Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 05)

Madhoshi by Mirha Kanwal

ماہاویرا اپنے بیڈ پر لیٹی بلال کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔

یہ بلڈوزر نے آج کال کیوں نہیں کی پہلے تو جان ہی نہیں چھوڑتا تھا۔۔ وہ اپنی خوبصورت آنکھوں کو سکیڑے سوچنے میں مصروف تھی کہ اس کا فون رنگ ہوا

Think of the devil, and there he appears

اس نے ایک سائیڈ کی سمائل دیتے ہوئے موبائل اٹھایا۔۔۔

سکرین پہ آحِل کا نمبر دیکھ کر اسے جانے کیوں اچھا نہیں لگا کیوں کہ اسے بلال کی کال کی امید تھی

اس نے کال یس کر کے موبائل کان کو لگایا۔۔

Hi my princess, how are you

آحل نے ماہاویرا سے پوچھا

Fine bro, what’s about you

ماہاویرا نے منہ پھلاتے ہوئے کہا

I’m good, hey is everything fine?

اس نے ماہاویرا کا لہجہ نوٹ کیا

Yes bro everything is fine

ماہاویرا مسکرا کر بولی تاکہ اس کے بھائی کو شک نہ ہو

بھائی کب آرہے ہیں آپ۔۔۔ آپ کی آؤٹنگ کب ختم ہو گی

میری پرنسز مجھے مس کر رہی ہے۔۔۔ آحِل نے پیار سے پوچھا

بھائی یہ پوچھنے والی بات ہے کیا۔۔۔۔میں اور ڈیڈ آپ کو بہت مس کرتے ہیں اور مجھے تو آپ کے بغیر کسی چیز میں مزہ نہیں آتا

جلد آ جاؤں گا ابھی تو آیا ہوں اب رہنے تو دو کچھ دن۔۔۔ آحِل نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

اوکے برو بٹ جلدی آنا ہے اوکے۔۔۔

اوکے مائے پرنسز۔۔۔ کوئی اور حکم

نہیں ابھی کے لیے اتنا ہی۔۔۔۔ باقی جیسے جیسے یاد آئیں گے بتاتی رہوں گی

آحِل اس کی بات پر مسکرایا

اچھا بتاؤ کیا کر رہی تھی۔۔ اپنا اور ڈیڈ کا خیال رکھ رہی ہو نا

جی بھائی رکھ رہی ہوں۔۔۔ اور فری ہوں میں بس تھوڑی دیر تک سٹڈی کروں گی

سٹڈی سے یاد آیا۔۔۔ اب کس کس کو پیٹتی ہو یونی میں۔۔۔

اب کسی کو نہیں پیٹتی اب میں شریف ہو گئی ہوں۔۔۔ ماہا ویرا لاڈ سے بولی

ہاہاہا۔۔۔ آحل نے قہقہ لگایا

اففف بھائی آپ میرا مزاق بنا رہے ہیں۔۔۔ ماہا ویرا خفا ہوئی

ارے نہیں میری پرنسز میں کیوں مزاق بناؤں گا اپنی پیاری سی بہن کا۔۔۔ آحِل نے ہنستے ہوئے کہا

دیکھا آپ ابھی بھی ہنس رہے ہیں مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی اوکے بائے۔۔۔

ارے رکو۔۔۔ آحِل بول ہی رہا تھا کہ ماہا نے کال بند کر دی

پگلی۔۔۔ آحِل کہتے ہوئے مسکرایا

بلال اپنے کام سے فارغ ہوا تو اسے ماہاویرا کہ یاد آئی

سارا دن گزر گیا وائف کو تو کال ہی نہیں کی۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے اس نے موبائل نکالا اور ماہاویرا کو کال ملائی

ماہا سٹڈی میں مصروف تھی کہ اس کا فون رنگ ہوا۔۔۔

اس نے اٹھا کر دیکھا تو بلال کی کال تھی

اس نے کال ڈس کنیکٹ کر دی

ہوں۔۔۔ اب آیا مزہ

بلال نے دیکھا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری

اس نے دوبارہ کال کی۔۔۔

ماہا نے اس بار بھی کال کاٹ دی

بلال نے تیسری بار کال کی

کیا مسئلہ ۔۔۔ ماہا نے کال ریسیو کرتے ہی کہا

میری وائف ناراض ہے مجھ سے۔۔۔ بلال پیار سے بولا

جی نہیں۔۔۔ تم ایسا کوئی حق نہیں رکھتے کہ میں ماہاویرا سلطان تم سے ناراض ہونے کا شرف تمہیں بخشوں

بلال نچلا ہونٹ کاٹتا ہوا مسکرایا

لگتا ہے بھول گئی ہو کہ میں تمہارا کون ہوں یہ نہ ہو مجھے وہاں آکر تمہیں بتانا پڑے۔۔۔

یہ دھمکی۔۔۔۔ وہ بولنے ہی لگی تھی کہ اسے پچھلی بار کی بات یاد آگئی تب بھی اس نے دھمکی کا کہا تھا تو وہ سچ میں اس رات اس کے کمرے میں موجود تھا۔۔۔ یہ بات کسی اور کو سناؤ جا کر۔۔۔

ماہاویرا نے اپنی بے تکی بات پر اپنے ہی سر پہ چت لگائی

تمہیں ابھی یہاں آنا ہو گا وہ کیا ہے نہ میرا بہت دل کر رہا ہے اپنی بیگم کے ہاتھ کا بنا کھانا کھاؤں

بلال جان گیا تھا کہ اس نے بات کیوں بدلی ہے اس نے ماہا کے اسی ڈر کا فائدہ اٹھایا

کیا۔۔ تم پاگل واگل تو نہیں ہو گئے میں کیوں آؤں گی تمہارے کباڑ کھانے میں۔۔ اور تمہیں کھانا بھی بنا کر دوں گی واہ ماہاویرا نے آج تک صرف کھانا کھانا سیکھا ہے بنانا نہیں۔۔۔ اس نے فخر سے کہا

تو ٹھیک ہے میں آجاتا ہوں تمہارے گھر۔۔۔ اور کھانا تو تمہیں مجھے بنا کر کھلانا ہی پڑے گا

تم۔۔ تمہارا نا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔ وہ چڑتے کوئے بولی

آدھے گنٹے کے اندر اندر تم یہاں میرے گھر میں نظر آنی چاہئے اگر ایک منٹ بھی اوپر ہوا تو سمجھو میں تمہارے گھر۔۔۔

کیا مصیبت پلے پڑ گئی ہے جاؤ میں نہیں آنے والی۔۔۔ اس نے چلاتے کوئے کال بند کی

بلال ہونٹوں میں سگریٹ رکھتے ہوئے مسکرایا اسے معلوم تھا ماہا آدھے گھنٹے میں یہاں موجود ہو گی

🔥
🔥
🔥

ذائشہ صدیق صاحب کو دوائیاں کھلانے کے بعد سونے کے لیے اپنے کمرے میں آئی۔۔۔

اس نے ڈور لاک کیا اور بستر پر لیٹ گئی۔۔۔

وہ آنکھیں بند کرتی تو آحِل کا چہرہ سامنے آتا۔۔۔ وہ بے چین ہوئی

اففف یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ وہ اپنی کن پٹیوں کو دباتے ہوئے خود کو پرسکون کرنے لگی

ساتھ ہی اس نے آنکھیں بند کیں۔۔۔

اس کی آنکھوں کے آگے کچھ منظر گھومنے لگے۔۔

وہ پہلی ملاقات تھی جب اس نے آحل کو گاڑی کے پاس کھڑے دیکھا تھا مگر اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔

پہلی بار جب آحِل سے ہم کلام ہوئی۔۔۔ جب وہ گاڑی کے پاس آیا تھا اور اسے دیکھ سوال جواب کرنے لگا

پہلی بار جب اس نے آحل کو غور سے دیکھا۔۔۔ جب وہ گاڑی میں بیٹھی تھی اور اس کی نظریں آحل کی نظروں سے ملی تھیں اسے وہ کسی اور ہی دنیا کا شہزادہ لگ رہا تھا

پہلی بار جب اس نے آحل کے لیے اپنا دل دھڑکتا محسوس کیا۔۔۔ جب اس رات اپنے گھر کے سامنے اس نے آحل کو اپنی گاڑی کے پاس کھڑے اس کی شدت بھری نگاہوں کو نوٹ کیا تھا۔۔۔

پہلی بار جب اس نے آحل کے ہونے کی اہمیت کو جانا تھا۔۔۔ جب وہ اس کے ابو کو گھر لے کر آیا تھا

پہلی بار جب وہ آحِل کو یاد کر رہی تھی۔۔۔ وہ یہ رات تھی

اس نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں

یہ۔۔ یہ مجھے کیا ہو گیا ہے میں کیا کیا سوچ رہی ہوں

کچھ ہوش کر ذائشہ تم پاگل واگل تو نہیں ہو گئی۔۔۔

وہ خود کو ملامت کر رہی تھی۔۔ جب اس کے فون کی گھنٹی بجی

اس نے فون اٹھایا اور سکرین پہ آحِل کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔۔۔ وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھی اس کی دھڑکنوں نے شور مچایا

اب کیا کروں کیسے بات کر پاؤں گی۔۔۔ اس کا سانس پھولنے لگا تو اس نے خود کلامی کی

بیل بند ہونے سے پہلے اس نے کال یس کی۔۔۔

السلام علیکم۔۔۔ آحِل کی پرکشش آواز ذائشہ کے کانوں میں پڑی

و۔۔۔وعلیکم السلام ذائشہ کی زبان لڑکھڑائی

انکل کیسے ہیں ان کا حال پوچھنے کے لیے کال کی ہے۔۔۔ وہ اپنے بیڈ پر لیٹا سر ایک ہاتھ کے نیچے رکھے بات کر رہا تھا۔۔۔

جی پہلے سے بہتر ہیں۔۔۔ وہ خاموش ہوئی

اور تم کیسی ہو۔۔۔ آحِل آہستگی سے بولا

ذائشہ اپنے دل پر ہاتھ سے تھپکی دینے لگی

میں ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ بمشکل بولی

کیا ہوا سانس کیوں اکھڑا ہوا ہے۔۔۔ آحِل نے جان بوجھ کر بات کو کریدا

نہ۔۔۔ نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔ وہ گھبرا گئی

اوکے۔۔۔

ذائشہ خاموش رہی

ایکچوایلی مجھے کچھ دیر پہلے بہت چھینکیں آ رہی تھیں تو مجھے لگا تم مجھے یاد کر رہی ہو۔۔۔

ذائشہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔۔۔ اسے کیسے پتہ لگا اس نے دل میں سوچا

بولو۔۔۔ تم ہی یاد کر رہی تھی نا

ن۔۔۔نہیں میں کیوں یاد کروں گی ب۔۔بھلا

ذائشہ کا حلق خشک ہوا اس نے جلدی سے ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اٹھایا اور اپنے اندر انڈیلنے لگی

آحِل کے سرخ پتلے ہونٹ مسکرائے

تھوڑا آرام سے پی لو۔۔۔ اس کے بولنے کی دیر تھی کہ پانی ذائشہ کی ناک کو چڑھ گیا

وہ بری طرح کھانسنے لگی

آحِل نے دانتوں تلے لب دبایا

ذائشہ نے جلدی سے کال بند کی اور خود کو سمبھالنے لگی

کچھ دیر میں اس کی حالت سمبھلی اور وہ بولی

کیا چیز ہے یہ لڑکا

موبائل پہ میسیج رنگ ہوا ۔۔۔

اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا

پریشان مت ہو انسان ہی ہوں۔۔۔ ذائشہ پہ حیرت کے پہاڑ ٹوٹے ایک منٹ ضائع کیے بغیر وہ اپنے بستر میں گھسی اور آنکھیں موند گئی۔۔۔۔

🔥
🔥
🔥

ان تیس منٹ سے بلال ماہا کا انتظار کر رہا تھا اس دوران وہ بہت سی سگریٹ پی چکا تھا۔۔۔

پورے تیس منٹ پر گیٹ پر ماہا کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔۔۔ بلال کے آدمی نے دروازہ کھولا اور ماہا نے گاڑی ایک طرف پارک کی

اس نے گاڑی سے باہر قدم رکھا۔۔

ماہاویرا نے ریڈ شرٹ، بلیک جینز اور اور ہائی ہیل کے ساتھ ریڈ لانگ شوذ پہنے تھے

وہ گلے میں بلیک رنگ کے سکارف کو سیٹ کرتی ہوئی اندر کی طرف بڑھی۔۔۔

کاش میں بھائی کو اس کی شکایت نہ لگاتا کم از کم آج مجھے اس کے لیے نوکروں کی طرح گیٹ تو نہ کھولنا پڑتا پتہ نہیں کونسا جادو کر دیا ہمارے بھائی پر اس بھائی نے۔۔۔ یہ وہی لڑکا تھا جس کا ماہاویرا نے دانت توڑا تھا بیچارا دانت بھی تڑوا بیٹھا اور نوکر بھی بن گیا

واہ رے مولا غریب تو اپنی مرضی سے جی بھی نہیں سکتا۔۔۔ وہ گیٹ بند کرتے ہوئے بولا

ماہاویرا صحن میں آکر کھڑی ہو گئی وہ نہیں جانتی تھی بلال کا کمرہ کون سا ہے کیوں کہ پہلی بار اس کی جس کمرے میں بلال سے ملاقات ہوئی تھی وہاں سوائے لکڑی کی کرسیوں کے کچھ نہ تھا۔۔۔

بھابھی آئیں آپ کو بھائی کی طرف لے چلوں۔۔ ایک لڑکا اس کی طرف بڑھا

ماہاویرا نے بھابھی لفظ پر اسے گھوری سے نوازہ جس پر وہ نظریں جھکا گیا

وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چلتی رہی۔۔۔

وہ جگہ واقعی کباڑ خانے سے کم نہ تھی۔۔۔

پھر وہ ایک گیلری سے گزرنے لگے جو کافی لمبی تھی

ماہا کو کوفت آنے لگی۔۔۔پتہ نہیں کیسے رہ لیتا ہے یہ بلڈوزر یہاں۔۔۔ وہ منہ میں بڑبڑائی

بھائی یہاں نہیں رہتے۔۔۔ لڑکا بولا

ہوں۔۔۔تو کیا تمہارے بھائی محل میں رہتے ہیں۔۔۔ ماہا تنزیہ ایک سائیڈ سمائل دیتے ہوئے بولی

گیلری کے اختتام پر لڑکا ایک دروازے پر آکر رکا

بھائی یہاں رہتے ہیں۔۔۔ یہ کہتے ہی اس نے دروازہ کھولا

ماہا سامنے کا منظر دیکھ کر دنگ رہ گئی

اس نے دروازے سے قدم آگے بڑھائے

Oh my GOD this is amazing,,,

بے ساختہ اس کی زبان سے یہ لفظ ادا ہوئے

اس کی نظروں کے سامنے خوبصورت وائیٹ ہاؤس تھا جس کے نقشے کو وہ دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔

اس کا لان اتنا بڑا تھا کہ وہاں مصنوعی ندی بنائی گئی تھی جس نے رنگ برنگی چھوٹی چھوٹی خوبصورت مچھلیاں اپنی موج میں تیر رہی تھیں۔۔

ندی کے آس پاس ایسے درخت تھے جو کہ ماہاویرا نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے شاید وہ باہر کے ممالک سے منگوائے گئے تھے۔۔۔

جب اس کی نظر لان کی دوسری طرف پڑی تو اس کے منہ سے بی ساختہ چینخ نکلی۔۔۔

ایک بہت بڑا شیر کھلے عام صحن میں دندناتا پھر رہا تھا ۔۔۔

ماہا واپس بھاگنے کے لیے واپس مڑی کہ اس کو بلال کی آواز آئی

رکو مائے وائف۔۔۔ وہ ایک درخت کی آڑ سے باہر آیا

کیا خاک رکوں تم نے اسے میرے استقبال کے لیے یہاں رکھا ہے کیا۔۔۔ ماہا چبا چبا کر بولی

بلال نے منہ سے سگریٹ نکال کر ایک سائیڈ پھینکی اور چلتا ہوا اس کے قریب آیا

ارادہ تو ایسا ہرگز نہیں تھا مگر تم نے کہہ ہی دیا ہے تو استقبال بھی کروا دیتا ہوں۔۔۔ بلال نے اپنے آدمی کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا

وہ ماہاویرا کا ہاتھ پکڑے چلنے لگا

او ہیلو مسٹر تم اپنے ہوش میں تو ہو۔۔۔

بلال خاموشی سے چلتا رہا۔۔۔

ماہا اب سچ میں ڈرنے لگی تھی

ب۔۔بلال تم سچ بتاؤ تم نے مجھے یہاں میرا قتل کرنے کے لیے بلایا ہے نا

بلال کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بھکری کیوں کہ ماہا نے پہلی بار اسے اس کے نام سے مخاطب کیا تھا

شیر ماہاویرا کو دیکھ کر دھاڑا تو ماہا کی چینخیں فضا میں بلند ہوئیں۔۔۔

بلال چھوڑو میرا ہاتھ تم ہوش میں تو ہو ۔۔۔ وہ مسلسل اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی اسے اب شیر کے ساتھ ساتھ بلال سے بھی خوف آرہا تھا

بلال نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور شیر کے قریب چلنے لگا۔۔۔

ماہا سختی سے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے اس کے سینے میں چہرہ چھپاتے ہوئے چینخ رہی تھی۔۔

وہ اب رک گیا تھا لیکن ماہا کی چینخیں ویسے ہی جاری تھیں

بس کر دو وائف کان پھاڑو گی کیا

بلال نہایت آرام سے بولا تو ماہا نے انکھیں کھولیں۔۔۔

اس نے شیر کی جانب دیکھا تو وہ ان کے بلکل قریب تھا اتنا کہ ان میں ایک فیٹ کا فاصلہ تھا

ماہا کی ایک بار پھر فضا میں چینخ بلند ہوئی

بلال کو لگا اس کے کان کا پردہ پھٹنے کے قریب ہے

ماہاویرا ہوش کرو درمیان میں گلاس وال ہے

یہ سنتے ہی ماہا کا منہ بند ہوا۔۔۔ وہ تیز تیز سانس لے رہی تھی۔۔

ت۔۔تم نے آج میری جان نکال دینی تھی۔۔۔

اور تم نے آج مجھے بہرہ کر دینا تھا مائے وائف۔۔۔ وہ کہتا ہوا مسکرایا

اس نے ماہا کو نیچے اتارا تو وہ شیر کی طرف دیکھنے لگی

اس نے گلاس وال پہ ہاتھ رکھا تو شیر دھاڑا۔۔۔ ماہا ڈر کر بلال کے ساتھ لگی

چلو اندر یہاں نہیں رکنا مجھے ۔۔۔ اس نے ڈرتے ہوئے کہا

آج پتہ چلا کہ تم کتنی بہادر ہو۔۔۔ بلال نے اسے چھیڑے کے انداز میں کہا

تم اندر لے کر جاتے ہوں یا میں جاؤں واپس۔۔۔

ہاں چلتے ہیں تم تو غصہ ہی کر گئی۔۔۔ بلال نے اپنی مسکراہٹ دبائی

وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو ماہا دیکھ کر دنگ رہ گئی وہ واقع ہی کسی شہزادے کا محل لگ رہا تھا۔۔۔

پسند آیا ہمارا گھر۔۔۔ بلال نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا

ہاں بہت پیارا ہے ویسے تم نے کہاں ڈاکہ ڈالا ہے جو ایسا محل ڈال لیا۔۔۔ ماہاویرا ہاتھ سے اشارہ کرتی ہوئی بولی

اچھا تو تمہیں میں ڈاکو لگتا ہوں۔۔۔ بلال نے اسے گھور کر پوچھا

ہممم۔۔ شکل سے تو کچھ ایسے ہی ہو ڈاکوؤں کی طرح لمبے لمبے بال ہیں اور بلیک ڈریس پہنے رکھتے ہو گلے میں اتنا بڑا سنگل ڈالا ہوا ہے۔۔۔ماہا اس کی ہر چیز نوٹ کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھ کر بولی

اچھاااا۔۔۔ لگتا ہے میری وائف نے کبھی آئینہ نہیں دیکھا

تمہاری جو مردانہ لُک ہے تو کیا اس سے میں تمہیں خواجہ سرا سمجھوں۔۔۔ بلال نے آنکھ مارتے ہوئے کہا

بلااااال۔۔۔ ماہا تپ گئی

میں تمہیں ایسی لگتی ہوں

ہاہاہا۔۔۔ سوری میری جان مذاق کر رہا تھا۔۔۔ بلال صوفے پر اس کے قریب آکر بیٹھا تو بازؤوں کا گھیرا ڈالتے ہوئے بولا

ہٹو پیچھے۔۔۔ ماہاویرا نے منہ بناتے ہوئے اس کے بازو پیچھے کیے

اچھا مجھے کھانا تو بنا کر کھلاؤ۔۔۔ بلال کو یاد آیا

کھانا اور میں اور وہ بھی تمہیں بنا کر دوں۔۔۔ سوچنا بھی مت

کھانا تو تم آج ہی مجھے بنا کر دو گی۔۔۔ بلال ڈھیٹ بنا

ہوں۔۔۔ تمہارے خواب میں ۔۔۔ ماہاویرا کونسا کم تھی

چلیں پھر اکٹھے سوتے ہیں خواب بھی دیکھ لوں گا جس میں تم مجھے کھانا بنا کر کھلاؤ گی۔۔۔ اس نے ماہا کی گردن پہ انگلی پھیرتے ہوئے کہا

ماہا اس کے ارادے جان گئی۔۔۔ اوکے اوکے بنا دیتی ہوں کھانا

بلال حیران ہوا کہ ماہا اتنی جلدی کیسے مان گئی

کھانا تو میں ایسا بناؤں گی کہ تمہیں مزہ آجائے گا۔۔۔ وہ دل ہی دل میں کہتی ہوئی اٹھی

چلو کچن دکھاؤ۔۔۔

بلال اس کا ہاتھ پکڑے کچن کی طرف لے گیا۔۔۔

کچن کافی بڑا اور نفیس تھا۔۔۔ ہر چیز ترتیب سے پڑی تھی۔۔

ماہا نے فریج کھولا تو ہر قسم کا فروٹ اور سبزی تھی کچھ باکسز الگ الگ قسم کے گوشت کے تھے۔۔۔

اس نے ایک باکس کھولا اور چکن نکال کر رکھا۔۔۔

کیا بنانے لگی ہے بیگم۔۔۔

بریانی۔۔۔ ماہا بولی

ہممم۔۔۔ مائے فیورٹ ۔۔۔ بلال مزے سے بولا

آج سے نہیں رہے گی۔۔ ماہا دل ہی دل میں بول کر مسکرائی

پھر اس نے موبائل سے بریانی کی ریسیپی نکالی

تمہیں بنانی نہیں آتی کیا۔۔۔ بلال نے حیرانگی سے پوچھا

آتی ہے نا یہ تو بس اس لیے کہ مجھے کچھ بھول نہ جائے کافی دن بعد بنا رہی ہوں

اوکے چلو پھر شروع کرو۔۔۔ بلال شیلف پر بیٹھا

ماہا نے جیسے تیسے کر کہ پیاز اور باقی مصالحہ کاٹا

بلال اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا

پھر ماہا نے بریانی بنانی شروع کی۔۔۔

اتنی سی دیر میں ماہا نے کچن کی حالت بگاڑ کر رکھ دی تھی۔۔۔

بریانی بناتے ساتھ ساتھ وہ اور بلال باتیں کرتے رہے۔۔۔

بلال اس کی باتوں کے ساتھ ساتھ حسن سے بھی لطف اندوز ہوتا رہا۔۔۔

آج وہ جی بھر کے ماہاویرا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

ماہا بریانی کو دم پر لگا رہی تھی جب بلال شیلف سے اترا اور ماہا کو پیچھے سے ہگ کیا۔۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ ماہا نے پوچھا

پیار۔۔۔ بلال خمار آلود آواز میں بولا۔۔۔

دور ہٹو میں پہلے ہی بہت تھک چکی ہوں تمہاری بریانی کے چکروں میں۔۔۔ماہا نے اس کی طرف اپنا رخ کیا

تو میں تھکاوٹ اتار دوں۔۔۔ بلال معنی خیز بولا

ماہا نے اسے گھوری سے نوازا

بلال نے اس کے ہونٹوں کے پاس اپنے ہونٹ کیے

اففف کس کا تو سوچنا بھی مت سگریٹ کی اتنی گندی سمیل آرہی ہے۔۔۔ ماہا اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے بولی

بلال مسکرایا۔۔۔

سگریٹ تمہاری سوتن ہے آئندہ سوچ کر اس کے خلاف بولنا۔۔۔ بلال نے اسے چھیڑا

ہوں۔۔۔ ہو ہی نہ جاؤں میں جیلس ۔۔۔ ماہا نے تنزیہ ایک سائیڈ کی سمائل دی

آؤ اتنی دیر میں اپنا روم دیکھاتا ہوں ۔۔۔

وہ اسے لیے کمرے کی طرف چلا

اس نے ڈور اوپن کیا تو دونوں اندر داخل ہوئے۔۔۔ کمرہ کافی کشادہ تھا اور خوبصورت تھا۔۔۔

ماہاویرا نے ایک نظر پورے کمرے میں دوڑائی۔۔۔

اچھا ادھر آکر بیٹھو تو میں بھی دیکھوں جب ہسبینڈ وائف ایک بیڈ استعمال کرتے ہیں تو کیسا فیل ہوتا ہے۔۔۔ بلال بیڈ پر بیٹھ کر بولا

ویری فنی۔۔۔ چلو اب بریانی ریڈی ہے ۔۔۔ ماہا نے واچ پر ٹائم دیکھا تو وہ دونوں باہر نکلے

بلال ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا اور ماہا اس کے لیے پلیٹ میں بریانی ڈالنے لگی۔۔۔

واو شکل تو بہت اچھی ہے۔۔۔

ذائقہ بھی اچھا ہو گا۔۔۔ ماہا نے مسکراہٹ دبائی

اس نے بلال کو پلیٹ پکڑائی تو اس نے چمچ بھر کر منہ میں ڈالا

اب ماہا اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھنے کے لیے بے تاب تھی کیوں کہ اس نے بریانی میں نمک بہت تیز رکھا تھا

مگر یہ کیا بلال تو آرام سے بریانی کھا رہا تھا ۔۔۔

واو بہت ٹیسٹی ہے جب تم یہاں میرے ساتھ رہو گی نہ تب بھی ایسی ہی بریانی بنا کر کھلایا کرنا۔۔۔ وہ مزے سے کھاتا ہوا بولا

ماہاویرا کو شک ہونے لگا کہ واقع ہی بریانی اچھی بنی ہے تبھی وہ اتنے آرام سے کھا رہا ہے

ارے تم بھی کھاؤ نہ مجھے کیا گھور گھور کے دیکھ رہی ہو

ماہا ہلکا سا مسکرائی اور پلیٹ میں ڈال کر چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔۔۔ اب اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے باہر نکال کر پھینکے یا نگلے

بلال کا قہقہ لگا

ماہا فورن اٹھی اور بیسن کی طرف بھاگی

اسے ابھی تک بلال کے ہنسنے کی آواز آرہی تھی

میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ کلی کر کے وہ مڑی اور بلال کی طرف بھاگی

بلال نے اس کے تیور دیکھ کر کرسی چھوڑی اور دوڑ لگا دی۔۔۔

ادھر آؤ تمہیں مزہ چکھاتی ہوں اس نے بھاگتے ہوئے ٹیبل پر پڑا گلدان اٹھایا

صوفے کے قریب آکر بلال واپس مڑا ماہا جب اس کے بلکل قریب پہنچی تو وہ اسے کھینچے صوفے پر گرا

دونوں کا سانس پھولا ہوا تھا

بلال ماہا کو دیکھ کر مسکرانے لگا تو ماہا بھی ہلکا سا مسکرائی

بلال نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا اور بازوؤں کا گھیرا ڈال لیا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *