Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan Readelle50336 Mein Tera Deewana Howa (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Mein Tera Deewana Howa (Episode 22)
Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan
علی شاہ کو تیزی سے جاتا دیکھ کر سبھی ایمپلائز نے فکرمندی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
” سر کو کیا ہوا؟” سادیہ نے حیرت سے پوچھا۔
” سائٹ پر شارٹ سرکٹ ہوا ہے۔ صارم سر وہیں تھے۔ وہ وہیں گئے ہیں۔” اویس نے سنجیدگی سے بتایا۔
” وہ ٹھیک ہیں؟” سادیہ نے فکرمندی سے پوچھا۔
رامین بھی ان کی باتیں سننے لگی۔
” نہیں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ زیادہ بڑھ گئی۔ صارم سر سبھی کو نکالنے لگے لیکن اسی سب میں ان پر لوہے کی جالی گر گئی ہے۔ علی سر تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ گئے۔” اویس نے سب کو بتایا کیونکہ وہ ابھی ان کے آفس میں ہی تھا۔
” اکلوتا بیٹا ہے تو پریشان ہونا تو فطری عمل ہے۔”
” اللہ تعالیٰ صارم سر بالکل ٹھیک ہوں آمین۔”
وہ سب باتیں کرنے لگے لیکن رامین کو اس سے آگے کچھ پتا نہیں چلا۔ اس کے سر پر تو جیسے آفس کی چھت گر گئی ہو۔
وہ تیزی سے آفس سے نکل گئی۔ اس کا رخ ہاسپٹل کی جانب تھا۔ رامین کی آنکھوں سے آنسوں تیزی سے بہہ رہے تھے۔
——————
” کیسا ہے صارم؟” ڈاکٹر کے روم سے نکلتے ہی علی شاہ نے فکرمندی سے پوچھا۔
” پیٹ کے پاس سے برننگ زیادہ ہو گئی ہے۔ ٹائم لگے گا ریکور کرنے میں۔ باقی سب ٹھیک ہے شکر ہے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔”
علی شاہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
” ہم اس سے مل سکتے ہیں؟” ثمینہ شاہ نے بہتی آنکھوں سے پوچھا۔ ان کا بھی رو رو کر برا حال ہو گیا تھا۔
” جی جی فکر کی کوئی بات نہیں ہے اللّٰہ نے بڑا کرم کیا ہے۔” ڈاکٹر نے علی شاہ اور ثمینہ شاہ کو تسلی آمیز انداز میں کہا۔
علی شاہ اور ثمینہ شاہ تیزی سے اندر بڑھ گئے۔
رامین ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔ ان کے اندر جاتے ہی رامین تیزی سے ڈاکٹر کے پیچھے بھاگی۔
وہ ان سے صارم کی حالت کی بابت پوچھنے لگی۔
——————
علی شاہ اور ثمینہ شاہ بےتابی سے اندر داخل ہوئے۔
” میرا بچہ کیسا ہے؟” ثمینہ شاہ نے صارم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اس کے بال سنوارے۔
” ٹھیک ہوں مام۔”
” ٹھیک ہوتے تو ہم یہاں نہ ہوتے۔”
” صارم اب تو بڑے ہو جاؤ۔ یہ کیا طریقہ تھا؟” علی شاہ ناراضگی سے گویا ہوئے۔
” ڈیڈ سب کو میں نے وقت پر نکال لیا تھا اینڈ پر میرا پاؤں الجھ گیا اور وہ لوہے کی جلتی ہوئی سلاخ مجھ پر گر گئی۔”
” شکر ہے تم بھی ٹھیک ہو پر ایسے موقعوں پر احتیاط سے کام لیتے ہیں۔”
” خیر مجھے تم سے اتنی زمے داری کی امید کبھی نہیں رہی لیکن تم نے مجھے خوش کر دیا۔”
” میں تو آپ کو خوش کرنا چاہتا تھا۔”
” اب اتنا خوش بھی نہیں کرنا تھا کہ دن میں تارے دکھا دیتے۔”
” کیا آپ دونوں خوش ناخوش کی باتیں کر رہے ہیں۔ علی صدقہ دیں میرے بیٹے کا۔ کتنا پیلا ہو گیا ہے۔”
علی شاہ ہنس پڑے۔
” صدقہ دینے سے پیلاہٹ ہٹ جائے گی؟” علی شاہ نے شرارت سے صارم کو آنکھ ماری۔
” کوئی حال نہیں۔” ثمینہ شاہ نے خفگی سے سر جھٹکا۔
” بیگم صاحبہ آپ کا لاڈلا آپ سے پروٹوکول لینا چاہ رہا تھا اس لیے ہاسپٹل آ کر بیٹھ گیا۔”
” واللہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ سائٹ پر ایک چڑیل تھی۔ جس کا دل مجھ پر آ گیا۔ میں نے آج اسے لفٹ نہیں کروائی تھی اور کہا تھا مام کو صرف پوتا چاہیے بہو نہیں تو جیلیس ہو گئی اور اسی وجہ سے شارٹ سرکٹ کروا دیا۔” صارم نے مسکراہٹ دبائی۔
” باز آؤ مجھے بہو چاہیے پوتا بعد میں دیکھیں گے۔” ثمینہ شاہ نے سنبھل کر بات کرتے ہوئے اس کے گال پر چپت لگائی۔
” نو مام اب میں پوتے کا آرڈر دے چکا ہوں۔”
” ثمینہ اب یہ پہلے پوتا ہی لائے گا۔ بہو بعد میں آئے گی۔”
” میرا بیٹا خیر سے گھر آ جائے باقی سب غیر اہم ہے۔” ثمینہ شاہ نے محبت سے کہا۔
——————–
رامین صارم کے روم کے باہر کھڑی تھی۔ آنکھوں سے آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے۔ شیشے سے نظر آتے صارم کے وجود پر نگاہیں جمی تھیں۔ جس کے چہرے سے ہی تکلیف کی شدت عیاں تھی۔ اس نے یہ تو نہیں چاہا تھا۔
لیکن وہ تو صارم کو تکلیف میں دیکھنا چاہتی تھی تو کیا واقعی وہ چاہتی تھی؟
تکلیف میں صارم تھا لیکن درد اسے ہو رہا تھا۔ وہ اس سے ملنے جانا چاہتی تھی لیکن کیوں؟ کس حیثیت سے؟
شیشے سے نظر آتے صارم کو بے بسی سے دیکھتی وہ شکستہ قدموں سے مڑ گئی۔
وہ نہیں مل سکتی تھی لیکن شکر تھا وہ ٹھیک تھا۔
اگر وہ نہ رہتا تو رامین کی تو جان چھوٹتی لیکن نہیں شکر تھا وہ بالکل ٹھیک تھا۔ رامین کا دل نہیں مان رہا تھا اسے چھوڑ کر جانے کا۔
——————-
