Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 17)

Madhoshi by Mirha Kanwal

ریحان ہوا کے گھوڑے پہ سوار آحِل کے پرسنل ہاؤس میں پہنچا تھا۔۔۔

اس نے گیٹ کے چھوٹے دروازے کو دھکیلا تو اسے کھلا پایا۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہوا۔۔۔

آحِل۔۔۔آحل کہاں ہو تم۔۔۔ وہ اسے آوازیں لگاتا دو تین کمرے دیکھ چکا تھا سب کمروں کو لاک لگا ہوا تھا۔۔۔

وہ دوسری منزل پر پہنچا تو سامنے والے کمرے کا دروازہ کھلا پایا۔۔۔

ریحان کی نظر جب آحل پر پڑی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے آحل بے ہوش پڑا کسی مردے کہ مانند دکھ رہا تھا۔۔۔

آحِل۔۔۔ وہ چلاّنے کے انداز میں بھاگتا کوا اس پاس آیا۔۔۔

آحِل اٹھو آحِل۔۔۔ وہ اس کے چہرے کو تھپتھپاتا اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

آحِل۔۔۔ ریحان حواس باختہ اسے پکار رہا تھا ایک بار تو اس کا دماغ کام کرنا بند ہو گیا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔

ریحان نے آحل کو بازؤوں میں اٹھایا اور اپنی گاڑی کی طرف بھاگا۔۔۔

پریشانی میں اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔۔۔

آخر وہ کیوں نہ روتا آحِل اس کے بچپن کا دوست تھا۔۔۔

🔥
🔥
🔥

سلطان صاحب اور ماہاویرا ہسپتال میں بھاگتے ہوئے ریحان کے بتائے ہوئے کمرہ نمبر کے پاس پہنچے۔۔۔

ریحان کہاں ہے میرا آحِل کیا ہوا ہے اسے۔۔۔ سلطان صاحب کا پریشانی سے سر چکرا رہا تھا

ریحان بھائی کیا ہوا ہے آحل بھائی کو پلیز بتائیں۔۔۔ ماہاویرا بھی شدید پریشانی میں بولی

ماہا آحِل مجھے بے ہوش ملا ہے اس کی حالت بہت نازک ہے۔۔۔ ریحان ماہاویرا اور سلطان صاحب دونوں کی طرف دیکھ کر بولا

ل۔۔۔لیکن کیسے بھائی تو بہت خوش تھے ان دنوں تو اچانک کیسے ہو گیا یہ سب۔۔۔ وہ رونے لگی تھی

آحِل کے کمرے سے ڈاکٹر باہر نکلا تو وہ تینوں اس کی طرف لپکے۔۔۔

ڈاکٹر بتائیں میرا بیٹا کیسا ہے وہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ سلطان صاحب ہیجانی کیفیت میں تھے۔۔۔

دیکھیے آپ لوگوں کو حوصلہ رکھنا ہو گا دراصل پیشینٹ کو کوئی صدمہ لگا ہے جسے وہ برداشت نہیں کر سکے وہ مسلسل چوبیس گھنٹوں سے بے ہوش ہیں اگر اگلے چوبیس گھنٹوں میں انہیں ہوش نہ آیا تو ہو سکتا ہے پیشینٹ کومہ میں چلیں جائیں۔۔۔

ڈاکٹر کے بولنے کی دیر تھی کہ ریحان ماہاویرا اور سلطان صاحب کے سر پر آسمان گرا۔۔۔

سلطان صاحب کا سر چکرایا وہ گرنے لگے جب ریحان نے انہیں سہارا دیا۔۔۔

ماہاویرا کرسی پر بیٹھ کر منہ پہ ہاتھ رکھے رونے لگی۔۔۔

یہ کیا ہو گیا ڈیڈ بھائی کو۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولی

میرا بچہ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے اللہ مجھے اس عمر میں اپنی اولاد کا غم نہ دینا۔۔۔ سلطان صاحب بےآواز رو رہے تھے

انکل سب ٹھیک ہو جائے گا آپ پلیز ہمت مت ہاریں۔۔۔ ریحان اس وقت خود بہت پریشان تھا مگر اس کا مظبوط ہونا ضروری تھا کیوں کہ اسے سلطان صاحب اور ماہاویرا کو حوصلہ دینا تھا۔۔۔

انکل آحِل ایک ہی طریقے سے کومہ میں جانے سے بچ سکتا ہے۔۔۔ ریحان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

کیا طریقہ۔۔۔ سلطان صاحب اور ماہاویرا دونوں نے ہی کہا

انکل آپ کو یاد ہو گا ذائشہ نام کی لڑکی کا آحِل نے آپ سے بات کی تھی۔۔۔

ہاں مجھے یاد ہے آحِل اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔ سلطان صاحب آنکھیں صاف کرتے بولے اور ماہاویرا کو بھی یاد آگیا آحل نے اس لڑکی کی تصویر اسے دکھائی تھی۔۔۔

اس نے آحِل سے ریلیشن ختم کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آحِل اس حالت کو پہنچا ہے اگر وہ آحِل سے ملنے آئے تو مجھے پورا یقین ہے آحِل ہوش میں آجائے گا کیوں کہ وہ اسی کا انتظار کر رہا ہے۔۔۔

کیا۔۔۔ اس لڑکی کی وجہ سے میرا بیٹا موت کے منہ میں پہنچ گیا۔۔۔ کیا اس کو اپنے باپ کو بہن کا خیال نہیں آیا کیا وہ اس کے لیے ہم سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔۔۔ سلطان صاحب کے ساتھ ماہاویرا کو بھی صدمہ لگا

انکل دیکھیے یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے فلحال سب سے ضروری کام آحل کو چوبیس گھنٹوں سے پہلے ہوش میں لانا ہے۔۔۔ وہ ان کے پاس بیٹھ کر ان کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا

سلطان صاحب نے اپنی آنکھیں صاف کیں اور ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

🔥
🔥
🔥

فاریہ آحل کے لاپتہ ہونے کا سن کر پریشان تھی۔۔۔ اس نے بھی کئی بار آحل کے نمبر پر ٹرائی کیا مگر کوئی جواب موصول نہ ہوا۔۔۔

اسے یہ تو اندازہ ہو چکا تھا کہ ضرور ذائشہ نے آحل سے بریک اپ کر لیا ہے۔۔۔ اب وہ سوچ رہی تھی کہ اسی وجہ سے آحل کہیں چلا گیا ہے اور نمبر بھی بند کر لیا ہے۔۔۔

وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی اور اپنے بالوں سےکلپ اتارا۔۔۔۔

کندھوں تک آتے سٹریٹ بال سلم چہرہ لمبی آنکھیں تیکھی ناک باریک ہونٹ۔۔۔ وہ خود پر غور کرتی ہوئی مسکرائی

مجھے معلوم ہے آحل کچھ دن تک تم اس لڑکی کو بھول جاؤ گے پھر بس میں اور تم ہوں گے۔۔۔

میں تمہاری ہوں آحِل اور تم صرف میرے۔۔۔ اس نے لپ سٹک اٹھا کر اپنے ہونٹوں کو سجایا

🔥
🔥
🔥

بلال اور ماہاویرا آج باہر لنچ کرنے آئے تھے ماہاویرا آئے روز یونی سے چھٹی کرتی اور بلال کے پاس آجاتی اس نے دوبارہ بلال کو نہیں کہا کہ سلطان صاحب کو سب بتا دینا چاہیے کیوں کہ شہروز بلال کو جانتا تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا سامنا کبھی بلال سے ہو اور اس کی حقیقت اس کے ڈیڈ کے سامنے کھلے۔۔۔

اس نے کل کی کل پر چھوڑی اور آج کو بلال کے ساتھ انجوائے کرنے لگی۔۔۔

ریسٹورنٹ تو بہت اچھا ہے۔۔۔ ماہاویرا کرسی پر بیٹھتی ہوئے بلال سے بولی۔۔۔

بلال نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔

اپنا ہاتھ دو۔۔۔ وہ ماہاویرا سے مخاطب ہوا

لیکن کیوں۔۔۔ ماہا نے پوچھا

دو تو صحیح۔۔۔ اس نے کہا تو ماہاویرا نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ بلال کے ہاتھ میں دیا

بلال نے اپنی جیکٹ کی پاکٹ سے ایک ڈبیہ نکالی۔۔۔ اسے کھولا تو ایک خوبصورت ڈائمنڈ کی رنگ نکال کر ماہاویرا کی سفید انگلی میں ڈالی۔۔۔

واؤ اٹس سو بیوٹیفل۔۔۔ ماہاویرا بے ساختہ بولی

آئے لوّ یو مائے وائف اس نے ماہاویرا کے ہاتھ پر کس کیا۔۔۔

ماہا بلش کرنے لگی۔۔ اس نے بلال کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا اور خوشی سے دیکھنے لگی۔۔۔

یہ پہلا تحفہ تھا جو بلال نے اسے دیا تھا۔۔۔

ریسٹورنٹ کے باہر گاڑی میں بیٹھے شہروز نے یہ منظر دیکھا۔۔۔ وہ وہاں سے گزر رہا تھا جب اس کی نظر ماہاویرا اور اس کے ساتھ بلال خان پر پڑی۔۔۔

وہ شوکڈ ہوا بلال کو یوں ماہاویرا کو پرپوز کرتا دیکھ کر۔۔۔

وہ ماہاویرا کو چاہنے لگا تھا اس نے تو ابھی تک ماہاویرا کو بتایا بھی نہیں تھا مگر وہ یہاں کسی اور کے ساتھ پیار کے بندھن میں بندھ چکی تھی۔۔۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور اپنے راستے چل دیا

🔥
🔥
🔥

سلطان صاحب آفس میں فائلز پہ سر جھکائے ہوئے مصروف سے بیٹھے تھے جب ان کا فون رنگ ہوا۔۔۔

انہوں نے کال ریسیو کر کے موبائل کان کو لگایا۔۔۔

ہیلو۔۔۔

ہیلو مسٹر سلطان میں اسلام آباد یونیورسٹی کی پرنسپل بات کر رہی ہوں۔۔۔

جی کہیے۔۔۔ سطان صاحب نے اس کے فون کرنے کی وجہ پوچھی

ایکچوایلی بات یہ ہے کہ آپ کی بیٹی ماہاویرا ایک مہینے میں پندرہ چھٹیاں کر چکی ہے ہم نے کئی بار اسے وارن بھی کیا مگر اس نے ہماری بات کو شاید ترجیح نہیں دی۔۔۔

اگر اب اس نے ایک بھی لیو کی تو ہم اس کا نام خارج کر دیں گے پھر آپ کو اس کا ری ایڈمیشن کروانا پڑے گا۔۔۔

وہ بول رہی تھی اور سلطان صاحب حیرت زدہ اس کی باتیں سن رہے تھے کہ بھلا ایسے کیسے ہو سکتا ہے ان کی بیٹی انہیں یونی کا کہہ کر۔۔۔۔ سوچ کر وہ پریشان ہوئے

شکریہ آپ نے کال کر کے بتایا آئندہ اس کی لیو نہیں ہو گی۔۔۔ انہوں نے اتنی سے بات کر کے بات ختم کی

اوکے مسٹر سلطان۔۔۔ پرنسپل نے کہتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کی

نہیں میری بیٹی میری آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتی۔۔۔سلطان صاحب نے ماتھا پکڑا

السلام علیکم انکل۔۔۔کمرے میں شہروز داخل ہوا

سلطان صاحب نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ وعلیکم السلام وہ بمشکل بولے

انکل آپ ٹھیک ہیں کیا ہوا۔۔۔ شہروز نے ان کا پریشان چہرہ نوٹ کیا

کچھ نہیں بیٹا کوئی خاص بات نہیں۔۔۔ وہ بات کو ٹال کر خود کو نارمل ظاہر کرنے لگے

انکل مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔شہروز کرسی کھینچ کر بیٹھا

ہاں شہروز بولو کیا بات ہے۔۔۔ سلطان صاحب اس کی طرف متوجہ ہوئے

انکل آپ کو میری بات سننے کے لیے حوصلے سے کام لینا ہو گا۔۔۔

سلطان پریشان ہوئے

کیوں بیٹا کیا بات ہے ایسی۔۔۔ انہوں نے پریشانی سے دیکھتے ہوئے کہا

انکل بات ماہاویرا کے متعلق ہے۔۔۔ شہروز بولا تو سلطان صاحب کا دل زور سے دھڑکنے لگا ایک تو وہ پہلے ہی ماہاویرا کی یونی میں لیو کے بارے میں جان کر پریشان تھے اور اب شہروز پتہ نہیں کیا کہنے والا تھا۔۔۔

انکل آپ کو یاد ہو گا میں نے آپ کو سیریئل کلر بلال خان کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔

ہاں بتایا تھا۔۔۔ سلطان صاحب بولے

انکل ماہاویرا بلال خان کے ساتھ ریلیشن شپ میں ہے۔۔۔

شہروز بولا تو سلطان صاحب کا سر چکرانے لگا وہ کرسی پر بیٹھے ہی گرنے لگے جب شہروز نے ان کی طرف تیزی سے لپک کر ان کو سہارا دیا۔۔۔

انکل آپ ٹھیک ہیں اس نے ایک ہاتھ سے ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر انہیں دیا۔۔۔

سلطان صاحب نے دو گھونٹ پانی کے لیے اور سر پکڑ کر بیٹھ گئے انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ماہاویرا کی وجہ سے انہیں ایک دن ایسی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔

انکل پلیز آپ ریلیکس ہو جائیں۔۔۔ شہروز جانتا تھا کہ ان کا ردعمل یہی ہو گا مگر بتانا ضروری تھا

انکل آپ میری پوری بات سنیں۔۔۔

سلطان صاحب نے نظریں اٹھائے بغیر اسے ہاں میں اشارہ کیا۔۔۔

انکل ماہاویرا اس کے ساتھ کیسے ہے یہ تو میں نہیں جانتا مگر ہم بلال خان جیسے سیریئل کلر کو ماہاویرا کے زریعے پکڑ سکتے ہیں اس طرح ماہاویرا بھی اس سے محفوظ رہے گی اگر ہم نے کوئی ایکشن نہ لیا تو نہ جانے بات کہاں تک پہنچ جائے گی۔۔۔ وہ ایک ایک بات سلطان صاحب کو سمجھانے لگا

سلطان صاحب خاموش بیٹھے رہے اب ان کو معلوم ہو چکا تھا ماہاویرا یونی سے چھٹی کر کے کہاں جاتی رہی ہے دکھ اور شرمندگی کے مارے ان کا سر مزید جھکا۔۔۔

انکل کیا آپ چاہتے ہیں کہ ماہاویرا اس درندے کے جال سے باہر نکلے۔۔۔

سلطان صاحب نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

پھر آپ ماہاویرا سے اس متعلق کچھ بھی نہیں پوچھیں گے اور نہ ہی اسے شو کروائیں گے کہ آپ کو کچھ معلوم ہے۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔ سلطان صاحب اتنا بول کر خاموش ہوئے

انکل آپ پریشان مت ہوں آپ کی بیٹی ہے ماہاویرا اس نے کچھ غلط نہیں کیا ہو گا بلال خان نے ہی اسے اپنے جال میں پھنسایا ہو گا۔۔۔ وہ ان کو تسلی دینے لگا

سلطان صاحب خاموش رہے۔۔۔

شہروز کو ان کی حالت دیکھ کر دکھ ہوا۔۔۔

🔥
🔥
🔥

ریحان اور سلطان صاحب ذائشہ کے گھر پہنچے۔۔۔

ریحان نے صدیق صاحب کو سلطان صاحب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے گھر کے اندر داخل ہونے کا کہا۔۔۔

آپ پلیز ذائشہ بیٹی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں میرے بچے کی حالت بہت نازک ہے۔۔۔ سلطان صاحب اندر داخل ہوتے ہی بولے

کیوں کیا ہوا۔۔۔ صدیق سلطان صاحب کی بات سن کر پریشان ہوئے

میرا بچہ آحِل ہسپتال میں بے ہوش پڑا ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر چوبیس گھنٹوں کے اندر ہوش نہ آیا تو وہ کومہ میں جا سکتا ہے۔۔۔۔ سلطان صاحب کی آنکھیں بھیگیں

ذائشہ کے کانوں میں یہ بات پڑتے ہی وہ بے چین ہوئی۔۔۔ آحِل ۔۔ وہ زیرِلب بڑبڑائی

صدیق ہکے بکے سلطان صاحب کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

انکل پلیز ہم آپ کی منت کرتے ہیں ذائشہ کو ہمارے ساتھ بھیج دیں ورنہ آحِل کومہ میں جا سکتا کے اور پھر زندگی کی طرف کب لوٹے کوئی نہیں جانتا ایک ذائشہ ہی ہے جو اسے ایک نئی زندگی لوٹا سکتی ہے۔۔۔ ریحان صدیق صاحب سے مخاطب ہوا

اس کی بات سن کر کچن میں کھڑی رخسانہ بھی پریشان ہوئی۔۔۔

صدیق صاحب خاموش رہے۔۔۔

پلیز انکل آحِل کی زندگی کا سوال ہے۔۔۔ ریحان کے چہرے سے پریشانی واضح تھی

میری بیٹی کی زندگی خراب کرنے والے کو آج اپنی زندگی کے لیے میری بیٹی کی ضرورت ہے تو میں انسانیت کی ناطے انکار نہیں کروں گا۔۔۔ صدیق ریحان کی طرف دیکھتے ہوئے بولے

آپ کا بہت شکریہ میں آپ کا یہ احسان نہیں بھولوں گا۔۔۔ سلطان صاحب نے کہا

ذائشہ کمرے میں سب کی باتیں سنے رونے لگی۔۔۔ کیا واقعی آحِل اس سے اتنی محبت کرتا ہے مگر اس کا ماضی۔۔۔ جیسے جیسے اسے آحل کا ماضی یاد آتا وہ ایک ایک قدم آحل سے پیچھے ہٹتی۔۔۔

صدیق صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔ ذائشہ کو روتا دیکھ کر انہیں معلوم کو گیا کہ وہ سب سن چکی ہے

بیٹا جاؤ ان کے ساتھ اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا۔۔۔ وہ سر جھکائے بولے

ذائشہ نے ان کی طرف دیکھ کر آنکھیں بند کیں تو آنسو اس کی رخساروں پر بہنے لگے

🔥
🔥
🔥

ذائشہ ہسپتال میں آحل کے کمرے میں پہنچی تو اسے دیکھ کر رونے لگی۔۔۔

وہ بے جان جسم کے ساتھ بستر پر بے ہوش پڑا تھا اس کی آنکھوں کے گرد حلقے واضح ہو رہے تھے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *