Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 09)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 09)
Madhoshi by Mirha Kanwal
باہر کا موسم بھی پرسکون کو چکا تھا اور اندر پیار کے پنچھی بھی۔۔۔
بلال شرٹ لیس بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اور ماہاویرا اس کے کندھے پہ سر رکھے اس کے سینے کے بالوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی۔۔۔
بلال نے ماہا کی پیشانی سے بال ہٹائے اور اپنے لب رکھے۔۔۔
ماہاویرا کو آج پتہ چل رہا تھا شرمانا کسے کہتے ہیں اس نے آنکھیں بند کیں اور بلال کے سینے پہ بازو سے باڑ کرتی ہوئی شرمانے لگی۔۔۔
میری وائف تو آج شرما بھی رہی ہے۔۔۔ بلال نے اسے چھیڑا
ماہاویرا نے بلال کے سینے پہ آہستہ سے پنچ مارا۔۔۔
بلال نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
ایک بات کہوں۔۔۔
ہمم کہو۔۔۔ ماہا مسکراتے ہوئے بولی
آئے لوّ یو مائے وائف بلال کہتے ہوئے اس پہ جھکا اور اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو لیا۔۔۔
ماہاویرا اس کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔
اب وہ اپنی پہلے والی پوزیشن میں آچکا تھا۔۔۔
تم پیار نہیں کرتی اپنے ہسبینڈ سے۔۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے ماہاویرا کی طرف دیکھا
بلکل نہیں۔۔۔ماہا نے شرارت سے کہا تو بلال دیکھتا رہ گیا
چلو کبھی تو مانو گی۔۔۔ اس نے کہتے ہوئے ماہا کو ہگ کیا
بلال ایک بات پوچھوں۔۔۔۔
ہاں پوچھو۔۔۔ بلال نے جواب دیا
تمہاری فیملی کہاں ہے۔۔۔ ماہا کے اچانک سوال پر
بلال کی آنکھوں کا رنگ بدلا جو کہ ماہا دیکھ نہیں پائی۔۔۔
ایک ایکسیڈینٹ میں دنیا چھوڑ گئے۔۔۔ وہ سرد لہجے میں بولا
کیا۔۔۔ ماہا کو حیرت کا جھٹکا لگا اور اٹھ کر بلال کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
بلال کے چہرے پہ دکھ واضح ہوا۔۔۔
آئم سو سوری مجھے نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔۔۔
کوئی بات نہیں میرے بارے میں جاننا تمہارا حق ہے۔۔۔
ماہاویرا نے بلال سے یہ بھی پوچھنا تھا کہ وہ کام کیا کرتا ہے مگر اس کے پیرینٹس کی موت کا سن کر اسے خود بھی دکھ ہوا اور بلال سے اب مزید سوال کرنا مناسب نہیں تھا۔۔۔
ماہا اپنے گرد چادر لپیٹتے ہوئے اٹھنے لگی۔۔۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔ بلال کو اس کا اٹھنا اچھا نہیں لگا
شام ہونے والی ہے مجھے گھر جانا ہے ڈیڈ پریشان ہو جاتے ہیں۔۔۔
اوکے۔۔۔ بلال نے کہا
ماہا دس منٹ میں ریڈی ہو کر گھر کے لیے نکل گئی



ذائشہ نے اپنے کمرے میں بیٹھ کر گفٹ پیک کھولنا شروع کیا۔۔۔
اتنا پیارا موبائل دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔۔۔
یہ تو بہت مہنگا ہو گا انہوں نے کیوں لے کے دیا۔۔۔ وہ خود کلامی کرتے ہوئے سوچ میں پڑ گئی کہ اچانک موبائل رنگ ہوا
اس نے نمبر دیکھا تو آحِل کا تھا اس نے ہچکچاہٹ سے کال ریسیو کی۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ آحِل کی طرف سے آواز آئی
وعلیکم السلام۔۔۔ ذائشہ آہستگی سے بولی
کیسا لگا گفٹ۔۔۔
بہت پیارا۔۔۔ لیکن یہ بہت مہنگا ہو گا میں یہ نہیں رکھ سکتی۔۔ اس نے ہچکچاہٹ سے کہا
گفٹ واپس نہیں کرتے پاگل لڑکی۔۔۔
ذائشہ خاموش ہوئی۔۔۔
لیکن میں امی ابو کو کیا جواب دوں گی آپ نے مجھے اتنا مہنگا موبائل کیوں لے کر دیا۔۔۔ وہ پریشان ہوئی
انہوں نے کچھ کہا تو مجھے بتانا میں ان سے بات کر لوں گا
ٹھیک ہے۔۔۔ ذائشہ بولی
کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی چھائی
ذائشہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔
جی کہیں۔۔۔
مجھے یہ کہنا تھا کہ میں تم سے۔۔۔
آحِل رکا تو ذائشہ کی ہتھیلیاں نم ہونے لگیں
میں تم سے یہ بات فون پر صرف اس لیے کر رہا ہوں تا کہ تم نارمل فیل کرو اگر آمنے سامنے یہ بات کرتا تو شاید تمہاری حالت غیر ہو جاتی۔۔۔
مگر اسے کیا پتہ تھا ذائشہ کی حالت اب بھی غیر ہو رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر خاموشی چھائی۔۔۔
میں تمہیں چاہنے لگا ہوں ذائشہ میں نے آج تک کسی بھی لڑکی کے لیے ایسا محسوس نہیں کیا جیسا تمہارے لیے کرتا ہوں تم دل بن کر میرے سینے میں دھڑکنے لگی ہو۔۔۔
شروع میں میں نے اپنے دل کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا دل کے ہاتھوں جب جب مجبور ہوا تمہیں دیکھنے تمہارے گھر چلا آیا اب مجھ سے تمہارے بغیر نہیں رہا جاتا۔۔۔
ذائشہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی اس کے پسینے چھوٹنے لگے وہ اس سے اظہارِ محبت کر رہا تھا۔۔۔
کیا تم۔۔۔ میری بیوی بننا پسند کرو گی
آحِل کے بولنے کی دیر تھی ذائشہ نے کال ڈسکنیکٹ کر کے تکیے کے نیچے موبائل رکھا اور چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔
وہ تیز تیز سانس لے رہی تھی اس کا دل سمبھلنے نہیں سمبھل رہا تھا
وہ اٹھی اور ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اپنے اندر انڈیلنے لگی
اففف یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ۔۔۔ اس نے اپنا سر پکڑتے ہوئے کہا
اس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر تھپکیاں دینی شروع کیں آحِل کی باتیں ابھی تک اس کے کانوں کو سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
ادھر ذائشہ کے کال بند کرنے پر آحل مسکرایا وہ جانتا تھا اس کی حالت غیر کو چکی ہے مگر یہ اظہار بھی تو اس کے لیے بہت ضروری تھا اب وہ ذائشہ کے بغیر رہنا اس کے لیے ناممکن سا ہو رہا تھا وہ جلد از جلد اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا



فاریہ کی برتھ ڈے کو گزرے آج تین دن ہو چکے تھے۔۔
ان تین دنوں میں وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی اس کے پیرینٹس نے لاکھ لاڈ پیار سے پوچھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن وہ کسی کو نہیں بتا رہی تھی۔۔۔
وہ اپنا کمرہ لاک کیے موبائل پر آحل کی تصویر حسرت سے دیکھ رہی تھی جب اس کا موبائل رنگ ہوا۔۔۔
سکرین پہ ریحان کا نمبر تھا۔۔۔
وہ ان تین دنوں میں اسے کئی بار کالز اور میسیجز کر چکا تھا جس میں سے ایک کا بھی فاریہ نے جواب نہ دیا۔۔۔
اس بار فاریہ نے کال ریسیو کی۔۔۔
ہیلو فاریہ۔۔۔ ریحان کی آواز میں بے چینی تھی۔۔۔
فاریہ موبائل کان کو لگائے خاموش رہی۔۔۔
فاریہ کیا تم مجھے سن رہی ہو۔۔۔
فاریہ کی طرف سے پھر کوئی جواب نہ آیا۔۔۔
میں تین دن سے ملسل تم سے کانٹیکٹ کر رہا تھا تم ریسپونس کیوں نہیں دے رہی تھی۔۔۔
فاریہ خاموش رہی۔۔۔
فاریہ مجھ سے بات کرو پلیز یار ایسے مت کرو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔
تمہیں تکلیف کیوں ہوتی ہے ریحان۔۔۔ وہ آہستگی سے بولی
کیوں کہ مجھے تمہاری فکر ہے ہم سالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں تمہیں یہ بات بتانے کی مجھے ضرورت ہے کیا۔۔۔ وہ تنگ اکر بولا
سالوں سے تو آحِل بھی ہمارے ساتھ ہے اسے میری فکر کیوں نہیں اسے تکلیف کیوں نہیں ہوتی۔۔۔ وہ بولی تو اس کی آنکھوں کی باڑ توڑ کر دو آنسو رخسار پر پھسلنے لگے
فاریہ میں تمہیں کیسے سمجھاؤں ہم جو چاہیں ضروری نہیں کہ وہی ہو۔۔۔
لیکن میں جو چاہتی ہوں میں وہ کر کے رہوں گی ریحان آحل صرف میرا ہے صرف فاریہ کا۔۔۔ وہ عزم سے بولی
فاریہ مجھے تمہارے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے پلیز کچھ غلط مت کرنا یار۔۔۔ ریحان اب صحیح معنوں میں پریشان ہوا تھا۔۔۔
فاریہ کے لب درد سے مسکرائے اور وہ کال ڈسکنیکٹ کر گئی۔۔۔
ریحان سر پکڑ کر رہ گیا



ماہاویرا لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب سلطان صاحب کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔۔۔
ڈرائیور نے گیٹ کھولا انہوں نے گاڑی پارک کی اور گھر کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئے۔۔۔
کیسی ہے میری گڑیا۔۔۔ سلطان صاحب آتے ماہا کے پاس بیٹھے اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیا
میں ٹھیک ہوں ڈیڈ آپ کیسے ہیں۔۔۔
آج آفس میں کام زیادہ تھا ٹھکاوٹ ہو گئی ہے۔۔۔ سلطان صاحب کندھوں کو ہاتھ سے دباتے ہوئے بولے
ڈیڈ میں آپ کے کندھے دبا دیتی ہوں نا۔۔۔ وہ اٹھی اور صوفے کے پچھلی جانب کھڑی ہو گئی۔۔۔
ارے ماہا بیٹا نہ کرو میں پین کلر لے لوں گا۔۔۔
نو ڈیڈ آج مجھے آپ کی خدمت کرنے دیں۔۔۔ وہ ان کے کندھے دباتی ہوئی بولی
کس لیے ہو رہی ہے ڈیڈ کی خدمت۔۔۔سلطان صاحب مسکراتے ہوئے پوچھا
افف ڈیڈ تو آپ کیا سمجھتے ہیں میں اپنا کوئی مطلب نکالنے کے لیے ہی آپ کی خدمت کروں گی آپ میرے ڈیڈ ہیں میرا فرض بنتا ہے
کیا بات ہے گڑیا آج لگ رہا ہے میری بیٹی بڑی ہو گئی ہے۔۔۔ سلطان صاحب بولے تو ماہا شرما گئی
لیں نہیں دباتی خود ہی پین کلر کھائیے گا۔۔۔ وہ منہ بناتی واپس ان کے ساتھ آکر بیٹھ گئی
سلطان صاحب پیار سے اس کے سر پر تھپکی لگائی
کل شام ہمیں تمہارے فاروق انکل کے گھر ڈنر پہ جانا ہے۔۔۔
ماہاویرا کو اس رات کی بات یاد آنے لگی جب اسے ڈھیروں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا
ڈیڈ میں نہیں جاؤں گی آپ خود جائیں میں اور شرمندہ ہونا نہیں چاہتی۔۔۔ وہ ناراضگی سے بولی
مگر بیٹا فاروق نے تمہارا سپیشلی کہا ہے میں کیسے اکیلا چلا جاوں۔۔۔
نو ڈیڈ میں نہیں جاؤں گی بس کہہ دیا۔۔۔ وہ ضدی بنی
ماہا بیٹے دیکھو ابھی تم پاپا کی اچھی بیٹی بن کر خدمت کر رہی تھی اور اب بات ماننے سے انکار کر رہی ہو ایسے تو نہیں کرتی نا اچھی بیٹیاں۔۔۔ انہوں نے ماہا کو فل ایموشنل بلیک میل کیا
تو ٹھیک ہے میری بھی ایک شرط ہے۔۔۔
وہ کیا۔۔۔ سلطان صاحب جھٹ سے بولے
میں وہاں ویسے جاؤں گی جیسے میں حقیقت میں ہوں مجھے بلکل بھی فیک نہیں بننا۔۔۔
مگر بیٹا وہ کیا سوچیں گے اس دن کیسے تھی اور اب کیسے ہے۔۔۔ سلطان صاحب پریشان ہوئے
ڈیڈ انہوں نے جو بھی سوچنا ہوا یا انہوں نے کچھ کہا تو یہ سنبھالنا میری ذمہ داری ہے آپ بے فکر رہیں۔۔۔
سلطان صاحب خاموش ہوئے
سوچ لیں ڈیڈ آپ کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ۔۔۔۔ ماہا بولی تو سلطان صاحب مسکرا دیے
جیسے میری گڑیا کی مرضی۔۔۔ انہوں نے ماہاویرا کی شرط مان لی
تو ٹھیک ہے میں جا کر اپنے لیے ڈریس سلیکٹ کرتی ہوں آپ فریش ہو کر آئیں پھر مل کر ڈنر کرتے ہیں۔۔۔ وہ صوفے سے اٹھتی ہوئی بولی
اوکے پاپا کی گڑیا۔۔۔ وہ اٹھے اور اپنے کمرے کی طرف چل دیے۔۔۔



رخسانہ اور صدیق صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے تھے جب ذائشہ ان کے پاس آئی۔۔۔
صدیق صاحب نے اپنی بیٹی کے چہرے پے پریشانی نوٹ کی۔۔۔
ذائشہ بیٹے کوئی پریشانی والی بات ہے کیا۔۔۔ صدیق بولے تو رخسانہ نے بھی یہی سوال کیا
امی ۔۔۔ابو میں نے آپ کو کچھ بتانا ہے۔۔۔ ذائشہ بمشکل بول رہی تھی۔۔۔
کیا بتانا ہے ذائشہ بتاؤ بھی۔۔۔ رخسانہ بولیں
اوہو رخسانہ بچی پہلے پریشان ہے تم پریشر تو نہ ڈالو اس پر وہ بتانے کے لیے آئی ہے تو بتا دے گی۔۔۔ صدیق نے رخسانہ کو ٹوکا
ٹھیک ہے اب یہ تم باپ بیٹی کا معاملہ ہے میں چپ ہوں۔۔۔
ذائشہ صدیق صاحب کے پاس ان کی چارپائی پر آکر بیٹھی
ابو یہ۔۔۔ وہ موبائل دوپٹے سے نکالتے ہوئے بولی
اتنا مہنگا موبائل یہ کہاں سے آیا۔۔۔
ابو یہ مجھے آحِل نے دیا ہے آج کالج سے انہوں نے مجھے پک بھی کیا تھا تبھی موبائل دیا۔ ۔۔ وہ پریشانی سے رک رک کر بول رہی تھی۔۔
اتنا مہنگا موبائل دیکھ کر رخسانہ بھی حیران ہوئی کیوں کہ انہوں نے چھوٹے موبائل کے علاوہ کوئی اور موبائل کبھی استعمال ہی نہیں کیا تھا۔۔۔
تو بیٹا تمہیں اس سے نہیں لینا چاہیے تھا۔۔۔ صدیق صاحب بولے
ابو انہوں نے گفٹ پیک میں دیا تھا اس لیے مجھے نہیں پتا تھا کہ کیا ہو گا اس میں میں نے انکار بھی کیا مگر وہ نہیں مانے۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا تم موبائل لو اور اپنے کمرے میں جاؤ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ٹھیک ہے۔۔۔ صدیق صاحب نے ذائشہ کو پرسکون کرنے کے لیے کہا
جی ابو۔۔۔ وہ کہتی ہوئی اٹھی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی
صدیق صاحب اتنا مہنگا گفٹ اس نے کیوں دیا ذائشہ کو۔۔۔
وہی بات ہے رخسانہ جو میں تم سے کہتا تھا یہ لڑکا جلد ہی اپنے گھر والوں کو ہمارے گھر لے کر آئے گا ہماری ذائشہ کا ہاتھ مانگنے۔۔۔ صدیق صاحب خوش ہوتے بولے تو رخسانہ بھی سوچ میں پڑ گئی
دروازے کے باہر کھڑی زائشہ نے بھی ان کی بات سنی اور مسکراتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔



فاروق ہمدانی آفس سے آئے تو شہروز کو لاؤنج میں اپنی دادو کے گھٹنوں میں سر رکھے بیٹھے دیکھا۔۔۔
کیا بات یے دن بہ دن پیار بڑھ رہا ہے دادی پوتے میں۔۔۔
پیار تو بڑھے گا میرا فرمانبردار پوتا ہے تیری طرح تھوڑی ہے جس نے کبھی جینا مرنا نہیں پوچھا تھا۔۔۔ دادو فاروق صاحب کو تانا دیتے ہوئے بولی
فاروق صاحب شرمندہ ہو کر رہ گئے۔۔۔ ان کی بیچاری شکل دیکھ کر شہروز اپنی ہنسی دبانے لگا۔
ہائے میرے کتنے خواب تھے کہ میں اپنی پسند کی بہو ڈھونڈوں گی پھر اس سے اپنی زندگی کے سو دکھ سکھ کروں گی کبھی کبھار مزاح کے لیے تھوڑی نوک جھوک بھی کر لوں گی مگر تیرے اس نکمے باپ نے میرے سارے خوابوں پہ پانی پھیر دیا۔۔۔
ارے میری پیاری دادو آپ دل چھوٹا کیوں کرتی ہیں آپ اپنا یہ خواب اپنے اس ہینڈسم پوتے پہ پورا کر لینا۔۔۔میرے لیے اپنی پسند دلہن لانا اب آپ خوش ہیں
ہیں سچی پتر تو صحیح کہہ رہا ہے۔۔۔ دادو کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ان کا خواب جو حسرت بن کر ان کے دل میں رہ گیا تھا اب پورا ہو سکتا ہے۔۔۔
جی میری پیاری دادو میں بلکل سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ وہ ان کا ہاتھ چومتے ہوئے بولا
دادو نے خوشی سے شہروز کا ماتھا چوما اور فاروق کی طرف غصے سے دیکھا۔۔۔
فاروق صاحب اب اپنی ہی بات کرنے پر پچھتا رہے تھے۔۔۔
شہروز آج شام کو کہیں جانا نہیں۔۔۔ فاروق کو یاد آیا تو بولے
کیوں پاپا کوئی کام ہے مجھ سے۔۔۔
ارے نہیں آج شام ہمارے گھر سلطان اور ان کی بیٹی ہے ان وائٹڈ ہیں تمہارا ہونا بھی ضروری ہے۔۔۔
جانے کیوں شہروز کو ماہاویرا کے آنے کا سن کر خوشی ہوئی۔۔۔
کتنے بجے آرہے ہیں وہ لوگ۔۔۔ شہروز نے پوچھا
دو گھنٹوں تک پہنچ جائیں گے میں ذرا ملازمہ کو بتا دوں شام کا مینیو۔۔۔ فاروق کہتے ہوئے اٹھے
ان کے جاتے ہی شہروز مسکرایا تو دادو نے اسے کان سے پکڑا۔۔۔
کیا سوچ کے مسکرایا جا رہا ہے۔۔۔
اففف دادو کوئی بات نہیں ہے کان چھوڑیں نا۔۔۔ ماہاویرا کے خیالوں میں وہ بھول ہی گیا تھا کہ اس کی دادو اس کے پاس بیٹھی ہیں۔۔۔
آج آرہی ہے نا وہ۔۔۔ دادو نے اسے چھیڑا
ارے دادو کون آرہی ہے۔۔۔ شہروز معصوم سا منہ بنا کر بولا
چل دادی کو بے وقوف سمجھتا ہے۔۔۔ وہ اس کا کام چھوڑتے ہوئے بولی
جی دادو بس ایک ہی بار ملا ہوں اس سے جب پاپا کے ساتھ ڈنر پہ گیا تھا اس کے گھر۔۔۔شہروز نے مسکرا کر دادو کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
کیسی لگی مجھے بھی تو بتاؤ۔۔۔ دادو ایکسائٹڈ ہوئی
بہت پیاری دادو جیسے کوئی پرستان کی پری ہو انتہائی معصوم اور بے حد خوبصورت۔۔۔ وہ کہتا ہوا کھو سا گیا
بس جلدی سے رات ہو تا کہ میں اپنی ہونے والی بہو کو دیکھ سکوں۔۔۔
مگر دادو آپ اس سے ابھی کچھ مت کہنا۔۔۔ وہ انہیں سمجھاتا ہوا بولا
ارے چل میں تو سوالوں کی لسٹ بنا کر رکھتی ہوں مجھے سگڑ بہو چاہیے جسے کھانا بنانا آتا ہو گھر سمبھالنا آتا ہو اپنے شوہر کے ساتھ باقی گھر والوں کا بھی خیال رکھے۔۔۔ دادو ایک ایک بات انگلی پر نوٹ کرتے ہوئے بولی
لیکن دادو پلیز آج کچھ نہ پوچھنا اس سے اسے تو معلوم بھی نہیں مجھے وہ پسند ہے۔۔۔
چل ٹھیک ہے تو کہتا ہے تو کوئی سوال نہیں کرتی۔۔۔ وہ خفا سی بولی
میری پیاری دادو آپ ناراض مت ہوں باقی آپ جیسا چاہتی ہیں ویسا ہی ہو گا۔۔۔ وہ لاڈ سے ان کے گلے لگتے ہوئے بولا تو دادو مسکرا دی
