” علی شاہ نے سنجیدگی سے کہا۔

” وہ چاہے اسے معاف کرے یا نہ کرے۔ وہ اس کے لیے چاہے جو بھی سزا منتخب کرے گی۔ وہ سزا اسے بھگتی ہو گی۔ چاہے وہ اسے ایکسیپٹ کرے یا نہ کرے۔ اسے اس کا انتظار کرنا ہو گا۔” علی شاہ نے مزید کہا۔

——————–

” شہریار تمہارا بھائی حمزہ ہاسپٹل تعمیر کروا رہا تھا۔” صارم نے مصروف سے انداز میں پوچھا۔

” ہاں بالکل ہاسپٹل تعمیر ہو چکا ہے اور بہت اچھا جا رہا ہے۔ کیوں تمہیں کوئی فیمیل ڈاکٹر چاہیے؟” شہریار نے شرارت سے کہا۔

” ہاں ایک فیمیل ڈاکٹر کے لیے سیٹ چاہیے۔” صارم نے تمہید باندھی۔

” کیا مطلب پہیلیاں کیوں بجھوا رہے ہو؟”

” پہیلی نہیں صاف صاف بات ہے ایک فیمیل ڈاکٹر کے لیے سیٹ چاہیے۔ جاب پرمننٹ ہونی چاہیے۔ انسینٹوز بھی ملنے چاہئیں اور پروٹوکول بھی خاص ہونا چاہیے اور انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سیٹ ہو یا نہ ہو مجھے سیٹ چاہیے۔” صارم نے ڈھٹائی اور دھونس سے کہا.

شہریار نے قہقہہ لگایا۔

” یہ ڈھٹائی اور اس کی ڈھٹائی صارم پر ہی سجتی ہے۔”

” سیٹ ہو پروٹوکول ہو انسینٹوز ہوں فل مالکان والی فیل چاہیے تو حمزہ سے رشتہ پکا نہ کروا دوں؟”

” گریٹ آئیڈیا اگر لڑکا لڑکی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔” صارم نے بھی قہقہہ لگایا۔

” مالکن بننا کسے ہے؟”

” میری اور رامین کی بہن ڈاکٹر رانیہ خالد۔ اپنے بیچ کی ٹاپر ہے۔ بہت قابل بہت محنتی۔۔ اور حمزہ کے لیے بہت خوبصورت بہت دلکش بہت حسین بہت معصوم اور دل کی بہت اچھی پرفیکٹ میچ۔”

” شرم کر ایک طرف بہن کہہ رہا ہے اور دوسری طرف خوبصورتی پر قصیدے بھی پڑھ رہے ہو۔۔”

” بے غیرت بہن بھی پیاری لگ سکتی ہے۔ دیکھنے کا نظریہ مختلف ہوتا ہے۔” صارم نے اسے شرم دلائی۔

” کب بھیجوں؟”

” کل صبح میں حمزہ کو بتا دوں گا۔۔”

” حسن صحیح کام کر رہا ہے؟”

” ہاں بالکل میں اس کی پروگریس سے بہت مطمئن ہوں۔”

” خیال رکھنا اس کا بھی۔”

” کیوں میں اس کی بیوی ہوں؟”

” نہیں باس۔”

دونوں ہنس پڑے۔

صارم نے کال کاٹ کر موبائل ایک طرف رکھا۔

حسن کے بعد وہ رانی کی جاب کا مسئلہ بھی حل کر چکا تھا۔

رامین کے دو بڑے مسئلے سولو ہو چکے تھے۔

اب رامین اٹھ کر میری زندگی کا بھی سب سے بڑا مسئلہ حل کرو۔ صارم خیالوں میں رامین سے مخاطب تھا۔

——————–

” رامین تم جب بھی آفس سے آتی تھی۔ میں تمہیں پانی پلاتی تھی۔ یار اب تمہیں بھی مجھے پانی پلانا چاہیے۔”

” میں بھی اب تمہیں پانی پلا سکتی ہوں۔ کہو تو پلاؤں؟” رامین نے سادگی سے کہا۔

غٹاغٹ پانی پیتی رانیہ نے جھٹکے سے رامین کو دیکھا۔

” رامین یہ تم بولی تھی؟” رانی نے بے یقینی سے رامین کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر تصدیق چاہی۔

رامین نے نقاہت زدہ پر دلکش مسکراہٹ اچھالی اور سر اثبات میں ہلایا۔

” رامین تم اٹھ گئی؟” رانیہ خوشی سے چلائی اور گلے لگ گئی۔

” امی دیکھیں اللہ نے ہم پر کرم کر دیا۔ امی جلدی آئیں۔” رانیہ خوشی سے چلا رہی تھی۔

” اسے ہوش کب آیا؟” رانیہ نے پاس کھڑی نرس سے پوچھا۔

” دو گھنٹے پہلے ڈاکٹر۔”

” بتا نہیں سکتی تھی؟”

” میم نے منع کیا تھا۔ وہ آپ کو سرپرائز دینا چاہتی تھیں۔”

” رانی میں لیٹ ہو گئی نا آنے میں؟ تم لوگ زیادہ پریشان تو نہیں ہوئے تھے؟”

آنسو بہاتی رانیہ اور شدت سے رو دی۔

” ہم نے تمہیں بہت مس کیا۔ صارم بھائی بھی روز تم سے ملنے آتے ہیں۔ وہ آنے والے ہیں۔ ہم انہیں بھی سرپرائز دیتے ہیں۔ حسن بھائی کی بھی جاب لگ چکی ہے۔”

” واہ یہ کایا کیسے پلٹ گئی؟ تمہاری یونی کیسی جا رہی ہے؟”

رانیہ خاموش ہو گئی۔ کسی بھی پیشنٹ خاص کر اپنے عزیز کو یہ بتانا کہ وہ زندگی کے کتنے ماہ و سال بےخبری کی دنیا میں رہا بہت مشکل ہوتا ہے۔

کمرے سے باہر کھڑے صارم نے جب یہ معجزہ دیکھا تو وہ تڑپ کر اندر آیا۔

” رومی تمہیں ہوش آ گیا کتنا تڑپایا ہے تم نے ہمیں۔” صارم اس کے ساتھ لگا اور اسے خود میں بھینچ لیا۔

رامین کی بے ساختہ نگاہ رانیہ کی طرف اٹھی۔

” رانی اسے کہو یہ یہاں سے چلا جائے۔”

رامین نے چہرہ موڑتے ہوئے کہا۔

” ایسا مت کہو رامین کتنے ماہ و سال تمہارے لیے تڑپا ہوں۔” صارم نے تکلیف سے کہا۔

رامین نے حیرت سے صارم کو اور پھر رانی کو دیکھا۔

” آج ڈیٹ کیا ہے رانی؟”

” آج تمہاری ہم سے ملنے کی ڈیٹ ہے۔” رانی نے اسے ٹالا۔

اس کے لیے رامین کو بتانا بہت مشکل تھا لیکن وہ اسے اٹھتے ہی یہ جھٹکا نہیں دے سکتی تھی۔۔

صارم نے اشارے سے نرس کو بھیج دیا۔

” ڈیٹ کیا ہے رانی؟” رامین کو کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہوا۔

” پانچ اپریل۔”

” وہ نرس نے بھی تمہیں ڈاکٹر کہا ہے نا؟ ایئر بتاؤ۔”

” رامین۔۔۔” رانیہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

” ٹوینٹی ٹوینٹی نائن۔” رامین نے صارم کے ہاتھ سے موبائل کھینچ کر ایئر دیکھا۔

” چار سال۔۔۔” رامین نے صدمے سے ایئر پڑھا۔

” چار سال بیس دن بارہ گھنٹے چالیس منٹ.” صارم نے کرب سے ٹائم دہرایا۔

” تم نے میری زندگی کے اتنے قیمتی ماہ و سال ضائع کر دیے۔”

” تم آرام سے سوتی رہی۔ ایک ایک لمحہ تڑپا ہوں میں تمہارے لیے۔”

” بکواس بند کرو صارم شاہ اب چلے جاؤ۔ تم نے پہلے بھی میرے خواب نوچے۔ ایک بار پھر تم نے میرے اور میری بہن کے خواب نوچے۔”

” رومی صارم بھائی بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے تمہارا خواب پورا کیا ہے۔ میری ڈاکٹر بننے میں، میری جاب کے لیے، حسن بھائی کی جاب۔ سب کچھ سیٹ ہو گیا۔ یہ سب کچھ صارم بھائی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔”

رامین تکلیف سے ہنس پڑی۔

” میرے خواب نوچنے میں، مجھے پامال کرنے میں، میرے پاپا کو مارنے میں، میرا دل توڑنے میں، وہ جذبات جو میں اپنے لیے ممنوعہ قرار دے چکی تھی۔ انہیں روندنے میں، میری مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے میں، اس آوارہ شہریار اور اسد کے ساتھ میرا مذاق اڑانے میں اور مجھے اس حال میں پہنچانے میں بھی تمہارے صارم بھائی نے پورا کردار ادا کیا ہے۔”

” میں امی کو دیکھ کر آتی ہوں۔ کہاں رہ گئی ہیں؟” رانی وہاں سے چلی گئی۔

وہ چاہتی تھی تھوڑی دیر صارم رامین سے خود بات کرے۔ صارم نے ایک بار پھر رامین کو خود میں بھینچ لیا۔

رامین نے اسے خود سے دور کیا اور غصے سے اسے دیکھا۔

صارم نے اس کی دونوں آنکھوں پر باری باری اپنے تشنہ لب رکھے اور اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس کا عکس واضح تھا۔ اس کے لمس میں محبت اور والہانہ پن واضح تھا۔

” آئی لو یو سو مچ رومی۔”

” آئی ہیٹ یو صارم۔”

” آئی ڈیزرو دس رومی۔”

” یہاں سے چلے جاؤ صارم ورنہ اس بار میں علی انکل کو خود بتا دوں گی۔”

” میں جارہا ہوں تاکہ تمہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ تمہیں مجھے کیا سزا دینی ہے۔” صارم نے کچھ نوٹ رامین پر سے وارے اور باہر نکل گیا۔

رامین کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسو ٹوٹ کر گرے۔

——————–

رامین کی طبیعت سنبھل رہی تھی۔ اتنی لمبی بیماری کے بعد اس کی ٹانگیں اس کا وزن اٹھانے سے انکاری تھیں۔ جسم میں نقاہت اور کمزوری حد سے زیادہ تھی۔ اس لیے اس کا خاص خیال رکھا جا رہا تھا۔ روز فزیو تھیراپسٹ آتی اور اس کو ایکسرسائز کرواتی۔ چھ مہینے لگے تھے رامین کو مکمل چلنے کے لیے۔ اس دوران صارم بھی روز آتا تھا۔ رامین کی ساری ناراضگی کے باوجود بھی وہ اس سے ڈھیروں باتیں کرتا۔ چاہے رامین اسے کوئی جواب نہ دیتی۔ وہ روز رامین کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آتا تھا۔ وقت دھیرے دھیرے گزر رہا تھا لیکن اب صرف فرق اتنا آیا تھا کہ جب صارم آتا تو رامین صرف نظر اٹھا کر اسے دیکھ لیتی۔ صارم کے لیے یہ بھی غنیمت تھا۔ رانی اسے چائے پر بھی روک لیتی اور چائے کے دوران جب صارم اور رانی باتیں کرتے تو رامین ایسا ظاہر کرتی جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا لیکن وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ وہ ان کی ہر بات غور سے سنتی ہے۔

رامین کو ایک بار پھر ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اس کا دل بغاوت کر رہا ہے لیکن اب کی بار وہ ایسا کچھ نہیں ہونے دے گی۔ وہ اب کی بار اپنے جذبات کو کھلونا نہیں بننے دے گی۔

صارم کے جاتے ہی اس نے فیصلہ کن انداز میں اپنا موبائل اٹھایا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔ جو پہلی ہی بیل پر کال اٹھا لی گئی۔

———————-

” کیسی ہو رامین بیٹا؟“ علی شاہ کے لہجے میں رامین کے لیے محبت ہی محبت تھی۔

” ٹھیک ہوں انکل۔” رامین نے خوش اخلاقی سے جواب دیا.

” تو پھر میرا بیٹا جاب کب سے جوائن کر رہا ہے؟“

” نہیں انکل میں اب سے یہ جاب کنٹینیو نہیں کر سکتی۔“

” لیکن کیوں بیٹا؟ صارم کی وجہ سے یہ فیصلہ کر رہی ہو تو اس کی طرف سے بے فکر رہو۔ میں تمہیں گارنٹی دیتا ہوں۔ وہ تمہیں تنگ نہیں کرے گا۔ ان فیکٹ تم اب اس کے انڈر بھی کام نہیں کرو گی۔“

” نہیں انکل میں یہ شہر چھوڑ کے جانا چاہتی ہوں. کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میری جاب اسلام اباد میں سیٹل ہو جائے؟“

” بالکل بیٹا کیوں نہیں۔“

” تھینک یو سو مچ انکل آپ پلیز میری جاب اسلام اباد میں سیٹل کروا دیں۔“

” بیٹا اس معاملے میں آپ بالکل بے فکر ہو جاؤ۔ جانے کی تیاری کرو۔“

” انکل ایک بات اور پلیز اس بارے میں صارم کو کچھ پتا نہ چلے۔“

” بالکل بھی نہیں بے فکر رہو۔“

” بیٹا تم نے اپنے اور صارم کے رشتے کے بارے میں کیا سوچا ہے؟“ علی شاہ نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔

” کچھ بھی نہیں انکل وہ مجھے کبھی ڈیورس نہیں کرے گا اور میں اب اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو جو جیسا چل رہا ہے چلتا رہے گا۔“

” اپنا خیال رکھنا۔“ علی شاہ نے کال منقطع کر دی۔

———————-