Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 11)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 11)
Madhoshi by Mirha Kanwal
ماہاویرا نے پوری رات ٹائم دیکھ کر گزاری اسے صبح ہونے کا انتظار تھا۔۔۔
جب سے شہروز جیسے نامحرم نے ماہا کو چھوا تھا اس کا شدت سے دل چاہ رہا تھا وہ بلال کے پاس جائے اور اسے کہے کہ وہ یہ رشتہ اب مزید نہیں چھپا سکتی آخر ایک نہ ایک دن تو یہ بات سب کو بتانی ہی ہے تو آج کیوں نہیں۔۔۔
صبح ہوتے ہی وہ فریش ہو کر اپنے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
سلطان صاحب ناشتے کی ٹیبل پر ماہاویرا کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
وہ کرسی کھینچ کر بیٹھی سلطان صاحب نے اس کے چہرے پر پریشانی نوٹ کی۔۔۔
کیا ہوا میری گڑیا کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔
جی ڈیڈ میں ٹھیک ہوں۔۔۔ ماہا آہستہ سے بولی
مجھے نہیں لگ رہا تم ٹھیک ہو آج یونی سے چھٹی کر لو اور ریسٹ کرو۔۔۔ وہ پریشان ہوتے بولے
ڈیڈ میں نے کہا نا میں ٹھیک ہوں اور میں یونی سے چھٹی نہیں کروں گی آج پریزینٹیشن ہے۔۔۔ اس نے اپنے ڈیڈ سے جھوٹ کہا تا کہ وہ اسے چھٹی کے لیے فورس نہ کریں
اوکے بیٹا۔۔۔ یونی میں اپنا خیال رکھنا
ماہا نے چائے کے ساتھ دو ٹوز کھائے اور کھڑی ہو گئی۔۔۔
اوکے ڈیڈ میں جا رہی ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا اللہ حافط
سلطان صاحب کو شک تو ہوا کہ ماہا کا رویہ ان کے ساتھ پہلے کبھی بھی اتنا پھیکا نہیں ہوا تھا مگر اس کی طبیعت کا سوچ کر نظرانداز کر گئے۔۔۔
ماہاویرا گھر سے گاڑی لے کر نکلی۔۔۔
اس کا رخ بلال کے گھر کی طرف تھا۔۔۔
وہ جلد از جلد بلال کے پاس پہنچنا چاہتی تھی۔۔۔
فل سپیڈ میں گاڑی چلا کر بیس منٹ میں وہ بلال کے علاقے میں موجود تھی۔۔۔
اس نے گاڑی کا ہارن بجایا تو اس کے آدمی نے گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھول کر دیکھا۔۔۔
ماہاویرا کو دیکھ کر اس نے جلدی سے گیٹ کھولا اور ماہا اپنی گاڑی لیے اندر داخل ہوئی۔۔۔
گاڑی سے نکل کر اس کا رخ وائیٹ ہاؤس کی طرف تھا۔۔۔
وہ اپنے بلیک لانگ شوز کے ساتھ قدم بڑھاتی ہوئی گیلری کراس کر چکی تھی۔۔۔
دروازہ کھول کر وہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئی۔۔۔
بلال اپنے کمرے میں کمفرٹر لیے سکون کی نیند سو رہا تھا۔۔۔
ماہا اس کے کمرے میں داخل ہوئی اور شوز اتار کر بلال کے کمفرٹر میں اس کے سینے سے لپٹ گئی۔۔۔
بلال کی نیند میں خلل پیدا ہوا اس نے آنکھیں کھول کر اپنے سینے سے لپٹی ماہاویرا کی طرف دیکھا۔۔۔
آج خیر ہے لگتا ہے میری وائف رات کو بہت مس کرتی رہی ہے اپنے ہسبینڈ کو اسی لیے صبح ہوتے ہی آگئی۔۔۔
وہ ماہا کے گرد بازؤوں کا گھیرا سخت کرتے ہوئے بولا
ماہاویرا خاموش رہی۔۔۔
بلال کو محسوس ہوا جیسے اس کے سینہ بھیگ رہا ہو۔۔۔
اس نے ماہاویرا کو پیچھے دھکیل کر اس کا چہرہ دیکھنا چاہا مگر ماہا نے بلال کے گرد گرفت کو سخت کیا شاید وہ نہیں چاہتی تھی کہ بلال اسے روتا ہوا دیکھے۔۔۔
ماہا میری جان۔۔۔ کیا ہوا ہے بتاؤ رو کیوں رہی ہو۔۔۔ وہ پیار سے پوچھتا ہوا اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
ماہاویرا خاموش رہی اسے ابھی رو کر اپنا دل ہلکا کرنا تھا۔۔۔
بلال کو معلوم ہو گیا کہ وہ ابھی نہیں بتائے گی اس نے ماہا کے سر پہ بوسہ دیا اور اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
پانچ منٹ بعد ماہا بولی۔۔۔
بلال۔۔۔
ہاں میری جان بولو۔۔۔ بلال نے پیار سے اسے جواب دیا
مجھے لگتا ہے کہ اب ہمیں میری فیملی کو اس رشتے کے بارے میں بتا دینا چاہئے۔۔۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔
پہلے مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے کل تک تو تم ایسی کوئی بات نہیں کر رہی تھی۔۔ بلال نے تجسس سے پوچھا
بس آج کر رہی ہوں نا۔۔۔ میں چاہتی ہوں سب کو بتا سکوں کہ میں شادی شدہ ہوں اور تم میرے شوہر ہو
تو ٹھیک ہے جب تم کہو گی میں تمہارے دیڈ سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ وہ ابھی بھی اس کے بالوں کو سہلا رہا تھا۔۔۔
ماہاویرا بلال کا جواب سن کر خوش ہوئی اور اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپانے لگی۔۔۔
بلال نے اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے پھر سے اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کی تو ماہا نے پھر سے اپنی گرفت سخت کر دی۔۔۔
مائے وائف کیوں ظلم کر رہی ہو اس خوبصورت چہرے کا دیدار تو کرنے دو۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا بولا تو ماہا شرما گئی
اس بار بلال نے ماہا کو خود سے الگ کیا تو ماہا نے اس کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔۔۔
اس نے ماہا کو سیدھا کیا اور کہنی ٹکائے اس کی طرف ٹک ٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔۔۔
ماہاویرا خود پر اس کی مسلسل پڑنے والی نظروں سے شرما گئی۔۔۔
بلال اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور اس کے ماتھے سے بال ہٹا کر اپنے لب رکھے۔۔۔
ماہاویرا نے اپنی نیلی آنکھوں کے دروازے بند کیے۔۔۔
اب وہ اس کے ہونٹوں کو اپنی آنکھوں پر محسوس کر رہی تھی۔۔
اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔
اب بلال کے لب اس کی رخساروں پر گردش کر رہے تھے۔۔۔
ماہا کو اس کی قربت سکون دے رہی تھی آخر کیوں نہ ایسے ہوتا وہ اس کا شوہر تھا ان دونوں کے درمیان مقدس رشتہ تھا۔۔۔
بلال پیچھے ہوا اور ماہا کے چہرے پر بھکرے حیا کے سرخ و گلابی رنگ دیکھنے لگا۔۔۔
ماہا نے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
نیلی آنکھیں گہری کالی آنکھوں کے ساتھ ملیں۔۔۔
ماہا نے بلال کی گردن میں پہنی چین کو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا تو اس کے ہونٹ درست نشانے پہ لگے۔۔۔
دونوں کی آنکھیں بند ہوئیں۔۔۔
بلال نے کمفرٹر اوڑھا تو وہ دونوں مکمل طور پر چھپ گئے۔۔۔
جزبات کے سمندر میں طوفان برپا ہوا تو لہروں سے لہریں ٹکرائیں۔۔۔
اک ایسی لذت تھی جو دنیا کے کسی بھی ذائقے میں نہ ملتی۔۔۔
اک مقدس سکون تھا جو وہ ایک دوسرے کی ذات سے حاصل کر رہے تھے۔۔۔۔
وہ لباس تھے ایک دوسرے کا۔۔۔اک مقدس لباس



خالی کمرے میں ایک کرسی کے ساتھ بندھا بلال کا آدمی وقاص گردن ڈھلکائے بے ہوش پڑا تھا۔۔۔
اس کے سر پہ کھڑا شہروز اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
کمرے میں اس کے ساتھ ایاز اسفند اور ٹیم کے میمبرز بھی موجود تھے۔۔۔
شہروز کو وقاص پر شک ہو گیا تھا کہ آخر یہ فقیر اس کے گھر کے گرد ہی کیوں منڈلاتا تھا اس نے دو تین دن وقاص پہ نظر رکھی اب اسے کنفرم ہو چکا تھا کہ یہ واقعی اس کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا ہے لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وقاص بلال کا آدمی ہے وہ جہانگیر دادا کا آدمی بھی ہو سکتا تھا۔۔۔
آج صبح شہروز اس کے قریب اسے خیرات دینے کے بہانے سے گیا اور اس کے بازو میں بے ہوشی کا انجیکشن گاڑ دیا۔۔۔
تبھی وہ اسے اپنی گاڑی میں ڈال کر یہاں لے آیا۔۔۔
ایاز اسفند نے ابلتا گرم پانی وقاص کے چہرے پر پھینکا تو وہ بے ہوشی میں بھی چلا اٹھا۔۔۔
آہستہ آہستہ وقاص نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اسے اپنے سر کے گرد کچھ لوگ کھڑے دکھائی دیے۔۔۔
اس کا سر چکرا رہا تھا اور چہرہ جھلس رہا تھا۔۔۔
کس کے آدمی ہو تم۔۔۔ ایاز اسفند نے پوچھا
وقاص نے چکراتے سر کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور اب اس کے ساتھ کھڑے شہروز کو۔۔۔
شہروز کو دیکھ کر اس نے ہوش کی دنیا میں قدم رکھا۔۔۔
سوچنے پر اسے یاد آیا کہ کیسے اسے شہروز نے انجیکشن لگایا تھا اور اس کے بعد اب وہ اس کمرے میں ان کے سامنے بندھا تھا۔۔۔
بتاؤ کس کے آدمی ہو۔۔۔ ایاز اسفند نے چلّا کر پوچھا
ک۔۔۔کسی کا بھی آدمی نہیں ہوں صاحب میں تو عام سا ف۔۔۔فقیر ہوں۔۔۔ اس نے خوب ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا آخر وہ بلال خان کا آدمی تھا کب کسی سے ڈرنے والا تھا
اچھا تو تم فقیر ہو۔۔۔ شہروز نے پوچھا
ج۔۔جی فقیر ہوں اللہ آپ کا بھلا کرے مجھے جانے دیں میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے صاحب۔۔۔ اس نے اپنے بندھے ہوئے ہاتھوں کو کھولنے کی کوشش میں رگڑتے ہوئے کہا
اگر تم فقیر ہو تو یہ کیا ہے۔۔۔ شہروز نے اس کی میلے کچیلے قمیض کو پھاڑتے ہوئے کہا
بڑے بڑے مسلز چوڑی چھاتی اور سکس پیکس میں اس کا جسم ان کے سامنے تھا۔۔۔
اب وقاص کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ ان کو کیا جواب دے۔۔
شہروز نے پوری قوت کے ساتھ اس کے جبڑوں پر پنچ مارا تو وقاص کا ہونٹ پھٹ کر خون رسنے لگا۔۔۔
شرافت سے بتا دو تمہیں میری جاسوسی کرنے کے لیے کس نے بھیجا ہے ورنہ تمہارے ساتھ وہ کچھ کروں گا جس سے تمہاری روح تڑپ اٹھے گی۔۔۔ شہروز نے اس کے بال سختی سے پکڑے ہر لفظ چبا چبا کر کہا
وقاص خاموش رہا۔۔۔
الٹا لٹکاؤ اس کو۔۔۔ اب کی بار ایاز اسفند بولا
انہوں نے اسے کرسی سے کھولا مگر اس کے ہاتھ ابھی بھی بندھے تھے۔۔۔
اب وہ اس کے پاؤں کو موٹے رسے سے باندھ کر الٹا لٹکا چکے تھے۔۔
وقاص کو اپنی آنکھوں کے گرد موت دکھائی دے رہی تھی مگر اس نے دل میں ٹھان لیا تھا اس کی جان جاتی ہےتو جائے مگر وہ بلال کا نام نہیں بتائے گا۔۔۔ آخر وہ بلال کا آدمی تھا اس نے بلال کا نمک کھایا تھا اب وقت آچکا تھا کہ وہ اس کے نمک کا قرض ادا کرے۔۔۔
شہروز اور اس کی ٹیم نے اسے مار مار کر بے جان کر دیا تھا اس کے جسم سے خون رس رس کر بوندوں کو مانند زمیں پر ٹپ ٹپ کر کے گر رہا تھا مگر اس نے اب اپنے ہونٹ سی لیے تھے۔۔۔
سر یہ ہمیں کچھ نہیں بتانے والا۔۔۔ شہروز نے کہا
ہاں میں بھی دیکھ رہا ہوں اتنی مار کھانے کے بعد بھی وہ ایک لفظ تک نہیں بولا
تو پھر اس کا کیا کریں ہمیں تو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔
اس کو اسی کمرے میں باندھ کے رکھو کیا پتہ کبھی کچھ بول دے۔۔۔ ایاز اسفند نے شہروز سے کہا
اوکے سر۔۔۔
انہوں نے وقاص کے کمرے کو باہر سے لاک کر دیا۔۔۔



آحِل کلب پہنچا تو ریحان چیٔر پر بیٹھے اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا۔۔۔
ہاں بتاؤ کیا بات ہے اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو۔۔۔ آحِل نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا
آحِل فاریہ بہت بدل گئی ہے۔۔۔ ریحان پریشانی سے بولا
بدل گئی ہے کیا مطلب۔۔۔ آحل حیران ہوا
فاریہ تمہارے اور ذائشہ۔۔۔۔
ہائے گائیز۔۔۔ ریحان کی بات منہ میں تھی جب فاریہ آئی۔۔۔
ریحان نے فاریہ کی طرف حیرانگی سے دیکھا کہ وہ اچانک یہاں کیسے آگئی۔۔۔
فاریہ اپنا پرس ٹیبل پر رکھ کے چیٔر پر بیٹھتے ہوئے ان دونوں کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔
کیسی ہو فاریہ۔۔۔ آحِل نے پوچھا
میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ آج کل بہت خوش نظر آرہے ہو خیر تو ہے۔۔۔ فاریہ خوش اجلاقی سے بولی
ریحان تو فاریہ کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔
ہاں خوش ہوں بہت کیوں کہ جلد ہی میں ذائشہ کے گھر اپنے ڈیڈ کو لے کر جا رہا ہوں۔۔۔ وہ اپنے لائٹ براؤن سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا
واؤ یہ تو بہت ہی اچھی خبر ہے بھئی سنو آحل جب تمہارا رشتہ طے ہوا تو مجھے اور ریحان کو تمہیں ٹریٹ دینی ہو گی۔۔۔ وہ آحِل کے کندھے پہ ہاتھ رکھے مسکراتے ہوئے بولی
ہاں ہاں کیوں نہیں ایک بار کیا دو بار دے دوں گا ٹریٹ۔۔۔
اس کی بات پہ فاریہ ہنسنے لگی۔۔۔
آحِل نے ریحان کی طرف دیکھا تو اسے یاد آیا وہ کچھ بتانے والا تھا۔۔۔
ریحان تم کیا بات کر رہے تھے۔۔۔ آحِل نے ویٹر کو اشارہ کرتے ہوئے ریحان کو مخاطب کیا
ریحان نے فاریہ کی طرف دیکھا تو وہ اس کو نہیں کا اشارہ کر رہی تھی۔۔
وہ اسی کشمکش میں تھا کہ اب وہ آحِل سے بات کرے یا نہیں کیوں کہ فاریہ تو پہلے جیسی خوش ہی دکھائی دے رہی تھی۔۔
اتنی دیر میں ویٹر نے آکر ٹیبل پہ تین گلاس جوس کے رکھے۔۔۔
کہاں گم ہو ریحان۔۔۔ آحِل نے اس کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے کہا
ہاں ک۔۔کیا بات کرنے والا تھا میں۔۔۔ ریحان پریشان ہوا
ارے وہی بات جس کے لیے تم نے مجھے یہاں بلایا وہ بھی اتنی جلدی میں
فاریہ نے جب ریحان کا پریشان چہرہ دیکھا تو فورن سے بولی
ارے آحِل وہ تو ہمارا تمہارے ساتھ پرینک تھا ایکچوایلی ہمارا آج بہت دل چاہ رہا تھا کہ ہم تینوں آج شام کلب میں ملیں دیکھو کتنے دن ہو گئے ہم نہیں ملے۔۔۔
تو مجھے ویسے بلا لیتے اس طرح کرنے کی کیا ضرورت تھی میں پریشان کو گیا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔
ڈوڈ تم ایسے بلانے سے کب آنے والے تھے اسی لیے تو پرینک کیا۔۔۔ فاریہ مسکراتے ہوئے بولی
ریحان نے خود کو نارمل کیا اور آحِل سے مخاطب ہوا
ہاں آحِل ویسے تم نے کب آنا تھا اسی لیے ہم نے مل کے یہ پرینک کیا۔۔۔
آحِل ان دونوں کی حرکت پر مسکرایا۔۔۔
ریحان نے فاریہ کی طرف دیکھا تو وہ اسے بعد میں بات کرنے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔
ریحان نے اوکے میں سر ہلایا۔۔۔



ریحان نے دن کے وقت فاریہ کو کلب کے انچارج سے بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
وہ اس سے کسی دن کے کیمرہ ریکارڈ وڈیو کی بات کر رہی تھی۔۔۔
ریحان نے اس کے قریب آکر پوچھا۔۔۔
فاریہ تم کیا کر رہی ہو یہاں وہ بھی اکیلی اور اس وقت۔۔۔ ہم تو ہمیشہ رات کو ملتے ہیں نا۔۔۔
فاریہ نے ریحان کی طرف دیکھا تو ریحان اس کی حالت دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔
ویران سا چہرہ اجڑی آنکھیں اور وہ ہونٹ جن سے وہ کبھی لپسٹک نہ اتارتی تھی آج خشک زمین کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔
اس کے بکھرے بال اس کے رخساروں کو چھو رہے تھے۔۔۔
ک۔۔۔کچھ نہیں کر رہی بس یوں ہی آئی تھی۔۔۔ وہ خشک لہجے میں بولی
فاریہ تم ٹھیک تو ہو اور تم نے یہ اپنی حالت کیا بنا رکھی ہے۔۔۔ ریحان نے اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں تم پریشان مت ہو ریحان۔۔۔ اس نے ریحان کا ہاتھ پیچھے کیا
میرا کام کر دیجیے گا میں پھر آؤں گی۔۔۔فاریہ نے انچارج سے کہا اور ریحان کو کچھ کہے بغیر وہاں سے چل دی۔۔۔
ریحان پریشان تھا کہ آخر وہ کلب کے انچارج سے کس کام کا کہہ رہی تھی آخر ایسا کیا کام تھا جس کا اس نے ریحان سے ذکر نہیں کہا۔۔۔
اس نے انچارج سے پوچھا تو اس نے ریحان کو ٹال دیا۔۔۔
ریحان گھر میں آکر فیملی کے ساتھ مصروف ہو گیا اور جب فارغ وقت میں اسے فاریہ کی آج والی بات یاد آئی تو اچانک اس کے ذہن میں وہ بات آئی جس کا فاریہ انچارج سے کہہ رہی تھی۔۔۔
اس نے تب پریشانی میں آحل کو کال کی لیکن جب وہ آحِل کو وہ بات بتانے لگا تو اوپر سے فاریہ آگئی۔۔۔



بلال پچھلے تین گھنٹوں سے بار بار وقاص کو کال کر رہا تھا مگر اس کی طرف سے جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
وہ پریشان ہوا کہ کہیں شہروز کو وقاص پہ شک نہ ہو گئی ہو جس وجہ سے اس نے وقاص کو پکڑ لیا ہو۔۔۔
اچانک بلال کو وقاص کی بات یاد آئی۔۔۔
بھائی اس کام میں خطرہ بھی ہے میں اپنا موبائل ہر وقت اپنے پاس نہیں رکھوں گا اگر آپ کو میری طرف سے کوئی ریسپونس نہ ملا تو آپ سمجھ جانا میں پکڑا گیا ہوں۔۔۔
اور شہروز کے گھر کی گلی میں ایک پیڑ ہے وہاں میں نے ایک چھوٹا سا سورخ کر کے موبائل رکھنے کی جگہ بنائی ہے آپ وہاں سے موبائل اٹھا لینا اگر شہروز کے ہاتھ وہ موبائل لگ گیا تو سمجھو اس کو آپ کا اتہ پتہ سب معلوم ہو جائے گا۔۔۔
بلال نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی اور شہروز کے گھر کا رخ کیا
