Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 29)

Madhoshi by Mirha Kanwal

آحِل کب سے کھڑا دروازے کو گھورے جا رہا تھا اب اس کی زندگی میں کیا ہونے والا ہے اسے معلوم نہ تھا۔۔۔

اس نے ایک لمبا سانس کھینچتے ہوئے دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔

کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور آحِل یک ٹک اس انسان کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔

اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اپنی محبت اپنی زندگی کو دوبارہ دیکھ پائے گا۔۔۔

ذائشہ آنکھیں پھاڑے آحل کو دیکھنے لگی اس نے ابھی تک گھر میں کسی کو بتایا نہیں تھا کہ آحل نے اسے دیکھ لیا ہے مگر وہ نہیں جانتی تھی آحل آج ہی اسے ڈھونڈ نکالے گا۔۔۔

ہوش آنے پر اس نے دروازہ بند کرنا چاہا مگر آحل نے تیزی سے دروازے میں اپنا پاؤں اٹکالیا۔۔۔

مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔ آحِل کو اس کا سامنے ہونا ابھی بھی اک خواب سا لگ رہا تھا

کون ہے ذائشہ۔۔۔ رخسانہ کی آواز آنے پر ذائشہ نے پھر سے دروازہ بند کرنے کی ناکام کوشش کی

پلیز ذائشہ اتنا ظلم مت کرو مجھ پر کہ میں سہہ نہ پاؤں۔۔۔ آحِل نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا

ظالم کے منہ سے مظلومیت کی باتیں اچھی نہیں لگتی اور مجھے تمہاری شکل تک نہیں دیکھنی دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔ اس آہستہ مگر چلّانے کے انداز میں کہا

تمہیں خدا کا واسطہ ہے مجھ سے بات کرو مجھے میری غلطی بتاؤ۔۔۔

رخسانہ دروازے پر پہنچی اور آحِل کو دیکھا۔۔۔

ہٹو پیچھے ذائشہ۔۔۔ وہ غصے سے بولیں

ذائشہ اندر کی جانب مڑ گئی اور آحِل کو اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہونے لگی اس نے تو ابھی ایک نظر بھر کر اسے دیکھا بھی نہ تھا۔۔۔

رخسانہ آحِل کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

ابھی میری بچی کے پہلے زخم نہیں بھرے اور تم پھر سے آگئے اسے برباد کرنے کے لیے۔۔۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا

آنٹی میرا کوئی قصور نہیں آپ پلیز ایک بار میری بات سن لیں۔۔۔

میں کہتی ہوں چلے جاؤ اور آئندہ اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔ وہ چلّائیں

نہیں میں ایسے نہیں جا سکتا جب تک آپ سب کو حقیقت نہ بتا دوں۔۔۔ اس بار آحِل کی آواز بھی بلند ہوئی

حقیقت یہی ہے کہ تم نے میری بچی کو پھانس کر اس کے اعتبار کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔۔۔

نہیں آنٹی ایسا کچھ نہیں ہے آپ اس کے پیچھے چھپے سچ کو نہیں جانتی۔۔۔

ہمیں کچھ نہیں سننا دفع ہو جاؤ یہاں سے آئندہ یہاں کا رخ بھی نہ کرنا۔۔۔ رخسانہ آحِل کو دھکا دیتے ہوئے بولیں اور دروازہ بند کرنے لگی

آحل نے ایک جھٹکے کے ساتھ پورا دروازہ کھولا اور رخسانہ کو پیچھے کرتا ہوا گھر میں داخل ہو گیا۔۔۔

ذائشہ اندر بیٹھی رو رہی تھی کہ آحل نے اسے بازو سے پکڑا اور ایک کمرے میں لے جا کر دروازہ لاک کیا۔۔۔

ذائشہ ہکی بکی اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ذائشہ۔۔۔ آحل نے اس کا نام پکارا

ذائشہ ڈر سے ایک ایک قدم پیچھے کی جانب اٹھا رہی تھی اور آحِل ایک ایک قدم اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔۔۔

امی۔۔۔ اس نے اپنی امی کو پکارا

ذائشہ دروازہ کھولو۔۔۔ باہر سے رخسانہ کمرے کا دروازہ پیٹنے لگی

ن۔۔نہیں پلیز چ۔۔چلے جاؤ۔۔۔ وہ خوفزدہ سی بولی

اسے خود سے ڈرتا دیکھ کر آحل کو تکلیف ہونے لگی

ذائشہ دیوار کے ساتھ لگی اور آحِل اس سے کچھ فاصلے پر رک گیا۔۔۔

ذائشہ کیا تمہیں لگتا ہے میری محبت اک ڈرامہ تھی محض تمہیں استعمال کرنے کے لیے۔۔۔ آحِل نے دکھ بھرے لہجے میں کہا

ذائشہ کے آنسو اس کی رخساروں پر پھسلنے لگے وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی۔۔۔

آحِل بھی زمین پر بیٹھا اور اس کی طرف بے یقینی سے دیکھنے لگا۔۔۔

ذائشہ مجھے بتاؤ کیا ہوا تھا اس دن۔۔۔

ذائشہ کی نظروں کے سامنے اس دن کا منظر گردش کرنے لگا۔۔۔

فلیش بیک

آحِل آپ لاک کیوں لگا رہے ہیں۔۔۔ اس نے گھبراتے ہوئے پوچھا

کیوں کہ ہمیں کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔۔۔ آحِل نے اس کی طرف دیکھا تو ذائشہ ڈر گئی۔۔۔

نیلی آنکھیں لال انگارہ بنی ہوئی تھیں۔۔۔

آ۔۔آحِل آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔ ذائشہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا

تمہارے بغیر بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔ اس نے ذائشہ کو بازو سے تھاما

ذائشہ کپکائی۔۔۔

اس نے آحل کے ہاتھوں کو ہٹانے کی ناکام کوشش کی۔۔۔

ہم کھڑے کیوں ہیں ادھر آؤ بیڈ پر بیٹھتے ہیں۔۔۔

وہ اسے پکڑے بیڈ کی طرف آیا اور اسے بیٹھا کر پھر خود بیٹھ گیا۔۔۔

وہ لال آنکھوں سے اس کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔۔۔

ذائشہ آحل کی نظروں سے گھبرا رہی تھی۔۔۔

پتہ ہے ذائشہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔۔۔

آحل نے ذائشہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔

ذائشہ خاموش رہی۔۔۔

پوچھو نہ کتنی۔۔۔ اس نے ذائشہ کے ہاتھ پر دباؤ ڈالا

جی کتنی۔۔۔ وہ ڈرتے ڈرتے بولی

اتنی کہ کسی شہزادے نے کسی شہزادی سے نہ کی ہو گی۔۔۔

کسی عاشق نے دلربا سے نہ کی ہو گی۔۔۔

اتنی کہ کوئی کر ہی نہیں سکتا جتنی محبت میں تم سے کرتا ہوں۔۔۔۔

بلکہ میں تو محبت کی حد کب سے پار کر چکا ہوں اب تو مجھے تم سے عشق ہے جنون کی حد تک عشق۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا بولا۔۔۔

ذائشہ اس کی بات پر زبردستی مسکرائی۔۔۔

آحِل مجھے لگتا ہے مجھے اب چلنا چاہیے۔۔۔

ذائشہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکال کر کہا

ارے نہیں نہیں ابھی تو آئی ہو ایسے تھوڑی نہ جانے دوں گا آحل نے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔

آحل مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔

میں ٹھیک ہوں فیانسی تم بس یہیں رہو تمہیں ابھی بہت دیکھنا ہے دل نہیں بھرا۔۔۔

ذائشہ مزید گھبرانے لگی اسے آحِل کچھ عحیب سا لگ رہا تھا۔۔۔

آحِل پھر سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

ذائشہ۔۔۔ اس نے پکارا

جی۔۔۔ اس نے جواب دیا

تمہارے ہونٹ بہت خوبصورت ہیں۔۔۔ آحِل بے خود سا بولا

ذائشہ نے شرم اور گھبراہٹ سے چہرہ جھکایا۔۔۔

آحِل نے اس کی ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا۔۔۔

ذائشہ کی نظریں آحل کی نظروں کے ساتھ ملیں۔۔۔

وہ بہکی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

ذائشہ نے اس کا ہاتھ ہٹانے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا جب آحِل اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اس کی گردن کو دونوں ہاتھوں میں لیا۔۔۔

ذائشہ کا پورا جسم کانپ اٹھا آحِل یہ کیا کر رہا تھا وہ نہ محرم تھا اس کے لیے۔۔۔

ذائشہ نے اپنے نرم ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیلنا چاہا مگر وہ نہیں ہٹا۔۔۔

آحِل کے لمس میں شدت بڑھنے لگی۔۔۔

ذائشہ کو اپنی جان جاتی محسوس ہونے لگی۔۔۔

اس کی آنکھوں سے آنسو پسل کر رخساروں پر بہنے لگے۔۔۔

اس نے مزاحمت کرنا بند کر دی تھی کیوں کہ اس کی طاقت ایک جوان مرد کے مقابلے میں کچھ نہ تھی۔۔۔

آحِل نے ذائشہ سے جدا ہوئے بغیر اسے بیڈ پر لٹایا۔۔۔

خطرے کی گھنٹیاں ذائشہ کے دماغ میں ہتھوڑوں کی طرح بجنے لگیں۔۔۔

وہ مسلسل اپنا آپ آحل سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔

مگر آحل تو جیسے بھول ہی چکا تھا کہ اس کے سامنے اس کی محبت اس کا عشق ذائشہ ہے جسے وہ کبھی تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔۔۔

اس نے ایک پل کے لیے ذائشہ کے ہونٹوں کو آزاد کیا۔۔۔

آ۔۔آحل یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔ اس نے سسکی بھرتے ہوئے کہا

تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں ذائشہ تمہارے جسم کے ایک ایک پور کو چھونا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ بے خود سا بولا

ہماری کل ش۔۔شادی ہے آحِل۔۔۔

پھر تو اچھی بات ہے نہ شادی سے پہلے ہو یا بعد میں کیا فرق پڑتا ہے شادی تو ہونی ہی ہے۔۔۔

اس نے اپنی شرٹ اتار کر بیڈ کے دوسری جانب پھینکی۔۔۔

ذائشہ نے اسے بغیر شرٹ کے دیکھ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور مزید رونے لگی۔۔۔

آحِل کو نجانے کیا ہو گیا تھا اسے ذائشہ کی تکلیف نظر ہی نہیں آرہی تھی وہ پہلے کی طرح اپنے کام میں مصروف ہوا۔۔۔

اس نے ذائشہ کے پیٹ پر اپنے ہونٹ رکھے تو وہ تڑپ اٹھی۔۔۔

نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔

ذائشہ نے اپنی قمیض درست کی اور اٹھنے لگی۔۔۔

جب آحل نے اس کا بازو سختی سے پکڑ کر بیڈ پر پٹخا۔۔۔

آحِل نے اس کی عزت داغ دار کرنے میں کثر نہ چھوڑی تھی۔۔۔

ذائشہ کی سسکیوں سے پورا کمرہ گونج رہا تھا مگر آحل کو پرواہ نہ تھی۔۔۔

کیا ہو چکا تھا اسے کیوں اس نے اپنی ہی ہونے والی بیوی کی عزت نیلام کر رہا تھا۔۔۔

ذائشہ کا جسم نڈھال ہوا تکلیف کے مارے اس میں حرکت کرنے کی بھی ہمت نہ رہی تھی۔۔۔

کتنی ہی دیر تک وہ اس کی شدتیں برداشت کرتی رہی نازک جان کب بے ہوش ہوئی آحل کو اس بات کی خبر تک نہ ہوئی۔۔۔

وہ پرسکون ہونے کے بعد اس سے الگ ہوا اور پل ہی میں گہری نیند سو گیا۔۔۔

ذائشہ بستر پر کسی بے جان چیز کی طرح پڑی تھی اس کی محبت اس کے یقین اس کے بھروسے کو پاؤں تلے کچل کر وہ ظالم سکون کی نیند سو رہا تھا۔۔۔

جب اسے ہوش آیا تو کمرے کی چھت اسے گول گول گھومتی ہوئی نظر آرہی تھی، کتنی ہے دیر وہ بے حِسو حرکت لیٹی رہی۔۔۔

ماں باپ کا خیال آنے پر کر اس نے اٹھنے کی ہمت کی اور زمین پر بکھرے اپنے لباس کو اٹھایا۔۔۔

ایک نظر گردن موڑ کر اس ظالم انسان کی طرف دیکھا۔۔۔

کیا یہ وہی شخص تھا جس نے اسے محبت کرنا سیکھایا تھا اعتبار کرنا سیکھایا تھا۔۔۔

درد سے ذائشہ نے آنکھیں بند کیں۔۔۔

“تم جیسے رئیس زادے مجھ جیسی غریب لڑکیوں سے کبھی شادی نہیں کرتے تم لوگوں کو لڑکی کا بھروسہ جیت کر ان سے اپنا مطلب نکالنے کے سوا اور کوئی غرض نہیں ہوتی، تم نے صرف میرا بھروسہ ہی نہیں مجھے بھی اندر تک توڑ دیا ہے آحِل تم مجھے دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکو گے کیوں کہ،

میں صرف تمہاری زندگی سے نہیں اس دنیا سے بھی ہمیشہ کیلیے جا رہی ہوں”

رات کے بارہ بجے وہ ہوٹیل سے نکل کر گھر کے راستے چلنے لگی۔۔۔

وہ ہر قدم بمشکل اٹھا پا رہی تھی آنکھوں سے آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔۔۔

اس نے ایک رکشے والے کو اشارہ کیا اور اس میں بیٹھ گئی۔۔۔

کچھ دیر بعد رکشہ اس کے گھر کے آگے رکا اور باہر نکلی اور اپنے گھر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔

آج اس کی مہندی تھی اس کے نہ ہونے پر اس کے ماں باپ نے لوگوں کو کیا جواب دیا ہوگا انہیں کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔۔۔

اب کیا منہ دکھائے گی وہ اپنے ماں باپ کو، کیا جواب دے گی اتنی رات گئے گھر لوٹنے کا۔۔۔ یہ سوچ سوچ کر کہ وہ اپنے ماں باپ کا مان توڑ چکی ہے اس دل چاہا کہ وہ اپنی جان لے لے۔۔۔

لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اس نے اپنے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا۔۔۔

اس کے ماں باپ جو اس کے لوٹنے کا انتظار کر رہے تھے اسے دیکھ کر اس کی طرف لپکے۔۔۔

انہوں نے ابھی کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے جب ان کی نظر ذائشہ کی بکھری حالت پر پڑی۔۔۔

صدیق صاحب اور رخسانہ دونوں ہی یک ٹک ذائشہ کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

یہ۔۔۔یہ کیا حالت ہے ذائشہ اور کہاں تھی تم۔۔۔ رخسانہ نے ذائشہ کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا

ذائشہ کی ہلکی ہلکی سسکیاں انہیں مزید پریشان کرنے لگیں، وہ کچھ بولے بغیر اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور اندر سے دروازہ لاک لگا لیا۔۔۔

صدیق صاحب اور رخسانہ اس کے پیچھے بھاگے۔۔۔

ذائشہ دروازہ کھولو کیا ہوا ہے۔۔۔ رخسانہ دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے بولی

کمرے سے ذائشہ کے چینخ چینخ کر رونے کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔ صدیق صاحب اور رخسانہ دونوں کے ہی پاؤں تلے زمین نکلی

ذائشہ بیٹی دروازہ کھولو اپنے امی ابو کو بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔ صدیق صاحب کی آواز بھر آنے لگی

ذائشہ مزید چینخنے لگی، کتنے ارمان تھے اس کے آحل کے ساتھ شادی کو لے کر، سب ایک ہی پل میں چکنا چور ہو چکے تھے۔۔۔

ذائشہ نے اپنی چادر اتار کر پھینکی اور کسی پاگل کی طرح اپنے بالوں کو کھینچنے لگی۔۔۔

وہ اونچی اونچی رو رہی تھی کہ شاید اس طرح اس کے دل کو سکون مل سکے، مگر سکون شاید اس سے روٹھ چکا تھا۔۔۔

اس نے روتے ہوئے سر دروازے کے ساتھ ٹکایا جب اس کی نظر چھت سے لٹکتے پنکھے پر پڑی۔۔۔

ایک پل کے لیے وہ کچھ سوچتے ہوئے ساکت ہوئی۔۔۔

لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ کھڑی ہوئی اپنی چادر اٹھائی اور ایک ٹیبل رکھ کر اس پر کھڑی ہوئی۔۔۔

صدیق صاحب اور رخسانہ اسے خاموش پا کر کھڑکی کی طرف بھاگے۔۔۔

ذائشہ کو پنکھے کے ساتھ دوپٹہ باندھتے دیکھ کر ان کے پاؤں تلے سے زمین نکلی۔۔۔

ذائشہ میری بچی۔۔۔ رخسانہ سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے چلّائی

صدیق صاحب کچھ کریں اس سے پہلے کہ ہماری بچی کو کچھ ہو نہ جائے۔۔۔ وہ دھاڑے مار کر رونے لگی

صدیق صاحب کا دل ذائشہ کو اس حالت میں دیکھ کر کانپ اٹھا، اپنے آس پاس نظر دوڑانے لگے۔۔۔

انہوں نے ایک ہتھوڑی اٹھا کر دروازے کے لاک کی جگہ مارنی شروع کی اس دوران ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔

لکڑی کا دروازہ ہونے کی وجہ سے لاک آسانی سے کھل گیا اور وہ اندر کی طرف بھاگے۔۔۔

ذائشہ پنکھے کے ساتھ لٹکے تڑپ رہی تھی صدیق صاحب نے بھاگ کر اس کو ٹانگوں سے پکڑ کر اوپر کیا۔۔۔

رخسانہ نے جلدی سے گرا ہوا ٹیبل سیدھا کیا اور اس پر چڑھ کر پنکھے سے چادر کھولنے لگی۔۔۔

ذائشہ میں بولنے کی ہمت تو نہ تھی وہ انہیں ہاتھ سے اشارہ کر رہی تھی جیسے وہ کہہ رہی ہو مجھے مر جانے دیں۔۔۔

انہوں نے ذائشہ کو لیٹایا اور اس کی گردن سے چادر نکالی کھانس کھانس کر اس کی حالت خراب ہو رہی تھی۔۔۔

اس وقت ان کے گھر میں مرگ کا سما تھا۔۔۔

رخسانہ نے ذائشہ کے منہ کو پانی کا گلاس لگایا جسے پی کر اس کی حالت کچھ سمبھلی۔۔۔

خودکشی کرنے کا فیصلہ کیسے کر لیا تم نے ایک بار بھی ہمارا نہ سوچا۔۔۔ رخسانہ نے روتے ہوئے کہا

تمہارے بغیر تو ہم جیتے جی مر جاتے۔۔۔ صدیق صاحب نے روتے ہوئے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا

ذائشہ بتاؤ کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ رخسانہ نے پوچھا

امی۔۔ امی آ۔۔آحل نے مجھے برباد کر دیا۔۔۔ اتنا کہتے ہوئے وہ پھر سے سسکنے لگی تھی

اس کی بات سن کر رخسانہ اور صدیق صاحب دونوں کے سر پر ساتوں آسمان گرے

امی میں اس رسوائی کے ساتھ زندہ نہیں رہنا چاہتی م۔۔میں مر جانا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ سسکیوں میں بمشکل بول رہی تھی

نہیں میری بچی اللہ انصاف کرنے والا ہے اور خودکشی تو حرام ہے تمہارا جب کوئی قصور نہیں تو تم اپنی جان پر ظلم کیوں کرو گی۔۔۔ صدیق صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے

ا۔۔ابو پھر مجھے کہیں دور لے چلیں ا۔۔تنی دور جہاں اس شخص کا سایہ بھی مجھ پر نہ پڑ سکے۔۔۔ ذائشہ کی بے بسی کی انتہا تھی

ٹھیک ہے میری بچی ہم آج رات ہی اس گھر سے نکل جائیں گے۔۔۔

آج رات مگر کیسے۔۔۔ رخسانہ ان کی بات پر حیران ہوئی

ہم اس گھر کو جلا دیں گے تا کہ لوگ سمجھیں کہ ہم سب نے خودکشی کر لی۔۔۔

ویسے بھی ذائشہ کے اپنی مہندی والی رات غائب ہونے پر محلے کی عورتوں نے بہت باتیں بنائی ہیں اور اب ہمارا اس محلے میں رہنا مناسب بھی نہیں۔۔۔

رخسانہ ابھی ضرورت کا سامان باندھو ہمیں صبح ہونے سے پہلے پہلے یہاں سے نکلنا ہو گا۔۔۔

قسمت پر روتی رخسانہ اٹھی اور سامان باندھنے لگی۔۔۔

صدیق صاحب نے ذائشہ کا سر چومتے ہوئے اسے اٹھایا۔۔۔

مجھ سے وعدہ کرو میری بچی آئندہ کبھی بھی تم اپنی جان لینے کا فیصلہ نہیں کرو گی چاہے زندگی میں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ آئے اس کا سامنا کرو گی۔۔۔

ذائشہ نے اپنی سرخ آنکھیں صاف کیں اور اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

صدیق صاحب نے چولہے کے پاس پڑی پیٹرول کی بوتل اٹھائی اور گھر میں چھڑکنا شروع کر دیا۔۔۔

ذائشہ اور رخسانہ کو گھر سے باہر کھڑا کر کے انہوں نے جلتا ہوا لائٹر ایک کمرے کے اندر پھینک دیا، ایک دم سے آگ بھڑک اٹھی اور تیزی سے دوسرے کمرے تک پہنچ گئی، وہ جلدی سے باہر نکلے۔۔۔

چلو جلدی چلو اس سے پہلے محلے والے جاگ جائیں۔۔۔ صدیق صاحب نے کچھ سامان اٹھایا اور کچھ رخسانہ نے اٹھایا پھر وہ تینوں لہو لہان دل کے ساتھ گھر کو دیکھتے ہوئے تیز تیز چلنے لگے۔۔۔

صدیق صاحب نے رہنے کے لیے مری کا شہر اس لیے منتخب کیا تھا کیوں کہ یہاں شاید ذائشہ کو سکون حاصل ہوتا۔۔۔

ذائشہ نے سکونِ قلب اور خود کو مصروف کرنے کے لیے بچوں کو قرآن پاک پڑھانا شروع کر دیا۔۔۔

وہ آج تک آحل کے کیے گئے ظلم کو بھلا نہیں پائی تھی مگر اس کو جینا تھا اپنے ماں باپ کے لیے جن سے زیادہ اس دنیا میں ذائشہ کو چاہنے والا اور کوئی نہ تھا۔۔۔

حال

آحِل ساکت کھڑا ذائشہ کی باتوں کو سن رہا تھا، وہ چاہے نشے کی حالت میں تھا پھر بھی اس نے کیسے ذائشہ کو اتنی تکلیف دی اس پر اتنا ظلم کیا۔۔۔

اس کی وجہ سے وہ کتنی ہی تکلیفوں سے گزر چکی تھی۔۔۔

آحِل زمین پر بیٹھا اس کے دل کا موسم آج پھر سے ناقابلِ برداشت تکلیف زدہ تھا۔۔۔

نیلی آنکھوں کے سمندر میں پھر سے طوفان آیا، چھل مارتا پانی ساحل سے نکلتا ہوا رخسار پر بہنے لگا۔۔۔

کیسے یقین دلاؤں اپنی بے گناہی گا، اس نے سوچتے ہوئے اپنا سر ہاتھوں میں پکڑا۔۔۔

ذائشہ نے ایک نظر سسکتے ہوئے آحِل کی طرف دیکھا آج وہ اسے تقریباً ایک سال بعد دیکھ رہی تھی، جس چہرے کو دیکھ دیکھ وہ اپنی قسمت پر خوش ہوتی تھی وہی تو تھا اسے اس حال میں پہنچانے والا۔۔۔

وہ دروازے کی طرف قدم بڑھانے لگی جب آحِل کی آواز اس کی سماعت میں پڑی۔۔۔

رکو۔۔۔

ذائشہ نے وہیں اپنے قدم روک دیے کیوں کہ وہ بھی جاننا چاہتی تھی آخر اسے ڈھونڈنے کے پیچھے آحل کا کیا مقصد تھا۔۔۔

مجھے ایک بات کا صرف اتنا ہاں یا نہ میں جواب دینا۔۔۔

کیا تمہیں میری محبت پر یقین تھا؟

ذائشہ خاموش رہی۔۔

بتاؤ کیا تمہیں مجھ پر یقین تھا۔۔۔ پھر سے سوال ہوا

یقین نام کی ہی تو سب سے بڑی غلطی تھی جو میں نے اپنی زندگی میں کر لی۔۔۔ وہ آہستہ آواز میں بولی

اگر یقین تھا تو اتنا کمزور کیوں؟ کیا میری محبت اتنی کمزور تھی جو تمہارا یقین ایک پل میں ٹوٹ گیا؟

وہ اس کے مقابل آ کر کھڑا ہوا۔۔۔

کیا تمہیں اس دن ایک بار بھی نہیں لگا کہ میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوں۔۔۔

آحل نے کہا تو ذائشہ اس دن کے بارے میں سوچنے لگی جب اسے آحل بہکا بہکا سا لگ رہا تھا۔۔۔

ذائشہ نے آحل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

وہ ایک سازش تھی جو فاریہ نے کی تھی تا کہ میری تم سے شادی نہ ہو سکے، اس دن میں نے تمہیں وہ میسیج نہیں کیا تھا ذائشہ فاریہ نے کیا تھا، تم خود ہی بتاؤ پہلی رات جب تم مجھے میری گاڑی سے ملی تھی تم میرے گھر میں میرے کمرے میں اکیلی تھی کیا میں نے تمہارے ساتھ کچھ کیا؟

اور جس رات میں تمہارے گھر آیا تھا تمہارے ساتھ تمہارے کمرے میں تھا، آدھی رات کو اکیلے تھے ہم، کیا میں ایک بار بھی تمہیں چھونے کی کوشش کی؟

نہیں نہ کیوں کہ تم پاک تھی ذائشہ اور تم سے ہونے والی میری محبت بھی پاک ہی تھی۔۔۔

ذائشہ خاموش کھڑی اس کی باتیں سنتی رہی

ہمارے ساتھ ظلم کرنے والی لڑکی آج اپاہج ہے نہ وہ اٹھ سکتی ہے نہ چل سکتی ہے اسے اس کے گناہوں کی سزا مل چکی ہے تو میں اور تم کس گناہ کی سزا کاٹ رہے ہیں۔۔۔

تم ایک بار ایک بار اس رات کے اگلے دن انتظار کرتی اگر مجھے صرف حوس ہوتی تو میں تم سے شادی نہ کرتا پھر تم کہتی کہ ہاں آحل تم نے میرا استعمال کیا۔۔۔

تمہیں مردہ جان کر میں کیسے زندگی گزار رہا تھا تم اس بات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی، ایک ایک پل کانٹوں پر گزارا ہے میں نے، اگر تم تب ہی مجھ سے ایک بار بات کر لیتی تو یہ سب نہ ہوتا۔۔۔

دیکھو میری طرف کیا میں تمہیں وہی آحل لگتا ہوں۔۔۔؟ آحل نے ذائشہ کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا

ذائشہ نے آحل کی طرف دیکھا۔۔۔ آنکھوں کے گرد ہلکے، خشک ہونٹ، نارمل کٹنگ کے بال اور وہ پہلے سے کافی کمزور ہو چکا تھا۔۔۔

ذائشہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے دل کے کسی کونے سے وہ بھی اسے روز پکارتی تھی کہ کبھی تو آئے اس کے ٹوٹے دل کو جوڑ دے اس سے چھینی محبت کو لوٹا دے۔۔۔

آحِل نے اسے روتا دیکھا اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر انگوٹھوں سے اس رخسار صاف کیے اور اپنے ہونٹوں سے اس کی پیشانی پر محبت کی پہلی مہر لگائی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *