Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 5)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
خالد صاحب کے گھر شادی کی تیاریاں عروج پر تھی۔ تین مہینے بعد کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی۔ تین مہینے پر لگا کر اڑ گئے اور اس طرح رابعہ پیا کے دیس سدھار گئی۔
شادی کے بعد رامین آج یونیورسٹی آئی تھی۔
آتے ہی اس کا سامنا صارم شاہ سے ہوا۔ جو وہ قطعاً نہیں چاہتی تھی۔
صارم شاہ کی نظروں نے رامین کے سراپے کا جائزہ لیا اور اس کے دوپٹے پر ٹھہر گئیں۔ جو پہلے دن کی طرح آج بھی اس کے سر پر جما ہوا تھا۔
یہ دوپٹہ تمہیں اتارنے پر مجبور نہ کیا تو میرا نام بھی صارم شاہ نہیں۔ صارم دل ہی دل میں رامین سے ہم کلام تھا۔
” کیسی ہو رامین؟”
رامین ایک لمحے کو چونکی۔ اس نے تو اپنا نام کچھ اور بتایا تھا پھر اسے کیسے معلوم ہوا؟
” ٹھیک۔” رامین سائیڈ سے جانے لگی۔
” رامین اب تک ناراض ہو؟ دیکھو ایک غلطی میں نے کی۔ ایک تم نے کی۔” صارم اس کے ساتھ ہم قدم تھا۔
تیزی سے چلتی رامین اس کی آخری بات پر ٹھٹک کر رکی۔
” ہاں تم نے مجھ سے اپنا نام چھپایا پھر بھی مجھے پتا چل گیا حساب برابر ہوا۔
میں اس دن کے لیے سوری کرتا ہوں۔ میں اس دن تم سے روڈ ہو گیا۔ تم نے مجھے بلا وجہ اتنی باتیں بنائیں تو مجھے بھی غصہ آ گیا۔ تم بھی اب ناراضگی چھوڑو لیٹس بی فرینڈز۔” صارم نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دوستانہ انداز میں ہاتھ بڑھایا۔
” فرینڈز۔” رامین نے بغیر ہاتھ بڑھائے مسکراتے ہوئے دوستی کا اعلان کیا۔
اس دن کی طرح صارم نے آج بھی اپنے خالی ہاتھ کو اپنے سر پر پھیرا۔
اندر ہی اندر غصہ صارم کی رگ و پے میں سرایت کر گیا۔ جسے وہ کمال مہارت سے دبا گیا۔
” پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟”
” اچھی۔”
” کافی دن بعد آئی ہو؟”
” سسٹر کی شادی تھی۔”
” ڈیٹس گریٹ۔۔ تم نے مجھے انوائیٹ نہیں کیا؟”
” ہم تب دوست نہیں تھے۔”
” پوائنٹ سمجھ دار بھی ہو۔” صارم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
رامین بھی مسکرا دی۔
” کچھ سمجھ نہ آئے تو مجھ سے پوچھ سکتی ہو آئی کین ہیلپ یو آفٹر آل ناؤ وی آر فرینڈز۔”
” تھینک یو صارم۔” رامین نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
” میری کلاس ہے میں چلوں۔” رامین مسکراتی ہوئی چلی گئی۔
اس کے جاتے ہی صارم کی مسکراہٹ سمٹی۔
——————-
صارم رامین کے آس پاس ہی منڈلاتا رہتا. جہاں وہ ہوتی اس کے پاس پہنچ جاتا اور اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتا۔
صارم اور رامین کی اچھی خاصی دوستی ہو چکی تھی۔
رامین اب اپنی پڑھائی کے لیے کچھ کچھ صارم پر ڈیپینڈ بھی کرنے لگی تھی۔
” یار صارم ایسا کیا ہے اس بہن جی میں جو تو ہمیں بھی ٹائم نہیں دیتا؟” شہریار نے ناراضگی سے پوچھا۔
صارم شاہ اپنے دوستوں کے ساتھ گراؤنڈ میں موجود تھا۔
” کچھ بھی نہیں ہے۔ صرف غرور اور اکڑ ہے۔ آدھی زمین پر آ چکی ہے آدھی تمہارا بھائی کچھ ہی دنوں میں لے آئے گا۔” صارم نے ہنستے ہوئے کہا۔
” پوری یونیورسٹی میں تو یہ بات گردش کر رہی ہے کہ صارم اس بہن جی کے چکروں میں ہے۔” عمران نے بتایا۔
” ناٹ ایٹ آل اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ جو صارم شاہ نگاہ غلط بھی ڈالے۔” صارم نے حقارت سے کہا۔
” بس وقت آ لینے دو میں اس پر یہ ثابت کر دوں گا کہ وہ بھی انہیں عام سی لڑکیوں میں سے ہے۔ جو صارم شاہ کے ایک ہڈی ڈالنے کی منتظر رہتی ہیں۔ اس کے سر سے چار گز کا دوپٹہ نہ اتروایا تو کہنا۔
اسے جو یہ زعم ہے نا عزت دار لڑکی ہونے کا۔ وہ مٹی میں ملا دوں گا۔” صارم نے حقارت سے کہا۔
صارم کے سبھی دوست ہنسنے لگے۔
” وہ جو باکردار بنتی ہے تو اسے محبت کے نام کی دھول نہ چٹوا دی تو کہنا۔ وہ اس ایک ہفتے میں مجھ سے خود آ کر اظہار محبت کرے گی یہاں بیٹھ کر۔ تب میں بتاؤں گا اسے اس کی اصل اوقات۔” صارم نے اپنے قدموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
” صارم رامین۔۔” شہریار نے متوجہ کیا۔
رامین جو گراؤنڈ میں ہی آ رہی تھی۔ صارم کے ناپاک ارادے سن کر وہیں تھم گئی۔
وہ اس کا پہلا دوست تھا۔ اس سے پہلے اس نے کبھی لڑکوں سے دوستی نہیں کی تھی۔ اپنے جذبات اور عزت کی دھجیاں اڑتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ڈھیروں پانی جمع ہونے لگا۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس کے رو برو کھڑی ہو گئی۔
” شاید وہ سب کچھ سن چکی ہے۔” اسد نے آہستہ سے کہا۔
” رامین کوئی کام تھا؟” صارم یکسر انجانا بنا۔
رامین قدم قدم چلتی آگے آئی۔
اس نے ایک زوردار تھپڑ صارم کو رسید کیا۔
صارم کے دوستوں کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔ آس پاس لوگ جمع ہونے لگے۔
” یہ ہے فرق مجھ میں اور تمہاری ان تتلیوں میں۔ جو ہر وقت تمہاری ہڈی پھینکنے کی منتظر رہتی ہیں۔ رامین خالد کی نظروں میں تم نہ تو کل کچھ تھے اور نہ آج۔
میں تمہارے بارے میں بالکل ٹھیک تھی۔”
” او شٹ اپ۔۔” صارم دھاڑا۔
” تمہاری اوقات میری نظروں میں ان تتلیوں سے بھی گئی گزری ہے۔ کس چیز کی اکڑ ہے تم میں سکالرشپ پر پڑھنے والی دو ٹکے کی لڑکی ہو تم۔ تمہاری اوقات تو یہاں جھاڑو پھیرنے کی نہیں ہے۔ ارے تم تو ہمارے برابر بیٹھنے کے قابل نہیں ہو۔” صارم نے اسے بے وقعت کیا۔
” قصور تمہارا نہیں تمہاری گندی تربیت کا ہے۔ جس نے تمہیں تمہارے علاؤہ ہر ایک کو کیڑے کی طرح روندنا سکھایا ہے۔” رامین نے بھی حساب برابر کیا۔
” یو شٹ اپ.” اس سے پہلے صارم اس پر ہاتھ اٹھاتا اسد نے اسے پکڑ لیا۔
” یو ول ہے فار اٹ۔ اب سے صارم شاہ کا نام خواب میں بھی بھولنے کی غلطی مت کرنا کیونکہ تمہیں یہ تھپڑ بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔” صارم نے انگلی اٹھاتے ہوئے اسے دھمکی دی۔
رامین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔ وہ وہاں سے روتے ہوئے چلی گئی۔
پیچھے صارم کے دوست اسے ٹھنڈا کرنے لگے۔
—————
یونیورسٹی میں اینؤل فنکشن کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ سبھی سٹوڈنٹس بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔
رامین ڈارک پنک کلر کے شرٹ ٹراؤزر میں ہم رنگ دوپٹہ سر پر ٹکائے میک اپ کے نام پر صرف لپسٹک لگائے وہ بس سے اتری۔
وہ یونیورسٹی کے مین گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ تبھی ایک بلیک کلر کی گاڑی جس کے شیشے بھی بلیک کلر کے ہی تھے۔ اس کے آگے آ کر تیزی سے رکی۔
اس سے پہلے وہ پیچھے قدم لیتی کسی نے اس کا ہاتھ کھینچ کر گاڑی میں پٹخا۔
رامین کی چیخ نکلنے سے پہلے ہی کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیا۔
اس کی مزاحمت سے پہلے ہی اس کی ناک پر کلوروفارم سے بھیگا رومال رکھ دیا گیا۔
ہوش و خرد سے بیگانہ ہونے سے پہلے اس نے گاڑی میں تین لڑکوں کو دیکھا۔ جن کے چہروں پر نقاب تھے۔
—————–
