Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 18)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 18)
Madhoshi by Mirha Kanwal
ذائشہ نے آحل کو سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔۔۔ کیا تھا آحِل اور اب کیا حالت ہو گئی تھی اس کی۔۔۔
ریحان نے سلطان صاحب کو باہر چلنے کا اشارہ کیا تو وہ دونوں کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔
ذائشہ آحل کے قریب پڑی کرسی پر بیٹھ گئی اس کی نظریں مسلسل آحِل کے بے رونق چہرے کو تک رہی تھیں۔۔۔
ذائشہ کی خود کی حالت بہت خراب تھی مگر آحِل کی پریشانی میں وہ اپنا آپ بھلا بیٹھی۔۔۔
اس نے چادر سے اپنا گرم کپکپاتا ہاتھ باہر نکالا اور آحِل کی طرف بڑھایا۔۔۔
آحِل کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہی وہ باآواز رونے لگی خود پر قابو پانا اس کے لیے ناممکن ہو چکا تھا۔۔۔ اس نے آج پہلی بار آحِل کو چھوا تھا
آحِل۔۔۔ وہ ایک سسکی کے ساتھ سرگوشی نما بولی
اس کا دل اس تکلیف کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا اس نے دوسرے ہاتھ میں اپنا نم چہرہ چھپایا اور سسکیوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔۔
آ۔۔۔آحل میں آگئی ہوں آ۔۔۔آپ کے پاس پلیز اٹھ جائیں۔۔۔ وہ سسکیوں کے ساتھ بمشکل بول پائی تھی۔۔۔
کب اور کیسے وہ اسے اس قدر چاہنے لگی تھی اسے معلوم ہی نہ ہوا تھا۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ آحل کی پیشانی سے رخسار تک لائی۔۔۔ کتنا پیارا لگتا تھا یہ چہرہ جب مسکراتا تھا اور آج زندگی موت کے درمیان خاموش تھا ذائشہ نے یہ سوچتے ہوئے بہتی آنکھوں کے ساتھ اس کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ جو اس کی جان کو آیا ہوا تھا خود اس کی جان بن گیا تھا۔۔۔
آحِل م۔۔۔میں نے آپ کو معاف کیا پلیز آ۔۔۔آپ لوٹ آئیں میں آ۔۔آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکوں گی۔۔۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ روتی بمشکل بول رہی تھی۔۔۔
ذائشہ نے اپنا ہاتھ اس کی رخسار سے ہٹا کر آحل کا بے جان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔
اب وہ آنکھیں بند کیے رو رہی تھی اس کے آنسو ٹپ ٹپ کر کے اس کے ہاتھ پر گرنے لگے۔۔۔
اب اس کے لیے کچھ بولنا ناممکن تھا شاید اس کا دل رو رو کر خود کو سکون پہنچانا چاہتا تھا۔۔۔
آحِل کی پکڑ میں مظبوتی آئی ذائشہ نے فوراً آنکھیں کھولیں۔۔۔
آحِل آحِل وہ بے ساختہ اس کا نام پکارنے لگی۔۔۔
آحل نے دھیمے دھیمے اپنی نیلی آنکھیں کھولیں تو ذائشہ کا دندھلاتا چہرہ دکھائی دیا۔۔۔
اس کے ہوش میں آنے پر ذائشہ کے رونے میں اضافہ ہوا ساتھ ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔
آحِل کچھ دیر تک ناسمجھی کی حالت میں اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔ آہستہ آہستہ اسے سب یاد آنے لگا ذائشہ کا اسے چھوڑ جانا اس کا رونا اور چلاّنا اور پھر بے ہوش ہو جانا۔۔۔
آحِل کو یقین نہیں آرہا تھا اس کی محبت اس کے سامنے اس کا ہاتھ پکڑے بیٹھی اس کے لیے رو رہی ہے وہ تو سمجھ رہا تھا اب کبھی ذائشہ اس کی زندگی میں واپس نہیں آئے گی۔۔۔
ذا۔۔۔ئشہ
اس نے بمشکل اس کا نام پکارا۔۔۔
اپنا نام آحِل کے منہ سے سن کر ذائشہ کا دل چاہا وہ ساری عمر اسے پکارتا رہے اود یہ دل اس کی پکار سننے سے کبھی نہ بھرے۔۔۔
ج۔۔جی۔۔۔ اس نے روتے ہوئے آحِل کی پکار کا جواب دیا
اس کی آواز سنتے ہی آحِل نے اپنی آنکھیں بند کیں، نیلے سمندر سے کے ساحل سے پانی کے کچھ قطرے نکل کر اس کی کن پٹیوں پہ بہنے لگا۔۔۔
آحِل پ۔۔پلیز آپ روئیں مت آپ کی حالت نہیں ٹھیک۔۔۔ اس نے ہچکیوں کے ساتھ آحل کو سمجھایا
ذائشہ مجھ سے و۔۔۔وعدہ کرو کبھی چھ۔۔چھوڑ کر نہیں جاؤ گی۔۔۔ میں م۔۔مر جاؤں کا تمہارے بغیر۔۔۔ کمزوری کے باعث بمشکل بول رہا تھا۔۔۔
میں وعدہ کرتی ہوں میں کبھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔۔۔ اس نے آحل کے ہاتھوں کو مظبوتی سے تھام کر اسے اپنی بات کا یقین دلایا۔۔۔
آحل پیاسی نگاہوں کے ساتھ اسے دیکھنے لگا اس کی تیز گرم سانسوں کی آواز ذائشہ سن سکتی تھی۔۔۔
آحِل نے اس کے ہاتھ کو مظبوتی سے تھاما ہوا تھا جیسے اسے کھو دینے کا ڈر ہو۔۔۔
کتنی ہی دیر ذائشہ اس کے سامنے خاموشی سے بیٹھی آنسو بہاتی رہی اور آحِل کی آنکھیں اس کے چہرے کا طواف کرتی رہیں۔۔۔
اس کے اندر تک سکون پہنچ رہا تھا جیسے اس کے جسم کا ایک ایک عضو خود صحت یاب ہو رہا ہو۔۔۔
ذائشہ نے اپنا ہاتھ آحِل کے ہاتھوں سے نکالنا چاہا تو آحِل نے اپنی گرفت سخت کی۔۔۔
وہ دوسرے ہاتھ سے آحل کی بہتی نیلی آنکھوں کو صاف کرنے لگی۔۔۔
آحِل نے اپنے دوسرے ڈرپ لگے ہاتھ سے ذائشہ کا وہ ہاتھ پکڑا اور اپنے ہونٹوں پر رکھ کر اسے چوم لیا۔۔۔
اتنی پریشانی کی حالت میں بھی ذائشہ کا چہرہ سرخ ہوا۔۔۔
آحِل اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور ایک بار پھر اس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھے۔۔۔
کمرے میں اچانک ریحان داخل ہوا….



ماہاویرا گھر میں داخل ہوئی تو سلطان صاحب کو لاؤنج میں بیٹھے پایا۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی ان کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گئی
سلطان صاحب کو اس کے دوغلے پن سے تکلیف پہنچی۔۔۔ اگر وہ واقعی اپنے باپ سے محبت کرتی تھی تو یوں ان کی عزت کی دھچیاں نہ اڑاتی
ڈیڈ واٹ ہیپنڈ۔۔۔ ماہاویرا نے سلطان صاحب کو مسلسل خاموش دیکھ کر پوچھا
“انکل آپ ماہاویرا سے اس متعلق کچھ نہیں پوچھیں گے آپ کو ماہاویرا کے سامنے نارمل شو کرنا ہو گا” سلطان صاحب کے ذہن میں شہروز کی بات آئی۔۔۔
ہاں ماہا بیٹے بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ اس کی طرف بنا دیکھے بولے
ڈیڈ کیا ہوا طبیعت کو۔۔۔ ماہاویرا ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
کچھ نہیں بیٹا سر درد ہے آج آفس میں بہت کام تھا۔۔۔ انہوں نے بہانا بنایا
اوکے ڈیڈ آپ ریسٹ کریں بلکل ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ ماہاویرا فکر سے کہا
سلطان صاحب دکھی دل کے ساتھ اٹھے اور اپنے کمرے کا رخ کیا۔۔۔
ماہاویرا نے t.v آن کیا اور دیکھنے لگی۔۔۔






ذائشہ نے فوراً اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹایا اس نے دوسرا ہاتھ آحِل کے ہاتھ سے نکالنا چاہا تو آحِل کو یہ بات پسند نہ آئی اس نے اپنی گرفت کو مظبوت کیا تو ذائشہ نظریں جھکا گئی۔۔۔
ریحان آحِل کی طرف بڑھا۔۔۔
آحِل تمہیں ہوش آگیا۔۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا
وہ باہر کی طرف بھاگا اور سلطان صاحب کے ساتھ ماہاویرا کو بلانے لگا۔۔۔
اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر سلطان صاحب اور ماہاویرا کو معلوم ہو چکا تھا کہ آحِل کو ہوش آگیا ہے۔۔۔ وہ دونوں اندر کی طرف بھاگے
آحِل میرے بچے تمہیں ہوش آگیا۔۔۔ سلطان صاحب کی آنکھیں بھیگیں
بھائی۔۔۔ ماہاویرا نے روتے ہوئے آحِل کو پکارا
آحِل ان سب کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا
میں ٹھ۔۔ٹھیک ہوں ڈیڈ۔۔۔ وہ بولا تو سلطان صاحب اس کا ماتھا چومنے لگے
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے بچے کو ہوش آگیا۔۔۔
سلطان صاحب نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا
آحل نے ماہاویرا کی طرف دیکھا تو اس نے رو رو کر اپنی چھوٹی سی ناک سرخ کر رکھی تھی۔۔۔
ہیے گڑیا مت رو ٹھیک ہوں میں۔۔۔ اس کے کہنے کی دیر تھی ماہاویرا مزید رونے لگی
ذائشہ کے بھی ان سب کو روتا دیکھ کر پھر سے آنسو آنے لگے۔۔۔ ریحان نے بھاگ کر ڈاکٹر کو بلایا۔۔۔
ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوا تو سب کو باہر جانے کا کہا۔۔۔
سلطان صاحب نفل ادا کرنے کے لیے چلے گئے ماہاویرا اور ریحان نہ چاہتے ہوئے بھی کمرے سے باہر آگئے۔۔۔
ذائشہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی رہی مگر آحِل نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔۔۔
آپ بھی باہر جائیں ہمیں پیشینٹ کا چیک اپ کرنا ہے۔۔۔۔ نرس ذائشہ سے مخاطب ہوئی
ذائشہ کو ڈھیروں شرمندگی محسوس ہو رہی تھی سب باہر چلے گئے تھے اور وہ ابھی تک اپنی جگہ سے ہلی بھی نہ تھی۔۔۔
مگر آحِل تھا کہ اس کا ہاتھ آزاد کرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔
ڈاکٹر نے ذائشہ کی طرف دیکھا پھر اس کے ہاتھ کی طرف جو آحل نے مظبوتی سے تھاما ہوا تھا وہ خاموش ہوا اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔۔۔
ذائشہ شرم کے مارے سر جھکا کر بیٹھی رہی۔۔۔
آحِل کیسے اسے جانے دیتا وہ اسے چھوڑ کر گئی تھی تو وہ موت کے منہ تک پہنچ گیا تھا اب اس کے واپس آنے پر اسے ایک نئی زندگی ملی تھی اب وہ ایک منٹ بھی اسے اپنی نظروں سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
اس نے ذائشہ کے شرم سے رنگے چہرے کو دیکھا اور ہلکا سا ایک طرف مسکرایا۔۔۔



فاریہ۔۔۔
فاریہ اپنے کمرے میں سجی سنوری بیٹھی تھی جب اس کی ماما نے اسے آواز دی۔۔۔
آئی ماما۔۔ وہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی
لاؤنج میں صوفے پر ریحان کو بیٹھا دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔۔۔
ریحان تم یہاں۔۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا
ریحان خاموش رہا۔۔۔
فاریہ نے اپنی ماما کی طرف دیکھا تو وہ نہایت غصے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
ک۔۔۔کیا ہوا ماما آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں۔۔۔فاریہ ہڑبڑائی
انجان بننے کی زیادہ ایکٹنگ مت کرو میں نے تمہاری ماما کو ساری بات بتا دی ہے کہ تم نے اپنے بچپن کے دوست آحل کی پیٹھ پیچھے کیسے خنجر گھونپا ہے۔۔۔ ریحان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
کیا۔۔۔کیا کہہ رہے ہو میں نے کیا کیا ہے۔۔۔ اپنی ماما کو پتہ لگنے کے ڈر سے وہ حواس باختہ ہوئی
چٹاخ۔۔۔ فاریہ کی ماما دو قدم چلتے ہوئے اس کے قریب پہنچی اور ایک زور دار تھپڑ اس کے رخسار پر رسید کیا۔۔۔
فاریہ نے درد کی شدت سے اپنے رخسار پر ہاتھ رکھا۔۔۔
کیا یہی تربیت کی ہے میں نے تمہاری کہ تم دوسروں کی زندگیاں تباہ کرتی پھرو۔۔۔ وہ چلاّئی
فاریہ کے منہ کو چپ لگی وہ شرمندگی سے سر جھکائے کھڑی رہی۔۔۔
ابھی ریحان سے معافی مانگو اور ہوسپٹل جا کر آحِل سے بھی معافی مانگ کر آؤ جو تمہاری وجہ سے اس حالت میں ہے۔۔۔ اس کی ماما نے اپنا حکم سنایا
فاریہ نے نظریں اٹھا کر ریحان کی طرف دیکھا وہ آنکھوں میں ناپسندیدگی لیے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں نے کہا معافی مانگو۔۔۔ اس کی ماما ایک بار پھر چلاّئی
آ۔۔۔آئے ایم سوری ریحان۔۔۔ شرمندگی کے مارے فاریہ کے حلق سے یہ الفاظ بمشکل نکلے تھے
مجھے امید ہے کہ تم آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرو گی فاریہ۔۔۔
ریحان نے تلخ لہجے میں اس سے کہا اور سن گلاسز لگاتے ہوئے وہ باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔۔۔
فاریہ نے اپنے کمرے کا رخ کیا اور دروازہ لاک کیے فرش پر ٹیک لگائے بیٹھ گئی اپنی شکست پہ اس کی آنکھیں سرخ ہوئیں۔۔۔
ریحان۔۔۔
وہ زیرِلب بڑبڑائی



ماہاویرا فریش ہو کر واش روم سے نکلی اس نے وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ پہنی تھی۔۔۔
وہ ڈریسنگ میں کھڑی بال خشک کر رہی تھی جب اس کا فون رنگ ہوا۔۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا سکرین پر انجان نمبر تھا یہ کون ہے۔۔۔ماہاویرا نے خود کلامی کرتے ہوئے کال ریسیو کی۔۔۔
ہیلو۔۔۔ ماہاویرا بولی
ہائے کیسی ہو۔۔۔ شہروز مسکراتا ہوا بولا
سوری میں نے پہچانا نہیں آپ کو۔۔۔ کسی انجان شخص کا بے تکلف ہونا اسے عجیب لگا
پہچانو گی بھی کیسے ہم فرسٹ ٹائم تو کال پر بات کر رہے ہیں۔۔۔ شہروز نے کہا
وہ جو کوئی بھی تھا ماہاویرا کو برا لگا۔۔۔
آپ بتا رہے ہیں یا میں کال ڈسکنیکٹ کر دوں۔۔۔ وہ چڑ کر بولی
ہیے ویرا کال مت کاٹنا میں شہروز ہوں۔۔۔ وہ مسکرانے لگا
شہروز کا نام سن کر ماہاویرا کے ماتھے پر ڈھیروں بل آئے۔۔۔
آپ نے نمبر کہاں سے لیا میرا۔۔۔
نمبر لینا کونسا کوئی بڑی بات ہے بس لے لیا۔۔۔
جی بتائیں کیا بات کرنی تھی جس کے لیے کال کی۔۔۔ وہ سرد لہجے میں بولی
اچھا تو کال کرنے کے لیے وجہ کا ہونا ضروری ہے۔۔۔ اسے ماہاویرا کا چِڑنا اچھا لگا
ماہاویرا نے لمبا سانس کھینچ کر خود پر کنٹرول کیا۔۔۔ وہ خاموش رہی
ویسے عجیب بات ہے آپ کو مجھے کال کر کے میرا حال پوچھنا چاہیے تھا اور میں ہوں کہ خود کال کر رہا ہوں۔۔۔
ماہاویرا کو یاد آیا کہ ہوسپٹل کے بعد سے اس نے اب تک شہروز کی خیریت تو معلوم ہی نہیں کی تھی۔۔۔
کیسے ہیں آپ اب۔۔۔ وہ شرمندہ سی بولی
ہمم اب تو بلکل ٹھیک ہو چکا ہوں۔۔۔ وہ ماہاویرا کے شرمندہ ہونے پر مسکرایا
اوہ گڈ۔۔۔ وہ اتنا ہی بولی
مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ مجھ پر حملہ کرنے والا کون تھا۔۔۔
اس کی بات سن کر ماہاویرا کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔
اچھا واقعی ک۔۔۔کون تھا۔۔۔ وہ پریشان ہوئی
بلال خان۔۔۔
اس کے بولنے کی دیر تھی ماہاویرا نے بیڈ پر بیٹھ کر خود کو گرنے سے سمبھالا
اچھا وہ کون ہے۔۔۔ وہ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی
وہی سیریئل کلر جسکا میں نے بتایا تھا۔۔۔ وہ ماہاویرا کا بدلہ لہجہ نوٹ کر چکا تھا
اب پھر کیا کریں گے آپ۔۔۔ اس نے بات کو کریدا تا کہ شہروز کے ارادے جان سکے
کرنا کیا ہے اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالوں گا جرم کی دنیا سے اس کا نام و نشان مٹا دوں گا۔۔۔ وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا
ماہاویرا مزید پریشان ہوئی۔۔۔ ا۔۔اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے
ہاں بلکل اور مجھے اس کا ٹھکانہ بھی معلوم ہو گیا ہے دو گھنٹے بعد ریٹنگ کرنی ہے آج اسے رنگے ہاتھوں پکڑوں گا۔۔۔
ماہاویرا بیڈ سے اٹھی۔۔۔ اوکے شہروز ابھی میں کچھ مصروف ہوں پھر بات کروں گی۔۔۔ وہ بمشکل بولی اور کال ڈسکنیکٹ کی
ماہاویرا گلے میں سرخ سکارف پہنے ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر کی طرف بھاگی اسے جلد از جلد بلال کو بتانا تھا کہ دو گھنٹوں سے پہلے پہلے وہ کہیں بھاگ جائے۔۔۔
ماہاویرا نے گیٹ سے باہر گاڑی نکالی اور بلال کی طرف رخ کیا۔۔۔
شہروز ماہاویرا کے گھر کے کچھ فاصلے پر گاڑی میں بیٹھا اس سے کال پر بات کر رہا تھا اسے معلوم تھا کہ اگر وہ اسے بلال کے گھر ریٹنگ کرنے کی جھوٹی خبر بتائے گا تو ماہاویرا ضرور بلال کو بتانے کے لیے اس کی طرف جائے گی۔۔۔
شہروز نے سن گلاسز لگائے اور گاڑی ماہاویرا کی گاڑی کے پیچھے لگادی۔۔
