Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 04)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 04)
Madhoshi by Mirha Kanwal
آحِل ذائشہ کو اپنے دماغ سے نکالنے کے لیے اپنے پرسنل ہاؤس میں ایک خوبصورت لڑکی کو لے آیا۔۔۔
وہ شاید یہ سوچ بیٹھا تھا کہ اسے ذائشہ کی طرف سے محض اٹریکشن ہے۔۔۔
آحل بیڈ پر بازو سر کے نیچے رکھے ذائشہ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ لڑکی نے آحل کے ہونٹوں پے کس کیا۔۔۔
آحِل کو کسی قسم کی فیلنگز نہیں آئیں۔۔۔
وہ آحل کے سامنے آکر بیٹھی۔۔۔
اس نے آحل کے ہاتھوں کو اپنی کمر پے رکھا اور مسکرانے لگی۔۔۔
آحل یہ سب کرنا چاہتا تھا مگر وہ کر نہیں پا رہا تھا۔۔۔
اسے اب خود پہ غصہ آنے لگا کہ وہ پہلے کی طرح کیوں کچھ محسوس نہیں کر رہا۔۔۔
اس نے غصے سے اس لڑکی کو بیڈ پر لٹایا اور اس کی گردن کو چومتے ہوئے قوّت کے ساتھ بائیٹ کیا۔۔۔
واٹ دا ہیل۔۔۔ تم ہوش میں تو ہو جنگلی جانوروں کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے ہو لڑکی چلا اٹھی
زیادہ بکواس نہیں کرو گیٹ آؤٹ فرام ہیئر۔۔۔
اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا جس میں وہ لڑکی پر ہی چلانے لگا۔۔۔
میں نہیں آئی تھی تم ہی لائے تھے مجھے۔۔۔ لڑکی منہ میں بڑبڑاتی ہوئی اٹھی اور اپنا پرس اٹھائے باہر نکل گئی۔۔۔
آحل نے اپنے بالوں کو سختی سے مٹھی میں بھینچ لیا آحِل کا ایک ایک پل بے چینی سے گزر رہا تھا۔۔۔
نہیں میں ایسے نہیں رہ سکتا مجھے کچھ کرنا ہو گا وہ میرا سکون برباد کیے خود آرام سے بیٹھی ہے۔۔۔
جیسے تیسے کر کہ اس نے رات گزاری صبح ہوتے ہی فریش ہو کر اپنی منزل کی طرف رخ کیا۔۔۔
اس واقع کے بعد ذائشہ کو اس کی امی کالج چھوڑنے اور لینے کے لیے جانے لگی۔۔۔
امی اب چار قدم ہی باقی ہیں میں چلی جاتی ہوں یہاں کوئی لڑکا بھی نہیں کھڑا آپ کی طبیت نہیں ٹھیک آپ جائیں اب گھر۔۔۔
نہیں میں تمہیں گیٹ تک چھوڑ کر آؤں گی۔۔ ذائشہ کی امی نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا وہ تھک چکی تھی۔۔۔
امی میں کہہ رہی ہوں نہ دیکھیں راستے میں کوئی نہیں ہے صرف دو منٹ کا راستہ باقی ہے۔۔
لیکن ذائشہ۔۔۔
امی جائیں آپ گھر جا کر آرام کریں
پھر رخسانہ بیگم گھر کے لیے مڑ گئی اور ذائشہ کالج کے راستے چلنے لگی
آگئی بلبل آج تو تم نہیں بچو گی۔۔۔ وہ دونوں لڑکے جو راستے میں چھپے بیٹھے تھے اس کی امی کے جاتے ہی باہر نکل آئے۔۔۔
ذائشہ کے پیروں تلے سے زمین نکلی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی امی جا چکی تھی ۔۔۔
آج آئی ہے اونٹنی پہاڑ کے نیچے۔۔۔ وہ چلتے ہوئے اس کے قریب آئے اور قہقہ لگا کر ہسنے لگے
ذائشہ کو اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی۔۔
ایک لڑکے نے اس کا بازو پکڑ لیا ۔۔۔
چھوڑو مجھے بدتمیز انسان۔۔۔ وہ رونے لگی
ارے ابھی بدتمیزی کی ہی کب ہے۔۔۔ دوسرا لڑکا اس کے قریب آکر بولا
بچاؤ مجھے کوئی ہے۔۔۔ وہ روتے روتے چلائی
ذائشہ کا گھر کالج سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر تھا اور اس راستے سے لوگوں کا کم ہی گزر ہوتا تھا راستے کے ساتھ ہی چھوٹا سا جنگل تھا جہاں پچھلی بار ذائشہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگی تھی۔۔۔
بلبل یہاں کوئی نہیں آنے والا ۔۔۔ یہ کہتے ہی لڑکے نے ذائشہ کو باہوں میں اٹھا لیا اور جنگل کی طرف رخ کیا
ذائشہ نے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔۔۔
اچانک ہی ایک بلیک رنگ کی گاڑی ہوا میں اڑتی ہوئی وہاں پہنچی۔۔۔
آحِل جو ذائشہ سے ملنے کے لیے آیا تھا ذائشہ کی امی کو آتا دیکھ کر اس نے کسی سے گورنمنٹ کالج کا راستہ پوچھا اور نکل پڑا۔۔۔
کیوں کہ اسے ذائشہ کا گھر دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ گورنمنٹ کالج میں ہی جاتی ہو گی
وہ تیزی سے باہر نکلتے ہوئے ان کی طرف بڑھا۔۔۔
نیچے اتارو اسے۔۔۔ آحِل کی آنکھوں میں وحشت اتر آئ تھی۔۔
کیوں تم بھائی لگتے ہو اس کے۔۔۔ دوسرا لڑکا بولا
آحِل نے اسے زوردار پنچ مارا اور وہ زمین پر جا گرا اس منہ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔
دوسرا لڑکا دیکھ کر پریشان ہوا
اس نے ذائشہ کو نیچے اتارا اور آحِل پر جھپٹا۔۔۔
آحل نے اس کے پیٹ میں اپنا گھٹنا مارا۔۔ لڑکا درد کے چلا اٹھا
آحِل نے اس کے بازو پکڑ کر اتنی زور سے موڑے کہ لڑکے کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔
انہی بازؤوں سے تم نے اسے چھوا تھا نا۔۔۔ آحِل چلا کر بولا
ذائشہ یہ سب دیکھ کر سڑک پر بیٹھ گئی اور رونے لگی
آحِل اس لڑکے کو مارنے میں مصروف تھا کہ دوسرا لڑکا اٹھا اور آحِل کے منہ پر زور سے پنچ مارا۔۔۔
آحِل نے گرتے گرتے خود کو سمبھالا۔۔۔
وہ دونوں لڑکے اٹھے اور بھاگ نکلے۔۔۔
آحِل ان کے پیچھے بھاگنے لگا تھا کہ اسے ذائشہ کی آواز سنائی دی۔۔۔
نہیں پلیز آپ مت جائیں ان کے پیچھے۔۔
آحِل نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سڑک پر بیٹھی رو رہی تھی۔۔۔
وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔۔۔
اٹھو ۔۔۔ آحِل حکمیہ انداز میں بولا
وہ آرام سے بیٹھی چہرہ ہاتھوں میں لیے اپنے کام میں مصروف رہی۔۔۔
آحِل نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔۔
پل ہی میں اس نے ذائشہ کو باہوں میں بھر لیا۔۔۔
یہ۔۔۔ یہ آپ کیا کر رہے ہیں اتاریں مجھے۔۔۔
وہ حیران پریشان اسے دیکھتے ہوئے بولنے لگی۔۔۔
آحل بنا کچھ بولے آرام سے گاڑی کے پاس آیا اور ذائشہ کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔۔
پھر وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکے بیٹھ گیا۔۔۔
بہت شوق ہے تمہیں مصیبت میں پھسنے کا۔۔۔ وہ غصے بولا تو ذائشہ پھر سے رونے لگی
اسے روتا دیکھ کر آحِل نے اپنے غصے پر قابو پایا
رونا بند کرو تم محفوظ ہو۔۔۔
ذائشہ نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کیں کہ آحِل پھر سے اسے ڈانٹ نہ دے۔۔۔
آحل کو اپنے چہرے پر درد ہوتا محسوس ہو رہا تھا جہاں لڑکے نے پنچ مارا تھا۔۔۔ اس نے گاڑی کا مرر اپنی طرف کرتے ہوۓ اپنا چہرہ دیکھا اس کا ہونٹ سائیڈ سے پھٹ چکا تھا اور کچھ قطرے خون کے بھی نکل چکے تھے۔۔۔
یہ صاف کرو۔۔۔ اس نے ذائشہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
ذائشہ نے اس کی طرف دیکھا تو ہونٹ پہ لگے خون پر نظر پڑی۔۔۔
تمہیں سمجھ نہیں آئی میں نے کیا کہا ہے۔۔۔ آحِل نے سخت لہجے میں کہا
ذائشہ نے جلدی سے اپنے دوپٹے کا کونا پکڑا اور اس کے ہونٹ کی طرف کیا
اب وہ آحِل کا ہونٹ صاف کر رہی تھی۔۔۔ اور اس کی نظریں اپنے اوپر محسوس کرتے ہوئے وہ گبھرا بھی رہی تھی۔۔۔
آحِل اتنے قریب سے ذائشہ کو آج دیکھ رہا تھا وہ اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہا تھا۔۔۔
ذائشہ اس کی نظروں کی تاب نہ لا سکی اور بے دھیانی میں اس کے ہونٹ پر زور دے دیا۔۔۔
سس۔۔ آحل کے منہ سے سسکی نکلی
اوہ مجھے معاف کر دیں پتہ نہیں کیسے ہو گیا۔۔۔ اس نے آحل کے نرم اور سرخ ہونٹوں کی طرف دیکھتے ہوے کہا جہاں سے مزید ایک خون کا قطرہ نکل کر بہہ رہا تھا۔۔۔
ہر بار تمہیں معاف نہیں کر سکتا۔۔۔ اس نے ذائشہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
وہ پریشان سی اپنے ہاتھ کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے
آحِل کی نظر ذائشہ کے ننھے ہونٹوں پر پڑی جو ڈر سے کپکپا رہے تھے اس کا دل تو کیا کہ وہ کوئی گستاخی کر دے لیکن ذائشہ اور اس کی سوچ کو بخوبی سمجھ سکتا تھا وہ اس کی نظروں میں اپنا امیج خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
آحِل نے اپنے جزباتوں پہ قابو پاتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑا۔۔۔
ذائشہ کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔ وہ آحِل کی نظروں کے مفہوم سمجھ سکتی تھی
اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور اس کے کالج کی طرف لے گیا۔۔۔
آج کے بعد کبھی اکیلے کالج نہ آنا اور ہاں وہ لڑکے اب تمہیں کبھی تنگ نہیں کریں گے۔۔۔
کالج کے گیٹ پر پہنچ کر اس نے ذائشہ سے کہا
ذائشہ نے بیگ سمبھالا اور باہر نکلتے ہوئے بھاگنے لگی۔۔۔
آحِل اس کی یہ حرکت دیکھ کر ایک سائیڈ مسکرایا۔۔۔
وہ یہاں اپنا حالِ دل بیاں کرنے آیا تھا مگر ذائشہ کے کانپتے ہاتھوں کو دیکھ کر اور اس کی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے سوچا کہ پہلے وہ اس کے دل میں اپنے لیے جگہ بنائے گا پھر اظہارِ محبت کرے گا۔۔۔
اس نے موبائل نکال کر کسی کو کال کی اور ان لڑکوں کو سبق سیکھانے کا کہا
پھر وہ گاڑی سٹارٹ کیے وہاں سے نکل گیا



ریحان آحِل میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہا ہے۔۔۔ کیا وہ نہیں جانتا میں اس سے کتنے سالوں سے محبت کرتی ہوں۔۔۔
ریحان نے فاریہ کو ساری بات بتا دی تو فاریہ کو صدمہ لگا۔۔۔
آج تک کتنے لڑکوں نے مجھے پرپوز کیا میں نے کسی کا پرپوزل ایکسیپٹ نہیں کیا یہ بات تم بھی جانتے ہو اور آحل بھی
وہ میری فیلنگز کو کیسے اگنور کر سکتا ہے میں تو اس کی بچن کی دوست ہوں نہ تو وہ مجھے کیسے ہرٹ کر سکتا ہے
فاریہ کی آنکھیں بھیگ گئیں
فاریہ پاگل مت بنو یار۔۔۔ ہم پیار کرنے کے لیے کسی کو بھی مجبور نہیں کر سکتے یہ تو بس ہو جاتا ہے کسی بھی وقت کسی سے بھی۔۔۔ ریحان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
نہیں ریحان ایسا نہیں ہے دیکھو مجھ میں کیا کمی ہے کیا میں خوبصورت نہیں ہوں کیا میں ہر طرح سے پرفیکٹ ہوں تو کیوں اسے مجھ سے پیار نہیں ہوا۔۔۔ وہ مزید رونے لگی
ریحان سے اپنی دوست کو روتے دیکھا نہیں گیا اور اس نے فاریہ کو گلے سے لگا لیا۔۔۔
ڈونٹ بی سلی فاریہ۔۔۔ اس نے فاریہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا اور خود بھی پریشان ہوا



ہائے ڈیڈ ۔۔۔یونی سے آکر ماہاویرا سلطان صاحب کے پاس بیٹھی جو لاؤنج میں بیٹھے نیوز چینل دیکھ رہے تھے۔۔۔ آج وہ آفس ہاف ڈے لگا کر آ گئے تھے
بیٹا کتنی بار کہا ہے سلام لیا کرو یہ ہائےفائے کم از کم اپنے پاپا کو تو نہ کیا کرو۔۔۔ سلطان صاحب خفگی سے بولے
اوکے ڈیڈ آئندہ سے نو ہائےفائے اونلی سلام اوکے پکا پرامس۔۔۔ وہ ان کے سینے سے لگتے ہوئے بولی
میری پیاری بیٹی۔۔۔ سلطان صاحب مسکرانے لگے۔۔۔
اب ایسے ہی اپنے پاپا کی ایک اور بات مان لو۔۔۔
ہمم وہ کیا۔۔۔ ماہا ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
میری گڑیا لڑکیوں کی طرح رہنا سیکھو یہ جو تم یونی میں بھی بھائی بنی پھرتی ہو نہ ایک مہینے میں دس کالز آتی ہیں مجھے پرنسپل کی کہ آپ کی لاڈلی نے آج فلاں لڑکی سے جھگڑا کیا فلاں لڑکی کو پیٹا۔۔۔ سلطان صاحب نے اس کے سر پہ پیار سے چت کگاتے ہوئے کہا
میری بیٹی یہ کام بیٹیوں کو زیب نہیں دیتے۔۔۔ تم بھی باقی لڑکیوں کی طرح رہنا سیکھو ان کی طرح پہننا، اوڑھنا، چلنا، بات کرنا
اففف ڈیڈ۔۔۔ اتنا لمبا لیکچر تو میں نے کبھی یونی میں نہیں لیا
بیٹا دیکھو میں تمہارا باپ ہوں تمہیں جو سمجھا رہا ہوں تمہارے بھلے کے لیے ہی سمجھا رہا ہوں۔۔۔
میں چاہتا ہوں کل کو تم جب اپنے گھر والی ہو جاؤ گی تو کوئی یہ بات نہ کر سکے کہ سلطان نے اپنی بیٹی کو رہن سہن کی تمیز نہیں سکھائی۔۔۔
میں چاہتا ہوں کہ میری گڑیا ایسی بن کر رہے کہ اس کا ہونے والا سسرال میری گڑیا کی مجھ سے کوئی شکایت نہ کرے۔۔۔ سلطان صاحب نے ماہا کی پیشانی پر بوسہ دیا
جبکہ ماہاویرا سسرال کی بات سن کر پریشان ہو گئی تھی کیوں کہ وہ پہلے سے ہی نکاح میں تھی ۔۔۔ وہ کیسے اپنے ڈیڈ کو حقیقت بتائے گی یہ سوچتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں
ماہا کو خاموش دیکھ کر سلطان صاحب نے اس کی طرف دیکھا
ارے کیا ہوا میری گڑیا رو کیوں رہی ہے۔۔۔
کچھ نہیں ڈیڈ بس ایسے ہی
نہیں بتاؤ مجھے میری باتوں نے میری بیٹی کا دل دکھایا ہے تو آئ پرامس دوبارہ نہیں کہوں گا۔۔۔
باپ کا پیار دیکھ کر ماہا کا رونا بڑھ گیا
ماہا بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔ سلطان صاحب مزید پریشان ہوئے
ک۔۔۔کچھ نہیں ڈیڈ ماما کی یاد آ رہی ہے۔۔۔
اسے واقع ہی اس وقت اپنی ماں کی یاد آ رہی تھی اگر اس کی ماں زندہ ہوتی تو ماہا ان کو ساری بات بتا دیتی پھر وہ خود ہی اس معاملے کو ہینڈل کر لیتیں۔۔۔
ماہا کی بات سن کر سلطان صاحب نے اسے پھر سے گلے لگایا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے
ماہا بیٹے پلیز رو نہیں۔۔۔ میں تمہیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا
دیکھو بیٹا تمہاری ماما کی اتنی ہی زندگی لکھی تھی یہ اللہ کے معاملے ہیں ہم میں بے بس ہیں تم اپنا دل تھوڑا مت کرو میری گڑیا ۔۔۔ بیٹی کو روتا دیکھ کر سلطان صاحب کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔
چلو جلدی سے فریش ہو کر آؤ آج میں اپنی گڑیا کو اپنے ہاتھوں سے لنچ بنا کر کھلاؤں گا۔۔۔ انہوں نے ماہاویرا کا دھیان بھٹکانے کے لیے کہا
ماہا آنکھیں صاف کرتے ہوئے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی



تمہارے جیسی اولاد اللہ کسی کو بھی نہ دے ارے تم تو ماں باپ کی عزت پر ایک دھبہ ہو دھبہ نکل جاؤ یہاں سے آئندہ اپنی شکل مت دکھانا تم میرے بیٹے نہیں ہو آج سے تم ہمارے لیے مر گئے
بابا پلیز بابا میری بات سنیں میں آپ لوگوں کے بغیر نہیں رہ سکتا بابا۔۔۔ وہ زور زور سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا
بابا دروازہ کھولیں بابا ایسے میں جی نہیں پاؤں گا بابا
امی دروازہ کھولولیں کیا آپ اپنے بیٹے کے بغیر رہ لیں گی امی دیکھیں میں یہیں کھڑا ہوں جب تک آپ دوازہ نہیں کھولتی۔۔۔
چلے جاؤ بلال تمہارا اب ہم سے کوئی رشتہ نہیں۔۔۔
اس کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا
نہیں۔۔۔نہیں امی آپ ایسے کیسے کہہ سکتی ہیں
امی دروازہ کھولیں۔۔۔
امی۔۔۔ وہ چلاتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا
بھائی آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ بلال کی چلانے کی آواز سن کر اس کے آدمیوں میں سے ایک بھاگا آیا
ہاں ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ بمشکل بول پایا تھا
اس کا سانس پھولا ہوا تھا وہ پسینے سے شرابور ہو رہا تھا اس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا
وہ خواب دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کے کانوں میں آذان کی آواز پڑی تو اس نے لائٹ آن کی اور وضو کرنے کے لیے واش روم چلا گیا۔۔۔
نماز پڑھ کر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
یا اللہ میرے ماں باپ کی مغفرت فرمانا۔۔۔ میں نے ان کی زندگی میں انہیں جتنے دکھ دیے ان سب کے لیے مجھے معاف کر دے بے شک تو توبہ قبول کرنے والا ہے۔۔۔
اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہی چلے جا رہے تھے۔۔۔



آحِل میوزک لگائے اپنی دھن میں گاڑی چلا رہا تھا کہ اس کو راستے میں ایک جگہ رش دکھائی دیا۔۔۔
اس نے سرسری طور پر نظر دوڑائی تو اسے ایک بوڑھا سا آدمی زخمی حالت میں بے ہوش دکھا
ارے یہ تو ذائشہ کے والد ہیں۔۔ وہ گاڑی سے نکل کر بھاگا
کیا ہوا ہے انہیں۔۔۔ اس نے ایک آدمی سے پوچھا
ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے لگتا ہے بیچارے کا کوئی بڑھاپے کا سہارا نہیں ہے جو اس عمر میں بھی مزدوری کر رہا ہے
بوری اٹھائے جا رہا تھا تو کسی نے گاڑی سے ٹکر مار دی۔۔۔
آپ پلیز ان کو گاڑی میں لیٹانے کے لیے میری مدد کریں
آحل نے پریشانی سے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
پھر دو آدمیوں نے آحل کی مدد کی اور وہ انہیں لیے ہوسپٹل کی طرف ہو لیا۔۔
ذائشہ شام ہونے کو ہے تمہارے ابو کہاں رہ گئے
امی میں انہیں کئی بار کال کر چکی ہوں ان کا موبائل آف آ رہا ہے اللہ خیر کرے بس آپ دعا کریں
اللہ ان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔۔۔
وہ دونوں شدید پریشان تھیں جب کسی نے ان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا
لو آ گئے ابو۔۔۔ ذائشہ کہتی ہوئی خوشی سے دروازے کی طرف بھاگی
دروازہ کھولتے ہی اس کی نظر پہلے اپنے باپ پر اور پھر آحِل پر پڑی جو انہیں سہارا دیے کھڑا تھا۔۔۔
یہ۔۔ یہ کیا ہوا میرے ابو کو وہ پریشان دیکھنے لگی
بعد میں بتاؤں گا پہلے انہیں لیٹانے کی ضرورت ہے ۔۔۔
کیا ہوا ذائشہ۔۔۔ اس کی آواز سن کر ذائشہ کی امی دروازے کی طرف پڑھیں
صدیق صاحب۔۔۔ کیا ہوا انہیں
آنٹی ان کا روڈ ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا آپ پلیز یہ سب بعد میں پوچھیے گا پہلے انہیں بستر پر لیٹانا ہے ان کی طبیت نہیں ٹھیک ۔۔۔
ہاں لاؤ اندر۔۔۔ رخسانہ بیگم کی حالت غیر ہونے لگی
آحِل نے صدیق صاحب کو بستر پر لیٹایا پھر ذائشہ اور اس کی ماں کو ہونے والا واقع بتانے لگا
ان دونوں نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا
بیٹا تمہارے احسان ہم غریب لوگوں پر بڑھتے ہی جا رہے ہیں ہمارے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔۔۔ رخسانہ نے روتے ہوئے کہا
دینے والی بات پر آحِل نے ذائشہ کی طرف دیکھا جو کہ نظریں جھکائے رونے میں مصروف تھی۔۔۔
آنٹی آپ پریشان کیوں ہوتی ہیں میں نے کوئی احسان نہیں کیا آپ پر
اللہ تمہیں صدا خوش رکھے بیٹا تم مشکل وقت میں ہمارے کام آتے ہو ورنہ ہمارا تو کوئی بیٹا بھی نہیں جو اپنی بہن کی عزت کی حفاطت کرتا اور اپنے بوڑھے باپ کا خیال کرتا
رخسانہ بیگم مزید رونے لگی۔۔۔
آنٹی اللہ ہی سب کا وارث ہوتا ہے وہ کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا دیتا ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں آپ بس رونا بند کریں ان کی صحت کے لیے دعا کریں اور آپ آج سے مجھے اپنا بیٹا سمجھیں
رخسانہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
ذائشہ جاؤ آحِل کے لیے چائے بنا کر لاؤ
نہیں آنٹی مجھے ابھی جانا ہے قسمت میں یہاں آنا پھر لکھا ہوا تو ضرور چائے پیوں گا۔۔۔ وہ کہتا ہوا کھڑا کو گیا
ذائشہ تم آؤ میرے ساتھ گاڑی سے میڈیسنز نکال کر دیتا ہوں۔۔۔
ہاں بیٹا جاؤ اور پوچھ بھی لینا کونسی دوائی کس وقت دینی ہے ۔۔۔ذائشہ آحِل کی طرف دیکھنے لگی تو رخسانہ بیگم نے کہا
جی امی۔۔ وہ کہتی ہوئی اٹھی اور آحل کے پیچھے چلنے لگی
آحِل نے گاڑی سے میڈیسنز نکالیں اور ذائشہ کو دی
اس نے ذائشہ کے ہاتھ میں موبائل دیکھا۔۔۔
اپنا موبائل دو۔۔۔
موبائل مگر کیوں۔۔۔ وہ پریشان سی بولی
کہا نہ دو۔۔۔
اس نے اپنا خستہ حالت کا چھوٹا سا موبائل آحِل کو پکڑا دیا
آحِل نے اس میں اپنا نمر سیو کیا اور اپنے نمبر پر کال کر کے ذائشہ کا نمبر بھی حاصل کر لیا
وہ خاموشی سے اسے کھڑی یہ سب دیکھتی رہی ۔۔۔
کبھی بھی کوئی مسئلہ ہو تو مجھے کال کر لینا اوکے
جی۔۔۔ ذائشہ اتنا ہی بول پائی
آحِل اسے دیکھتا ہوا گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا
ذائشہ دروازہ بند کر کے واپس مڑی۔۔۔
