Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 7)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
رامین ان کے ساتھ لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
خالد صاحب نے اس کے گرد بازو حائل کیے اور اسے اندر لے آئے۔ اپنے پیچھے دروازہ بند کیا۔
” کہاں رہ گئی تھی؟” خالد صاحب نے فکرمندی سے پوچھا۔
” پاپا۔۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
” ہوا کیا ہے؟ تم کہاں گئی تھی؟ فنکشن پر بھی نہیں گئی۔”
فرح بیگم بھی برآمدے میں نکل آئیں۔
ماں کو دیکھتے ہی وہ ان کے سینے سے لگی اور وہ انہیں کچھ بتانے ہی والی تھی کہ ایک اور امتحان ان کا منتظر تھا۔
—————–
صارم غصے سے بھرا سیڑھیوں کی جانب بڑھا۔
” صارم۔۔۔۔
صارم۔۔۔۔ “
ثمینہ شاہ غصے سے چلائیں۔
صارم نے ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولیں۔
” کہاں تھے تم اتنی دیر سے؟ یہ کوئی ٹائم ہے گھر آنے کا؟” ثمینہ شاہ نے ناراضگی سے پوچھا۔
” فنکشن میں تھا آپ کو پتا تو ہے۔”
” جھوٹ اب تم اپنی ماں سے بھی جھوٹ کہو گے؟” ثمینہ شاہ نے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔
” تم فنکشن پر گئے ہی نہیں تھے۔”
” کیونکہ اس فنکشن سے بھی بہت ضروری کام تھا۔”
” صارم سدھر جاؤ اپنے فیوچر کے بارے میں کچھ سوچو۔”
” وہی سب کچھ تو کر رہا ہے صارم کٹھ پتلی۔ جو آپ دونوں چاہتے ہیں۔” صارم نے بدلحاظی سے کہا اور سر جھٹکتا اوپر کی جانب بڑھ گیا۔
ثمینہ شاہ نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا۔
————–
ہاسپٹل کے کاریڈور میں فرح بیگم رامین اور رانیہ موجود تھے۔
تینوں کی آنکھوں سے آنسو بھل بھل بہہ رہے تھے۔
خالد صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔
رامین کے کچھ بھی کہنے سے پہلے وہ رامین کی حالت دیکھ کر سمجھ گئے تھے اور یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے اور ہاسپٹل میں موجود تھے۔
اسے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو انہیں کچھ غلط ہونے کا پتا دے گئے تھے۔
آئی سی یو کا دروازہ کھول کر ڈاکٹر باہر آیا۔
” پیشنٹ کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ان کی سرجری فوراً کرنی پڑے گی۔ پیمنٹ کاؤنٹر پر جمع کروا دیں۔”
” کتنا خرچہ آئے گا؟” رامین نے لرزتے ہوئے پوچھا۔
” دس لاکھ روپے۔ پیشنٹ کے پاس ٹائم کم ہے جلدی کریں۔” ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہہ کر چلا گیا۔
رامین کاؤنٹر کی طرف بڑھی اور منت سماجت کرنے لگی۔
” دیکھیں بی بی آپ یہاں اپنا اور ہمارا وقت ضائع مت کریں۔ یہاں پیسے جمع کروائیں اور جائیں۔”
” آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہمارے پاس ابھی پیسے نہیں ہیں۔ آپ پلیز پیشنٹ کا آپریشن تو شروع کریں۔ میرے پاپا کو کچھ ہو جائے گا۔”
” بی بی یہ کوئی خیراتی ادارہ نہیں ہے جاؤ یہاں سے۔”
” میرے پاپا کو کچھ ہو جائے گا پلیز مدد کریں۔” رامین پاس سے گزرتے ہر شخص کی منت کر رہی تھی۔
ہاسپٹل میں داخل ہوتے ایک شخص نے اس معصوم لڑکی کی فریاد سنی تو اس کی طرف بڑھے۔
سارا احوال جان لینے کے بعد وہ کاؤنٹر کی طرف بڑھے اور ایک ساتھ پیمنٹ جمع کروائی اور فوراً سے پہلے ان کا ٹریٹمنٹ شروع کروانے کی ہدایت کی۔
” اس کے علاوہ جتنا بھی خرچہ ان کے فادر کے علاج کے لیے درکار ہے۔ وہ سب میرے اکاؤنٹ سے لے لیے جائیں لیکن ان کے ٹریٹمنٹ میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیئے۔”
—————
سرجری کے تمام انتظامات ہو گئے تھے اور خالد صاحب کی سرجری شروع ہو گئی تھی لیکن سرجری کے دوران ہی خالد صاحب اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔
یہ خبر خالد صاحب کہ گھرانے پر پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی۔ تینوں بہنیں اپنی ماں کے ساتھ لگیں رو رہی تھیں۔
——-———
خالد صاحب کی وفات کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ سبھی محلے والوں نے یہ شور مچانا شروع کر دیا تھا کہ یہ گھر خالی کر دیا جائے۔
” یہ محلہ شریفوں کا ہے۔ یہاں ہماری بھی بہو بیٹیاں ہیں۔ کیا سیکھیں گی ان لڑکیوں سے۔”
” ایسا مت کہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”
” بی بی جب تم اس رات آئی تھی تو سبھی نے تمہارا اجڑا حلیہ دیکھا تھا اور پھر جیسے پندرہ منٹوں کے اندر خالد صاحب کو ہاسپٹل پہنچایا گیا۔ وہ بھی سبھی نے دیکھا تھا۔ آخر کوئی کھچڑی تو پکی تھی۔”
” ہمیشہ آنکھوں دیکھا سچ ہو یہ ضروری نہیں۔ کبھی کبھار اس کے پیچھے کچھ اور ہوتا ہے۔”
” بی بی یہ زمانہ آنکھوں دیکھے پر ہی چلتا ہے۔”
” انکل میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے میرے ماں باپ کو شرمندگی ہوتی۔” رامین کو اپنی آواز کھوکھلی لگی۔
” جو بھی ہو بی بی یہ محلہ خالی کرو ورنہ ہم تمہارا سامان باہر پھینک دیں گے۔”
” نہیں انکل مجھے تھوڑا سا وقت دیں۔ ہم یہ گھر جلد خالی کر دیں گے۔”
رامین فیصلہ کن انداز میں کہتی اندر کی طرف بڑھ گئی۔
——————
