Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 28)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 28)
Madhoshi by Mirha Kanwal
وہ کھڑکی کا شیشہ کھولے آسمان سے گرتی شفاف روئی جیسی برف کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔۔۔
زمین پر بچھی برف کی سفید چادر اس کی آنکھوں کو بھلی لگ رہی تھی۔۔۔
ماہاویرا نے ایک ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا تو ننھی برف اس کے ہاتھ کو چومنے لگی۔۔۔ ماہاویرا نے اک احساس کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کیں۔۔۔
ان سات ماہ میں وہ بدل چکی تھی، اس نے ایک بار بھی اپنے بالوں کو نہیں کٹوایا تھا جس وجہ سے اس کے بال اب اس کی کمر کو ڈھانپنے لگے تھے۔۔۔
اس نے پینٹ شرٹ پہننا چھوڑ دیا تھا، اب وہ سادہ سے قیمیض شلوار میں ملبوس ہوتی تھی۔۔۔
ماہا ٹھنڈ لگ جائے گی بند کرو کھڑکی کو۔۔۔ آحِل نے لاؤنج میں داخل ہوتے کہا
ماہا نے کھڑکی بند کی اور آتش دان کے پاس صوفے پر آکر بیٹھی۔۔۔ ان سات ماہ سے وہ بہت کم بولی تھی
یہ لو چائے۔۔۔ آحل نے اسے چائے کا مگ پکڑایا
ماہا نے خاموشی سے مگ پکڑ کر ہونٹوں سے لگایا۔۔۔
مری میں آئے ہوئے ماہاویرا اور آحل کو آج ایک ہفتہ ہو چکا تھا ماہا کی حالت ان سات ماہ میں بھی سمبھلنے نہ پائی تھی اس لیے ڈاکٹر نے سلطان صاحب کو مشورہ دیا کہ ماہاویرا کو ایسی جگہ پر لے کر جایا جائے جہاں قدرت پائی جاتی ہو کیوں کہ کبھی کبھی جو انسان علاج سے بھی ٹھیک نہ ہو سکے اسے قدرت سے شفا مل جاتی ہے۔۔۔
آحِل نے ماہاویرا کے ساتھ یہاں آنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ وہ اپنی بہن کی زندگی خراب ہونے میں خود کو قصور وار سمجھتا تھا۔۔۔
آحِل نے ان سات ماہ سے لے کر اب تک اپنی زندگی اپنی بہن کے لیے وقف کر دی تھی، وہ ایک پل کے لیے بھی ماہاویرا سے غافل نہ ہوا تھا۔۔۔
ماہاویرا جب سے یہاں آئی تھی آحل اس میں تبدیلی محسوس کر رہا تھا، اب وہ پہلے سے بہتر ہو چکی تھی، یہاں آنے کے بعد اسے اب تک بلال کا خواب نہیں آیا تھا جس سے وہ نیند میں چینختی چلّاتی تھی۔۔۔
آحِل آتش دان میں مزید خشک لکڑیاں ڈالنے لگا اور ماہاویرا آتش دان سے اٹھتی آگ کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
رات کو نیند کیسی آئی تھی۔۔۔ آحِل نے پوچھا
اچھی۔۔۔ ماہا کہہ کر خاموش ہوئی
آحِل نے کھڑکی کی طرف دیکھا برف تھمتی ہوئی نظر آئی۔۔۔
آج شاید موسم صاف ہو۔۔۔ آحِل نے اندازہ لگایا
ماہاویرا نے ایک نظر کھڑکی کی طرف دیکھا مگر خاموش رہی۔۔۔
اگر آج سنو فالنگ رک گئی تو تمہیں باہر گھومانے کیلئے لے کر جاؤں گا۔۔۔ آحِل نے ماہاویرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ماہاویرا نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ آحل پہلے بھی اسے دو تین بار باہر لے کر گیا تھا مگر زیادہ ٹھنڈ ہونے کے باعث وہ دس پندہ منٹ بعد اسے گھر واپس لے آتا
وہ اپنے گھر سے ایک ملازمہ کو اپنے ساتھ لے کر آئے تھے جو ان کے لیے کھانا بناتی اور گھر کے باقی کام کرتی۔۔۔ سلطان صاحب اس ایک ہفتے میں ہی ماہاویرا سے ایک بار ملنے کیلئے آچکے تھے انہوں نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنی بیٹی کو خود سے دور کیا تھا۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد بارہ بجے کے ٹائم پر آحل نے ماہاویرا کو باہر لے جانے کا سوچا۔۔۔
باہر چلیں۔۔۔ آحِل نے خاموش بیٹھی ماہاویرا سے کہا
ماہاویرا نے ہاں میں سر ہلایا اور اٹھنے لگی۔۔۔
آحِل نے آگے بڑھ کر اس کی اٹھنے میں مدد کی، اس نے ماہا کو لانگ کوٹ پہنایا اور ہڈی اس کے سر پر دیا، ہاتھوں میں گلوز پہنائے اور چلنے لگا۔۔۔
ماہا کا ایک ہاتھ آحل نے پکڑا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ وہ اپنے بڑھے ہوئے پیٹ پر رکھ کر چل رہی تھی۔۔۔
آحِل دروازہ کھولے ماہا کو باہر لے کر آیا، جما دینے والی سرد ہوائیں چل رہی تھیں مگر گرم لباس پہننے کی وجہ سے ان دونوں پر اس ہوا کا زیادہ اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
برف سے بھری زمین پر ان دونوں کے قدموں کی چانپ زورو شور سے سنائی دے رہی تھی، ٹھنڈ کے مارے پرندے درختوں پر بیٹھے اپنے پنکھوں کو پھڑپھڑا رہے تھے۔۔۔
ماہاویرا نے شوق سے ان کی طرف دیکھا، ان کا یوں ٹھنڈ سے پھرپھڑانا ان کی معصومیت کو دگنا کر رہا تھا۔۔۔
دس منٹ چلنے کے بعد ماہا کو تھکاوٹ کا احساس ہوا، آحل نے اسے ایک بینچ پر بیٹھایا اور خود بھی اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔
ٹھنڈ کے احساس سے ماہاویرا اپنے ہاتھ مسلنے لگی۔۔۔
چائے پیو گی۔۔۔ آحِل نے ماہا کو ہاتھ مسلتے دیکھ کر پوچھا
ماہا نے ہاں میں سر ہلایا تو آحِل اس کے لیے پاس ہی چائے والی دکان سے چائے لینے چلا گیا۔۔۔
دو کپ چائے کے دے دیں۔۔۔ آحِل نے دکان دار سے کہا
جی ابھی دیتا ہوں۔۔۔ اس نے جواب دیا
آحِل دکان کی طرف پیٹھ کیے کھڑا ہو گیا اور دور دور تک پھیلے قدرت کے نظارے کو دیکھنے لگا۔۔۔
وہ بڑی دلچسپی سے یہ نظارہ دیکھ رہا تھا جب اس کی نظر ایک لڑکی پر آکر ٹھہر گئی۔۔۔
حیرت سے آحِل کے رونگٹے کھڑے ہوئے وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
یہ اس کا وہم تھا یا حقیقت وہ اس لڑکی کی طرف بھاگا۔۔۔
برف سے بھری زمین جہاں اتار چڑھاؤ کا کچھ پتہ نہ چلتا تھا آحل بھاگتے ہوئے کئی بار گر کر اٹھا۔۔۔
ذائشہ۔۔۔ اس نے اتنی اونچی اس کا نام پکارا کہ آس پاس کے سبھی لوگ اسے دیکھنے لگے۔۔۔
مگر آحل کو کس کی پرواہ تھی وہ تو بس جلد از جلد اس کے قریب پہنچنا چاہتا تھا اسے قریب سے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی اپنی جگہ سے اٹھی اور چلنے لگی۔۔۔
آحِل اسے جاتا دیکھ کر پریشان ہوا اور بھاگتا ہوا بار بار اس کا نام پکارنے لگا۔۔۔
ذائشہ رک جاؤ۔۔۔
جیسے جیسے آحِل بھاگ رہا تھا اس لڑکی کے چلنے میں تیزی آنے لگی۔۔۔
ذائشہ۔۔۔
بھاگتے ہوئے اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گڈے میں جا گرا، سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ ہوش کھونے لگا۔۔۔
ذائشہ۔۔۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں اس نے آخری بار اس کا نام پکارا پھر ہوش کی دنیا سے غافل ہو گیا۔۔۔



ماہاویرا آدھے گھنٹے سے آحل کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ ابھی تک نہیں آیا تھا وہ پریشان ہونے لگی کیوں کہ آحِل نے پہلے کبھی ایسی لاپرواہی نہیں کی تھی۔۔۔
اس نے اپنے کوٹ سے موبائل نکال کر آحِل کو کال کی مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا، اب ماہاویرا کی پریشانی میں مزید اضافہ ہونے لگا۔۔۔
اس نے گھر کی ملازمہ کا نمبر ڈائل کیا جو پہلی ہی بیل پر ریسیو ہو گیا۔۔۔
جی بی بی جی۔۔۔ ملازمہ بولی
نوری میں لیفٹ سائیڈ پہ دس منٹ کے فاصلے پر ہوں جلدی آؤ۔۔۔
جی ابھی آئی۔۔۔
ماہاویرا نے کال ڈسکنینکٹ کی دس منٹ بعد ملازمہ اس کے پاس تھی۔۔۔
بی بی جی خیریت ہے۔۔ اس نے آتے ہی پوچھا
دعا کرو کہ خیریت ہو تم یہاں چائے والی شاپ پر جاؤ اور دیکھو آحل کہاں رہ گیا ہے اسے گئے آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے وہ ابھی تک نہیں آیا۔۔۔ ماہاویرا پریشانی سے بولی
جی میں ابھی دیکھتی ہوں۔۔۔
بھائی صاحب یہاں ایک لڑکا آیا تھا چائے لینے۔۔۔ اس نے دکان پر پہنچ کر دکاندار سے پوچھا
یہاں تو کئی لڑکے آتے ہیں بی بی آپ کس کی بات کر رہی ہو۔۔۔ اس نے چائے کی پتیلی میں کپ سے چائے پھینٹتے ہوئے کہا
نوری سوچنے لگی کہ اب کیسے بتائے کہ لڑکا کیسا تھا۔۔۔
بھائی صاحب اس کی آنکھیں نیلی ہیں۔۔۔ ایک نشانی یاد آنے پر وہ بولی
ہاں ایک لڑکا آیا تو تھا مگر چائے کا بول کر اس طرف بھاگ کیا۔۔۔ چائے والے نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
نوری اس طرف چلنے لگی، دس منٹ کا فاصلہ طے کرنے پر اس کی نظر گڈھے میں بے ہوش ہوئے آحل پر پڑی۔۔۔
ہائے میرے اللہ صاحب جی کو کیا ہو گیا۔۔۔
وہ بھاگ کر دو تین لوگوں کو بلا کر لائی، ایک آدمی نے آحل کو کندھے پر اٹھایا اور نوری کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔۔۔
ماہاویرا مزید پریشان ہونے لگی بیس منٹ ہو چکے تھے اور اب نوری بھی نہیں آئی تھی اتنی دیر بیٹھ کر ماہا کی کمر میں درد ہونے لگا، وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹھی جب اس کی نظر نوری پر اور اس کے بعد آحل پر پڑی۔۔۔
آحِل بھائی۔۔۔ بے ساختہ ماہاویرا کے منہ سے نکلا
کیا ہوا ہے بھائی کو۔۔۔ ماہا نے نوری سے پوچھا
پتہ نہیں جی صاحب ایک جگہ بے ہوش پڑے تھے۔۔۔
اس کی بات سن کر ماہاویرا مزید پریشان ہوئی
جلدی گھر چلو۔۔۔ اس نے نوری کو کہا
نوری اس آدمی کو لیے گھر کی طرف چلنے لگی اور ماہا آہستہ آہستہ قدم بڑھانے لگی۔۔۔
گھر پہنچ کر ماہا نے ڈاکٹر کو کال کی پھر آحل کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔۔۔
آحِل نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولی اس کی نظروں کے سامنے ابھی تک ذائشہ کا چہرہ تھا۔۔۔
ذائشہ۔۔۔ آحِل نے زیرِلب اس کا نام لیا
ماہاویرا آحِل کے منہ سے ذائشہ کا نام سن کر چونکی۔۔۔
بھائی آپ ٹھیک ہیں کیا ہوا آپ کو۔۔۔ ماہاویرا نے فوراً پوچھا
آحِل نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا جو اس وقت شدید درد کر رہا تھا۔۔۔
بی بی جی ڈاکٹر صاحب آگئے ہیں۔۔۔ نوری آکر بولی
ہاں اندر بھیجو اسے۔۔۔ ماہا نے کہا
ڈاکٹر نے آحل کے سر پر بینڈیج کی اور کچھ پین کلر دے کر چلا گیا۔۔۔
پین کلر لے کر آحل کو کچھ سکون محسوس ہونے لگا۔۔۔
بھائی آپ ذائشہ کا نام کیوں لے رہے تھے۔۔۔ ماہاویرا نے پوچھنا لازمی سمجھا
ماہا میں نے ذ۔۔ذائشہ کو دیکھا۔۔۔ آحِل نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ماہاویرا حیرت زدہ آحل کو دیکھنے لگی۔۔۔
مگر وہ تو۔۔۔ وہ رکی
نہیں وہ زندہ ہے میری نظریں دھوکہ نہیں کھا سکتیں وہ ذائشہ ہی تھی۔۔۔ قرب سے آحِل کی آنکھیں بھر آنے لگیں
اگر ایسا ہے تو ہمیں اسے ڈھونڈنا ہو گا۔۔۔ ماہا نے آحل کی آنکھیں پڑھ لیں تھیں
میں ابھی جاتا ہوں۔۔۔ آحِل اٹھ کر بیٹھا
نہیں۔۔ ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔۔ ماہا نے اسے روکا
ماہا کہیں وہ پہلے کی طرح میری زندگی سے بنا کچھ کہے چلی نہ جائے۔۔۔ آحِل بھرائی ہوئی آواز میں بولا
ٹھیک ہے بھائی لیکن اپنا فون آن رکھیے گا نہیں تو مجھے بہت فکر ہو گی آپ کی۔۔۔
میں فون آن رکھوں گا اور ٹینس تمہاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے تم بے فکر رہنا سب ٹھیک ہو گا اس بار میں احتیاط کروں گا۔۔۔
ماہا نے ہاں میں سر ہلایا اور آحل چکراتے سر کے ساتھ بیڈ سے کھڑا ہوا۔۔۔
وہ اپنا لانگ کوٹ پہنے گھر سے باہر نکل گیا، ماہاویرا کھڑکی سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔
یا اللہ میرے بھائی کو اس کی محبت لوٹا دے۔۔۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی اور آتش دان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔۔ ان سات ماہ میں آج کا دن پہلا تھا کہ ماہاویرا اتنا بولی تھی ورنہ وہ اکثر ہاں نہ میں ہی جواب دیتی۔۔۔



ایک گھنٹہ ناکام کوشش کے بعد آحِل نے اپنے موبائل سے ذائشہ کی تصویر نکالی اور لوگوں سے پوچھنے لگا۔۔۔
چار پانچ لوگوں سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا۔۔۔
جس طرف اس نے ذائشہ کو دیکھا تھا وہ راستہ ایک غریب بستی کی طرف جاتا تھا جس سے آحل کو یقین ہو گیا کہ وہ ذائشہ ہی ہے۔۔۔
سر درد کی وجہ سے وہ ایک کٹے ہوئے درخت کی جڑ پر بیٹھا اور کچھ دیر سانس لینے کا سوچا۔۔۔
دس سال کی ایک بچی کھیلتے ہوئے اس کے پاس سے گزر رہی تھی۔۔۔
ادھر آؤ۔۔۔ آحِل کو وہ بچی بہت پیاری لگی
وہ شرماتے ہوئے آحِل کے پاس آئی اور مسکرانے لگی۔۔۔
آحِل بھی اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا
میری ایک بات مانو گی۔۔۔ آحِل نے بچی کے رخسار کھینچتے ہوئے کہا
جی۔۔۔ بچی تابعدار تھی
اللہ چھوٹے بچوں کی دعائیں بہت جلدی قبول کرتا ہے تم میرے لیے ایک دعا کرو۔۔۔
وہ کونسی۔۔۔ بچی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
تم دعا کرو کہ مجھے جس کی تلاش ہے وہ آج ہی مجھے مل جائے۔۔۔
آپ کو کس کو ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔ بچی نے معصومیت سے پوچھا
آحِل اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔۔۔
اس کی تصویر دیکھو گی۔۔۔
بچی نے ہاں میں سر ہلایا تو آحِل نے موبائل سے ذائشہ کی تصویر نکال کر اس کو دکھائی
یہ تو ہماری قرآن پاک والی باجی ہیں۔۔۔ بچی ذائشہ کی تصویر دیکھتے جھٹ سے بولی
قرآن پاک والی باجی مطلب۔۔۔ آحِل کھڑا ہوا
ہمیں قرآن پاک پڑھنا سیکھاتی ہیں۔۔۔ بچی نے اپنا چہرہ اوپر کرتے ہوئے آحل کی طرف دیکھ کر کہا
تم مجھے اس کے گھر لے چلو گی۔۔۔ آحِل جلدی سے بولا
جی۔۔۔
وہ بچی چلنے لگی اور آحل اس کے ساتھ چلنے لگا۔۔۔
کچھ دیر چلنے کے بعد بچی ایک گھر کے سامنے رکی اور دروازے کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔۔۔
آحِل ساکت کھڑا اس کے گھر کے دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
کیا آحل آج ذائشہ کو دیکھ پائے گا؟
کیا آحل اسے اپنی بے گناہی کا یقین دلا پائے گا؟
کیا وہ اس کی زندگی میں پھر سے لوٹ آئے گی؟
یا وہ اس بار بھی خالی ہاتھ رہ جائے گا؟
جاری ہے
