347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 3)

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

” سر مے آئی کم ان؟” رامین بالآخر صحیح کلاس میں پہنچ چکی تھی۔

” یہ کوئی ٹائم ہے آنے کا؟ پہلے دن ہی اتنی لیٹ؟” سر زوار نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔

” سوری سر میں تو ٹائم پر ہی آئی تھی۔” رامین نے کہنا چاہا۔

” تو پھر ہم نے آپ کے استقبال میں دیر کر دی؟” سر زوار نے طنزیہ انداز اپنایا۔

” سر میں غلط ڈیپارٹمنٹ اور غلط کلاس میں چلی گئی تھی۔” رامین نے شرمندگی سے کہا۔

کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں گونجنے لگیں۔

” کیپ کوائٹ۔” سر زوار نے سختی سے کہا۔

” اندر آئیں یہ لاسٹ ٹائم تھا آئندہ نہیں ہونا چاہیے۔” سر زوار نے رعب سے کہا۔

رامین سر اثبات میں ہلاتی اندر آ گئی۔

پوری کلاس سٹوڈنٹس سے بھری ہوئی تھی۔

اسے لاسٹ ڈیسک پر ایک لڑکی کے برابر جگہ مل گئی۔

اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے رامین کا خیر مقدم کیا۔

” ریگنگ ہوئی تھی؟”

” تمہیں کیسے پتا؟” رامین حیران ہوئی۔

” تمہارے چہرے پر صاف لکھا ہے کہ تم صارم شاہ کا شکار تھی۔”

” اس نے تمہاری بھی ریگنگ کی ہے؟” رامین نے بے یقینی سے پوچھا۔

” بھی؟ مطلب وہی تھا.” وہ لڑکی کھلکھلا کر ہنسی۔

رامین شرمندہ ہو گئی۔

” نادیہ۔” اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔

” رامین۔” رامین نے مسکراتے ہوئے تھام لیا۔

اس کے بعد وہ دونوں لیکچر کی طرف متوجہ ہوئیں۔

————–—–

ڈنر ٹیبل پر شاہ ہاؤس کے سبھی مکین موجود تھے۔ ڈائننگ ٹیبل انواع و اقسام کے کھانوں سے بھرا ہوا تھا۔

ایک ملازمہ ان کے سر پر موجود تھی۔

چھری کانٹوں کی آواز ڈائننگ ہال کی فضا میں رقصاں تھی۔

ثمینہ شاہ علی شاہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں۔ جو کہ کافی دنوں بعد اپنی فیملی کے ساتھ ڈنر ٹیبل پر موجود تھے۔ وہ کسی بزنس ڈیلیگیشن کے ساتھ پاکستان سے باہر تھے۔

” صارم تم بزنس کب جوائن کرو گے؟ یہ تمہارا لاسٹ سیمسٹر ہے۔” علی شاہ کی توپوں کا رخ صارم کی طرف ہوا۔

” ڈیڈ کر لوں گا جوائن۔ آفس کون سا بھاگا جا رہا ہے۔” صارم نے لاپرواہی سے سوڈا کا سپ لیا۔

” میں نے تمہارے فیوچر کے لیے بہت کچھ پلان کیا ہے۔ تم ایسے ہی غیر ذمے داری کا ثبوت دو گے تو وہ سب کیسے ممکن ہو گا؟” علی شاہ فکر مند نظر آ رہے تھے۔

” کم آن ڈیڈ ابھی تو سٹوڈنٹ لائف انجوائے کرنے دیں۔ بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔” صارم نے فورک میں چکن پھنساتے ہوئے کہا۔

” علی تم ریلیکس ہو جاو۔ یہ وہی کرے گا جو تم کہو گے۔” ثمینہ شاہ نے علی شاہ کی بازو کو ہاتھ سے سہلاتے ہوئے ٹھنڈا کیا۔

” ثمینہ تمہیں اندازہ نہیں ہے اس کی بہت کمپلینس آ رپی ہیں۔ اس نے سٹوڈنٹس کو بہت تنگ کر رکھا ہے۔ اس بار اس کا طریقہ واردات بالکل چینج تھا۔ پہلے یہ اپنے چیلوں کے ذریعے ان کی ریگنگ کرتا رہا ہے اور بعد میں انہیں جا کر ملتا رہا ہے۔” علی شاہ نے سنجیدگی سے بتایا۔

ثمینہ شاہ صارم کو دیکھ کر ہنسنے لگیں۔

صارم بھی ہنسنے لگا۔

” ثمینہ بی سیریس.” علی شاہ نے تاسف سے کہا۔

” کیا کروں میں اتنا پاپولر ہوں کہ اپنی شناخت چھپانی پڑتی ہے۔” صارم نے غیر سنجیدگی سے کہا۔

” یہ پاپولیرٹی صحیح جگہ استعمال کرو۔”

” شیور۔”

” ویسے کس کی ریگنگ کر کے زیادہ مزہ آیا؟” علی شاہ نے مصنوعی سنجیدگی سے پوچھا۔

” ایک بے وقوف کی۔” صارم شاہ کی آنکھوں میں ایک چہرہ چھم سے لہرایا۔

” صارم شاہ کا شکار ایک بے وقوف بنا۔ اتنے برے دن آ گئے ہیں۔” ثمینہ شاہ نے ٹکڑا لگایا۔

” برا دن تھا میرا نہیں اس کا۔ میں نے تو اسے وارن کیا تھا لیکن وہ جال میں پھنسنے کے لیے تیار تھی کیا کر سکتے ہیں۔” صارم شاہ لاپرواہی سے کہتے ہوئے کھڑا ہوا۔

” آئی ایم گوئنگ مام.” صارم نے ثمینہ شاہ کے سر پر بوسہ دیا۔

” آج تو مجھے ٹائم دیتے۔” علی شاہ نے مصنوعی گھوری سے نوازا۔

” میں کمپنی دے چکا ہوں ڈیڈ۔ میرا شہریار لوگوں کے ساتھ پلان ہے۔” صارم نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور باہر دوڑ گیا۔

—————

ناشتے کی ٹیبل پر خالد صاحب کی فیملی موجود تھی۔

رابعہ گرم گرم پراٹھے ٹیبل پر پہنچا رہی تھی۔

رابعہ ایف اے کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہہ چکی تھی۔ اب وہ فرح بیگم کے ساتھ گھر داری سنبھال رہی تھی۔

رامین کا حال ہی میں یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہوا تھا۔ جب کہ رانیہ ایٹتھ کلاس کی سٹوڈنٹ تھی اور اس کا ڈاکٹر بننے کا خواب تھا۔

” فرح رابعہ کے لیے ایک رشتہ آیا ہے۔ لڑکے کا نام حسن ہے۔ ایک چھوٹا بھائی ہے اور دو چھوٹی بہنیں ہیں اور دونوں ہی شادی شدہ ہیں۔ لڑکا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا ہے۔ اچھی آمدنی ہے۔ اپنے تنویر صاحب نے بتایا ہے۔ یہیں کے رہنے والے ہیں۔ مجھے تو اپنی رابعہ کے لیے موضوع لگا ہے لیکن میں چاہتا ہوں ایک بار مل لیں پھر ہی کوئی فیصلہ کریں۔ کیا کہتی ہیں؟” خالد نے تفصیل سے بتاتے ہوئے ساتھ ہی رائے بھی مانگ لی۔

” سنڈے کو چائے پر انوائیٹ کر لیں کیا خیال ہے؟” فرح بیگم نے مشورہ لیا۔

” ٹھیک ہے میں ساتھ تنویر صاحب کو بھی کہہ دوں گا۔” خالد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔

” یس آپی کی شادی۔۔ نئے کپڑے بنیں گے۔ ایک دن تو میں شرارا پہنوں گی۔” رانیہ نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے کہا ساتھ رامین کو تالی بھی دے ماری۔

—————