Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 16)

Madhoshi by Mirha Kanwal

آسمان پر سیاہی مائل بادل چھائے تھے ٹھنڈی تیز ہوائیں زورو شور سے چل رہی تھیں۔۔۔ شاید بارش اپنی آمد کی نشانیاں دکھا رہی تھی۔۔۔

خالی سڑک پر گاڑی آہستہ رفتار میں چل رہی تھی۔۔ سڑک کے آس پاس لائن کے ساتھ درخت لگے تھے۔۔۔

بلال ڈرائیو کر رہا تھا اور ماہاویرا اس کے کندھے پہ سر رکھے دونوں پاؤں گاڑی کہ ونڈو سے باہر نکالے لانگ ڈرائیو کا مزہ لے رہی تھی۔۔۔

گاڑی کی دونوں طرف سے ونڈوز کھلی تھیں جس کی وجہ سے تیز ہوائیں گاڑی میں داخل اور خارج ہو رہی تھیں۔۔۔

ماہاویرا نے سکون سے آنکھیں بند کیں۔۔۔

آج کتنا رومانٹک موسم ہے نا بلال۔۔۔ وہ خوش ہوتے ہوئے بولی

ہے تو صحیح مگر جتنی رومانٹک آج میری وائف ہے اس سے تو کم ہی ہے۔۔۔ وہ مسکرایا

ماہاویرا نے اس کی بات پر بلش کیا کیوں کہ وہ آج وقعی بہت رومانٹک ہو رہی تھی۔۔۔

ماہاویرا نے میوزک آن کیا۔۔۔

اب بلال کی توجہ میوزک کی طرف تھی

میوزک بھی موسم کی طرح رومانٹک تھا۔۔۔

یہ کیا صرف میوزک ہی ہے سونگ نہیں۔۔۔ بلال نے حیرانگی سے پوچھا

ہاں۔۔۔ ماہا آرام سے بولی

مگر کیوں۔۔۔

کیوں کہ میں سونگز نہیں سنتی مجھے صرف میوزک سننا پسند ہے۔۔۔

وہ آنکھیں بند کیے میوزک انجوائے کرتی ہوئی بول رہی تھی۔۔۔

بلال نے اسے ری سٹارٹ کیا۔۔۔

ارے ری سٹارٹ کیوں کر دیا

بلال خاموش رہا

اب میوزک چل رہا تھا اور بلال مزے کے ساتھ سن رہا تھا

♥️“تڑپائیں مجھے تیری سبھی باتیں”

“اک بار تو اے دیوانی جھوٹا ہی صحیح پیار تو کر”♥️

بلال نے میوزک سے ساتھ سنگنگ شروع کی تو ماہاویرا جھٹ سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔

♥️” میں بھولا نہیں حسیں ملاقاتیں “

بے چین کر کے مجھ کو مجھ سے نہ پھیر نظر”♥️

وہ ماہاویرا کی طرف دیکھتا ہوا گا رہا تھا جیسے سونگ کا ہر لفظ اس کو کہہ رہا ہو

ماہاویرا نے جلدی سے اپنا موبائل نکالا اور وائس ریکارڈنگ آن کیا

♥️“سردی کی راتوں میں ہم سوئے رہے ہیں چادر میں”

“ہم دونوں تنہا ہوں نہ کوئی بھی رہے اس گھر میں”♥️

ماہاویرا ہاتھ پر ٹھوڑی ٹکائے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ بلال کی آواز خوبصورت کے ساتھ پر کشش بھی تھی

♥️” ذرا ذرا مہکتا ہے بہکتا ہے آج تو میرا تن بدن”

“میں پیاسا ہوں مجھے بھر لے اپنی باہوں میں” ♥️

وہ ماہاویرا کی طرف مسکراتے ہوئے گنگنا رہا تھا۔۔ ماہا کا دل کیا وہ ساری عمر ایسے ہی گنگناتا رہے اور وہ اس کو سنتی رہے

♥️“یوں ہی برس برس کالی گھٹا برسے ہم یار بھیگ جائیں”

“ہم یار بھیگ جائیں اس چاہت کی بارش میں”♥️

♥️” تیری کُھلی کُھلی لٹوں کو سلجھاؤں”

میں اپنی انگلیوں سے میں تو ہوں اس خواہش میں”♥️

وہ ماہاویرا کے چھوٹے بالوں کو اپنی انگلیوں سے کانوں سے پیچھے کرتے ہوئے بولا تو ماہاویرا ہنسنے لگی ساتھ بلال بھی مسکرایا

♥️“ذرا ذرا مہکتا ہے بہکتا ہے آج یہ میرا تن بدن”

“میں پیاسا ہوں مجھے بھر لے اپنی باہوں میں”♥️

وہ خمار بھری نظروں سے اسے دیکھ کر گنگنا رہا تھا تو ماہاویرا نے پیار سے بلال کے ساتھ چپک کر اس کے گرد بازو پھیلائے

اب بلال نے میوزک کے ساتھ ریپنگ سٹارٹ کی تو ماہاویرا حیران رہ گئی

♥️“باہوں میں بھر لے مجھ کو تھوڑا قریب لا”

“جب کرتا آنکھیں بند میں دکھتی اک اپسرا”

“نہ جانے کیوں مگر میں دل سے دل ملا بیٹھا”

“جب چھوڑا تو نے ہاتھ لگا کے سب کچھ گنوا بیٹھا”

“صاف صاف یہ صاف تھا تیرا ہر ایک گلہ معاف تھا”

“تصویریں ڈھونڈی پرچھائی میں تیری نکلا جو بھی وہ راکھ تھا”♥️

امیزنگ۔۔۔ ماہاویرا نے بے آواز لب ہلائے

“کیوں بے چین پریشان ہوں سب کچھ دیکھ یہ حیران ہوں”

ذرا دیکھ پلٹ کے پیچھے تو میں تیری جان میں چھپی وہ جان ہوں”

♥️“کل تک جو تیرا ہوتا تھا آج بھی وہ تیرا ہے”

“نہ جانے کتنی باہوں میں ہوتا تیرا سویرا ہے”

“قسمت سے لڑجاؤں یا مانوں اس کو اپنی غلطی”

“ذرا ذرا مہکتا جسم ابھی تو تیرا ہے”♥️

وہ ہر ایک لفظ ایک ریپر کی طرح کہہ رہا تھا ماہا آنکھیں بڑی کرتے ہوئے اسے مسلسل دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بلال جیسا لڑکا سنگنگ بھی کر سکتا ہے وہ بھی اتنی اچھی

♥️” ذرا ذرا بہکتا ہے مہکتا ہے آج یہ میرا تن بدن”

“میں پیاسا ہوں مجھے بھر لے اپنی باہوں میں”♥️

اب میوزک ختم ہو چکا تھا بلال نے آخری بول ماہاویرا کی رخسار پر الٹے ہاتھ کی طرف سے انگلیاں پھیرتے ہوئے گنگنائے تھے۔۔۔

ماہاویرا نے ریکارڈنگ بند کر کے بلال کے رخسار پر اپنے لب رکھے۔۔۔

🔥
🔥
🔥

سلطان صاحب شدید پریشان تھے آج تیسرا دن تھا آحِل کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔۔۔ وہ جانتے تھے آحِل کا ریحان اور فاریہ کے علاوہ کوئی دوست نہیں۔۔۔ انہوں نے ان دونوں کو کالز کر کے آحل کے بارے میں پوچھا مگر کسی کو بھی نہیں معلوم تھا وہ کہاں ہے۔۔۔

انہوں نے پولیس میں رپورٹ بھی لکھوا دی تھی۔۔۔ اس کے علاوہ وہ اپنی طرف سے بھی پوری کوشش کر رہے تھے گھنٹوں تک وہ سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے کہ کیا پتہ کہیں آحل انہیں دکھ جائے مگر ہر بار ناکام لوٹے۔۔۔

ان کی پریشانی وقت کے ساتھ ساتھ پڑھتی جا رہی تھی۔۔۔

🔥
🔥
🔥

ادھر ریحان بھی آحل کو لے کر کافی پریشان تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔۔۔

اچانک اس کے زہن میں آیا کہ وہ تو ذائشہ کے گھر کا راستہ جانتا ہے اس رات آحل ذائشہ کو ریحان کے ساتھ اس کی گاڑی میں ہی چھوڑنے گیا تھا۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھا اور گاڑی میں بیٹھ کر ذائشہ کے گھر کا رخ کیا۔۔۔

اب وہ اس کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔۔۔اس نے ڈور ناک کیا

صدیق صاحب نے دروازہ کھولا اور اک انجان لڑکے کو دیکھ کر حیران ہوئے۔۔۔

السلام علیکم انکل میں آحِل کا دوست ریحان ہوں۔۔۔

وعلیکم السلام بیٹا کیا بات ہے تم کچھ پریشان لگ رہے ہو۔۔۔ صدیق صاحب اس کا چہرہ غور سے دیکھتے ہوئے بولے

جی انکل بات یہ ہے کہ آج تیسرا دن ہے اور آحِل پتہ نہیں کہاں ہے ہم نے پولیس میں بھی رپورٹ کروا دی ہے اور اسے بہت ڈھونڈا ہے مگر وہ نہیں ملا۔۔۔ ریحان پریشان سا بولا

آحِل کے لا پتہ ہونے کا سن کر صدیق صاحب حیران اور پریشان ہوئے۔۔۔ مگر بیٹا آحل کہاں جا سکتا ہے کہیں کوئی جھگڑا نہ ہو گیا ہو گھر میں

نہیں انکل اس کے ڈیڈ بھی بہت پریشان ہیں ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی جس سے آحل گھر سے ناراض ہو کر جائے کہیں۔۔۔

انکل میں۔۔۔ وہ رکا

جی بیٹا بولو۔۔۔ صدیق صاحب خود پریشان ہو گئے

انکل ہو سکتا ہے کہ ذائشہ کو آحل کے بارے میں کوئی خبر ہو۔۔۔ ریحان ہچکچاتا ہوا بولا

ذائشہ کو۔۔۔ صدیق صاحب پریشان ہوئے۔۔۔

اچھا بیٹا آپ اندر آؤ میں ذائشہ سے پوچھتا ہوں۔۔۔انہوں نے ریحان کو اندر آنے کا کہا تو ریحان قدم بڑھاتا اندر داخل ہوا

ذائشہ اس دن کے بعد سے بستر پر پڑی تھی اس کو پھر سے شدید بخار ہو گیا تھا ان تین دنوں میں وہ کافی حد تک کمزور نظر آرہی تھی۔۔۔

ذائشہ بیٹا۔۔۔ صدیق صاحب اسے پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے

ذائشہ نے دھیمے سے آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھا۔۔۔

رخسانہ نے صدیق صاحب کو کسی انجان لڑکے کو گھر میں داخل ہونے کا کہا تھا تو وہ اب ان سے پوچھنے کے لیے ان کے پیچھے ذائشہ کے کمرے میں آئی۔۔۔

ذائشہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ آحِل کہاں ہے یا تمہاری اس سے کوئی بات ہوئی ہو۔۔۔

ذائشہ نے اپنے باپ کا پریشان چہرہ نوٹ کیا۔۔۔

ل۔۔۔لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں کیا ہوا۔۔۔ وہ آہستہ آواز میں بمشکل بولی اس وقت بخار کی شدت سے اس کا جسم ٹوٹ رہا تھا

صدیق صاحب اس کے بیڈ پر اس کے پاس جگہ بناتے ہوئے بیٹھے اور رخسانہ خاموشی سے ان کی بات دھیان سے سن رہی تھی۔۔۔

بیٹا دراصل آحل کا دوست آیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ آج تیسرا دن ہے اور آحِل لا پتہ ہے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے اسے ڈھونڈنے کی مگر اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔۔۔

وہ پریشانی سے ماتھا پکڑتے ہوئے بولے آخر کیوں نہ ہوتے پریشان انہوں نے تو ذائشہ کے لیے آحل کے ساتھ پتہ نہیں کیا کیا خواب دیکھ رکھے تھے۔۔۔

ذائشہ آحل کے لا پتہ ہونے کا سن کر پریشان ہوئی مگر جیسے ہی اس کے ذہن میں آحِل کی حقیقت یاد آئی تو وہ اپنے آپ کو باپ کے سامنے رونے سے روک نہ سکی۔۔۔

ذائشہ نے رونا شروع کر دیا تو رخسانہ بھی اس کی طرف لپکی۔۔۔ صدیق اور رخسانہ دونوں بیٹی کو روتا دیکھ کر پریشان ہوئے

ذائشہ میرے بچے کیا ہوا بتاؤ رو کیوں رہی ہو۔۔۔ صدیق صاحب نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

ذائشہ مسلسل رو رہی تھی اس میں بولنے کی ہمت نہ تھی۔۔۔ رخسانہ نے اپنی بیٹی کو روتا دیکھ کر خود بھی رونا شروع کر دیا کیوں کہ وہ پہلے ہی اس کے شدید بیمار ہونے کی وجہ سے پریشان تھی۔۔۔

ذائشہ کیوں رو رہی ہو بتاؤ میری بیٹی کیا ہوا ہے آحِل کی طرف سے کوئی بات ہے کیا۔۔۔ رخسانہ ذائشہ کا نم چہرہ اپنے دوپٹے سے صاف کرنے لگی

ریحان صدیق صاحب کے آنے کا انتظار کر رہا تھا وہ پہلے ہی پریشان تھا اور صدیق صاحب ابھی تک نہیں آئے وہ اٹھا اور ساتھ والے کمرے سے آواز سن کر رکا۔۔۔

امی آحِل۔۔۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوئے اتنا ہی بول پائی

ہاں بتاؤ بیٹا کیا بات ہے تمہارے ماں باپ تمہارے پاس ہیں۔۔۔ صدیق صاحب بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولے

ابو آحِل نے مجھے دھ۔۔۔دھوکہ دیا ہے وہ۔۔۔ وہ ایک عیاش لڑکا ہے۔۔۔ اتنا بول کر وہ اب زاروقطار رونے لگی

ریحان کے ذائشہ کی بات سن کر پیروں تلے زمین نکلی۔۔۔ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ ذائشہ کو یہ سب بتانے والا کون شخص ہے

دھوکے والی بات سن کر صدیق اور رخسانہ دونوں ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

مگر ذائشہ کیسے وہ تو تم سے شادی کرنا چاہتا ہے نا۔۔۔ رخسانہ نے پوچھا

امی ا۔۔۔اس کا ماضی بہت گھٹیا ہے وہ ایک نفس پرست انسان ہے م۔۔۔میں اس کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی۔۔۔ وہ ٹوٹتے جسم کے ساتھ روتے ہوئے بمشکل بول پائی تھی

ریحان کو اس کی حالت دیکھ کر اس پر ترس آنے لگا مگر آحِل کا سوچتے ہی وہ پریشان ہوا کیوں کہ آحِل ذائشہ سے جنون کی حد تک عشق کرنے لگا تھا اگر ذائشہ کا یہ حال تھا تو آحِل کا کیا حال ہو گا یہ سوچ کر اس کا سانس رکنے کو آیا۔۔۔

رخسانہ تو رو ہی رہی تھی مگر اب صدیق صاحب کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی کتنی تکلیف سے گزر رہی تھی ان کی بیٹی اور وہ بے خبر تھے۔۔۔

ریحان قدم بڑھاتا اندر داخل ہوا۔۔۔ ذائشہ میں جانتا ہوں آپ کو معلوم ہے آحِل کہاں ہے آخری بار کہاں ملی تھیں آپ اس سے پلیز بتا دیں آئے ایم شؤر کے وہ ٹھیک نہیں ہے اس کے ساتھ ضرور کچھ غلط ہوا ہے۔۔۔

ریحان بول رہا تھا اور ذائشہ سمیت رخسانہ اور صدیق صاحب بھی اس کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

ایک تو آحِل نے میری بچی کو دھوکہ دیا دوسرا تم اس سے ہی پوچھ رہے ہو آحِل کہاں ہے وہ ٹھیک نہیں ہو گا۔۔۔ صدیق صاحب تلخ لہجے میں بولے

انکل ایک بات میں آپ سب کو کلئیر کر دوں۔۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ آحل ماضی میں غلط تھا لیکن جب سے ذائشہ اس کی زندگی میں آیی ہے وہ ایسے بدلا ہے کہ کبھی کبھی ہم اس کی باتوں سے حیران رہ جاتے ہیں وہ ذائشہ سے محبت نہیں عشق کرتا ہے اور ذائشہ کی باتیں سن کر میں شؤر ہوں کہ اس وقت وہ ٹھیک نہیں ہے ان تین دنوں میں اس نے اپنے آپ کے ساتھ ضرور کچھ غلط کیا ہے۔۔۔

ذائشہ میں تمہارے آگی ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں مجھے بتا دو آخری بار تم دونوں کہاں ملے تھے۔۔۔ وہ اپنے دوست کی خاطر واقع ہی ہاتھ جوڑ کر کھڑا تھا۔۔۔

ذائشہ ریحان کی باتیں سن کر آحل کے بارے میں پریشان ہوئی مگر اس کا ماضی یاد کر کے پھر سے دل مظبوط کیا۔۔۔

وہ مجھے کسی گھر میں لے کر گیا تھا ش۔۔۔شاید اس کا پرسنل گھر۔۔۔ وہ بول کر نظریں جھکا گئی

ریحان ایک منٹ ضائع کیے بغیر وہاں سے نکلا اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا کہ آخر اس کے زہن میں آحِل کا پرسنل ہاؤس کیوں نہیں آیا۔۔۔

🔥
🔥
🔥

آحِل کو آج تیسرا دن تھا وہ بھوکا پیاسا شدید بخار میں تپتا اسی جگہ پر لیٹا ہوا تھا جہاں ذائشہ کے جانے کے بعد وہ چینخ چینخ کر رویا تھا۔۔۔

اس کی حالت مرنے کے قریب تھی وہ کئی بار بے ہوش ہو چکا تھا پھر خود ہی ہوش میں آجاتا۔۔۔ مگر اس میں حرکت کرنے کی ہمت نہ تھی یا شاید وہ خود ہی زندہ نہیں رہنا چاہتا تھا وہ مرنا چاہتا تھا۔۔۔

ذائشہ کو پانا اب ناممکن تھا اور وہ اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

اس نے نیم بے ہوشی کی حالت میں کئی بار ذائشہ کا نام پکارا مگر وہ اب جا چکی تھی شاید ہی اس کی زندگی میں واپس لوٹتی۔۔۔ آخر آحِل نے بھی کوئی چھوٹی موٹی غلطی نہیں کی تھی اس نے گناہ کیا تھا وہ بھی کبیرہ گناہ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *