Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 22)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 22)
Madhoshi by Mirha Kanwal
ماہاویرا خوف سے کپکپا رہی تھی وہ اک اندھیرے والے کمرے میں موجود تھی جہاں ایک لاش لٹکی ہوئی تھی۔۔۔
کچھ دیر کے لیے تو حواس باختہ ہو کر روتی رہی۔۔۔
وہ زمین سے لڑکھڑاتے ہوئے اٹھی اور بازو سے اپنی نم آنکھیں صاف کیں۔۔۔
اس میں دوبارہ اس لاش کی طرف دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔۔۔
ماہاویرا کو کنفرم نہیں تھا کہ یہی بلال کا آدمی ہے یا نہیں مگر جو بھی تھا اسے بس جلد از جلد یہاں سے باہر نکلنا تھا۔۔۔
وہ حواس باختہ ہو چکی تھی اس میں پہلے جیسی ہمت نہ رہی تھی۔۔۔
وہ گیلری کو پکڑتے ہوئے چل رہی تھی اندھیرے اور خاموش جگہ میں اس کی سسکیوں کہ ہلکی ہلکی آواز گونج رہی تھی۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ روشنی کی طرف بڑھ رہی تھی جہاں گیلری کا اختتام ہوتا تھا۔۔۔
اب وہ اسی جگہ پر کھڑی تھی جہاں سے وہ ایک کمرے سے فائل چرا کر نکلی تھی۔۔۔
ماہاویرا نے اس کمرے کے دروازے کا ہینڈل گھمایا تا کہ کھڑکی سے نکل کر یہاں سے بھاگ سکے مگر دروازہ لاک تھا۔۔۔
اس نے ایک نظر دیوار پر لگے کوڈ لاک کی طرف دیکھا۔۔۔
شاید اس کا یہ سسٹم تھا یہ دو طرفہ لاک ہوتا تھا اور اندر سے لاک نہیں لگایا گیا تھا تبھی وہ آسانی سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔
اس کی پہلے ہی طبیعت بگڑ چکی تھی اب وہ کیسے یہاں سے نکلے گی وہ پریشان ہونے لگی۔۔۔
وہ کھڑی یہ سوچ ہی رہی تھی جب کسی کے قدموں کی چانپ اس کے کانوں میں پڑی
ماہاویرا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔
اس بے اپنے ہاتھ میں گن مظبوتی سے پکڑی اور گیلری میں دیوار کے ساتھ چپک کر کھڑی ہو گئی۔۔۔
اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔۔
قدموں کی آواز اس کے قریب آتی جارہی ہے
ایک لڑکا گیلری کے پاس سے گزر کر ایک کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ اس کی نظر گلیری کے اندر نہیں پڑی۔۔۔
وہ اندر داخل ہوا تو دروازہ بند ہوا ماہاویرا خود کو سمبھالتے ہوئے اس دروازے کے پاس ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔
اس نے اپنے دوسرے ہاتھ میں رومال پکڑا۔۔۔
اسے کمرے سے قدموں کی آواز آنے لگی شاید وہ لڑکا باہر آرہا تھا۔۔۔
جیسے ہی دروازہ کھلا اور وہ لڑکا باہر آیا ماہاویرا نے اس کے منہ پر اپنی پوری قوت سے رومال رکھا۔۔۔
کچھ لمحے وہ اس کے ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کرتا رہا اور پھر ہوش کی دنیا سے بےگانہ ہو گیا۔۔۔
ماہاویرا کا پورا جسم کپکپانے لگا اب جتنی جلدی وہ یہاں سے بھاگ جاتی اس کے لیے اتنا ہی اچھا تھا جس ہمت کے ساتھ وہ یہاں آئی تھی وقاص کی لاش دیکھنے کے بعد اس کی وہ ہمت جواب دے گئی تھی۔۔۔
وہ اسی کمرے میں داخل ہوئی جس سے لڑکا نکلا تھا۔۔۔
ماہا نے دروازہ بند کیا اور سامنے کھڑکی کو دیکھا وہ بھاگتی ہوئی کھڑکی کے پاس آئی۔۔۔
اس نے کھڑکی سے کودنے کے لیے پاؤں باہر نکالا جب کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔
ایک اور لڑکا ہاتھ میں گن لیے اندر داخل ہوا۔۔۔
وہیں رک جاؤ ورنہ شوٹ کر دوں گا۔۔۔ وہ اس کی طرف گن اٹھاتا ہوا بولا
ماہاویرا کے پاؤں تلے زمین نکلی اب وہ کیا کرے گی یہ سوچ کر اس کا حلق خشک ہونے لگا



آحِل نے ذائشہ کے گھر کے باہر گاڑی کھڑی کی وہ لاک لگاتا ہوا اس کے گھر میں داخل ہوا۔۔۔
صدیق صاحب اور رخسانہ صحن میں ہی بیٹھے تھے۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔ صدیق صاحب اور رخسانہ نے جواب دیا
کیسے ہو آحِل بیٹا آؤ بیٹھو۔۔۔ صدیق صاحب بولے
ٹھیک ہوں انکل آپ اور آنٹی کیسی ہیں۔۔۔ آحِل کرسی پر بیٹھا
اللہ کا بڑا کرم ہے۔۔۔ صدیق صاحب نے کہا
انکل میں نے کل آپ کو بتایا تھا کہ آج ذائشہ کو شاپنگ کے لیے لے کر جانا ہے۔۔۔ آحِل مدعے پر آیا
ہاں بیٹا ہمیں یاد ہے ذائشہ تیاری کر رہی ہے۔۔۔ رخسانہ نے ذائشہ کو آواز لگائی
آئی امی۔۔۔ ذائشہ نے چادر اوڑھتے ہوئے کہا
ذائشہ کمرے سے باہر نکلی تو آحِل نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
گہری کالی آنکھیں، رخساروں کو چھوتے کالے بال، سر اور کندھوں پر اوڑھی کالی چادر، سفید ہاتھوں میں پہنی رنگ برنگی چند کانچ کی چوڑیاں۔۔۔ وہ اپنے سامنے کھڑی حسن کی مورت کو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔
بیٹا جلدی گھر چھوڑ دینا ذائشہ کو۔۔۔ رخسانہ نے آحل کی نظروں کو جانچ لیا تھا
ج۔۔جی آنٹی۔۔۔آحِل ہوش میں آیا
وہ کالی فلیٹ سنڈل پہنے ایک ایک قدم اٹھاتی اس کے قریب آکر کھڑی ہوئی مگر فاصلہ رکھ کر۔۔۔
آحِل نے بلیک سن گلاسز لگائے
اور اسے ہاتھ کا اشارہ کرتا ہوا باہر کی جانب چل پڑا۔۔۔
ذائشہ نے اپنے امی ابو کو خدا حافظ کہا اور آحِل کی گاڑی میں آکر بیٹھی۔۔۔
رخسانہ نے دروازہ بند کیا۔۔۔
آحل نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔
اس کا دل جھوم رہا تھا آج وہ اس کے ساتھ پورا دن گزارنے والا تھا اسے جی بھر کے دیکھنے والا تھا۔۔۔ مگر اس حسن کی مورت کو وہ جتنا بھی دیکھ لیتا اس کا دل نہیں بھرنے والا تھا۔۔۔
کیسی ہو۔۔۔ اس نے گاڑی میں پھیلی خاموشی کو بھگایا
جی ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ اپنے اتھل پتھل ہوتے دل کو سنبھالنے ہوئے بولی
میرا حال نہیں پوچھو گی فیانسی۔۔۔ اس نے سن گلاسز اتار کر رکھے شاید وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہتا تھا
ذائشہ اس کی بات سن کر شرمندہ ہوئی۔۔۔ کیسے ہیں آپ۔۔ وہ آہستہ سا بولی
ہممم کچھ دیر پہلے ٹھیک نہیں تھا مگر اب ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ معنی خیز سا بولا
کمبخت خاموشی پھر سے گاڑی میں داخل ہوئی۔۔۔۔
ذائشہ نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا۔۔۔
ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے پر ٹکراتے ہوئے اس کے بالوں کو چھیڑنے لگی۔۔۔ ذائشہ نے سکون سے آنکھیں بند کیں اسے ہمشہ سے ہی ٹھنڈی ہوا کو آنکھیں بند کر کے محسوس کرنا اچھا لگتا تھا۔۔۔
آحِل نے اس پر اپنی نظروں کا حصار باندھا۔۔۔
تم واقعی اتنی خوبصورت ہو یا مجھے ہی لگتی ہو۔۔۔ آحِل نے سوال کیا
جی۔۔۔ ذائشہ آحل کے اس قسم کے سوال پر ہڑبڑائی
تم واقعی اتنی خوبصورت ہو یا مجھے ہی لگتی ہو۔۔۔ آحِل نے مسکراتے ہوئے بات کو دوہرایا
ذائشہ کے گال سرخ ہونے لگے اب وہ اس کے سوال کا کیا جواب دیتی۔۔۔
تم واقعی بہت خوبصورت ہو۔۔۔ وہ خمار بھری نظروں سے اسے دیکھ کر بولا
ذائشہ نے اس کی بات پر چہرہ جھکایا۔۔۔
آحل نے گاڑی روکی تو ذائشہ نے سر اٹھا کر دیکھا وہ مال کے باہر تھے۔۔۔
چلیں۔۔۔ ذائشہ آرام سے بیٹھی تھی تو آحِل بولا
جی۔۔۔ وہ کہتی ہوئی گاڑی سے باہر نکلی اور آحل بھی گاڑی کو لاک لگائے باہر آیا
وہ دونوں مال کے اندرونی حصے میں داخل ہوئے۔۔۔
ذائشہ تو اس جگہ کو دیکھتی ہی رہ گئی کبھی وہ ایسے مالز کو صرف باہر سے ہی دیکھا کرتی تھی مگر اس نے کبھی دل میں حسرت نہ رکھی تھی وہ اللہ کی رضا میں راضی تھی۔۔۔
آحِل اسے لیے بوتیک کے اندر داخل ہوا۔۔۔
ذائشہ کی نظروں کے سامنے برانڈڈ ڈریسز تھے اسے وہ بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔
کچھ دیر وہ دونوں ڈریسز دیکھتے رہے۔۔۔
کونسا ڈریس پسند آیا ہے۔۔۔ آحِل نے پوچھا
ذائشہ نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ سبھی بہت اچھے ہیں
اچھا۔۔۔ آحِل نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
پھر یہ بتاؤ کہ ان میں سے کونسا ڈریس نہیں پسند۔۔۔
ذائشہ نے اپنے سامنے ہینگ کیے ہوئے ڈریسز کی ایک لمبی قطار پر گہری نظر ڈالی۔۔۔
اس نے اتنے قیمتی اور خوبصورت ڈریس آج تک نہیں دیکھے تھے اب اس کے لیے ڈیسائیڈ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے کونسا والا ڈریس اچھا نہیں ہے۔۔۔
آحِل نے اس کی طرف دیکھا وہ جان چکا تھا اسے سبھی ڈریسز اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔
یہاں رکو میں آتا ہوں۔۔۔
ذائشہ نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
کاؤنٹر پر جا رہا ہوں۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا
ذائشہ نے اوکے کا اشارہ کیا
وہ کاؤنٹر پر گیا اور ذائشہ والی سائیڈ پہ لگے سبھی ڈریسز کو پیک کرنے کا کہا۔۔۔
ایک بار تو سب ورکرز اس کی طرف دیکھنے لگے
سر وہ پچیس ڈریسز ہیں بل بہت زیادہ ہو گا۔۔۔ ورکر بولا
آپ بل کی فکر مت کریں ابھی پے کروں گا بس ان ڈریسز کو پیک کر دیں۔۔۔
اوکے سر۔۔۔ اس نے جواب دیا
تین لاکھ بل بنا ہے۔۔۔ اس نے بل کاؤنٹ کر کے بتایا
آحِل نے اسے کریڈٹ کارڈ دیا اور پے کر کے ذائشہ کی طرف آیا۔۔۔
تمہیں یہ سبھی پسند ہیں نا۔۔۔ وہ بولا
ذائشہ ایک ڈریس کو ہاتھ میں پکڑے دیکھ رہی تھی آحِل کی بات سن کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
جی سبھی اتنے اچھے میں بتا نہیں سکتی کونسا لوں۔۔۔
تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں نے یہ سبھی خرید لیے ہیں۔۔۔
آحِل کے بولنے کی دیر تھی ذائشہ نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا یہ سبھی مگر کیوں میں کیا کروں گی اتنے کپڑوں کا۔۔۔ وہ حیران ہوئی
تم ایسے کرنا صبح ٹائم ایک ڈریس پہننا دوپہر ٹائم دوسرا ڈریس پہننا اور رات ٹائم۔۔۔ وہ رکا
ذائشہ اس کی بات حیرت اور توجہ سے سن رہی تھی۔۔۔
رات ٹائم تمہیں کچھ پہننے کی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ کہتا ہوا دوبارہ کاؤنٹر کی طرف چل پڑا
اس کی بات سن کر ذائشہ پہ شرم سے گھڑوں پانی پڑا اگر وہ مزید یہاں کھڑا رہتا تو شاید وہ یہاں سے بھاگ جاتی۔۔۔



آحِل نے ذائشہ کو ساری شاپنگ کروا دی تھی بارات اور ولیمے کے لیے لہنگے بھی خرید لیے تھے اور اس کی پسند کی اپنے لیے شیروانی بھی خرید لی تھی۔۔۔ اس بار بھی ذائشہ کو سبھی شیروانیاں پسند آئیں مگر آحِل نے بہت مشکل سے ایک ایک دکھا کر اس سے پوچھتا گیا اور جو آخر پہ رہ گئی تھی وہ خرید لی بلو کلر کی خوبصورت شیروانی جس پر وائٹ سٹونز کا کام کیا گیا تھا۔۔۔
لہنگے کی بار ذائشہ نے خود ہی بتا دیا کہ کونسا والا پسند ہے اس ڈر سے کے کہیں آحل لہنگوں کی پوری دکان ہی نہ خرید لے۔۔۔
وہ دونوں مکمل شاپنگ کر چکے تھے انہیں آئے چار گھنٹے ہونے والے تھے اب دونوں ہی تھکاوٹ سے بے حال تھے۔۔۔
آحِل اسے ڈنر کروانے کے لیے ریسٹورنٹ لے کر آیا شام کے سات بج چکے تھے۔۔۔
وہ دونوں ٹیبل پر آئے اور کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھے۔۔۔
آحِل نے کھانا آڈر کیا کچھ ہی دیر میں ویٹر آیا اور ٹیبل پر کھانا رکھا۔۔۔
ذائشہ کے سامنے دو تین قسم کے کھانے تھے جن میں سے وہ صرف بریانی کو ہی جانتی تھی۔۔۔
کیا کھاؤ گی۔۔۔ آحِل نے پوچھا
بریانی۔۔۔ ذائشہ معصومیت سے بولی
آحِل کا دل چاہا اس کے معصویت سے بھرے خوبصورت چہرے کو چھو لے مگر اسے چند دن اور صبر کرنا تھا۔۔۔
آحل نے بریانی کی پلیٹ اس کی طرف بڑھائی۔۔۔ ذائشہ آرام سے کھانے لگی
فاریہ نے ایک نئی دوست بنا لی تھی وہ اس کے ساتھ ریسٹورنٹ داخل ہوئی تو اس کی نظر آحِل اور ساتھ بیٹھی ذائشہ پر پڑی۔۔۔
ہیے آحل۔۔۔ فاریہ اپنی دوست کو لیے ان دونوں کے سر پر آن کھڑی ہوئی
آحِل نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
ہیے فاریہ کیسی ہو۔۔۔ وہ بولا
میں تمہارے سامنے ہوں۔۔۔ وہ اک ادا سے بولی
ذائشہ کو اسے دیکھ کر یاد آیا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو ہوسپٹل میں آحِل سے ملنے آئی تھی۔۔۔
اچھا تو یہ ہیں آحِل خانزادہ۔۔۔ فاریہ کی دوست نے کہا جو تنگ لباس پہنے اس کے سامنے کھڑی تھی
آحِل نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
ہائے میں ایمن ہوں۔۔۔ اس نے آحل کی طرف ہاتھ بڑھایا
ذائشہ کا چہرہ جھکا ہوا تھا اس نے نظریں اوپر اٹھا کر اس لڑکی کے ہاتھ کی طرف دیکھا جس میں اب آحِل کا ہاتھ تھا۔۔۔
میں فاریہ کی فرینڈ ہوں بہت باتیں کرتی ہے یہ آپ کی آحل ایسا ہے آحِل ویسا ہے۔۔۔ سچ کہوں تو جتنی فاریہ نے آپ کی تعریف کی ہے آپ اس سے کہیں زیادہ ہینڈسم ہو۔۔۔
تھینکس۔۔۔ آحِل صرف اتنا ہی بولا اور اس نے نوٹ کر لیا تھا کہ ذائشہ کو ان کا آنا پسند نہیں آیا
کیا بات ہے اکیلے اکیلے کھانا کھایا جا رہا ہے اور فرینڈ کھڑی ہے بیٹھنے کو نہیں کہا۔۔۔ فاریہ نے جان بوجھ کر کہا تا کہ آحِل اس کے ساتھ اکیلے میں وقت نہ گزار سکے۔۔۔
آحِل خاموش رہا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ذائشہ اور اس کے درمیان کوئی تیسرا ہو۔۔۔
فاریہ ڈھیٹ بنی خود ہی کرسی پر بیٹھ گئی اسے دیکھ کر ایمن نے بھی کرسی کھینچی۔۔۔
آہ بہت اچھی خوشبو آرہی ہے مجھے تو بھوک لگ گئی۔۔۔ وہ کھانے کی طرف دیکھتی بولی
آحِل نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور ذائشہ کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی
فاریہ پلیز برا مت منانا میں یہ وقت ذائشہ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔
اس کے کہنے کی دیر تھی فاریہ کے دل میں لاوا اٹھا۔۔۔
آحِل نے ذائشہ کے سامنے اسے بے عزت کر کے رکھ دیا تھا وہ ذائشہ کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
اوکے سوری تم دونوں کو ڈسٹرب کیا۔۔۔
وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی تو ساتھ ہی ایمن بھی اٹھ گئی۔۔۔
تو یہی تمہاری فرینڈشپ ہے اس کے ساتھ مجھے تو بڑی باتیں کرتی تھی۔۔۔ ایمن نے جلانے والے انداز میں کہا کیوں کہ اسے خود بھی وہاں سے اٹھتے ہوئے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا
فاریہ کچھ بولے بنا ریسٹورنٹ سے نکلی اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔
آحِل نے ذائشہ کا پریشان چہرہ دیکھا۔۔۔
تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ذائشہ آئندہ تم کبھی بھی مجھے کسی لڑکی کے ساتھ نہیں دیکھو گی۔۔۔
ذائشہ اس کی بات پر ہلکا سا مکسرائی
چلو اب کھانا کھاؤ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔۔۔ آحِل نے کہا
پھر وہ دونوں نے کھانا شروع کیا اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کرنے لگے۔۔۔



ہینڈز اپ۔۔۔ وہ لڑکا چلّایا
ماہاویرا اسے سکتے میں کھڑی دیکھ رہی تھی۔۔۔
آئی سے ہینڈز اپ۔۔۔
ماہاویرا نے ہاتھ اوپر کیے۔۔۔
گن پھینکو۔۔۔ وہ بولا
ماہاویرا نے گن اپنے پاؤں کے پاس پھینک دی۔۔۔
گن کو کک کرو اتنی دور کے تم اٹھا نہ سکو۔۔۔ وہ چلّایا
ماہاویرا نے گن کو کک کیا تو وہ دور جا کر گری۔۔۔
وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔۔۔
تمہارے ہاتھ میں جو رومال ہے پھینکو اسے۔۔۔
ماہاویرا نے رومال پھینکا۔۔۔
کون ہو تم کیا کر رہے ہو یہاں۔۔۔
ماہا کے چہرے پر ماسک تھا اور بوائز کٹنگ ہونے کی وجہ سے وہ ماہا کو لڑکا سمجھ رہا تھا۔۔۔
بولو کون ہو تم اور کیا کرنے آئے ہو یہاں۔۔ وہ پھر سے چلّایا
ماہاویرا خاموش رہی۔۔۔
لڑکے نے ہاتھ آگے بڑھایا اور ماہاویرا کا ماسک اتارا۔۔۔
وہ منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا جسے وہ لڑکا سمجھ رہا تھا وہ ایک لڑکی تھی۔۔۔
کرسی پر بیٹھو۔۔۔ وہ بولا
ماہاویرا کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
تم لڑکی کو اس لیے تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آرہا ہوں کوئی اور ہوتا تو بہت برا حال کرتا اس کا اب آسانی سے بتا دو تم کون ہو اور یہاں کیا کام ہے تمہارا۔۔۔
وہ اس کے سامنے کھڑا گن اس کے سر پر رکھے بول رہا تھا۔۔۔
ماہاویرا نے ڈری سہمی نیلی آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ خاموش رہی پریشانی کے مارے اس کے ذہن میں کوئی من گھڑت بات نہیں آرہی تھی۔۔۔
لڑکے نے کچھ اور بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اس کا فون رنگ ہوا۔۔۔
اس نے پینٹ کی پاکٹ سے موبائل نکال کر کان کو لگایا۔۔۔
نہیں سر یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہے ہمارے آفس میں ایک چور گھس آیا ہے جسے میں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے۔۔۔
اس نے ماہاویرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ماہاویرا نے دل میں سوچا اگر اس کی ٹیم یہاں پہنچ گئی تو اس کے لیے یہاں سے بچ نکلنا نا ممکن ہو جائے گا اور شہروز بھی اسے دیکھ لے گا اس نے ہمت پکڑی۔۔۔
ماہاویرا ہاتھ اوپر کیے بیٹھی تھی اس نے اپنا گھٹنہ لڑکے کی ٹانگون کے درمیان اتنی زور سے مارا کہ وہ درد سے چلا اٹھا۔۔۔
اس کا موبائل دور جا کر گرا اور چکنا چور ہو گیا۔۔۔
ماہاویرا نے اس کے پیٹ پر تین چار بار لات ماری۔۔۔
لڑکا خود کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگا اس سے پہلے ماہا نے اپنی جیکٹ سے خنجر نکال کر اس کے بازو میں گاڑ دیا۔۔۔
لڑکا درد سے چلایا اس نے دوسرے ہاتھ سے ماہاویرا کی گردن کو دبوچا وہ اپنی پوری قوت سے اس کا گلہ دبا رہا تھا۔۔۔
ماہاویرا کو اس نے زمین پر لٹایا وہ اس کی کردن اتنی زور سے دبا رہا تھا کہ ماہا کو اپنا بچنا ناممکن لگنے لگا۔۔۔
وہ اپنے ہاتھوں سے اس کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرتی رہی مگر اس میں ہمت نہ تھی۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے بلال کا چہرہ گردش کرنے لگا اس کی آنکھوں سے پانی نکل کر اس کی کن پٹیوں پر بہنے لگا۔۔۔
کوئی کھڑکی کے اندر داخل ہوا اور اس لڑکے کو پکڑ کر پیچھے کیا۔۔۔
وہ اسے بے رحموں کی طرح مارنے لگا۔۔۔
ماہاویرا بے جان سے لیٹی ہوئی تھی وہ اٹھنے کی ہمت کرنا چاہ رہی تھی مگر اس سے اٹھا نہ گیا اس کا کھانسی سے برا حال ہو رہا تھا۔۔۔
اس نے گردن کو ہلکا سا موڑ کر دیکھا تو بلال اس لڑکے کی ہڈی پسلی ایک کرچکا تھا وہ لڑکا خون سے لت پت ہو چکا تھا۔۔۔
ماہاویرا میری جان۔۔۔ بلال اس کے پاس آیا اور اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔۔
ماہاویرا اسے دیکھ کر رونے لگی۔۔۔
مجھے معاف کر دو ماہا مجھے ہرگز تمہیں یہاں نہیں بھیجنا چاہیے تھا بلال نے اسے خود سے لگایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اسے شدید پچھتاوا ہو رہا تھا وہ اپنی بیوی کی زندگی کیسے خطرے میں ڈال سکتا تھا۔۔۔
ماہا ہمت کرو ہمیں ابھی یہاں سے نکلنا ہے باہر ان لوگوں کی ٹیم پہنچنے والی ہے۔۔۔
اس نے ماہاویرا کو کھڑا کیا اور کھڑکی کے پاس لے کر آیا پھر وہ دونوں کھڑکی سے کود گیے۔۔۔
جاری ہے
