Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 12)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 12)
Madhoshi by Mirha Kanwal
آحِل آج بہت خوش تھا اس نے اپنے ڈیڈ سے ذائشہ کی بات بھی کرنی تھی اور اس کے رشتہ لے کر جانے کا بھی کہنا تھا۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اپنے ڈیڈ کے کمرے میں آیا۔۔۔
ہیے ڈیڈ۔۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا
سلطان صاحب ٹیبل پر کچھ فائلز پھیلائے کرسی پر بیٹھے تھے۔۔۔
ہاں بولو آحِل کیسے آنا ہوا۔۔۔ وہ اپنا چشمہ سیٹ کرتے ہوئے فائل کو دیکھ کر بولے
ڈیڈ پہلے ان کو تو چھوڑیں پھر بتاؤں گا۔۔۔ آحِل نے ان کا چشمہ اتار کر ٹیبل پر رکھا اور ان کا ہاتھ پکڑے بیڈ کی طرف لے آیا
ارے ارے۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو میں بہت ضروری فائلز دیکھ رہا تھا۔۔۔ سلطان صاحب نے ماتھے پہ ہاتھ رکھا
ڈیڈ جو میں آپ سے کہنے والا ہو اس سے زیادہ ضروری نہیں ہیں یہ فائلز۔۔۔
اچھا تو بتاؤ پھر کیا بات ہے۔۔۔ سلطان صاحب سیدھے ہو کر بیٹھے
ڈیڈ وہ ایکچوایلی بات یہ ہے کہ۔۔۔ اپنے ڈیڈ کو بتاتے ہوئے وہ شرمایا
آحِل یہ تم بلش کیسے کر رہے ہو کیا بات ہے کوئی لڑکی تو پسند نہیں آ گئی۔۔۔ وہ اس کے دل کی بات جان گئے
جی ڈیڈ ایسی ہی بات ہے۔۔۔آحِل نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا بتاؤ کون ہے۔۔۔ وہ متجسس ہوئے
ڈیڈ اس کا نام ذائشہ ہے اور وہ ایک غریب گھر کی لڑکی ہے بس مجھے وہ پسند آگئی ہے میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
آحِل بولا تو سلطان صاحب یک ٹک اس کی طرف دیکھنے لگے
ڈیڈ کیا ہوا۔۔۔ آحِل نے ان کو نوٹ کیا
میں دیکھ رہا ہوں تمہیں غریب گھر کی لڑکی کیسے پسند آگئی تم نے تو کالج یونی میں کبھی کسی غریب سٹوڈینٹ کو منہ نہیں لگایا تھا بلکہ ان سے چڑتے تھے۔۔۔ سلطان صاحب اس کے چہرے پہ غور کرتے ہوئے بولے
ڈیڈ وہ پچھلی باتیں ہیں ان کو بھول جائیں ابھی میں اتنا جانتا ہوں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا اور مجھے جلد ہی اس سے شادی کرنی ہے۔۔۔ وہ جذباتی ہوا
شرم کرو باپ کے سامنے کیسے کہہ رہے ہو۔۔۔ سلطان صاحب نے اس کے سر پر تھپکی لگائی
آحِل کے ہونٹوں پر خوبصورت ایک طرفہ مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔
ڈیڈ تو کب چل رہے ہیں میرے ساتھ ۔۔۔ وہ ایکسائیٹڈ ہوتے ہویے بولا
جب تم کہو تب ہی چلے جائیں گے۔۔۔ سلطان صاحب بیٹے کی خوشی میں خوش ہوئے
ڈیڈ آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔آحِل نے خوشی سے سلطان صاحب کو ہگ کیا تو وہ مسکرا دیے
اچھا اب جاؤ مجھے ضروری کام کرنا ہے۔۔۔
آحِل مسکرارتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ اب اس کا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا۔۔۔
اپنے کمرے میں آکر وہ بیڈ پر لیٹ گیا ذائشہ کی تصویر زوم کر کے دیکھنے لگا۔۔۔
اس نے آج صبح ہی ذائشہ کو تصویر بھیجنے کا کہا تھا تو اس نے دو تصویریں بھیجیں۔۔۔
وہ ان تصاویر میں معصوم گڑیا لگ رہی تھی۔۔
آحِل اسے دیکھنے میں مصروف تھا جب ماہاویرا کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
ماہا نے آحِل کا مسکراتی آنکھوں کو نوٹ کیا۔۔۔
او ہو بھائی کس کی تصویر دیکھ رہے ہو بڑے مسکرا رہے ہو۔۔۔
وہ اسے چھیڑتی ہوئی اس کے پاس آکر بیٹھی
تمہاری ہونے والی بھابھی کی۔۔۔ آحِل آرام سے بولا
کیا۔۔۔ ماہاویرا کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا
بھائی آپ مذاق تو نہیں کر رہے۔۔۔
میں کیوں مذاق کروں گا تم خود ہی دیکھ لو۔۔۔ اس نے موبائل ماہاویرا کی طرف بڑھایا
بھائی یہ تو بہت پیاری اور معصوم ہے۔۔۔ ماہا خوشی سے مسکراتے ہویے بولی
کیا نام ہے اس کا۔۔۔
ذائشہ نام ہے۔۔۔
نام بھی بہت پیارا ہے مگر خود تو یہ مجھے گڑیا لگ رہی ہے اتنی معصومیت بھی کسی کے چہرے پر ہو سکتی ہے کیا۔۔۔
اچھا تم ادھر دو موبائل اسے نظر نہ لگ جائے تمہاری۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑتا ہوا بولا
بھائی نہیں لگاتی میں آپ کی ہونے والی بیوی کو نظر ابھی وہ آئی بھی نہیں اور آپ ابھی سے بدل گئے۔۔۔ وہ منہ پھلائے بولی
ارے میری لاڈلی تنگ کر رہا تھا تمہیں بھلا تم سا کوئی پیارا ہے مجھے۔۔۔ آحل نے اس کے سر پہ ہاتھ رگڑ کر بال بکھیرے
اففف نہ کریں نا ابھی ہیئر سٹائل بنا کر آئی ہوں۔۔۔
ویسے ماہا میں سوچ رہا تھا تم ذائشہ کی نند لگو گی کہ دیور۔۔۔ وہ ہنسا تو ماہا بھی کھلکھلا کے ہنسنے لگی
آپ نے ڈیڈ سے بات کر لی کیا۔۔۔ ماہاویرا نے پوچھا
ہاں ان سے آج ہی بات کی ہے اور جلد ہی ہم اس کے گھر جائیں گے رشتہ لے کر۔۔۔
واؤ کتنا مزہ آئے گا آپ کی شادی پر آئے ایم سو ایکسائیٹڈ۔۔۔
آحِل اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔۔۔



ریحان میں نے حقیقت کو ایکسیپٹ کر لیا ہے میں نے مان لیا ہے کہ آحِل میری قسمت میں نہیں ہے یہ قسمت کا کھیل ہے میں اپنی مرضی سے قسمت نہیں بدل سکتی۔۔۔
میں شرمندہ ہوں کہ میں اتنی خود غرض ہو گئی تھی اور تمہاری کوئی بات نہیں سنی میں نے۔۔۔
فاریہ نے ریحان سے بات کرنے کے لیے ریسٹورنٹ میں بلایا تھا۔۔۔
فاریہ کیا واقع ہی تم پہلے جیسی ہو گئی ہو۔۔۔ ریحان کو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ فاریہ کا کل کیا روپ تھا اور آج کیا۔۔۔
ہاں ریحان میں اب آحِل اور ذائشہ کے راستے میں نہیں آؤں گی آئی پرامس۔۔۔
ریحان کو اب تسلی ہوئی۔۔۔
تھینک گاڈ فاریہ کہ تم نے حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے ورنہ میں تو بہت پریشان ہو گیا تھا کہ تم کچھ غلط نہ کر بیٹھو۔۔۔ ریحان سکھ کا سانس لیتا ہوا بولا
شاید تمہاری ہی باتیں میرے دل پہ اثر کی ہیں ریحان۔۔۔ وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی مسکرائی تو ریحان بھی مسکرا دیا
تو کب جا رہا ہے آحِل ذائشہ کے گھر اپنے ڈیڈ کو لے کر۔۔۔ وہ خوش اخلاقی سے بولی
ہاں صبح جا رہا ہے ہمارا شہزادہ۔۔۔ ریحان نے بتایا
اچھا بہت خوشی کی خبر ہے چلو آحِل کی شادی ہو اور ہم انجوائے کریں گی خوب مزہ آنے والا ہے۔۔۔ وہ ہنستی ہوئی بولی
ہاں ہاں کیوں نہیں ایک ہی تو جگر ہے ہمارا۔۔۔ ریحان بھی آحل کی شادی کا سوچ کر خوش ہوا
چلو اب کچھ آڈر کرتے ہیں۔۔۔ فاریہ نے اپنے سٹریٹ بالوں کو کندھے سے پیچھے جھٹک کر کہا
ریحان نے مسکراتے ہوئے ویٹر کو بلایا



ماہاویرا یونی سے آرہی تھی جب راستے میں اس کی گاڑی خراب ہوئی۔۔۔
وہ گاڑی سے باہر نکل کر کھڑی ہوئی۔۔۔
اففف یہ کیا ہو گیا۔۔۔ وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی
وہ سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کرے جب شہروز کی گاڑی اس کے پاس آکر رکی۔۔۔
ہیے ویرا کیا ہوا۔۔۔ وہ سن گلاسز اتارتا ہوا گاڑی کی ونڈو سے اسے دیکھ کر بولا
ماہاویرا نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
ہاں کچھ نہیں بس گاڑی میں کوئی مسئلہ بن گیا ہے۔۔۔
تو آؤ میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔ اس نے ہاتھ سے اندر آنے کا اشارہ کیا
ماہاویرا کے ذہن میں اس رات والی بات آئی۔۔۔
نہیں میں مینیج کر لوں گی۔۔۔ وہ بے رخا بولی
شہروز گاڑی سے باہر بکلا
دیکھو ماہا تمہاری گاڑی خراب ہوگئی ہے اگر تم اسے ٹھیک کرواؤ بھی تو ایک گھنٹہ تو شاید لگے گا۔۔۔
تو کیا ہرج ہے اگر میں تمہیں تمہارے گھر تک چھوڑ دوں۔۔۔
وہ اسے ہاتھ سے اشارے کرتا ہوا کہہ رہا تھا۔۔۔
ماہاویرا نے سوچا کہ واقعی اگر وہ میکینک کو بلا بھی لے تو ٹائم بہت لگ جائے گا تو بہتر ہے وہ اسے گھر تک چھوڑ دے۔۔۔
اس نے شہروز کو ہاں کا اشارہ کیا تو شہروز مسکرایا
ماہاویرا گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔
شہروز نے اس کی طرف گہرا دیکھا اور گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔
ماہاویرا مسلسل خاموش تھی شہروز نے اس کی خاموشی کو نوٹ کیا
کیسی گزر رہی ہے یونی لائف۔۔۔ شہروز نے پوچھا
ٹھیک۔۔۔ وہ اتنا ہی بولی
ایک بار پھر خاموشی چھائی
انکل کیسے ہیں۔۔۔
وہ بھی ٹھیک ہیں۔۔۔
شہروز مسلسل بات کرنے کا ٹاپک سوچ رہا تھا
تمہارے بھائی کو نہیں دیکھا میں نے۔۔۔
ہمم وہ آؤٹنگ پہ گئے ہوئے ہیں۔۔۔ وہ بول کے ونڈو سے باہر دیکھنے لگی
گاڑی کو جمپ آیا تو ڈیش بورڈ کھل گیا۔۔۔
ماہاویرا کی اچانک نظر وہاں پڑی تو بلال کی تصویر کو دیکھا۔۔۔
شہروز نے ڈیش بورڈ کو اندر کیا اور پھر سے سامنے کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
ماہاویرا پریشان ہوئی کہ بلال کی تصویر شہروز کے پاس کیا کر رہی ہے۔۔۔
یہ کس کی تصویر ہے۔۔۔ اس نے پوچھنا لازم سمجھا
ہمم کس کی۔۔۔ شہروز نے پوچھا
ماہاویرا نے ڈیش بورڈ سے بلال کی تصویر اٹھا کر اسے دکھائی۔۔۔
یہ کس کی تصویر ہے۔۔۔
شہروز حیران ہوا کہ ماہا اس کا کیوں پوچھ رہی ہے۔۔۔
یہ سیریئل کلر بلال خان ہے۔۔۔ اور میرا آخری ٹارگٹ بھی۔۔
اس کو پکڑنے کے بعد میرا یہ کیس بھی سالوّ ہو جائے گا
وہ بولتا رہا اور ماہاویرا آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی رہی۔۔۔
اس کے ذہن میں ایک ہی بات گھوم رہی تھی سیریئل کلر بلال خان۔۔۔
وہ سکتے کی حالت میں چلی گئی۔۔۔
ہیے ویرا آر یو اوکے۔۔۔ شہروز نے اس کا پریشان چہرہ نوٹ کیا
ہاں آ۔۔۔۔آئے ایم اوکے مجھے کیا ہونا۔۔۔ اس نے تصویر واپس رکھی اور ماتھے پہ آئی پسنے کی ننھی بوندوں کو صاف کیا۔۔۔
گاڑی ماہا کے گھر کے سامنے رکی ماہا باہر نکلی اور شہروز کو تھینکس بولے بغیر اپنے گھر میں داخل ہوگئی۔۔۔
شہروز حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔



بلال نے گاڑی کو تھوڑا دور اندھیرے میں کھڑا کیا اور چہرے پہ رومال باندھ کر باہر نکلا۔۔۔
رات کا ایک بج رہا تھا گلی میں سناٹا چھایا تھا بلال کے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے باوجود اس کے قدموں کی آواز گونج رہی تھی۔۔
شہروز کے گھر کے کچھ فاصلے پر اسے چھوٹا سا پیڑ دکھائی دیا۔۔۔
اس نے پیڑ کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔
پیڑ کے پاس پہنچ کر اس کے سوراخ ڈھونڈنا شروع کیا۔۔۔
گلی میں لائٹس کی وجہ سے روشنی تھی۔۔۔ اسے آسانی سے وہ سوراخ ملا اور ہاتھ ڈال کر اس نے موبائل نکالا۔۔۔ وہ وقاص کا ہی موبائل تھا
موبائل بلیک پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے وہ واپس اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا جب شہروز کے گھر کا گیٹ کھلا۔۔۔
بلال نے اپنے آپ کو پیڑ کی آڑ میں چھپایا۔۔۔
اس نے دیکھا کہ شہروز اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کہیں جارہا ہے۔۔۔
واچ مین نے گیٹ بند کیا اور شہروز کی گاڑی بلال کے پاس سے ہو کو گزر گئی۔۔۔
بلال نے واپس جانے کا ارادہ بدلا اب وہ شہروز کے گھر میں داخل ہو کر فائل اٹھانا چاہتا تھا۔۔۔
بلال اس کے گھر کی بیک سٹریٹ کی طرف چل دیا۔۔۔
یہاں کسی کا گھر نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرا تھا۔۔۔
بلال نے دیوار پر چڑھنے کا راستہ تلاش کیا۔۔۔
ایک جگہ اسے ملی جہاں سے وہ پاؤں رکھ کر دیوار پار کر سکتا تھا۔۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا اور دیوار بھلانگ گیا۔۔۔
شہروز کے گھر میں قدم رکھ کر اس نے رومال سے کیے نقاب کو سیٹ کیا اور گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہونے والے راستے کو تلاش کرنے لگا۔۔۔
اس نے اپنی جیکٹ سے گن نکالی اور ہاتھ میں مظبوتی سے تھام لی۔۔۔
وہ چلتا ہوا لان میں آیا اور واچ مین کی طرف دیکھا جو بندوق پہ ہاتھ رکھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر نیند کی وادیوں میں جا چکا تھا۔۔۔
بلال اندرونی دروازے کی طرف آیا تو دروازہ کھلا پایا۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا لاؤنج میں داخل ہوا اور سامنے والے کمروں میں سے شہروز کے کمرے کا اندازہ لگانے لگا۔۔۔
اس نے ایک دروازے کے ہینڈل کو بے آواز گھمایا تو روم لاک تھا۔۔۔
پھر اس نے دوسرے دروازے کی طرف رخ کیا۔۔۔
یہ دروازہ بھی اس نے کھولنے کی بے آواز کوشش کی تو روم لاک تھا۔۔۔
اب وہ تیسرے کمرے کی طرف آیا۔۔۔
اس نے ہیندل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔
روم کی لائٹ آف تھی۔۔۔ بلال نے دیوار پہ ہاتھ پھیر کر بٹن تلاش کر کے لائٹ آن کی۔۔۔
پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا۔۔۔
اس نے دروازہ بند کیا اور تیزی سے چلتا ہوا بیڈ کی سائیڈ ٹیبلز کی طرف آیا۔۔۔
اس نے دراز کھولا اور فائل تلاش کرنے لگا۔۔۔ یہاں سے ناکام ہوا تو تیز قدم دوسری طرف بڑھائے۔۔۔
اس سائیڈ کا دراز کھولا تو کچھ فائلز ہاتھ لگی۔۔۔
وہ ایک ایک فائل دیکھتا ہوا بیڈ پر پھینک رہا تھا۔۔۔
یہ سبھی فائلز اس کے لیے بے کار تھیں اسے جو فائل چاہیے تھی وہ ان میں نہیں تھی۔۔۔
اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور سوچنے لگا۔۔۔
اس کی نظر صوفے پہ پڑے لیپ ٹاپ پر پڑی۔۔۔
کچھ تو ہو گا اس لیپ ٹاپ میں۔۔۔ وہ سوچتا ہوا صوفے پر بیٹھا اور لیپ ٹاپ اٹھایا۔۔۔
اس پہ پاس ورڈ لگا دیکھ کر بلال کو غصہ آیا وہ اتنا رسک لے چکا تھا اور کچھ اس کے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
اس نے کچھ پاس ورڈ ٹرائی کیے مگر ناکام ہوا۔۔۔
اب وہ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ شہروز نے آخر فائل گھر رکھی بھی ہے یا نہیں۔۔۔ اچانک کمرے کا ہینڈل گھوما۔۔۔
جلدی میں بلال لاک لگانا بھول گیا تھا۔۔۔
اس کی نظر دروازے سے اندر داخل ہونے والے شخص پر تھی۔۔۔۔
