Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 19)

Madhoshi by Mirha Kanwal

وہ بھاگتی ہوئی وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئی۔۔۔

بلال لان میں بیٹھا فیبری گن کو ہاتھ میں لیے گھما تھا۔۔۔

بلال۔۔۔ اس نے بھاگتے ہوئے اسے پکارا

بلال نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ماہاویرا پھولتے ہوئے سانس کے ساتھ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے جھک کر کھڑی تھی۔۔۔

ماہاویرا کیا ہوا۔۔۔ وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اسے پاس پڑی لکڑی کی کرسی پر بٹھایا۔۔۔

بلال شہروز نام کا ایک سیکرٹ ایجینٹ ہے وہ تمہارا کیس سالوّ کر رہا ہے اسے تمہارے ٹھکانے کا پتہ چل گیا ہے وہ دو گھنٹوں میں یہاں ریٹنگ کرنے آرہا ہے۔۔۔ وہ پھولتے ہوئے سانس کے ساتھ بمشکل بول پا رہی تھی۔۔

بلال اس کی بات سن کر حیران ہوا۔۔۔ اسے میرے ٹھکانے کا کیسے معلوم ہوا۔۔۔ اس نے ماہا سے سوال کیا

م۔۔۔میں نہیں جانتی بلال میں بس تمہیں کھونا نہیں چاہتی ت۔۔۔تم یہاں سے بھاگ جاؤ بلال تمہیں کچھ ہوا تو میں مر جاؤں گی۔۔۔ اب وہ رونے لگی تھے

ماہا۔۔۔ میری جان۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا مجھے خود پر قابو پاؤ۔۔۔ اس نے ماہا کو پکڑ کر سینے سے لگایا

بلال میں ڈرتی ہوں تمہیں کھونے سے۔۔۔ ماہاویرا ہچکیاں لیتے ہوئے رو رہی تھی۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا مجھے سن رہی ہو نا۔۔۔ اب وہ اس کے بال سہلا رہا تھا

ماہاویرا تم میرا ایک کام کر سکتی ہو۔۔۔ بلال کچھ سوچتے ہوئے بولا

میں تمہارے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں بلال تم کہو کیا کرنا ہے۔۔۔ اس نے اپنا چہرہ بلال کے سینے سے ہٹا کر اس کی طرف دیکھا

ماہاویرا شہروز نے میرے ایک آدمی کو پکڑا ہے مجھے لگتا ہے اس نے اسی سے اگلوایا ہے جو اسے میرے ٹھکانے کا معلوم ہوا ہے۔۔۔

تمہیں شہروز کا آفس معلوم کرنا ہو گا وہاں میرے آدمی کو آزاد کر کے تمہیں یہ موبائل دینا ہو گا اس کا نام وقاص ہے۔۔۔ اس نے جیکٹ کی پاکٹ سے موبائل نکال کر ماہاویرا کے ہاتھ پر رکھا

ل۔۔لین میں کیسے۔۔۔ وہ پریشان ہوئی

تم یہ کر سکتی ہو میری جان اگر وہ لوگ اس سے باقی باتیں بھی اگلوانے لگے تو ماضی میں کیے ہویے جرموں کی سزا مجھے اب ملے گی ہو سکتا ہے مجھے کچھ سال جیل میں گزارنے پڑیں۔۔۔ وہ پریشان ہوا

ن۔۔۔نہیں بلال میں تمہیں خود سے دور نہیں کر سکتی تم کہیں نہیں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر۔۔۔ وہ پھر سے روتے ہوئے بلال کے سینے سے لگی

پھر تمہیں میرے لیے یہ کرنا ہو گا ماہا۔۔۔ بلال نے اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا تنگ کیا۔۔۔

میں کروں گی تمہارے لیے کچھ بھی کروں گی۔۔۔ ماہاویرا کپکپاتی آواز کے ساتھ بولی

رات کے وقت تم وہاں جاؤ گی اور یہ کام کرو گی۔۔۔ بلال نے ماہاویرا کا چہرہ اپنے مقابل کیا اور اس کے سرخ رخساروں پر اپنے انگوٹھوں سے آنسو صاف کیے

اور ابھی جو وہ دو گھنٹوں میں یہاں ریٹنگ کرنے والے ہیں اس کا کیا؟ تم کہاں جاؤ گے۔۔۔

میرا پاس بہت سے ٹھکانے ہیں میری جان تم بے فکر ہو جاؤ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔۔۔ اس نے ماہاویرا کی پیشانی پر لب رکھے

تم مجھ سے وعدہ کرو تم جہاں بھی جاؤ گے میرے کانٹیکٹ میں رہو گی اگر میری ایک دن بھی تم سے بات نہ ہوئی تو میں مر جاؤں گی۔۔۔ وہ پھر سے رونے لگی تھی

میں وعدہ کرتا ہوں میں تمہارے کانٹیکٹ میں رہوں گا اور آئندہ ایسے الفاظ میں تمہارے منہ سے نہ سنوں تمہارے بغیر میرا کوئی وجود نہیں۔۔۔

ماہاویرا پھر سے اس کے سینے سے لگی جیسے اسے بلال کو کھو دینے کا ڈر ہو۔۔۔

شہروز نے بلال کا ٹھکانہ دیکھ لیا تھا وہ ماہاویرا کی طرف سے پریشان تھا کہ کونسا تعلق ہے اس کا بلال خان کے ساتھ جو وہ اتنی پریشانی میں فل سپیڈ میں گاڑی چلا کر اس کے پاس پہنچی تھی۔۔۔

اب جو بھی تھا اسے بلال جیسے شخص سے ماہاویرا کو بچانا تھا اسے اب ماہاویرا کی فکر تھی۔۔۔

🔥
🔥
🔥

آحِل دو گھنٹوں سے ذائشہ کا ہاتھ پکڑے اسے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔۔۔ ذائشہ خود بیمار تھی مگر آحِل کے سامنے وہ اپنا درد بھول گئی اور اس کے سامنے بیٹھی رہی۔۔۔

ذائشہ نے ریحان کے موبائل سے اپنے گھر کال کر کے بتا دیا تھا کہ آحِل کو ہوش آگیا ہے اور اس نے آحل کو معاف بھی کر دیا ہے۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد صدیق اور رخسانہ آحل کو دیکھنے کے لیے ہوسپٹل پہنچے۔۔۔

آحِل کی طبیعت بھی اب کچھ بہتر ہو چکی تھی۔۔۔

سلطان صاحب نے آحل کی ذائشہ کے لیے محبت دیکھ کر ایک فیصلہ کیا اب وہ ذائشہ کے ماں باپ سے بات کرنے والے تھے۔۔۔

ریحان نے سلطان صاحب کو یہ بتایا تھا کہ آحِل کا پہلے کسی لڑکی کے ساتھ نارمل سا افیئر رہا تھا جس وجہ سے ذائشہ غصہ ہوئی اور اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔۔۔

کمرے میں آحل اور ذائشہ دونوں کی فیملی موجود تھی۔۔۔

ریحان اور ماہاویرا آحل کے بیڈ کی ایک طرف بیٹھے تھے اور ذائشہ دوسری طرف۔۔۔

سلطان صاحب ،صدیق اور رخسانہ دیوار کے ساتھ لگی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔۔۔

صدیق صاحب رخسانہ بہن مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ سلطان صاحب بولے

جی کہیے بھائی کیا بات ہے۔۔۔ رخسانہ بولی

سبھی ان کی طرف متوجہ ہوئے

آحِل کی حالت تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں ذائشہ بیٹی کی دوری نے اس کا کیا حال کر دیا ہے اور اب ذائشہ نے بھی اسے معاف کر دیا ہے۔۔۔

میں آپ سے اپنے بیٹے آحِل کے لیے ذائشہ بیٹی کا ہاتھ مانگتا ہوں۔۔۔

صدیق اور رخسانہ ان کے اچانک عمل پر حیران ہوئے۔۔۔ انہوں نے ذائشہ کی طرف دیکھا

ذائشہ کے چہرے پہ شرم و حیا کے رنگ پھیلے۔۔۔

صدیق اور رخسانہ اس کی رضا جان چکے تھے۔۔۔

ہمیں اپنی بیٹی کے لیے آپ کا بیٹا قبول ہے۔۔۔ صدیق صاحب بولے تو سبھی کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے

آحِل نے ذائشہ کو دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر دباؤ ڈالا تو ذائشہ شرم سے لال گلابی ہوئی اور چہرہ جھکا گئی۔۔۔

واؤ بھائی کی شادی ہو گی کتنا مزہ آئے گا۔۔۔ ماہاویرا بچوں کی طرح خوش ہوئی اسے دیکھ کر سب ہنسنے لگے

صدیق صاحب مجھے آپ سے اک بات اور بھی کرنی ہے۔۔۔ سلطان صاحب بولے

جی کہیے سلطان صاحب۔۔۔ صدیق صاحب نے جواب دیا

وہ یہ ہے کہ میں اسی مہینے کے اندر اپنے بیٹے کی بارات آپ کے گھر لانا چاہتا ہوں آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔۔۔

سلطان صاحب کی بات سن کر آحِل کا دل چاہا وہ جھٹ سے اٹھے اور ان کا منہ چوم لے مگر اپنی حالت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسے آرام سے لیٹے رہنا ہی مناسب لگا۔۔۔

ادھر ذائشہ کے دل نے 200 کی سپیڈ پکڑی شادی اور وہ بھی اتنی جلدی۔۔۔ اس نے سوچتے ہوئے ہرنی جیسی آنکھوں کو پھیلایا۔۔۔ ماہاویرا اور ریحان نے اس کی حرکت نوٹ کر کے ہونٹ دانتوں تلے دبایا

میں تو راضی ہوں تم کیا کہتی ہو رخسانہ۔۔۔ صدیق صاحب نے رخسانہ کی رضاندی معلوم کرنا چاہی

اگر آپ راضی ہیں تو میں بھی راضی ہوں اللہ دونوں کو ایک ساتھ ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔ آمین۔۔ سب نے ایک ساتھ کہا

ریحان جاؤ بھاگ کر مٹھائی لے کر آؤ۔۔۔ سلطان صاحب نے ریحان کو کہا اور وہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا

🔥
🔥
🔥

ماہاویرا گھر پہنچی تو شہروز لاؤنج میں صوفے پر سلطان صاحب کے ساتھ گپ شپ لگا رہا تھا۔۔۔

یہ تو یہاں آرام سے بیٹھا ہے اور بلال کے گھر ریٹنگ والی بات۔۔۔ اس نے دل میں سوچا

ہائے شہروز۔۔۔ وہ قدم اتھاتی اس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھی

ہائے ویرا۔۔۔ کیسی ہو

میں ٹھیک ہوں۔۔۔ تمہیں تو ریٹنگ کرنے جانا تھا نا تو یہاں کیا کر رہے۔۔۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا

جانا تو تھا مگر وہ انفارمیشن غلط تھی۔۔۔

غلط تھی مطلب۔۔۔ ماہاویرا حیران ہوئی

بیٹا تم کب سے ان کاموں میں دلچسپی لینے لگی۔۔۔ جاؤ شہروز کے لیے چائے کا کہو ملازمہ سے۔۔۔ سلطان صاحب بولے

جی ڈیڈ۔۔۔ وہ اٹھی ساتھ سکھ کا سانس بھی لیا کہ انہیں بلال کے گھر کا پتہ نہیں چلا

ملازمہ کو چائے کا بول کر وہ اپنے کمرے میں آئی۔۔۔

اس نے بلال کو کال ملائی تو پہلی ہی بیل میں کال ریسیو ہوئی۔۔۔

ہیلو بلال۔۔۔

یس مائے وائف۔۔۔

بلال شہروز کو تمہارے گھر کے بارے میں جو انفارمیشن ملی تھی وہ غلط تھی مطلب انہیں نہیں معلوم کہ تم کہاں ہو۔۔۔ ماہاویرا آہستہ آواز میں بات کرتی اسے سمجھا رہی تھی

اچھا شکر ہے انہیں نہیں معلوم ہوا۔۔۔ بلال نے جواب دیا

اچھا ماہا تم آج ہی شہروز کا آفس معلوم کر لینا جتنا جلدی وقاص وہاں سے نکل آئے اتنا ہی اچھا ہے میرے لیے۔۔۔

ہاں میں جلد از جلد یہ کام کر دوں گی۔۔۔ ماہاویرا بولی

اوکے مائے وائف۔۔۔

بلال نے بائے بول کر کال ڈسکنیکٹ کی اس کے ہونٹوں پر قاتلانہ مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔

🔥
🔥
🔥

فاریہ آحل کی خیریت معلوم کرنے کیلئے ہوسپٹل آئی تھی۔۔۔ وہ روم کے دروازے پر پہنچی تو اندر سے اسے ہنسنے کی آوازیں آئیں۔۔۔

اسے لگا وہ کسی اور روم میں آگئی ہے اس نے کمرہ نمبر چیک کیا تو وہی تھا جو اس نے ریحان سے کال کر کے پوچھا تھا۔۔۔

اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو آحِل کی فیملی کے ساتھ چند انجانے چہرے دیکھے۔۔۔

آؤ فاریہ بیٹا۔۔۔ سلطان صاحب نے اسے بلایا

آحِل نہیں جانتا تھا ذائشہ کو بدگمان کرنے والی فاریہ ہے اور نہ ہی یہ بات ذائشہ جانتی تھی۔۔۔

فاریہ کی نظر آحِل کے ساتھ بیٹھی چھوٹی سی لڑکی پر پڑی بلاشبہ ذائشہ آحل سے چھ سال چھوٹی تھی۔۔۔ آحِل چھبیس سال کا تھا اور ذائشہ بیس سال کی۔۔۔

اس کی نظر ذائشہ کے ہاتھ پر پڑی جو آحل نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔۔۔ اسے معلوم ہو چکا تھا یہی وہ لڑکی ہے جس نے آحل کو اپنے پیچھے دیوانہ بنا رکھا ہے۔۔۔

اس کے دل میں طوفان اٹھنے لگے ذائشہ کو آحل کی حقیقت بتانے کے بعد بھی وہ اس کے پاس آحل کے ہاتھ میں ہاتھ دیے بیٹھی تھی یہ کیسے ممکن تھا۔۔۔

کیا ہوا فاریہ آپی۔۔۔ ماہاویرا نے اسے خاموش کھڑے دیکھا تو پوچھا

ہاں۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ فاریہ سوچو سے باہر نکلی

کیسے ہو آحِل ۔۔۔ وہ آحِل کو پھولوں کا گلدستہ دیتے ہوئے بولی

بہتر ہوں۔۔۔ وہ پھول پکڑتے ہوئے بولا

لو جی آ گئی مٹھائی۔۔۔ کمرے میں ریحان داخل ہوا

اس کی نظر فاریہ پر پڑی اور فاریہ نے اس کے ہاتھ میں مٹھائی کی ٹوکری کو حیرت سے دیکھا

ریحان کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیلی کیوں کہ آحل اور ذائشہ کی شادی طے ہونے والی تھی اور یہ بات فاریہ کے لیے صدمے سے کم نہ تھی۔۔۔

وہ اس کی بچپن کی دوست ضرور تھی مگر اس نے آحل کے ساتھ جو کیا تھا ریحان کو اس سے بلکل توقع نہ تھی اس نے فاریہ کو جب روکا تو فاریہ نے اس سے جھوٹ بولا کہ وہ اب سدھر گئی ہے۔۔۔

ریحان بھائی کھڑے کیوں ہو ادھر لائیں نہ مٹھائی۔۔۔ ماہاویرا کو گلاب جامن بہت پسند تھے اس لیے وہ بے صبری ہوئی

ریحان نے مٹھائی ٹیبل پر رکھی اور کھڑا رہا۔۔۔

ماہاویرا مٹھائی کی ٹوکری کھولنے لگی۔۔۔

ارے رکو بیٹا ابھی منہ میٹھا کرنے سے پہلے میں ایک رسم کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ سلطان صاحب بولے

سب نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔

سلطان صاحب نے جیکٹ کی پاکٹ سے پیاری سی ڈبیہ نکالی اور اسے کھول کر گولڈ کی خوبصورت رنگ آحِل کی طرف بڑھائی۔۔۔

یہ تمہاری ماں کی نشانی ہے آحِل اسے ذائشہ بیٹی کے ہاتھ میں پہنا دو۔۔۔ سلطان صاحب کے کہنے کی دیر تھی کہ آحل خوشی کا مارا بیٹھنے لگا مگر اس سے اٹھا نہ گیا۔۔۔

ریحان نے آحل کی بیٹھنے میں مدد کی۔۔۔

ماہاویرا اپنے ڈیڈ کی بات سن کر بہت خوش ہوئی اور ادھر فاریہ کے سر پر پہاڑ پہ پہاڑ گر رہے تھے اس نے کیا سوچا تھا اور یہ کیا ہو رہا تھا۔۔۔

آحِل کے ہاتھ میں ذائشہ کا ہاتھ پہلے سے ہی موجود تھا اس نے ذائشہ کی انگلی میں رنگ ڈالی تو ذائشہ نے چوری سے آحل کی طرف دیکھا آحِل اسے آنکھوں میں خمار لیے دیکھ رہا تھا ذائشہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔۔۔

سب نے آحل اور ذائشہ کو مبارک باد دی سوائے فاریہ کے۔۔۔

اب ماہاویرا نے مٹھائی کی ٹوکری کھولی اور اس میں سے ایک گلاب جامن نکال کر آحِل کی طرف بڑھایا آحل نے ایک بائٹ لیا پھر اس نے وہی گلاب جامن ذائشہ کی طرف بڑھایا اس نے شرماتے ہوئے جہاں سے آحل نے بائٹ کیا تھا وہاں سے چھوٹا سا بائٹ کیا۔۔۔ ماہاویرا ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔۔

پھر وہ مٹھائی پلیٹ میں ڈالے باقی سب کی طرف بڑھی۔۔۔

پہلے سلطان صاحب نے منہ میٹھا کیا پھر صدیق صاحب پھر رخسانہ اور پھر ریحان نے۔۔۔

اب ماہاویرا فاریہ کے سامنے پلیٹ لیے کھڑی تھی اور وہ صدمے کی حالت میں کہیں گم تھی۔۔۔

کیا ہوا فاریہ آپی منہ میٹھا کریں۔۔۔

ہاں۔۔۔ فاریہ ہوش کی دنیا میں آئی۔۔ مجھے مٹھائی پسند نہیں ہے۔۔۔ اس نے بہانہ بنایا

ارے ایسے کیسے نہیں پسند آپ کے بچپن کے دوست کی منگنی ہوئی ہے منہ تو میٹھا کرنا پڑے گا اس نے زبردستی فاریہ کے منہ میں پورا گلاب جامن ڈال دیا۔۔۔ جو فاریہ کے حلق سے کانٹا بن کر اترا

ذائشہ نے اپنے ہاتھ میں پہنی خوبصورت رنگ کو اور پھر آحِل کی نیلی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔ وہ اس کی محبت میں اس ماضی بھلائے اس کے ساتھ زندگی کا ایک نیا سفر شروع کرنے جا رہی تھی۔۔۔

آحِل کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کل تک جو کچھ اسے ناممکن لگ رہا تھا آج وہ سب ممکن بن کر اس کے سامنے تھا اس نے دل میں اللہ کا لاکھ شکر ادا کیا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *