Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 10)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 10)
Madhoshi by Mirha Kanwal
ماہاویرا بیٹے جلدی کرو ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔۔۔ سلطان صاحب اور ماہاویرا فاروق ہمدانی کے گھر ڈنر پہ ان وائٹڈ تھے تو سلطان صاحب ٹائم دیتے ہوئے ماہاویرا کو بلانے لگے
بس آئی ڈیڈ۔۔۔ وہ کہتی ہوئی اپنے کمرے سے باہر نکلی
اب وہ صحیح معنوں میں ماہاویرا سلطان لگ رہی تھی۔۔
مجھے تمہارا نام بھی لڑکوں والا رکھنا چاہیے تھا ۔۔۔سلطان صاحب اس کی مردانہ لک دیکھ کر مسکرائے
No dad, I love my name too much thank God u didn’t change it…
سلطان صاحب اس کی بات پہ مسکرا کر رہ گئے۔۔۔
چلو بیٹا گاڑی میں بیٹھو۔۔۔
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اور ہمدانی ہاؤس کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ان کی گاڑی گیٹ پر تھی۔۔۔
ان کے واچ مین نے گیٹ کھولا تو سلطان صاحب نے گاڑی اندر پارک کی۔۔۔
گھر کے اندرونی دروازے سے فاروق ہمدانی اور شہروز باہر آرہے تھے۔۔۔
سلطان صاحب فاروق کے گلے ملے اور شہروز سے ہینڈ شیک کیا۔۔۔
شہروز کی نظریں ماہا کی منتظر تھیں۔۔۔
ماہا نے اپنے وائٹ جوگر شوز کا قدم باہر نکالا تو شہروز کو ہنسی آئی
لگتا ہے محترمہ اس دن شوز چینج کرنا بھولی نہیں تھی سوٹ کے نیچے جوگر ان کا اپنا ہی ایجاد کردہ فیشن ہے۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے دل میں سوچا
ماہاویرا گاڑی سے نکلی تو شہروز کے ساتھ ساتھ فاروق صاحب کی بھی وکٹیں اڑیں۔۔۔
بلیک ڈریس شرٹ، وائٹ جینز، وائٹ شوز، ہاتھ پہ بندھی برانڈڈ جینٹس واچ اور بوائز ہیئر کٹ کے ساتھ وہ مردانہ سے چال چلتی ان کے قریب آئی۔۔۔
ہائے انکل۔۔۔ آئے ایم ماہاویرا سلطان خانزادی
فاروق صاحب تو صدمے سے بول بھی نہیں پا رہے تھے جو لڑکی وہ اس دن دیکھ کر آئے تھے اور جو اب ان کے سامنے تھی ان میں تو زمین آسمان کا فرق تھا۔۔۔
ہا۔۔ہائے ماہاویرا بیٹا۔۔۔ فاروق بمشکل بول پائے
اب ماہاویرا کی نظروں کا مرکز شہروز تھا۔۔۔
سلطان صاحب نے باپ بیٹے کو شوکڈ دیکھا تو فاروق کا ہاتھ پکڑے اندر کی جانب بڑھ گئے۔۔۔
ہیلو مسٹر شہروز ۔۔۔ ماہاویرا نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے کہا
شہروز ہوش میں آیا۔۔۔
کیا ہو گیا اتنے شوکڈ کیوں ہیں آپ۔۔۔ وہ ایک سائیڈ مسکراتی بولی
تو اس لیے محترمہ اس رات لیڈیز ڈریس میں ان کمفرٹ ایبل محسوس کر رہی تھی۔۔ شہروز اسے گہرا دیکھ کر بولا
وہ تو ڈیڈ نے ضد کی تھی ورنہ میں نے تو اس ٹائپ کے ڈریسز کو کبھی ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔۔ وہ اپنے چھوٹے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی
جس بھی لباس میں ہوتی ہو حسن کمال رکھتی ہو۔۔۔ وہ منہ میں بڑبڑایا
کیا کہا۔۔۔ ماہا نے پوچھا
کچھ نہیں اندر چلیں۔۔۔
وہ دونوں اندر کی جانب قدم بڑھانے لگے
شہروز کے دادا دادی لاؤنج میں صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔
اس کے دادا طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے کم ہی بولتے تھے۔۔۔
دادو کی نظر شہروز کے ساتھ آتی ماہاویرا پر پڑی۔۔۔
سلطان پتر تو اپنے بیٹے کو لے آیا ہے بیٹی کو بھی ساتھ لانا تھا نا۔۔۔
سلطان صاحب شرمندہ سے ہو کر رہ گئے۔۔۔
دادو یہ سلطان انکل کی بیٹی ہے۔۔۔ شہروز بولا
ہائے میرے ربا اے کڑی اے۔۔۔ وہ اپنی ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے ماہاویرا کو نیچے سے اوپر تک دیکھنے لگی۔۔۔
ماہاویرا چلتی ہوئی ان کے قریب آئی اور سلام لے کے سر ان کے آگے کیا۔۔۔ یہی عمل اس نے شہروز کے دادا کے ساتھ دوہرایا
دادو نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔۔
سلطان پتر تیری دو بیٹیاں ہیں تو دوسری والی کو ساتھ کیوں نہیں لایا۔۔۔
دادو میں سلطان ہاؤس کی اکلوتی بیٹی ہوں ماہاویرا سلطان۔۔۔ ماہاویرا ان کے پاس آکر بولی
دادو شہروز کی طرف دیکھنے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تو وہ نظریں جھکاگیا
پتر تو ماشااللہ ہے تو بڑی سونی پر تو نے یہ اپنا حال کیا بنا رکھا ہے۔۔۔ دادو حیرت سے پوچھنے لگی
ماہا ایک سائیڈ مسکرائی تو شہروز نے اس کی طرف دیکھا
دادو میں بچپن سے ایسی ہی ہوں میری ماں تو تھی نہیں جو مجھے پہننے اوڑھنے کا سلیقہ سیکھاتی۔۔۔
ڈیڈ نے میرے لیے آیا رکھی تھی آیا کبھی بھی ماں جیسا پیار نہیں دے سکتی۔۔۔
ڈیڈ تو آفس ہوتے تھے اور میرے پاس ہوتے تھے آحِل بھائی بس ان کو دیکھ کر میں ضد کرتی تھی کہ مجھے ان جیسے کپڑے اور شوز پہننے ہیں تب بچی سمجھ کر سب میری ضد پوری کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں اسی لباس کی عادی ہوتی گئی۔۔۔
ماہاویرا اپنی بات پوری کر کے خاموش ہوئی۔۔۔
دادو اور وہاں بیٹھے سبھی لوگ اس کی بات سن کر دکھی ہوئے۔۔۔
دادو نے ماہاویرا کا ماتھا چوما اور اسے پیار کرنے لگی
تیری ماں نہیں ہے پر دادو تو ہے نا۔۔۔ وہ ماہا کی ٹھوڑی پکڑتے ہوئے بولی
ماہا نے دادو کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
فاروق دل ہی دل میں خود کو کوس رہے تھے کہ پچھلی بار جب وہ ان کے گھر گئے تھے تو اس بات کو برا بھلا بولا تھا۔۔۔
ان کے تو خیال میں بھی نہیں تھا کہ ماہا بھی لڑکوں کی طرح رہتی ہے اور اس کے پیچھے دکھ بھری وجہ بھی ہے۔۔۔
میرا خیال ہے ہمیں کھانے کی ٹیبل پر چلنا چاہیے۔۔۔ شہروز نے ماحول بدلنے کے لیے کہا
ہاں بھئی چلو۔۔۔ فاروق بولے تو سب اٹھ کر ٹیبل کی طرف چل دیے



ذائشہ تار سے کپڑے اتارنے کے لیے چھت پہ آئی۔۔۔
اس کے گھر کا دروازہ کھٹکا تو وہ چھت سے دیکھنے لے لیے آگے بڑھی ہوا بھی بہت تیز چل رہی تھی۔۔۔
نیچے آحِل اپنی گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔۔۔
آحِل کی اچانک نظر اوپر کی طرف گئی تو رخ بدلنا بھول گئی۔۔۔
خوبصورت مورت کی مانند چہرے پر کالی زلفوں کی لٹیں رقص کر رہی تھیں۔۔۔
آحِل کی نظروں میں چاہت اتنی تھی کہ صدیوں اس مورت کو دیکھتا رہے اور دل نہ بھرے۔۔۔
رخسانہ بیگم نے دروازہ کھولا تو آحِل کو چھت کی طرف دیکھتا پایا۔۔۔
ذائشہ کو معلوم ہو گیا تھا کہ اس کے گھر کا دروازہ کھل چکا ہے وہ تیزی سے دو قدم پیچھے مڑی۔۔۔
آحل بیٹا آپ۔۔۔ وہ اس کا دھیان ہٹانے کے لیے بولی
ج۔۔جی۔۔۔ آحِل ہوش میں آیا تو ندامت کا احساس ہوا
جی آنٹی میں آپ سےاور انکل سے ملنے آیا ہوں۔۔۔
اندر آؤ۔۔۔ رخسانہ اسے راستہ دیتے ہوئے بولی
آنٹی گاڑی میں کچھ سامان ہے میں اٹھا لوں۔۔۔
وہ مڑا اور گاڑی سے کچھ پیکس اٹھائے۔۔۔
آحِل گھر میں داخل ہوا تو رخسانہ نے دروازہ بند کیا۔۔۔
آحِل نے پیکس رخسانہ کی طرف بڑھائے۔۔۔
بیٹا یہ کیا ہے یہ زحمت کیوں کی۔۔۔
بیٹا بھی بولتی ہیں اور زحمت کا بھی کہہ رہی ہیں۔۔۔
آحِل نے کہا تو رخسانہ نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔۔۔
ذائشہ نیچے آؤ۔۔۔ رخسانہ نے آواز لگائی
آؤ آحل بیٹا اس کمرے میں آؤ۔۔۔
آحِل خاموشی سے ان کے پیچھے چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
ارے آحِل بیٹا تم۔۔۔ صدیق اٹھ کر بیٹھے
السلام علیکم کیسے ہیں آپ انکل۔۔۔
بلکل ٹھیک ہوں بیٹا تم بتاؤ۔۔۔
آپ کے سامنے ہوں۔۔۔ آحل مسکراتے ہوئے بولا
اللہ تمہاری لمبی عمر کرے ہم تمہارا ہی ذکر رہے تھے۔۔۔ صدیق صاحب بولے
ذائشہ سیڑھیاں اترتی ہوئی آئی کپڑے رکھ کر کچن کا رخ کیا۔۔۔
امی کون آیا ہے۔۔۔
آحل آیا ہے۔۔۔ رخسانہ کو معلوم تھا کہ وہ چھت سے آحل کو دیکھ چکی ہے مگر اس بات کا ذکر نہیں کیا۔۔۔
مگر وہ کیوں آئے ہیں اور یہ پیکٹس میں کیا ہے۔۔۔
ان میں بہت سی قسموں کے فروٹس ہیں۔۔۔ رخسانہ ایک پیکٹ سے فروٹ نکالتی ہوئی بولی
ذائشہ کی چھٹی حِس نے کام کیا اس نے دل میں سوچا کہ کہیں آحِل اس کے بارے میں بات کرنے تو نہیں آیا۔۔۔
ذائشہ سوچ کیا رہی ہو آحِل کے لیے چائے بناؤ۔۔۔
جی بناتی ہوں۔۔۔ اس نے چائے بنانے کے لیے چولہا آن کیا
۔۔۔۔۔
رخسانہ کمرے میں آکر بیٹھ گئی۔۔۔
آنٹی، انکل ،میں آپ سے کچھ ضروری بات کرنے آیا ہوں۔۔۔ آحِل ہچکچاتے ہوئے رک رک کر بولا
صدیق صاحب جان گئے کہ آحل کیا بات کرنے آیا ہے مگر خاموش رہے۔۔۔
رخسانہ بھی آحِل کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
ہاں بیٹا کرو کیا بات ہے۔۔۔ رخسانہ بولی
آنٹی میں یہ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ آحِل کے چہرے سے گھبراہٹ واضح ہونے لگی۔۔۔
بولو بیٹا کیا بات ہے گبھرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صدیق صاحب نے آحل کو تسلی دی تا کہ وہ گبھرائے نہیں۔۔۔
انکل میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں میں اکیلا اس لیے آیا ہوں تا کہ میں آپ کی رضامندی جان سکوں اگر آپ اس کے لیے راضی ہیں پھر ہی میں اپنی فیملی کو لے کر آؤں گا۔۔۔ وہ ایک سانس میں بولتا ہوا اپنی بات ختم کر گیا
صدیق صاحب کچھ دیر خاموش رہے۔۔۔
اور رخسانہ کو تو اپنے کانوں پہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ آحل اتنی جلدی ان سے ذائشہ کی بات کرے گا۔۔۔
ہماری طرف سے بے فکر ہو جاؤ اور اپنے ماں باپ کو لانے میں دیر مت کرنا۔۔۔
صدیق مسکراتے ہوئے بولے تو آحِل نے ان کی طرف دیکھا اب اس کی سانسیں بحال ہوئی تھیں۔۔۔
تبھی ذائشہ ہاتھ میں چائے کی ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ آحِل نے کن اکھیوں سے ذائشہ کی طرف دیکھا تو ذائشہ نظریں جھکا گئی
آحِل نے چائے کا کپ اٹھایا اور ذائشہ کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔
تو بتاؤ کب لا رہے ہو اپنی امی ابو کو۔۔۔ صدیق صاحب بولے۔۔۔
انکل میری ماما میری چھوٹی بہن کی پیدائش پر اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں اب میری فیملی میں میرے ڈیڈ اور چھوٹی بہن ہی ہے۔۔۔
بہت دکھ ہوا سن کر اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔۔۔ صدیق بولے تو رخسانہ اور آحل نے آمین کہا
آحِل نے چائے کے کچھ گھونٹ پیے اور ٹیبل پر رکھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
مجھے اب اجازت دیں۔۔۔
ارے بیٹا چائے تو پی لو۔۔۔ رخسانہ بولی
آنٹی چائے میں نے پی لی ہے اب مجھے چلنا چاہیے۔۔۔
ٹھیک ہے آحل بیٹا اللہ تمہیں خوش رکھے۔۔۔۔
رخسانہ جاؤ آحل کو دروازے تک چھوڑ کر آؤ۔۔۔ صدیق رخسانہ کو بولے
وہ ہاں میں سر ہلاتی اٹھی اور آحل کے پیچھے چل دی۔۔۔
آحِل کمرے سے باہر نکلا تو ذائشہ کے کمرے کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی جیسے وہ بھی اس کی ایک جھلک دیکھنے کی منتظر ہو۔۔۔
آحِل نے شدت بھری نظروں سے اسے دیکھا تو وہ دروازے کے پیچھے چھپ گئی۔۔۔
آحِل اس کی اس ادا پہ مسکرایا اور باہر کے دروازے کی طرف قدم اٹھائے۔۔۔
وہ رخسانہ کو اللہ حافظ بول کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔
رخسانہ نے دروازہ بند کیا وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔۔
کہ ان کی بیٹی اتنے اچھے اور امیر لڑکے کی بیوی بنے گی۔۔۔
ادھر صدیق صاحب نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا کہ انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔۔۔



کھانے سے فری ہو کر سلطان اور فاروق آپس میں باتیں کرنے لگے۔۔۔
شہروز نے ماہاویرا کو لان میں گھومنے کا کہا تو سلطان صاحب نے بھی ماہا کو شہروز کے ساتھ جانے کا کہا۔۔۔
اب وہ دونوں لان میں چہل قدمی کر رہے تھے دونوں کے درمیان خاموشی تھی۔۔۔
شہروز کی نظریں بار بار اس کو دیکھتیں اسے ماہاویرا اس لک میں بھی حسین لگ رہی تھی۔۔۔
کیا ہوبیز ہیں آپ کی۔۔۔ شہروز نے خاموشی کو توڑا
بہت سی ہیں لیکن لانگ ڈرائیو زیادہ پسند ہے۔۔۔
نائس۔۔۔ وہ مسکرایا
ایک بار پھر خاموشی چھائی
کوئی ہے آپ کی لائف میں۔۔۔
شہروز نے پوچھا تو ماہاویرا کی سوچ میں فورن بلال آیا۔۔۔
نہیں کوئی نہیں ہے۔۔۔ اسے جھوٹ بولتے ہوئے دکھ ہوا بلال اس کا شوہر تھا وہ بھی چاہتی تھی اپنے نام کے ساتھ بلال کا نام لگا کر سب کو سرِعام بتائے۔۔۔
ماہاویرا کا جواب سن کر شہروز کو سکون ملا اب وہ آسانی سے فاروق صاحب سے اپنی اور ماہا کی بات کر سکتا تھا۔۔۔
اور آپ کی لائف میں ہے کوئی۔۔۔ ماہا نے خاموشی دور کرنے کے لیے سوال کیا
اب تک تو نہیں تھی مگر اب ہے۔۔۔ وہ معنی خیز بولا مگر ماہا اس کی بات سمجھ نہ پائی
وہ دونوں پھر خاموشی سے چلنے لگے
چلتے ہوئے ماہاویرا کا اچانک پاؤں مڑا۔۔۔
وہ گرنے ہی والی تھی جب شہروز نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا تو ماہا اس کے سینے سے آکر ٹکرائی۔۔۔
شہروز اسے بھٹکی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ماہا کا سانس اٹک گیا وہ بلال کے نکاح میں تھی اور ایک غیر مرد نے اسے اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔۔۔
وہ اسے دھکا دیتی ہوئی چار قدم پیچھے مڑی اسے شدت سے ندامت ہو رہی تھی کہ وہ اس کے ساتھ لان میں کیوں آئی۔۔۔
ادھر شہروز ماہاویرا کے ری ایکشن کو اس کا شرمانا اور گھبرانا سمجھ بیٹھا۔۔۔
شہروز نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے تبھی گھر کے اندرونی دروازے سے فاروق اور سلطان صاحب آتے دکھائی دیے۔۔۔
تم نے واپس آکر بہت اچھا کیا فاروق میں بہت خوش ہوں مجھے میرا دوست واپس مل گیا۔۔۔ سلطان صاحب خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولے
سچ پوچھو تو میں بھی بہت خوش ہوں واپس آکر اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے اس کے جیسا سکون کہیں نہیں ہے۔۔۔
وہ دونوں چلتے ہوئے شہروز اور ماہا کے پاس آئے۔۔۔
کیوں بیٹا شہروز تم تو لنڈن میں پیدا ہوئے وہیں پلے بڑے ہو تو کیسا لگ رہا ہے پاکستان آکر واپس جانے کو دل کرتا ہے کیا۔۔۔ سلطان صاحب شہروز سے مخاطب ہوئے
یہ بات سچ ہے انکل میں پاکستانی نہیں ہوں مگر پاپا نے آج تک پاکستان کی باتیں کر کے میرے دل میں پاکستان کی محبت ڈالی۔۔۔
اور میں جس ایجینسی میں کام کرتا ہوں اس کا مقصد پاکستان کے تعلق رکھنے والے گینگسٹرز کو پکڑنا ہے میں نے آج تک جتنے بھی کیسز سولوّ کیے ہیں ان سب کا تعلق پاکستان تھا۔۔۔ اس نے وضاحت کی
تم جیسے نوجوان سے میں پہلی بار مل رہا ہوں جو آؤٹ آف کنٹری میں پلنے بڑھنے کے باوجود پاکستان کو اپنا ملک سمجھے۔۔۔ سلطان صاحب نے شہروز کو داد دی
چلیں ماہا بیٹے ٹائم بھی کافی گزر چکا ہے۔۔۔
جی ڈیڈ۔۔۔ وہ اتنا ہی بول پائی
شہروز آخری نظر تک ماہاویرا کو دیکھتا رہا۔۔۔
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی گیٹ سے باہر نکالی۔۔۔
بلال کا آدمی وقاص جو اندھیرے میں چھپے ہویے شہروز کے گھر پر نظر رکھے ہوئے تھا اس گھر سے باہر آتی گاڑی میں ماہاویرا کو دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔
اس نے ٹائم ضائع کیے بغیر بلال کو نمبر لایا
ہیلو بھائی۔۔۔ وہ تیزی سے بولا
ہاں کہو کیا بات ہے۔۔۔ بلال نے جواب دیا
بھائی شہروز ہمدانی سے گھر سے ایک گاڑی نکلی ہے جس میں بھابھی کو دیکھا ہے میں نے
کیا۔۔۔ تم نے ٹھیک سے دیکھا ہے نا کہیں تمہارا وہم نہ ہو۔۔۔ بلال حیران ہوا
نہیں بھائی میرا وہم نہیں ہے وہ بھابھی ہی تھی۔۔۔
بلال نے پریشانی کے کال ڈسکنیکٹ کی اور سوچ میں پڑ گیا آخر ماہاویرا کا شہروز سے کیا تعلق ہے



آحِل آج بے حد خوش تھا اسے ذائشہ کے والدین کہ طرف سے ہاں ہو چکی تھی اب وہ جلد از جلد اپنے ڈیڈ کو ان کے گھر لے کے جانا چاہتا تھا۔۔۔
رات کے نو بجے کا ٹائم تھا جب آحِل اپنے بستر پر آیا اس کا شدت سے دل چاہا ذائشہ سے بات کرنے کو اس نے پینٹ کی پاکٹ سے موبائل نکالا اور ذائشہ کو کال ملائی۔۔۔
ذائشہ کچن سمیٹ کر اپنے کمرے میں آئی تو اس کا سیل رنگ ہو رہا تھا ۔۔۔
اس نے بیڈ کے قریب آتے ہوئے موبائل اٹھایا سکرین پہ آحِل کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔
اس کے دل نے 200 کی سپیڈ پکڑی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ کال ریسیو کر کے بولنے کہ ہمت کیسے کرے گی کہ کال ہی بند ہو گئی۔۔۔
وہ موبائل ہاتھ میں لیے بیڈ پر بیٹھی اور آحل کے دوبارہ کال آنے کی منتظر تھی۔۔۔
آحِل نے جب دیکھا کہ ذائشہ نے کال ریسیو نہیں کی تو اس نے پھر سے کال ملائی یہ سوچتے ہوئے کہ اب بھی اس نے ریسیو نہ کی تو صبح کالج ٹائم جا کر اس کی کلاس لے گا۔۔۔
آحِل کی پھر سے کال آئی تو اس نے ریسیو کر کے موبائل کان کو لگایا۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔ آحِل کی دلکش آواز ذائشہ کے کانوں میں پڑی
وعلیکم السلام۔۔۔ ذائشہ بولی تو آحِل کو لگا کسی نے میٹھا شہد اس کے کانوں میں گھول دیا ہو
کیسی ہے میری ہونے والی منکوحہ۔۔۔ آحِل بے تکلفی سے بولا تو ذائشہ کے رخسار سرخ ہوئے
میں ٹ۔۔۔ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ اتنا ہی بمشکل بول پائی تھی آحل کی خیریت معلوم کرنے کے لیے اس کے پاس ہمت نہ تھی
آحِل اس کی حالت جان کر ایک سائیڈ مسکرایا۔۔۔
کہاں تھی کال پہلی کیوں نہیں ریسیو۔۔۔
جی کچھ مصروف تھی گھر میں۔۔۔ وہ بول کے پھر سے خاموش ہوئی
اگر تم میری یہ کال بھی ریسیو نہ کرتی تو میں نے صبح تم سے ملنے آجانا تھا۔۔۔
ج۔۔جی۔۔۔ ذائشہ کے رونگٹے کھڑے ہوئے
ہاں اب اتنا حق تو بنتا ہے جلد ہی مسز آحل خانزادہ جو بننے والی ہو
ذائشہ شرم سے پانی ہوئی۔۔۔
آحِل کے موبائل میں کسی کی کال آنے لگی اس نے دیکھا تو ریحان کا نمبر تھا اس نے اگنور کیا کہ پھر بات کر لے گا کیوں کہ ابھی وہ ذائشہ سے بات کر رہا تھا۔۔۔
دل ترس رہا ہے تمہیں دیکھنے کے لیے۔۔۔ آحِل نے خاموشی کو توڑا
ذائشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے آحِل مسلسل ایسی بات کر رہا تھا جس سے وہ بول نہیں پاتی تھی۔۔۔
کہو تو تمہیں دیکھنے آجاؤں۔۔۔
نہیں پلیز ایسا مت کریے گا۔۔۔ ذائشہ اس کے آنے کی بات سن کر جھٹ سے بولی
آحِل کے خوبصورت ہونٹوں پر مسکان کے رنگ بکھرے۔۔۔
اچھا تم کہتی ہو تو نہیں آتا۔۔۔
چلو ایک ڈیل کرتے ہیں شادی سے پہلے پہلے تمہیں اپنی جتنی باتیں منوانی ہیں منوا لو اور شادی کے بعد میری مرضی چلے گی۔۔۔ وہ شرارت سے کہتا ہوا اسے چھیڑنے لگا۔۔۔
ذائشہ نے اپنی ہرنی جیسی آنکھیں حیرت سے بڑی کیں۔۔۔ وہ اسے جواب تو دینا چاہ رہی تھی مگر اس میں ہمت نہیں تھی۔۔۔
ادھر آحِل کو بار بار ریحان کی کالز آرہی تھیں اسے معلوم ہو گیا تھا ضرور کوئی اہم بات ہے ورنہ ریحان نے کبھی اس طرح نہیں کیا تھا۔۔۔
اچھا ذائشہ میں تم سے پھر بات کروں گا ابھی مجھے ضروری کال آرہی ہے۔۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔ ذائشہ بولی تو آحِل نے کال ڈسکنیکٹ کی
پھر اس نے ریحان کا نمبر ملایا تو ریحان نے فورن کال ریسیو کی۔۔۔
کیا بات ہے ریحان خیر تو ہے۔۔۔
آحِل بلکل بھی خیر نہیں ہے تم ابھی مجھ سے کلب میں آکر ملو۔۔۔ وہ جلدی میں بولا
لیکن بتاؤ تو ہوا کیا ہے۔۔۔ آحِل بھی پریشان ہوا
آحِل بات تفصیل سے کرنے والی ہے کال پہ نہیں بتا سکتا میں ڈرائیو کر رہا ہوں کلب کی طرف تم بھی ابھی آؤ
اوکے میں آرہا ہوں۔۔۔
آحِل اب پریشان تھا ایسی کیا بات ہے جس کے لیے ریحان نے اسے سپیشل ملنے کے لیے کہا ہے
جاری ہے
