Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 15)

Madhoshi by Mirha Kanwal

آج تین دن ہو چکے تھے نہ تو ذائشہ آحل کی کسی کال یا میسیج کا جواب دے رہی تھی اور نہ ہی وہ کالج جا رہی تھی۔۔۔

وہ روز اس کے راستے میں کھڑا ہوتا کہ وہ کالج کے لیے آئے گی اور وہ اس سے اس بے رخی کی وجہ پوچھ سکے گا۔۔۔

آحل کا پل پل کانٹوں پہ گزر رہا تھا صرف وہ ہی جانتا تھا اپنے دل کی تکلیف کو۔۔۔

آج آحِل کو چوتھا دن تھا وہ آج بھی اس کے راستے میں گاڑی لیے کھڑا تھا۔۔۔

وہ دشمنِ دل کالج کے یونیفارم میں سر پر دوپٹہ اور کندھے پر بیگ لٹکائے نظریں جھکائے آرہی تھی۔۔۔

آحِل کو اسے دیکھ کر اپنے اندر تک سکون کی لہریں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔

آج اسے وہ پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ یا شاید یہ اتنے روز بعد دیدار کا اثر تھا

وہ گاڑی کے پاس سے گزرنے لگی تو آحِل گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔ اچانک سامنے آنے پر وہ گبھرا گئی

ذائشہ کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ اس طرح کیا قصور ہے میرا۔۔۔ وہ پریشان سا بولا

کچھ نہیں کر رہی میں آپ کے ساتھ راستہ دیں میں نے کالج جانا ہے۔۔۔ وہ سرد لہجے میں بولی

نہیں جانے دوں گا تمہیں کہیں بھی۔۔۔ ترس گیا ہوں تمہیں جی بھر کے دیکھنے کے لیے تم سے بات کرنے کے لیے اب اتنی آسانی سے کیسے جانے دوں۔۔۔

آحِل کے لہجے سے دکھ عیاں ہونے لگا

لیکن میرے پاس آپ کے ساتھ گزارنے کے لیے فضول وقت نہیں ہے۔۔۔ اس بار ذائشہ کے لہجے میں غصہ تھا

آحِل نے اس کی ایک نہ سنتے ہوئے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔۔

یہ کیا کر رہے ہو گھٹیا انسان اتارو مجھے نیچے۔۔۔ وہ چینخ کر بولی مگر آحِل پر کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔۔

اس نے ذائشہ کو گاڑی میں بیٹھا کر لاک کیا اور خود ڈرائیور سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔

کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے کہیں نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔۔وہ پھر سے چلاّئی

آحِل نے گاڑی سٹارٹ کی اور بغیر کچھ بولے ڈرائیو کرنے لگا۔۔۔

تم سن رہے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا گاڑی روکو اور مجھے جانے دو۔۔۔

آحِل کی طرف سے مکمل خاموشی تھی مگر اس کے دل میں اک طوفان برپا تھا کتنا تکلیف دہ تھا اس کے لیے ذائشہ کا یہ رویہ مگر وہ اس سے بے خبر تھی۔۔۔

روکو گاڑی گھٹیا انسان۔۔۔ذائشہ نے اس کے کندھے پر مکے برسانے شروع کر دیے

آحِل نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔۔۔ اب ذائشہ کو ڈر لگنے لگا تھا وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے چینخنے لگی۔۔۔

مگر آحِل کی طرف سے کوئی ردِعمل نہیں ہوا

کچھ ہی پل میں گاڑی اس کے پرسنل ہاؤس کے باہر تھی۔۔۔

وہ نکلا اور گیٹ کا لاک کھول کر گیٹ کھولا

دوبارہ سے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اندر پارک کی۔۔۔ اس نے ذائشہ کی طرف درد بھری نظروں سے دیکھا مگر وہ ابھی تک چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونے میں مصروف تھی۔۔۔

آحل نے باہر نکل کر گیٹ بند کیا اور ذائشہ کی طرف سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔

وہ بنا کچھ کہے اس کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا ایک منٹ تک جب وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی تو آحِل نے اس کو بازو سے پکڑ کر باہر نکالا اور کمرے کی طرف لے جانے لگا۔۔۔

ذائشہ کے رونے کی دھیمی دھیمی سسکیاں اس کے کانوں کو چیر رہی تھیں۔۔۔

وہ کمرے میں آیا اور اسے بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے مقابل بیٹھا۔۔۔

🔥
🔥
🔥

ماہاویرا آج پھر گھر یونی کا کہہ کر بلال کے پاس آئی تھی۔۔۔

اب اس کے لیے بلال کے بغیر رہنا دن بہ دن نا ممکن سا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔

وہ کمرے میں داخل ہو کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔

واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔۔۔ماہا بیٹھی بلال کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی

بلال باہر آیا تو وہ شرٹ لیس تھا اس کے ماتھے پر گرتے سیاہ لمبے بال اس کی آنکھوں کو چھو رہے تھے، سفید نکھرا ہوا چہرہ، بھیگے سرخ ہونٹ۔۔۔

ماہاویرا نے اس کی طرف دیکھا تو نظر ہٹانا بھول گئی۔۔۔ وہ اسے پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔

گڈ مارننگ مائے وائف آج تو صبح صبح ہی دیدار کروا دیا۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا بولا

ماہاویرا بھی جواب میں ایک طرف مسکرائی اور اس کی طرف قدم بڑھاتی اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔

بلال نے بھی اس کے گرد بازؤوں سے باڑ کی۔۔۔

ماہاویرا بلال کے جسم سے آتی تازہ خوشبو اپنی سانسوں میں اتار رہی تھی۔۔۔

خیر تو ہے وائف۔۔۔ بڑا پیار دکھایا جا رہا ہے

اس کی بات پہ ماہاویرا نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ بلال کو وہ بہت کیوٹ لگی اس نے ماہا کے رخسار پہ بوسہ دیا

آج میں اپنے ہبی کو خود ناشتہ بنا کر کھلاؤں گی۔۔۔ ماہا بلش کرتے ہوئے بولی

اس کے بولنے کی دیر تھی کہ بلال نے آنکھیں بڑی کرتے ہویے اس کی طرف دیکھا

واہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے رکو میں کھڑکی سے دیکھتا ہوں۔۔۔

اس نے ماہا کو چھیڑا تو ماہا نے اس کے سینے پر پنچ مارا۔۔۔ وہ دونوں مسکرانے لگے

جلدی سے ریڈی ہو کر کچن میں آؤ۔۔۔ وہ اسے کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

بلال نے بلیک شرٹ پہنی اور بالوں کو سیٹ کر کے خود پر پرفیوم چھڑک کر کچن کی طرف بڑھا۔۔۔

ماہا انڈہ فرائی کر رہی تھی۔۔

بلال نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا اور اس کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھی۔۔۔

ماہاویرا مسکرائی۔۔۔

ابھی پیچھے ہٹو بلال میں کام کر رہی ہوں

نہ ہٹوں تو۔۔۔ وہ شرارت سے بولا

ماہا اس کے پیٹ میں کہنی ماری

آہ۔۔۔ وہ اپنا پیٹ پکڑتا ہوا اس سے دور ہوا

اب تو ہٹ گئے نا۔۔۔ وہ بلال کو آنکھ مار کر بولی تو وہ ماہا کی اس ادا پر فدا ہو گیا

کمال ہے دوسروں کی بیویاں شرما کر کہتی ہوں ارے ہٹیے نا اور ایک میری بیوی ہے جسے مار پیٹ کے سوا کچھ آتا ہی نہیں ۔۔۔ وہ منہ پھلاتا ہوا بولا

ماہاویرا کا قہقہ کچن میں گونجا

اسے ہنستا دیکھ کر بلال بھی ہنسنے لگا

چلیں اب اچھے بچوں کی طرح باہر بیٹھیں میں آرہی ہوں ناشتہ لے کر۔۔۔ وہ ٹوز پلیٹ میں رکھتی ہوئی بولی

بلال چپ کر کے باہر آیا اور ٹیبل سے کرسی پیچھے کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔

جب ماہا ناشتہ لے کر آئی تو وہ ٹیبل پر اپنی انگلیوں سے میوزک بجا رہا تھا۔۔۔

ماہاویرا ناشتہ ٹیبل پر رکھا اور خود بھی بلال کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔

چلو اب کھاؤ اور بتاؤ کیسا بنا ہے۔۔۔ وہ اسے کھانے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولی

یا اللہ بریانی والا حساب نہ ہو۔۔۔ اس نے شرارت سے بول کر پلیٹ اپنی طرف کھسکائی

ماہاویرا نے بلال کی بات پر اسے گھوری سے نوازہ تو بلال نے ہونٹ دانتوں تلے لیا۔۔۔

ناشتے میں فرائی انڈے چائے اور ٹوز تھے۔۔۔ بلال نے سب سے پہلے چائے چیک کرنے کے لیے کپ ہونٹوں سے لگایا

اب ماہاویرا اسے دیکھتے ہوئے اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔

کیا یار وائف تمہیں تو کچھ بھی ڈھنگ سے بنانا نہیں آتا۔۔۔ اس نے کپ ٹیبل پر رکھ کے منہ بسورا

ماہاویرا پریشان ہوئی۔۔۔ وہ نظریں جھکا گئی

بلال نے کن اکھیوں سے ماہا کی طرف دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی اسے لگا وہ ابھی رو دے گی۔۔۔

بلال پریشان ہوا اسے کیا معلوم تھا وہ اتنی سے بات دل پہ لے لے گی وہ تو اسے چھیڑنے کے لیے ایسا کہا تھا ورنہ چائے اسے بہت مزے کی لگی تھی۔۔۔

کیا ہوا میری جان میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔ اس نے ماہا کی کرسی کھینچ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا

ماہاویرا اب صحیح میں رونے لگی تھی۔۔۔

ماہا آئم سوری میری جان مجھے کیا پتہ تھا تم ہرٹ ہو جاؤ گی۔۔۔ وہ اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر بولا

اور کیا نہ ہوں ہرٹ پہلی بار کسی کے لیے ناشتہ بنایا ہے وہ بھی اپنے شوہر کے لیے اور آگے سے ایسے کہہ رہے آپ۔۔۔ اس نے اپنی شرٹ کے بازو سے آنسو صاف کیے

اس کی بات سن کر بلال کو اس پہ پیار آنے لگا اس نے ماہا کو اٹھایا اور اپنی گود میں بٹھایا۔۔۔

🔥
🔥
🔥

وہ ابھی بھی کچھ نہیں بولا تھا مگر اس کی آنکھیں سب کچھ کہہ رہی تھیں جو اس کے دل میں تھا مگر وہ دشمنِ دل اس کی آنکھوں میں دیکھتی تو ہی سمجھتی۔۔۔

وہ اپنے دونوں ہاتھ بیڈ پر رکھے رو رہی تھی۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ایک ایک کر کے بیڈ کی چادر بھیگو رہا تھا۔۔۔

آحِل نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی آنکھ سے نکلنے والا ایک موتی چن لیا۔۔۔

ذائشہ نے اس کا ہاتھ جھٹکا تو وہ موتی آحِل کی انگلی سے پھسل کر نیچے گرا۔۔۔

ذائشہ۔۔۔

مت لو اپنی گندی زبان سے میرا نام۔۔۔ اتنا کہتے ہوئے وہ پھر سے رونے لگی

آحل کا دل تڑپ اٹھا احتجاج کرنے لگا کیوں اتنا ظلم کرنے پر تلی ہوئی ہے وہ دشمنِ دل

کیا قصور ہے میرا۔۔۔ وہ اتنا ہی بولا

قصور ابھی بھی صرف قصور کی بات کر رہے ہو تم۔۔۔؟؟

تم مجرم ہو میرے تم قاتل ہو میرے دل کے میری خوشیوں کے۔۔۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ بولی

آحِل ٹھٹھک کر رہ گیا کہ ایسا کیا ہو گیا کہ وہ اس پر اتنا بڑا الزام لگا رہی ہے۔۔۔

کیا کیا ہے میں نے ذائشہ کیوں اتنی تکلیف دینے پر تلی ہو مجھے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ اس کی آواز سے دکھ جھلک رہا تھا۔۔۔

اور میری جان تم لے چکے ہو آحل تم دھوکے باز ہو تم نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔ وہ چلاّئی

کونسا دھوکہ دیا ہے میں نے سچا پیار کیا ہے تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔

سچا پیار۔۔۔ کیا تم جیسا نفس پرست انسان بھی سچا پیار کر سکتا ہے۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی

آحِل پریشان ہوا کہ ذائشہ کو کہیں اس کا ماضی تو معلوم نہیں ہو گیا۔۔۔

کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔ وہ بمشکل بول پایا

مطلب پوچھ رہے ہو تم بہت اچھے سے سمجھاتی ہوں۔۔۔

یہی وہ گھر ہے نا جہاں تم لڑکیوں کو اپنی حوس پوری کرنے کے لیے لاتے ہو۔۔۔

ذائشہ کے منہ سے الفاظ نکلے یا پگھلا ہوا سیسہ جو آحل کے دل میں اتر کر اسے چیر رہا تھا

اسے محسوس ہوا جیسے آسمان اس کے سر پر گر پڑا ہو۔۔۔

بولو یہی وہ گھر ہے نا۔۔۔ وہ پھر سے بولی

آحِل سر جھکا گیا۔۔۔ آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے ماضی میں کتنی غلطیاں یا کتنے گناہ کر چکا تھا۔۔۔

اس کے سر جھکانے پر ذائشہ پھر سے ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی شاید وہ آحِل سے یہ سننا چاہ رہی تھی کہ نہیں یہ جھوٹ ہے غلط ہے میں ایسا نہیں ہوں۔۔۔ مگر جو حقیقت ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا

آحِل نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔۔۔ مگر اس کا دل تکلیف سے پھٹ رہا تھا۔۔۔

کیوں آحِل کیوں آپ نے مجھے محبت کرنے کی اتنی بڑی سزا دی۔۔۔ میں اس کی حق دار تو نہ تھی

کتنا مان تھا مجھے اپنی محبت پر کتنا فخر تھا اس بات پر کہ آپ جیسا انسان میری ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا گیا ہے۔۔۔ مگر آپ نے میرے سب مان سب خواب توڑ دیے بہت تکلیف دی آپ نے مجھے۔۔۔ وہ دھیمے لیجے میں اپنی سسکیوں کے ساتھ اس سے شکوہ کر رہی تھی۔۔۔

آپ ناپاک ہیں میں آپ کے ساتھ کبھی اپنی زندگی گزارنے کا نہیں سوچ سکتی۔۔۔

نفرت ہے مجھے آپ سے۔۔۔ نہیں کرتی محبت جو تھی مر گئی آپ نے مار دیا اسے۔۔۔ وہ مسلسل بولتی جا رہی تھی

آحِل دل کی تکلیف کو برداشت نہ کر پایا اور اس کی آنکھوں کی باڑ توڑ کر آنسو رخساروں پر پھسلنے لگے مگر وہ ابھی بھی خاموش تھا۔۔۔ کیوں کہ وہ گناہگار تھا مجرم تھا

ذائشہ کو اس کے ماضی کی تکلیف الگ تھی اور اس وقت آحِل کا خاموش رہنا اس کی تکلیف کو مزید بڑھا رہا تھا۔۔۔

بولو کچھ بولتے کیوں نہیں۔۔۔ وہ چلائی

میں بس اتنا کہوں گا۔۔۔ میں نے ماضی میں جو بھی کیا میں مانتا ہوں میں گناہگار ہوں لیکن میرا خدا گواہ ہے جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو میں نے کسی لڑکی کو چھوا تک نہیں۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے تم سے عشق ہے ذائشہ تمہارے علاوہ کسی اور کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔

وہ نظریں جھکائے اتنا بول کر خاموش ہو گیا

لیکن میں تم جیسے ناپاک انسان کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔

وہ اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی

آحِل کی نظریں اسے تب تک تکتی رہیں جب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔۔۔

وہ بیڈ سے اٹھا اور زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا دل کی تکلیف کو۔۔۔

اسے محسوس ہو رہا تھا اس کا دل پھٹ جائے گا اور اسی وقت اس کی روح اس کے جسم سے جدا ہو جائے گی۔۔۔

اس نے اپنے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑا اور پاگلوں کی طرح چینخنے لگا۔۔۔

پورا گھر اس کی چینخوں سے گونج رہا تھا مگر وہ بے سکون تھا اسے اب سکون مل پانا نا ممکن تھا۔۔۔۔

🔥
🔥
🔥

ارے یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔ وہ بوکھلائی

ششش۔۔۔ ابھی خاموش رہو میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کھلاؤں گا

اس کی بات سن کر ماہاویرا مسکرائی۔۔۔ بلال نے اس کی چھوٹی سے ناک کے ساتھ اپنی ناک رگڑی۔۔

اب وہ اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کروانے میں مصروف تھا۔۔۔ ماہا بھی بچوں کی طرح نہایت آرام سے اس کے ہاتھ سے ایک ایک نوالا کھا رہی تھی۔۔۔

اب بلال نے اس کے ہونٹوں سے چائے کا کپ لگایا۔۔۔

ہائی۔۔۔ گرم ہے

ماہاویرا کے بولنے پر بلال مسکرایا

تمہیں نہیں لگ رہا تم آج پانچ سال کی بچی بن رہی ہو۔۔۔ بلال نے کہا تو ماہا نے اسے گھوری سے نوازا

تو کیا میں نے کہا تھا مجھے اپنی گود میں بٹھا کر ناشتہ کروائیں۔۔۔ اس نے منہ بسورا

بلال نے مسکراتے کوئے اس کے رخسار کھینچے۔۔۔

بس اب میرا پیٹ بھر گیا۔۔۔ چائے کا کپ آدھا ہونے پر وہ بولی

بلال نے اسے واپس اس کی جگہ پر بٹھایا۔۔۔

چلو اب مجھے ناشتہ کرنے دو

اب بلال ناشتہ کر رہا تھا اور وہ اسے دیکھ رہی تھی۔۔

کبھی وہ اس کے بالوں کو چھوتی کبھی اس کے کان کو اور کبھی اس کے رخساروں کو کھینچتی۔۔۔

وہ آرام سے ناشتہ کرنے میں مصروف رہا۔۔۔

آج لانگ ڈرائیو پر چلیں۔۔۔ ماہاویرا پیار سے بولی

بلال اب ناشتے سے فارغ ہو کر ٹشو سے ہاتھ صاف کر رہا تھا۔۔۔

کیا تمہیں لانگ ڈرائیو پسند ہے۔۔ بلال کا سوال تھا

ہاں بہت پسند ہے جب سے ڈرائیونگ سیکھی ہے تب سے ہی کرتی ہوں اور۔۔۔ وہ رکی

ہممم اور۔۔۔ وہ اپنا چہرہ اس کے مقابل کرتا ہوا بولا

اور تم بھی تو میری زندگی میں لانگ ڈرائیو کی وجہ سے ہی آئے ہو۔۔۔ اس کی آنکھوں سے ڈھیروں پیار جھلک رہا تھا جو بلال بخوبی نوٹ کر رہا تھا

اچھا جی تو میری وائف اس دن لانگ ڈرائیو کرتے ہوئے یہاں پہنچی تھی۔۔۔ اس نے ماہاویرا کا ہاتھ پکڑا

ہاں صحیح کہا۔۔۔ وہ مسکرائی

اسے دیکھ کر بلال بھی مسکرانے لگا

اب چلیں۔۔۔ ماہاویرا بولی

مگر ابھی سے۔۔۔ ابھی تو صرف دس بج رہے ہیں۔۔۔ بلال نے ماہاویرا کے ہاتھ میں پہنی جینٹس واچ سے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

ابھی جائیں گے دو تین گھنٹے ساتھ گزاریں گے تب تک میرا گھر جانے کا وقت ہو جائے گا۔۔۔ اس نے بلال کی گردن پے آتے لمبے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا

بلال نے اس کی ایک رخسار پر ہاتھ رکھ کر دوسری رخسار پر ہونٹ رکھے۔۔۔ چلو اٹھو پھر

ماہاویرا بہت خوش ہوئی کیوں کہ ان کے نکاح کو ایک مہینہ ہو چکا تھا اور وہ آج پہلی بار بلال کے ساتھ باہر جا رہی تھی۔۔۔

وہ دونوں وائٹ ہاؤس سے نکلے اور گیلری سے گزرتے ہوئے گیٹ پر پہنچے۔۔۔

گیٹ پر وہی لڑکا بیٹھا تھا جس کا ماہاویرا نے دانت توڑا تھا۔۔۔ اس نے دل ہی دل میں ماہاویرا کو برا بھلا کہا اور گیٹ کھولا

بلال اور ماہاویرا کی گاڑی پل ہی میں غائب ہو گئی۔۔۔

🔥
🔥
🔥
🔥

شہروز کی حالت اب بہتر ہو چکی تھی وہ لان میں چہل قدمی کر رہا تھا۔۔۔

ماہاویرا کوئی تو تعلق ہے تمہارا بلال خان کے ساتھ۔۔۔ اس نے سوچتا ہوئے خود کلامی کی

اس کو یاد آیا جب گاڑی میں ماہاویرا نے بلال کی تصویر دیکھ کر اس سے بلال کے بارے میں پوچھا تھا۔۔۔

پھر اس کے سیریئل کلر کا جاننے کے بعد وہ کیسے حواس باختہ ہوئی تھی۔۔۔

پھر ہوسپٹل میں اس نے شہروز سے پوچھا کہ کس طرح دکھتا تھا وہ آدمی جس نے اس پر حملہ کیاِ۔۔۔

وہ ماہاویرا کی ایک ایک حرکت نوٹ کر چکا تھا مگر اسے کچھ نہیں کہا

اب وہ ماہاویرا کے زریعے بلال جیسے سیریئل کلر کا قصہ ختم کرنے کا سوچ رہا تھا۔۔۔

وہ سوچوں میں گم تھا جب اس کا فون رنگ ہوا۔۔۔

اس نے ہوش کی دنیا میں واپس قدم رکھا اور پینٹ کی پاکٹ سے موبائل نکالا۔۔۔

سکرین پر سلطان صاحب کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔ شہروز نے کال ریسیو کر کے سلام کیا

کیسی طبیعت ہے اب شہروز بیٹا۔۔۔ سلطان صاحب سلام کا جواب دے کر بولے

جی انکل اب تو کافی بہتر ہو چکا ہوں۔۔۔

شکر ہے اللہ کا اللہ تمہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔۔۔

انکل میرا تو کام ہی ایسا ہے ایسے چھوٹے موٹے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں۔۔۔

اچھا بیٹا پھر پتہ چلا وہ کون شخص تھا۔۔۔ سلطان صاحب کو دلچسپی ہوئی

آج کل تو میں جہانگیر دادا جو پاکستان سے اب لنڈن شفٹ ہو چکا ہے اس کا کیس سالوّ کر رہا ہوں اور ساتھ ہی اس کے خاص آدمی بلال خان کا بھی۔۔۔ اب یا تو وہ آدمی جہانگیر دادا کا بھیجا ہوا تھا یا بلال خان کا یا پھر۔۔۔

سلطان صاحب دلچسپی سے سن رہے تھے جب شہروز رکا۔۔۔ یا پھر کون۔۔۔ سلطان صاحب کو تجسس ہوا

یا پھر بلال خان خود۔۔۔ شہروز کہتے ہوئے تنزیہ مسکرایا

اسے اس رات سے ہی شک تھا کہ وہ بلال خان ہے اسی لیے وہ اس کا نقاب اتارنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

پھر ہوسپٹل سے گھر آتے ہی اس نے بلال کی تصویر نکال کر دیکھی تھی “وہی کالی آنکھیں” جن سے شہروز کو کنفرم ہوا کہ وہ بلال خان ہی تھا۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *