347.1K
26

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Deewana Howa (Episode 17)

Mein Tera Deewana Howa By Arfa Khan

آفس سارا خالی ہو چکا تھا. اکا دکا ایمپلائز ہی رہتے تھے۔ رامین بھی اپنا کام ختم کرتی گھر کے لیے نکل رہی تھی۔

رامین لفٹ کے آتے ہی اس میں سوار ہو گئی۔ لفٹ کا دروازہ بند ہونے ہی والا تھا۔ جب صارم تیزی سے اندر آ گیا۔ صارم نے لفٹ کا ڈور بند کرنے کے لیے کال دے دی۔

رامین کو صارم کی موجودگی میں گھبراہٹ ہونے لگی۔ اس نے اسے لفٹ سے اترنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔

وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے سیڑھیوں کے بجائے لفٹ میں جانے کا سوچا۔

صارم رامین کو شوخ نظروں سے دیکھتا جھٹکے سے اسے لفٹ کی دیوار سے لگا گیا۔

” صارم۔۔” رامین کی کمر زور سے دیوار سے لگی تھی کہ وہ کراہ کر رہ گئی۔

اسی وقت لائٹ چلی گئی اور لفٹ ایک جھٹکے سے رک گئی۔

” یہ کیا ہوا؟” رامین ڈر گئی۔ پہلے ہی وہ صارم سے خائف ہو رہی تھی۔ وہ اس کے بے حد قریب کھڑا تھا۔

” لفٹ بھی ہمیں ٹائم دینا چاہتی ہے۔” رامین کو کان کی لو پر صارم کا لمس محسوس ہوا۔ اس نے اپنا چہرہ پیچھے کیا تو صارم نے اس کے کان کی لو پر دانت گاڑھے۔

رامین کی سسکی نکلی۔

وہ اس کے بے انتہا قریب تھا۔ رامین کو خوف سے پسینہ آنے لگا۔

رامین کو اپنی گردن پر اس کا لمس محسوس ہوا۔

صارم اس کی گردن پر جھکا اپنی بیئرڈ رگڑ رہا تھا۔ رامین کو ہلکی سی چبھن محسوس ہوئی۔

” صا… صارم۔۔۔”

” تم چاہتی تھی تمہارا منہ میٹھا کروایا جائے تو سوچ رہا ہوں تمہارا منہ میٹھا کرواؤں۔ میں کرواؤں یا سالی صاحبہ کروائے کیا فرق پڑتا ہے.” صارم اس کے کچھ بھی بولنے سے پہلے اس کے لبوں پر جھکا اور شدت دکھانے لگا۔

رامین تڑپ کر اسے پیچھے کرنے لگی۔ صارم نے اس کے ہاتھ پکڑ کر لفٹ کی دیوار سے لگا دیے۔

رامین اس کی شدت پر تڑپ گئی۔ رامین کی مزاحمت کا سامنے والے پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس کی مزاحمت اب دم توڑ رہی تھی۔ اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی۔

صارم بےحس بنا ہوا تھا۔

بالآخر صارم نے اسے آزادی بخش دی۔

رامین گہرے گہرے سانس لینے لگی۔

صارم اس کی گردن پر جھکا اور شدت بھرے لمس چھوڑنے لگا۔ رامین ایک بار پھر اپنا آپ چھڑوانے لگی۔

صارم اس کی گردن پر اپنے لمس سے اپنی نفرت کا اظہار کر رہا تھا۔

رامین کی ہمت اب جواب دے رہی تھی۔ اس کا وجود کپکپانے لگا۔ اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔

صارم نے اگر اسے اب تک نہ پکڑا ہوتا تو وہ گر چکی ہوتی۔

” تم مجھ سے الجھا مت کرو۔ تمہارا الجھنا مجھے غصہ دلا دیتا ہے اور پھر میں وہ کر جاتا ہوں جو میں نہیں کرنا چاہتا۔” صارم نے اس کے چہرے پر آئی لٹیں پیچھے کیں۔

” تم ایسے کیسے جا سکتی ہو؟ مجھ سے ملے بغیر مجھے راحت دیے بغیر مجھے انٹرٹین کیے بغیر کیسے جا سکتی ہو؟ آج میں نے تمہیں محسوس نہیں کیا۔ کتنے پہرے بٹھائے سارا دن اور تم یوں بھاگ رہی تھی پھر کل تک میرا صبر جواب دے جاتا اور تمہارے لیے مشکل ہو جاتی۔”

” خدا کا واسطہ ہے صارم مجھے پریشان مت کرو۔ مجھ پر یہ ظلم مت کرو۔ میری فیملی کو میری ضرورت ہے۔” رامین روتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔

” اوہ کم آن میں نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا۔ شوہر ہوں تمہارا اور شوہر کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ تم ان سے نظریں نہیں چرا سکتی۔”

صارم پھر اس کے لبوں پر جھکا اور اسے اپنی پکڑ میں لیا۔ رامین کوشش کے باوجود بھی اپنا آپ چھڑوا نہیں پا رہی تھی۔

اسی وقت لائٹ آ گئی۔ وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا۔

رامین جو اس کے سہارے ہی کھڑی تھی دھڑام سے زمین پر گر گئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔

صارم نے نفرت سے اسے زمین پر گرے دیکھا۔

لفٹ کے رکتے ہی صارم لفٹ سے نکل گیا۔

رامین کے وجود میں کوئی ہلچل نہ ہوئی۔

صارم آگے جاتا واپس پلٹا۔

” مس رامین اینی پرابلم؟ مے آئی ہیلپ یو؟” صارم نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ سے پوچھا۔

رامین نے آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اٹھا کر اس ظالم کو دیکھا۔

صارم اس کی طرف بڑھا۔ رامین جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔

” میری اصل پرابلم تم ہو۔” رامین نے دبے دبے غصے سے کہا۔

صارم دھیرے سے ہنس دیا۔

” سالی صاحبہ سے کہنا روز کوئی خوشخبری سنایا کرے۔ اسی بہانے میرا بھی منہ میٹھا ہو جاتا ہے۔” صارم نے ذومعنی انداز میں کہتے آنکھ ونک کی اور سیٹی پر شوخ سی دھن بجاتا نکل گیا۔

پیچھے رامین کلس کر رہ گئی۔

——————

” امی جو پاپا نے میرے لیے چوڑیاں بنوائی تھیں مجھے وہ دے دیں۔” رامین نے عام سے لہجے میں کہا۔

” کون سی چوڑیاں؟” فرح بیگم نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔

” امی جو پاپا نے میری شادی کے لیے بنوائی تھیں۔” رامین کو کھٹکا ہوا۔

” وہ نہیں ہیں۔ کیا کرنا تھا ان کا؟” فرح بیگم نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔

” امی پلیز دے دیں۔ مجھے بیچنی ہیں۔ رانی کی ایڈمیشن فیس دینی ہے۔ میں اپنی ہی تو مانگ رہی ہوں۔” رامین نے منت کی۔

” نہیں ہیں تو کہاں سے لاؤں؟ رابعہ کو ضرورت تھی تو میں نے اسے دے دیں۔” فرح بیگم نے مصروف سے انداز میں کہا۔

رامین کی آنکھیں برسنے لگیں۔

” امی آپ کو رابعہ کے آگے کچھ اور نظر کیوں نہیں آیا؟” رامین نے روتے ہوئے بےبسی سے پوچھا۔

” اسے ضرورت تھی۔ تم تو اسے کچھ دیتی نہیں ہو۔ تمہارے پاپا کے بعد وہ اکیلی ہو گئی ہے۔ ہر وقت روتی رہتی ہے۔”

” پاپا کے بعد جو آپ نے مجھ پر اخراجات کا پہاڑ توڑا ہے اس کا کیا؟ میں کیا کروں گی؟ مجھے رانی کا ایڈمیشن کروانا ہے۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

” تو یہ نہ پڑھے۔” فرح بیگم چڑ گئیں۔

” امی میں نہیں پڑھوں گی تو اس کو کیسے سپورٹ کروں گی؟ خود اس کے لیے کتنا مشکل ہو گیا ہے۔

ہم کب تک اس کو تنہا اس جنگ میں چھوڑیں گے؟

آپ کو میرا پاپا کا خواب نظر کیوں نہیں آ رہا؟ پاپا کے بعد ہم بھی تو اکیلے ہو گئے ہیں اور سب سے زیادہ رامین اکیلی ہے۔”

” امی خدا کے لیے رانی کا کچھ بھی مت بیچیے گا۔ میں اس کا اتنا کچھ نہیں کر پاؤں گی۔” رامین نے روتے ہوئے پریشانی سے کہا۔

فرح بیگم اسے دیکھ کر رہ گئیں۔

رامین روتے ہوئے گھر سے نکل گئی۔

——————-

صارم اپنی سیٹ پر بیٹھا اپنے آفس کے گلاس وال سے رامین کو دیکھ رہا تھا۔ جس کا چہرہ آج مرجھایا ہوا تھا اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ شاید آج وہ بہت روئی تھی۔ رامین کے موبائل کی سکرین بار بار روشن ہوتی اور تھوڑی دیر بعد بجھ جاتی پر رامین بغیر دھیان دیے اپنے کام میں مگن رہی۔

صارم نے انٹرکام اٹھا کر رامین کو اپنے آفس میں بلایا۔

” یس سر۔” کچھ ہی لمحوں میں رامین اس کے سامنے تھی۔

” کیا رومی ہر وقت تم ایمپلائی میں باس کبھی یہ بھی کہہ دیا کرو یس ہنی۔” صارم نے شرارت سے کہا۔

رامین نے کوئی جواب نہیں دیا۔

” یہ فائل سیٹ کرو۔” صارم نے اس کی طرف فائل بڑھائی۔

رامین فائل لے کر جانے لگی۔

” کہاں جا رہی ہو؟ صرف فائل کے پیپرز ارینج کرنے ہیں۔ یہیں بیٹھ کر کرو۔”

رامین ناچار بیٹھ گئی اور پیپرز ارینج کرنے لگی۔

” کیا بات ہے رومی؟ کل تک تو تم بہت خوش تھی اور مجھے بھی خوش کیا۔ آج منہ سجائے بیٹھی ہو۔ میں تو آج بھی خوش ہونا چاہ رہا تھا۔” صارم نے شوخی سے پوچھا۔

رامین کے پیپرز ارینج کرتے ہاتھ کانپے۔

رامین کا موبائل مسلسل بج رہا تھا۔

صارم نے انٹر کام اٹھا کر آفس بوائے سے رامین کا موبائل منگوایا۔

رامین نے حیرت سے اسے دیکھا۔

کچھ دیر میں موبائل آ گیا۔

” پک اپ دا کال۔” صارم نے حکمیہ کہا۔

صارم کو تجسس تھا کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے اور اس بات کا اسے کال سے ہی پتا چلنا تھا۔

” بعد میں بات کر لوں گی۔”

” پوچھا نہیں ہے کہا ہے۔” صارم نے کھردرے لہجے میں کہا۔

رامین نے ناچار اٹھالی۔

” ہمم۔۔” رامین نے اپنی آواز کا بھیگا پن کنٹرول کرنا چاہا۔

رانی کی پریشان کن آواز اسے ایک بار پھر رونے پر مجبور کر رہی تھی۔

” رامین تم ٹھیک ہو؟ کیا کریں گے اب؟”

” ڈونٹ وری ہو جائے گا۔” رامین نے گلا کھنکھار کر آواز کا بھیگا پن ختم کرنا چاہا۔

” کیسے کرو گی یار؟”

” میں انکل سے بات کرتی ہوں۔ ان کے پاس ضرور کوئی حل ہو گا تم بس ایڈمیشن کی تیاری کرو۔”

” بعد میں بات کروں گی پلیز اب کال مت کرنا۔” رامین نے کال کاٹ دی۔

رامین ایک بار پھر اپنے کام میں مگن ہو گئی اور صارم کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا۔

” کون سی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے گی؟”

” میڈیکل یونیورسٹی۔” رامین نے گول مول جواب دیا۔

” بیسٹ یونیورسٹی میں پڑھانا۔ سالی صاحبہ سے کہنا اس کے صارم بھائی بھی یہی چاہتے ہیں۔”

رامین کا دل کیا رانی کے صارم بھائی کا گلا دبا دے۔

صارم نے بلینک چیک پر سائن کیا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔

” رانی کے ایڈمیشن میں جتنے چاہیے ہوں فل کر لینا۔ اس کو شاپنگ بھی کروا دینا۔”

” اس کی ضرورت نہیں ہے۔” رامین کی آنکھیں برسنے کو بےتاب تھیں۔

” تمہیں نہیں ہے رانی کو ہے ضرورت۔”

” میں ایڈوانس پیمنٹ لے لوں گی۔”

” رامین وہ ان اخراجات کے لیے انف نہیں ہے۔” صارم نے آنکھوں سے لینے کا اشارہ کیا۔

” یہ ادھار ہے میں بہت جلد واپس کر دوں گی۔” رامین نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔

” بالکل بھی نہیں جسٹ ریلیکس۔”

” تھینک یو سو مچ۔” رامین نے برستی آنکھوں سے کہا۔

” ڈونٹ بودر اٹ۔”

صارم کو اس کی بہتی آنکھیں پہلی بار تکلیف دے رہی تھیں۔

صارم نے بمشکل نگاہیں چرائیں۔

اس نے اس لڑکی کو کہاں لا کر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس کا مجرم تھا۔

” یہ ہو گئی۔” رامین نے فائل اس کی طرف بڑھائی۔

صارم ہوش میں آیا اور فائل چیک کرنے لگا۔

——————-

صارم کو میٹنگ روم میں دیکھ کر وہ علی انکل کے آفس میں آئی۔ وہ اس بات کی یقین دہانی کر آئی تھی کہ صارم کم از کم ایک گھنٹہ میٹنگ روم میں ہی رہنے والا تھا اور وہ بغیر اس کے علم میں لائے سکون سے بات کر سکتی ہے۔

” انکل مجھے پارٹ ٹائم جاب مل رہی ہے۔ مجھے اس جاب کی اشد ضرورت ہے میری آپ سے ریکؤیسٹ ہے کہ مجھے یہاں سے ٹائم میں تھوڑی کمی کر دیں۔ میں اسی ٹائم کے دوران اپنا وہ سارا کام کر لوں گی جو ابھی کرتی ہوں۔ آپ سیلری میں بھی کوئی کمی مت کیجیے گا۔”

” کہاں جاب ملی ہے؟”

” ہاسپٹل میں ریسیپنسٹ کی.”

” ٹائمنگ کیا ہے؟ آؤ صارم بیٹھو بیٹا”

رامین نے جھٹکے سے پلٹ کر دیکھا۔

” بتاؤ بیٹا۔”

” شام پانچ بجے سے ایک بجے تک۔”

” بیٹا بیمار ہو جاؤ گی۔ آرام کب کرو گی؟”

” انکل مجھے ضرورت ہے۔”

” بیٹا یہ تمہارا ہی آفس ہے تمہیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہیں پر تمہاری ہے بڑھا دی جائے گی۔”

” صارم بیٹا اس میٹر کو ڈیل کرو۔ رامین بیٹا اپنا کام کرو تمہارا پرابلم سولو سمجھو۔” علی شاہ نے رامین کو کچھ بھی مزید کہنے کا موقع نہیں اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔

وہ بےبسی سے نکل آئی۔

اسے پتا ہی نہیں چلا تھا کہ صارم کب آیا؟ اگر اسے پتا چل جاتا تو وہ بعد میں بات کر لیتی۔ اسی کی وجہ سے تو وہ یہاں سے فرار چاہتی تھی۔ اگر وہ وہاں نہ ہوتا تو وہ علی انکل کو منا ہی لیتی۔

رامین بوجھل قدموں سے آ کر اپنے کیبن میں بیٹھ گئی۔

رامین کو نئی فکر لگ گئی تھی۔ اب صارم اسے نہیں چھوڑے گا۔

——————