Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 03)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 03)
Madhoshi by Mirha Kanwal
اس نے جلدی سے ڈور لاک کیا اور پوچھنے لگا
مجھے بتاؤ کون ہو تم نام کیا ہے تمہارا۔۔۔ آحِل نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا
زا۔۔۔زائشہ ۔۔ وہ بمشکل ہول پائی تھی
اور تم میری گاڑی میں کیا کر رہی تھی۔۔۔
پھر زائشہ نے روتے ہوۓ اپنے ساتھ ہونے والا واقع بیان کیا۔۔
تو پاگل لڑکی تم سیدھا مجھے بول دیتی یوں گاڑی میں چھپنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔
میں بہت ڈری ہوئی تھی ۔۔۔اس نے روتے ہوۓ کہا
پلیز مجھے گھر چھوڑ آئیں میرے امی ابو بہت پریشان ہوں گے۔۔۔
میں تمہیں اس وقت گھر نہیں چھوڑ سکتا میرے ڈیڈ گھر میں موجود ہیں۔۔۔
آپ ک۔۔۔کچھ بھی کر کے گھر چھوڑ دیں پلیز۔۔۔ وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولی
آحِل نے اس طرف غور دیکھا
اس کی گھنی پلکیں، گہری کالی آنکھیں جو بڑی ہونے کے ساتھ تھوڑی لمبی بھی تھیں، چھوٹی سی ناک جو رونے کی وجہ سے سرخ ہو گئی تھی ، سفید رنگ گلابی رخسار ، اور چھوٹے سرخ ہونٹ۔۔۔
وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا بلا شبہ اس سے پہلے آحِل کی زندگی میں جتنی لڑکیاں آچکی تھیں زائشہ ان سب سے زیادہ خوبصورت لڑکی تھی ۔۔۔۔ اس کے چہرے پر خوبصورتی کے ساتھ ڈھیروں معصومیت بھی تھی۔۔۔
پلیز گھر چھوڑ آئیں میں آپ کا احسان ساری عمر نہیں بھلاؤں گی۔۔۔ زائشہ پھر سے بولی تو آحِل ہوش میں آیا۔۔
ہوں ۔۔۔ میں کچھ سوچتا ہوں
پیاس اور بھوک کے مارے زائشہ کی جان نکل رہی تھی۔۔ مگر اس سے زیادہ وہ گھر جانے کیلئے پریشان تھی ۔۔۔
آحِل نے اسے اتنا روتے ہوۓ دیکھ کر ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر دیا جسے زائشہ نے ہچکچا تے ہوئے پکڑا اور ایک ہی سانس میں پی لیا۔۔۔
آحِل اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا
تمہیں بھوک لگی ہو گی۔۔ آحِل نے پوچھا
نہیں ۔۔ بس گھر چھوڑ آئیں ۔۔ اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا۔۔
تم یہاں سے نکلنا مت میں پانچ منٹ تک آتا ہوں۔۔۔
لیکن ۔۔ وہ پریشان ہوئی
بس پانچ منٹ۔۔۔ وہ بولا اور کمرے سے نکل گیا
آحِل کچن میں گیا اور فریج کا جائزہ لیا ۔۔ بریانی نکال کر اوون میں گرم کی اور پلیٹ میں ڈالے اپنے کمرے کی طرف ہو لیا۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو زائشہ پریشانی سے اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی۔۔۔
یہ لو کھانا کھا لو پھر میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ کر آؤں گا۔۔
مجھ۔۔مجھے نہیں کھانا آپ بس۔۔
میں نے کہا کھانا کھاؤ۔۔اس کی بات منہ میں ہی تھی جب آحل نے اسے ٹوکا
وہ اپنا موبائل لیے روم کی ونڈو کی بڑھ گیا۔۔
ہیلو۔۔ ریحان
ریحان جو اپنے روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر ہارر مووی دیکھنے میں مصروف تھا آحِل کا نمبر دیکھ کر کال ریسیو کی۔۔۔
ہیلو آحِل کیسے ہو۔۔۔
یار حال چھوڑ مجھے تیری ہیلپ چاہیۓ۔۔۔
کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہے ہو ۔۔ ریحان نے لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتے ہوۓ کہا۔۔
تمہیں میں بعد میں پوری بات بتاؤں گا ابھی تم بس اپنی گاڑی لے کر میرے گھر کی پچھلی دیوار کی طرف پہنچو اور ہاں ہارن بلکل نہیں بجانا ڈیڈ جاگ جائیں گے۔۔۔
مگر آحِل ہوا کیا ہے۔۔۔
ریحان کہا نا پھر بتاؤں گا ابھی بس آجاؤ۔۔۔
اوکے ڈوڈ میں آرہا ہوں۔۔ ریحان نے کہتے ہوۓ کال کٹ کی
کال سے فری ہو کر آحِل زائشہ کی طرف پلٹا اس نے پلیٹ میں سے چار پانچ چمچ ہی لیے تھے
چلو تمہیں چھوڑ کر آؤں۔۔۔
زائشہ نے آحل کی طرف دیکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی
وہ اسے لیے کمرے سے باہر نکلا اور گھر کی پچھلی دیوار کی طرف چل پڑا کیوں کہ گیٹ پر واچ مین تھا۔۔
اس نے دیوار کا جائزہ لیا۔۔۔
میں تمہیں اٹھاؤں گا اور تم دیوار پر چڑھ کر بیٹھ جانا پھر میں دیوار پھلانگ کر تمہاری نیچے اترنے میں ہیلپ کروں گا۔۔۔
زائشہ اس کی طرف دیکھتی رہی اس بات پر کہ وہ اسے اٹھاۓ گا۔۔۔
آحِل نے زائشہ کو اپنی طرف دیکھتے ہوۓ نوٹ کیا۔۔۔
اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے اور ہمارے پاس وقت کم ہے ۔۔۔
زائشہ نے مجبورن ہاں میں سر ہلایا کیوں کہ اسے ہر ہال میں اپنے گھر پہنچنا تھا۔۔۔
آحِل اس کے قریب آیا اور اسے اٹھانے کے لیے کمر میں ہاتھ ڈالے۔۔۔
رکیے پلیز۔۔۔۔ زائشہ کو اس کا چھونا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا
مس زائشہ میں آحِل سلطان خان زادہ ہوں لڑکیاں میرے آگے پیچھے گھومتی ہیں اگر تم یہ سمجھ رہی ہو کہ میں تمہارے قریب آنے کے لیے ایسے کر رہا ہوں تو اپنی اس غلط فہمی کو اپنے چھوٹے سے دماغ سے نکال دو۔۔۔ آحِل نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا
نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔زائشہ شرمندگی سے بولی
آحِل نے اسے کمر سے ہاتھ ڈال کر اٹھایا اور وہ دیوار پر بیٹھ گئی
پھر آحِل دیوار پھلانگ کر دوسری طرف اترا۔۔۔
چلو اب آؤ۔۔۔اس نے اپنے بازو پھیلائے اور زائشہ کو کودنے کا کہا
ایک طرف زائشہ پریشان تھی کہ آحِل اس کو پکڑے گا دوسری طرف وہ ڈر رہی تھی دیوار سے کودنے کے لیے۔۔۔
جلدی کرو میرے پاس فالتو ٹائم نہیں ہے۔۔۔ آحِل نے سخت لہجے سے کہا
زائشہ نے ڈرتے ہوئے آنکھیں بند کیں اور کود گئی۔۔۔
جب زائشہ اس پر گری تو وہ بیلینس قائم نہ رکھ سکا اور دونوں ہی زمین پر گر گئے
اب زائشہ کے ہونٹ آحِل کے رخسار پر تھے ۔۔ وہ حواس باختہ سی آحِل کے اوپر لیٹی رہی اس میں اٹھنے کی ہمت نہ رہی۔۔۔
آحِل نے اس کے ہونٹوں کو اپنے رخسار پر محسوس کیا تو آنکھیں کھولیں۔۔۔ پہلی بار آحِل کو اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتے محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ ورنہ وہ آج تک جتنی بھی لڑکیوں کے ساتھ وقت گزار چکا تھا وہ محض اٹریکشن تھی
آحِل کو ریحان کی گاڑی آتے دکھائی دی تو جلدی سے ذائشہ کو اپنے اوپر سے ہٹایا۔۔۔ وہ دونوں کھڑے ہوئے
اس نے ذائشہ کی طرف دیکھا تو اس کا شرم سے مارے چہرہ لال ہو رہا تھا۔۔۔
ذائشہ کو تو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا یہ اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔۔۔
ریحان نے گاڑی سٹاپ کی اور باہر آیا۔۔۔ وہ آحِل کے ساتھ ایک سادہ سے حلیے میں لڑکی کو دیکھ کر حیران ہوا ورنہ تو آحل کے آس پاس ہمیشہ برانڈڈ لک والی لڑکیاں ہوتی تھیں۔۔۔
آحِل نے زائشہ اور ریحان کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔
زائشہ اسے اپنے گھر کا راستہ بتاتی رہی۔۔۔
آحِل نے ڈرائیوکرتے ہوۓ مرر سے زائشہ کودیکھا وہ آحِل کو اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔ آحِل اپنی حالت سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔
زائشہ کی نظر اچانک مرر پر پڑی تو ان دونوں کی نظریں ملیں۔۔۔ اس نے آحل کی نیلی آنکھوں کو اب نوٹ کیا تھا۔۔۔
زائشہ نے جلدی سے اپنا رخ کھڑکی کی طرف کیا وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہونے والا واقع بھلا نہیں پائی تھی ۔۔۔۔
ان کی گاڑی ایک غریب سے محلے میں آ رکی آحِل اور ریحان تو ایسی جگہوں سے کبھی گزرے بھی نہ تھے ۔۔۔
زائشہ کا گھر سامنے ہی تھا وہ گاڑی سے اتری اور جانے لگی مگر آحِل بھی گاڑی سے اتر آیا۔۔
زائشہ نے اس کی طرف دیکھا مگر خاموش رہی آخر وہی تھا اس کو اس کے گھر تک لانے والا وہ اس کو اندر آنے سے روک نہیں سکتی تھی۔۔۔
ذائشہ نے دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے ہاتھ برھایا مگر اس کے گھر کا چھوٹا سا دروازہ کھلا ہی تھا وہ دونوں اندر داخل ہوئے۔۔۔
امی ذائشہ نے روتے ہوۓ پکارا تو اس کے امی ابو جو پریشانی میں رات کے اس پہر تک جاگ رہے تھے ذائشہ کو دیکھ کر اس لی طرف بھاگے۔۔۔
میری بچی اس کی ماں نے روتے ہوے ذائشہ کو اپنے سینے سے لگایا۔۔ ذائشہ بھی ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔
صدیق صاحب بھی اپنی بیٹی کو صحیح سلامت دیکھ کر خوشی سے رونے لگے۔۔۔
انہوں نے ذائشہ کو گلے سے لگایا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔۔۔
آحل کھڑا یہ سب دیکھتا رہا وہ اس بات پر بھی حیران تھا کہ مڈل کلاس کے لوگ ہونے کے باوجود وہ اپنی بیٹی کو کسی غیر لڑکے کے ساتھ رات کے اس پہر دیکھ کر پریشان کیوں نہیں ہوئے۔۔۔
مگر اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کے ماں باپ کو اپنی بیٹی کے صاف کردار پر یقین ہی اتنا تھا کہ وہ کبھی بھی اس پر شک و شبہ نہیں کر سکتے تھے
رخسانہ بیگم کی نظر آحِل پر گئی تو اس نے ذائشہ کی طرف سولیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
امی انہوں نے ہی میری مدد کی ہے یہی مجھے گھر تک لے کر آئے ہیں ورنہ آپ کی بیٹی اب تک مر گئی ہوتی۔۔۔ ذائشہ پھر سے رونے لگی تو رخسانہ نے اسے گلے سے لگایا۔۔
ذائشہ نے انہیں اپنے ساتھ ہونے والا واقع بیان کیا جسے سن کر اس کے ماں باپ کا دل دہل گیا۔۔۔
بیٹا ہم تمہارا یہ احسان ساری زندگی نہیں اتار سکتے۔۔۔ صدیق صاحب نے دکھی لہجے میں آحل سے کہا
کوئی بات نہیں انکل یہ میرا فرض تھا۔۔۔ یہ بات کہہ کر آحِل اندر ہی اندر خود سے شرمندہ ہوا کہ اس نے زندگی میں پہلی بار ہی کوئی فرض پورا کیا تھا۔۔۔
ان دونوں نے آحل کو اندر آنے کا کہا مگر آحِل نے انکار کر دیا کہ اسے جلدی گھر پہنچنا ہے۔۔۔
پھر وہ گھر سے باہر نکل آیا اور ایک آخری نظر ذائشہ پر ڈالی مگر وہ اپنی ماں کے گلے لگے رونے میں مصروف تھی جس کا آحل کو اندر ہی اندر دکھ ہوا شاید وہ یہ توقع کر رہا تھا کہ ذائشہ بھی آخری نظر اسے دیکھنا چاہ رہی ہو گی۔۔۔
وہ گاڑی میں آکر بیٹھا تو ریحان نے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔
گھر تک آتے آتے اس نے ساری بات ریحان کو بتا دی۔۔۔
ریحان حیران تھا آحِل کی بات سن کر کیوں کہ وہ لڑکیوں کو صرف اپنے مفاد کی خاطر ہی منہ لگاتا تھا کبھی کسی کی مدد نہیں کی تھی۔۔۔



صبح باشتے کی ٹیبل پر ماہا ویرا شگفتہ بیگم سے ملی تو اس نے اسے بتایا کہ وہ اسے اپنی بہو بنانا چاہتی ہے ۔۔۔
ماہا کا حیرانگی سے برا حال تھا اس نے دل میں سوچ لیا تھا کہ اسے اب کیا کرنا ہے۔۔۔
کاشف روم میں بیٹھا موبائل پر گیم کھیل رہا تھا کہ ماہا ویرا اندر داخل ہوئی ۔۔۔
اس نے دروازہ بند کیا اور کاشف کی طرف بڑھی۔۔۔
کیا کر رہے ہو کاشف۔۔۔
کاشف نے جب ماہا ویرا کو دیکھا تو شرماتے ہوۓ تکیے میں منہ دے لیا۔۔ جسے دیکھ کر ماہا نے اپنی مٹھیاں بند کیں
کیا ہوا شرما کیوں رہے ہو۔۔۔
وہ وہ تم میری ہونے والی دلہن ہو نہ اس لیے ۔۔۔ اس نے شرماتے ہوۓ اپنا ہاتھ منہ میں لے لیا
ماہا کو اس پر غصہ آیا مگر وہ جان بوجھ کر اس سے پیار سے بات کر رہی تھی۔۔۔
کاشف میں نہ تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں۔۔ ماہا نے مصنوعی پریشان ہوتے ہوۓ کہا
کاشف نے شرماتے ہوۓ تکیا منہ سے ہٹایا اور اشارے کے پوچھا “کیا” ۔۔
کاشف بات یہ ہے کہ مجھ پر چڑیل کا سایہ ہے۔۔
چ۔۔۔چڑیل۔۔۔ کاشف نے ڈرتے ہوۓ کہا
ہاں چڑیل۔۔ اور جب چڑیل میرے اندر آتی ہے نا تو میں کسی کو کچھ بولوں اور وہ نہ مانے تو میں اس کو بہت مارتی ہوں ہاتھوں سے بھی اور جوتوں سے بھی۔۔۔
ت۔۔تم مارتی ہو۔۔۔ وہ رونے والا ہو گیا
نہیں میں کب مارتی ہوں میرے اندر جو چڑیل ہوتی ہے وہ مارتی ہے
کاشف نے ڈرتے ہوئے اپنے ناخن چبائے
کاشف میں چاہتی ہوں تم پھوپھو سے کہو کہ تمہیں میں پسند نہیں اور تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے۔۔۔
نہیں نہیں میں نہیں کہوں گا تم میری دلہن بنو گی اور میں تمہارا دلہا بن کہ گھوڑی پہ بیٹھ کہ یوں آؤں گا ۔۔۔ وہ ڈر بھلاۓ شادی کی بات یاد آنے پر پھر سے خوش ہو گیا۔۔۔
ماہا ویرا نے خوف ناک آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔۔۔ جسے سن کر کاشف کی ساری خوشی ہوا ہو گئی
میں نے کہا نا تم مجھ سے شادی نہیں کرو گے۔۔۔ ماہا نے خود میں چڑیل آنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
ہونے والی دلہن تمہیں کیا ہو گیا۔۔۔ کاشف نے ڈر کے مارے پھر سے تکیہ اٹھایا
میں تمہاری دلہن نہیں چڑیل ہوں چڑیل۔۔۔
آااا چڑیل چڑیل۔۔۔ وہ بھاگنے لگا تو ماہا نے اس کو بازو سے پکڑ لیا
کہاں جا رہے ہو ابھی تمہیں جوتوں سے پیٹنا ہے تم نے میری بات ماننے سے انکار کیا۔۔۔
ن۔۔نہیں چڑیل باجی مجھے جانے دو م۔۔میں امی سے کہوں گا مجھے ما۔۔ماہا سے شادی نہیں کرنی بلکہ کبھی بھی شادی نہیں کرنی۔۔۔ اس نے روتے روتے کہا
اور تم کسی کو یہ سب بتاؤ گے بھی نہیں۔۔۔ اس نے بھاری آواز نکال کر غصے سے کہا
ن۔۔۔نہیں چڑیل باجی نہیں بتاؤں گا پکا پرامس
ٹھیک ہے میں تمہیں جانے دیتی ہوں اگر مجھے پتا چلا کہ تم نے میرے بارے میں کسی کو بتایا ہے تو اتنا ماروں گی۔۔ ماہا نے کاشف کا جوتا فرش سے اٹھایا اور اس کی بیک پر مارا
آاا۔۔۔ کاشف کی چینخ نکلی جسے سن کر ماہا نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔۔
جاؤ اب اپنی ماں سے کہو تمہیں یہ شادی نہیں کرنی ۔۔ اس نے کاشف کا بازو چھوڑا اور وہ روتا روتا اپنی ماں کی طرف بھاگا



ماہا ویرا اپنے کمرے میں آئی تو اس کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا کہ اس نے کاشف کو کیسے مزہ چکھایا۔۔
اس کو فون کی رنگ بجتے سنائی دی اس نے حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھا کیوں کہ اس کے پاس تو اب موبائل تھا نہیں۔۔۔
وہ اٹھی اور دیکھنے لگی آواز کہاں سے آرہی ہے وہ ونڈو کے پاس گئی تو وہاں ایک بوکس پڑا تھا اس نے اٹھا کر کھولا تو اس میں نیو موبائل تھا اور اس نے سکرین کی طرف دیکھا تو husband کے نام سے نمبر شو ہو رہا تھا جہاں سے کال آرہی تھی۔۔۔
ماہا نے ہچکچاہٹ سے کال ریسیو کی۔۔
اتنی دیر لگا دی میری وائف نے کال ریسیو کرتے کرتے۔۔۔
ماہا کو اس کی آواز پہچاننے میں وقت نہ لگا۔۔
کیا ہے یہ سب۔۔ ماہا غصے سے بولی
تم سے بات کرنے کو دل کر رہا تھا موبائل تو تمہارا رہا نہیں تھا سوچا گفٹ بھی دے دوں اور تم سے بات بھی کر لوں۔۔۔ اس کی آواز ماہا کو پرکشش لگی مگر وہ اس بات کو اگنور کر گئی
مگر مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی آئی سمجھ۔۔۔
سوچ لو جانم اگر تم نے ایک گھنٹہ مجھ سے بات نہ کی تو میں رات کو تمہارے کمرے میں موجود ہوں گا۔۔۔
مجھے دھمکیاں مت دو میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں کہ گھنٹوں تم سے بات کروں ۔۔ وہ غصے سے کہتے ہوۓ کال بند کر گئی۔۔۔
بلال نے سگریٹ جلا کر ہونٹوں میں لی اور قاتلانہ انداز میں مسکرایا۔۔۔



شگفتہ بیگم نے کاشف کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ ایک ہی رٹ لگا رہا تھا کہ اسے ماہا ویرا سے شادی نہیں کرنی۔۔۔
یہ سب دیکھ کر سلطان صاحب حیران تو ہوۓ مگر ساتھ ہی سکھ کا سانس لیا کہ اب شگفتہ بیگم کو انکار نہیں کرنا پڑے گا جس سے 100 مسائل اٹھتے۔۔
کاشف کے بار بار اسرار کرنے پر وہ اسی دن جلتی کڑھتی کاشف کو لیے کراچی واپس چلی گئی۔۔
سب نے شکر ادا کیا۔۔
فارغ ہو کر سلطان صاحب نے آحل کو کال کی۔۔۔
ہیلو۔۔ السلام علیکم ڈیڈ
وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو
میں ٹھیک ہوں ڈیڈ آپ کیسے ہیں
آحِل بیٹا تمہاری آؤٹنگز کب ختم ہوں گی میں چاہتا ہوں تم شادی کر لو ماشا اللہ سے تم ستائیس سال کے ہو گئے ہو۔۔۔۔ میں تمہارے لیے کوئئ اچھی سی لڑکی دیکھ لیتا ہوں یا تمہاری نظر میں کوئی ہے تو بتاؤ۔۔
آحِل کے زہن میں ذائشہ کا چہرہ گردش کرنے لگا اس سے اچھی بھلا کہاں مل سکتی تھی مگر وہ اس کی نہ تھی وہ اس سے بہت دور تھی وہ اس کو حاصل کیسے کرتا۔۔
کیا سوچ رہے ہو بیٹا۔۔۔ سلطان صاحب نے آحل کی خاموشی نوٹ کرتے ہوئے پوچھا
کچھ نہیں ڈیڈ۔۔ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ اتنا کہتے ہوئے اس نے کال بند کر دی ۔۔
سلطان صاحب پریشان سے ہوئے



ایک ہفتہ گزر چکا تھا مگر آحل خود کو ذائشہ کے خیالوں سے نکال نہیں پا رہا تھا نہ ہی وہ اپنی کیفیت سمجھ پا رہا تھا ۔۔۔
آحِل تم کہاں کھوئے کھوئے رہتے ہو آج کل ہمارے بیچ ہو کر بھی تم جیسے کہیں اور ہوتے ہو۔۔ آحل فاریہ اور ریحان کلب آئے ہوئے تھے آحِل کو خاموش بیٹھا دیکھ کر فاریہ نے کہا
کہیں نہیں یار میں نے کہاں ہونا ہے۔۔۔ آحِل سے ایک سایئڈ کی سمائل دیتے ہوئے کہا
جناب کو پیار ہو گیا ہے اور تم تو جانتی ہو جب پیار ہوتا ہے تو انسان ایسے ہی کھویا کھویا سا رہتا اپنے محبوب کے خیالوں میں۔۔۔۔ ریحان نے فاریہ کو آنکھ مارتے ہوئے بتایا تو فاریہ کو شوکڈ لگا
آحِل کیا کہہ رہا ہے ریحان۔۔۔
نتھنگ فاریہ اسے تو فضول بکنے کی عادت ہے۔۔ آحل نے ریحان کو گھوری ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔
فاریہ فلحال کے لیے خاموش ہوئی لیکن دل میں سوچا کہ وہ ریحان سے پوری بات پتا کروا کر رہے گی۔۔
اوکے میں گھر جا رہا ہوں۔۔۔ آحل کہتے ہوئے اٹھا
مگر اتنی جلدی ابھے صرف 9 بجے ہیں۔۔۔ ریحان بولا
ہاں بس آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔ پھر وہ کلب سے نکلا اور گاڑی میں بیٹھ گیا
اس کے دل و دماغ میں اب بھی ذائشہ ہی تھی ۔۔ اس کا شدت سےدل چاہ رہا تھا اس کو دیکھنے کو۔۔۔
دل کی مانتے ہوئے وہ خود بہ خود ہی ذائشہ کے گھر کی طرف گاڑی لے گیا اسے وہ راستہ یاد تھا جو اس رات گاڑی میں ذائشہ نے بتایا تھا۔۔۔
اب وہ ذائشہ کے گھر کے کچھ ہی دوری پر کھڑا تھا ۔۔
اس کا دل بے چین تھا اس کی ایک جھلک دیکھنے کو
وہ گاڑی سے نکل کر کھڑا ہو گیا کبھی وہ ادھر ادھر گھومتا کبھی گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو جاتا اس بار اس کی ویسی فیلینگز نہیں تھیں کہ لڑکی پسند آئی تو اسی رات بستر پر موجود ہوتی ۔۔۔
اس بار اس کے دل کو جو میٹھا سا درد مل رہا تھا وہ اس کو لطف دے رہا تھا ایسی بے چینی اس نے پہلے کبھی محسوس نہ کی تھی۔۔۔
وہ ترس رہا تھا کہ ذائشہ باہر آئے اور اس کا دل کو پرسکون ہو۔۔۔
اس نے موبائل نکال کر ٹائم دیکھا تو 10 بج چکے تھے۔۔
اتنی رات کو وہ باہر نکلتی ہی نہیں میں بھی پاگل ہوں جو انتظار کر رہا ہوں۔۔۔
خود کلامی کرتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھا جب اس کا نظر ذائشہ کے گھر کی چھت پر گئی۔۔۔
وہ اس کی طرف کمر کیے کھڑی تھی ۔۔
آحِل کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی اس نے اپنے دل پر نے یقینی سے ہاتھ رکھا۔۔
مگر اس کا چہرہ وہ ابھی بھی نہیں دیکھ پایا تھا
ذائشہ اپنے چہرے پر پڑتی ٹھنڈی ہوا سے اپنے اندر تک سکون اتار رہی تھی۔۔ ہوا کا رخ بدلا تو وہ مڑی
آحِل نے اس کے چہرے کو دیکھا تو نظر ہٹانا بھول گیا
اس کے چہرے پر لمبے بالوں کی سیاہ لٹیں ہوا سے کبھی ادھر تو کبھی ادھر کو آتی۔۔۔ سادہ سفید لباس میں وہ اپسرا ہی لگ رہی تھی
آحِل کی آنکھیں کسی پیاسے کی طرح اپنی پیاس بجھا رہی تھیں۔۔۔
ذائشہ آنکھیں بند کیے کھڑی تھی جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اس کی نظر آحِل پر پڑی۔۔۔
وہ گھبرا گئی کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔ اس کے گھر کے باہر
اور ادھر نظریں ملتے ہی آحِل کے دل میں ہل چل مچ گئی۔۔۔
وہ شدت بھری نظروں سے اسے دیکھتا ہی گیا
ذائشہ اپنے آپ پر اس کی نظروں کی تاب برداشت نہ سکی اور سیڑیاں اترتی ہوئی اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گئی۔۔۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی
آحِل وہیں کھڑا اس کے وجود کو محسوس کر رہا تھا اس کا کمبخت دل ابھی بھرا نہیں تھا ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ نہ چاہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا اور اپنے گھر کی طرف ہو لیا۔۔۔



ماہاویرا ڈنر کر کے اپنے کمرے میں آئی اور بیڈ پر بازو پھیلاۓ لیٹ گئی۔۔۔
ہیلو ماۓ وائف۔۔۔
اس نے پیچھے دیکھا تو بلال آرام سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ہاتھ پینٹ کی پاکٹس میں ڈال کر کھڑا تھا ۔۔
ت۔۔۔تم
تم کیا کر رہے ہو یہاں۔۔ اس نے آنکھیں دکھاتے ہوۓ پوچھا تو بلال کو اس کی یہ ادا بہت اچھی لگی۔۔
اپنی وائف سے ملنے آیا ہوں۔۔ وہ اس کی طرف قدم بڑھاتا ہوا بولا
دیکھو مجھ سے دور رہو ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔ وہ دل ہی دل میں ڈر بھی رہی تھی
ٹھیک ہے تمہیں جو اچھا نہیں ہو گا کرنا ہے کر لو اور مجھے جو اچھا لگتا ہے میں وہ کر لیتا ہوں ۔۔
ماہا ویرا اب دیوار کے ساتھ لگ چکی تھی
کیا کہتی ہو وائف ڈیل پکی سمجھوں ۔۔ بلال نے دونوں اطراف بازو رکھتے ہوئے اسے آنکھ مار کر کہا
وہ ماہا کی نیلی آنکھوں میں اپنی گہری کالی آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا۔۔۔
ماہا ویرا کو اس سے خوف آیا
ہٹو پیچھے ۔۔۔۔وہ بلال کو دھکا دیتے ہوۓ بولی
بلال نے تیزی سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے لگایا۔۔
آہ۔۔۔ماہا کے منہ سے بے ساختہ چینخ نکلی۔۔۔۔
ماہا بیٹا کیا ہوا۔۔۔ چینخ کی آواز سن کر سلطان صاحب جو اپنے کمرے میں جا رہے تھے ماہا کے کمرے کی طرف بڑھے
اوہ نو ڈیڈ آ رہے ہیں تم چھپو جلدی کرو۔۔۔
نہ۔۔۔ میں تو نہیں چھپنے والا آخر سسر جی سے بھی تو ملاقات کرنی ہے نا۔۔۔ اس نے نہایت آرام سے کہا
کیا۔۔۔ تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا۔۔ ماہا نے حیرت سے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے کہا
ماہا بیٹا۔۔۔ سلطان صاحب دروازہ کھول کر اندر آئے
یس ڈیڈ آئم فائن۔۔۔ ماہا سلطان صاحب کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی بلال کو کھینچتے ہوئے واش روم میں لے آئی تھی۔۔۔
تو بیٹا تم چینخ کیوں رہی تھی۔۔
وہ ڈیڈ واش روم میں چھپکلی دکھی تھی اس لیے۔۔۔۔ ماہا بمشکل بول پائی تھی کیوں کہ بلال اسے پیچھے سے اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔۔۔
اچھا بیٹا تم نے تو مجھے پریشان کر دیا۔۔۔
س۔۔۔سوری ڈیڈ اب آپ جائیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ بلال نے اس کا چہرہ ایک سائیڈ کرتے ہوئے اس کے رخسار پر اپنے ہونٹ رکھے
ٹھیک ہے بیٹا دھیان سے۔۔ سلطان صاحب کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے
ہٹو پیچھے کیوں تنگ کر رہے ہو ۔۔۔۔دروازہ بند ہونے کی آواز سنتے ہی ماہا بولی
اس نے واش روم سے باہر نکلنے کیلئے دو قدم ہی اٹھائے تھے کہ بلال نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا اور شاور آن کر دیا۔۔
اب وہ دونوں پانی سے بھیگ رہے تھے ۔۔۔
بلال کے ہاتھ ماہا کی کمر پر گردش کر رہے تھے ۔۔۔
چھوڑو مجھے۔۔۔
بلال نے ماہاویرا کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کا چہرہ اپنے مقابل کیا۔۔۔
کیا کرنے والے ہو تم میں تمہیں ہرگز ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔۔
لگتا ہے میڈم شرط بھول گئی ہے بلال نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
تمہاری شرط میں نے نکاح کر کے پوری کر دی تھی اس سے آگے کی امید نہ ہی رکھو تو اچھا ہے۔۔۔
اس نے بلال کے پیٹ میں زور سے اپنا گھٹنہ مارتے ہوئے اپنا آپ چھڑوایا۔۔
وہ باہر نکلنے کے لیے بھاگی اور بلال اس کو پکڑنے کے لیے۔۔۔ فرش گیلا ہونے کی وجہ سے وہ دونوں ہی پھسل گئے
اب پوزیشن یہ تھی کہ ماہاویرا نیچے اور بلال اس کے اوپر تھا۔۔
آہ۔۔۔ماہا نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھا اس کو کمر میں درد کی شدت محسوس ہو رہی تھی۔۔
جبکہ بلال بہت آرام سے اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
پیچھے ہٹو بلڈوزر کہیں کے۔۔۔ اسے ہنستے دیکھ کر ماہا کا خون کھول اٹھا
ایسے تو نہیں اٹھوں گا کچھ میٹھا کھلاؤ ویسے بھی جب سے آیا ہوں تم نے خاطر توازہ تو کی ہی نہیں۔۔۔ بلال ڈھیٹ بنا
کیا مطلب ہے تمہارا۔۔ ماہا نے غصے سے کہا
بلال اس کی سنے بغیر اس کے ہونٹوں پر شدت بھری گستاخی کرنے لگا۔۔۔
ماہاویرا پہلے تو ہواس باختہ سی خاموش رہی پھر ہوش آنے پر اسے سائیڈ پر دکھیلا اور اٹھ کر باہر نکل گئی۔۔۔
بے شرم انسان۔۔۔ ماہا کمرے میں جا کر اونچی آواز میں بولی
بلال اس کی بات پہ قاتلانہ انداز میں مسکرایا اور کھڑا ہوا اب اسے واپس جانا تھا وہ ماہا کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا کیوں کہ وہ ماہا ویرا کو چاہنے لگا تھا اور محبوب کو تکلیف ہو یہ محب کو کہاں برداشت ہوتاہے۔۔
