Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 20)

Madhoshi by Mirha Kanwal

ماہاویرا نے شہروز کے موبائل کی لوکیشن دیکھی۔۔۔ اب وہ دیکھ سکتی تھی شہروز کہاں جا رہا ہے۔۔۔

شہروز اپنے آفس میں پہنچا رو ایاز اسفند فائلز دیکھ رہے تھے۔۔۔

ہیلو سر۔۔۔ وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

ہاں شہروز کوئی اچھی خبر ہے کیا۔۔۔ ایاز نے اپنا سر اوپر کرتے ہوئے شہروز سے پوچھا

جی سر خبر تو بہت اچھی ہے بس سمجھ لیں کچھ ہی دن کے اندر اندر بلال خان ہماری گرفت میں ہو گا۔۔۔ وہ ہاتھ کا پنجہ بناتے ہوئے بولا

کیا واقعی ایسا کیا ہوا ہے۔۔۔ ایاز حیران ہوئے

میرے جاننے والے انکل کی بیٹی ہے جو بلال خان سے کانٹیکٹ میں ہے بس اسی کے زریعے ہم بلال خان تک پہنچیں گے۔۔۔

کیا یہ تو بہت اچھی خبر ہے اس طرح تو بہت آسان ہو جائے گا ہمارا کام۔۔۔

ہاں بکل جلد ہی یہ کیس سالوّ ہو جائے گا۔۔۔ شہروز ایاز اسفند کی طرف دیکھ کر مسکرایا تو وہ بھی مسکرانے لگے

🔥
🔥
🔥

سلطان صاحب آحل کو ہوسپٹل سے ڈسچارج کروا کے گھر لے آئے تھے۔۔۔

آحِل کی طبیعت آدھے سے زیادہ تو منگنی کر کے اور اسی مہینے میں شادی کا سن کر ٹھیک ہو گئی تھی۔۔۔

وہ بیڈ پر لیٹا مسکرا رہا تھا اس کو زندگی پھر سے حسین لگنے لگی۔۔۔

اس نے موبائل اٹھایا اور ذائشہ کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔

ذائشہ ہوسپٹل سے آکر آرام کر رہی تھی اسے بھی اپنی طبیعت میں کافی حد تک بہتری محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

وہ آحِل کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی جب اس کا فون رنگ ہوا۔۔۔

اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو سکرین پہ آحل کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔

ایک خوبصورت مسکراہٹ اس کے نازک ہونٹوں پر رونما ہوئی۔۔۔

اس نے کال ریسیو کر کے موبائل کان کو لگایا۔۔۔

وہ خاموش رہی۔۔۔

آحِل بھی خاموش رہا۔۔۔

کچھ دیر تک وہ ایک دوسرے کی سانسیں سنتے رہے۔۔۔

دونوں کے ہی اندر تک سکون اتر رہا تھا۔۔۔

ذائشہ۔۔۔ آحِل سرگوشی نما بولا

ذائشہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔

ج۔۔جی۔۔۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ بمشکل بولی

آحل اس کے گبھرانے پر مسکرایا۔۔۔

کیسی ہو مائے فیانسی۔۔۔ آحل پیار بھرے لہجے میں بولا

ذائشہ کے رخسار سرخ ہوئے۔۔۔

ٹھیک ہوں اور آپ۔۔۔ وہ بول کے خاموش ہوئی

جب سے تمہارے نام میرے نام کے ساتھ جڑا ہے تب سے بلکل تھیک ہوں۔۔۔

ذائشہ نے اس کی بات پر بلش کیا جو کہ آحِل تصور کر سکتا تھا۔۔۔

اسی مہینے شادی ہے ہماری تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا۔۔۔ آحل نے سوچا کہ اسکی رضامندی بھی پوچھ لے

ن۔۔نہیں۔۔۔ وہ ہچکچاتے ہوئے بولی

آحِل مسکرایا

اچھا تمہیں ہنی مون پر کہاں جانا ہے۔۔ جہاں کہو گی وہاں لے کر جاؤں گا۔۔۔ وہ فری ہوا

ذائشہ کے رخسار سرخ ہونے لگے۔۔۔

مجھے نہیں معلوم جیسے آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔

ارے ایسے کیسے میں تو اپنی بیوی کی بات مانوں گا۔۔۔

آحِل نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا وہ جانتا تھا ذائشہ کا کیا حال ہو گا اس کی ایسی باتوں سے۔۔۔

ذائشہ خاموش رہی اس کی ہتھیلیاں نم ہونے لگیں۔۔۔

بتاؤ نہ کہاں جانا ہے۔۔۔ وہ پھر بولا

مجھے نہیں معلوم ابھی شادی ہوئی نہیں اور آپ ہنی مون کی پلیننگ بھی کرنے لگ گئے۔۔۔ وہ ہمت کر کے بولی

ہاہاہا۔۔۔ آحِل کا قہقہ کمرے میں گونجا

وہ دن بھی آجائیں گے جانم جب تم میرے بستر پر میری باہوں میں ہو گی۔۔۔ وہ آواز میں خمار لیے بولا

ذائشہ کے لیے اب اس سے بات کرنا ناممکن ہو گیا تھا اس نے کال ڈسکنیکٹ کر کے موبائل تکیے کے نیچے رکھا اور سر رکھ کر لیٹ گئی۔۔۔

وہ آحل کی باتیں یاد کر کے آنے والے دنوں کا سوچنے لگی۔۔۔ صرف سوچنے سے ہی اس کی دھڑکنیں شور مچانے لگی۔۔۔

اففف کیا سوچ رہی ہوں میں۔۔۔ اس نے خود کلامی کرتے ہوئے اپنے ہی سر پر تھپکی لگائی

ادھر آحِل اس کے کال بند کرنے پر ٹھنڈی آہ پھر کر رہ گیا وہ جانتا تھا اس کی حالت کیا ہو گی۔۔۔

وہ اپنا فیوچر سوچ کر مسکرانے لگا

🔥
🔥
🔥

فاریہ نے گھر آکر کمرہ لاک کیا۔۔۔

اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا تھا اس نے ڈرسنگ پر پڑی مہنگی پرفیومز کو ایک ہاتھ مار کر فرش پر چکنا چور کر دیا۔۔۔

نہیں۔۔۔نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے آحِل کی اس لڑکی کے ساتھ منگنی ہو گئی اور میں کھڑی دیکھتی رہی۔۔۔

نہیں۔۔۔ اس نے ٹیبل پر پڑا گلدان زمین پر پھینکا۔۔۔

فرش پر جگہ جگہ کانچ کے ٹکڑے بھکر گئے۔۔۔

اس نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا۔۔۔

آج صبح کتنا سج سنور رہی تھی وہ مگر کس کے لیے۔۔۔ جس کے لیے کر رہی تھی اس کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام لگ چکا تھا۔۔۔

اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا گلدان اٹھا کر شیشے پہ دے مارا۔۔۔

نہیں آحِل ۔۔۔ میں اتنی آسانی سے ہار نہیں مانوں گی۔۔۔

وہ خود کلام ہوئی

🔥
🔥
🔥

رات کے بارہ بجے ماہاویرا نے شہروز کے آفس جانے کی تیاری کی۔۔۔

اس نے بلیک پینٹ شرٹ پہنی اور چہرے پر بلیک ماسک لگایا۔۔۔

اس نے بلال کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔

ہیلو بلال۔۔۔

ہاں ماہاویرا میں تمہارے گھر سے لیفٹ سائیڈ تھوڑی دوری پر ہوں جلدی آجاؤ۔۔۔ بلال نے ماہا کو بتایا

ماہاویرا نے موبائل پاکٹ میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکلی۔۔۔

رات کے وقت ماہاویرا کچن میں گئی جب ملازموں کے چائے بن رہی تھی اس نے چائے میں نیند کی گولیاں ڈال دیں تا کہ اسے کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔۔۔

اس نے ایک نظر اپنے ڈیڈ کے کمرے کی طرف دیکھا پھر اپنی منزل کو چل دی۔۔۔

واچ مین گہری نیند سوئے ہوئے تھا ماہاویرا نے گیٹ کی دوسری چابی کا پہلے ہی بندوبست کر لیا تھا۔۔۔

اس نے آہستہ سے گیٹ کا لاک کھولا اور باہر نکلی۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی بلال کے پاس پہنچی وہ اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔۔

ماہاویرا نے اس کے پاس جا کر اپنا ماسک اتارا۔۔۔

بلال نے اپنی جیکٹ کی پاکٹ سے اسے ایک پسٹل نکال کر دی۔۔۔

ماہاویرا حیران ہوئی۔۔۔

بلال مجھے یہ گن کیوں دے رہے ہو۔۔۔

تمہیں اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے ضروری نہیں تم اس کا استعمال اسے چلا کر ہی کرو گی اگر کسی نے تمہیں دیکھا تو تم اسے اس سے ڈرا سکتی ہو۔۔۔

ماہاویرا کا حلق خشک ہوا وہ پہلی بار اپنے ہاتھ میں گن پکڑ رہی تھی۔۔۔

اس نے لرزتے ہاتھوں سے گن پکڑی۔۔۔

میری جان تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے شہروز تمہیں جانتا ہے اگر تم پکڑی بھی گئی تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر میں پکڑا گیا تو تم سے دور ہو جاؤں گا ساری عمر کے لیے۔۔۔ اس نے ماہاویرا کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے کہا

نہیں نہیں میں تمہیں کبھی خود سے دور نہیں ہونے دوں گی بلال۔۔۔ میں یہ کام کر کے رہوں گی اپنے پیار کی خاطر۔۔۔ وہ پریشان سی بولی

بلال نے اس کی پیشانی پر کس کیا۔۔۔ مجھے تمہارے پیار پہ پورا بھروسہ یے۔۔۔

ماہاویرا مسکرائی

ماہا تمہیں میرا ایک کام اور کرنا ہو گیا۔۔۔ بلال نے کہا تو ماہا حیران ہوئی

کونسا بلال۔۔ وہ بولی

تمہیں وہاں سے ایک فائل چرانی ہو گی اس پہ جہانگیر دادا لکھا ہو گا۔۔۔

مگر بلال جہانگیر دادا کی فائل تمہیں کیوں چاہیے۔۔۔ اس نے پوچھنا ضروری سمجھا

وہ اس لیے جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا تھا میں جہانگیر دادا کے گینگ میں کام کرتا تھا تو اس میں انہوں نے جہانگیر دادا کے ساتھ میرے خلاف بہت سے جھوٹے ثبوت اکھٹے کیے ہیں وہ فائل مجھے چاہیے۔۔۔

ماہاویرا اسے دیکھتے ہوئے سوچ میں پڑی۔۔۔

اوکے بلال میں وہ فائل چرا لوں گی۔۔۔

وہ فائل تمہیں ایاز اسفند کے کمرے سے ملے گی تمہیں کہیں نہ کہیں اس کا نام لکھا ہوا نظر آجائے گا جس سے تمہیں کنفرم ہو جائے گا۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔ ماہاویرا کہتے ہوئے اس کے سینے سے لگی بلال نے اس کے سر پر بوسہ دیا

وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اور ہوا ہو گئے۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد وہ اپنی منزل کے باہر تھے۔۔۔

🔥
🔥
🔥

آحِل کو ہوسپٹل سے آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا اب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا تھا۔۔۔

وہ فریش ہو کر واش روم سے باہر نکلا جب ملازمہ نے کمرے کا دروازہ کھٹکھایا

یس۔۔۔ آحِل نے شرٹ پہن کر کہا

صاحب جی فاریہ نام کی لڑلی آپ سے ملنے آئی ہے۔۔۔ ملازمہ بولی

اوکے اسے لاؤنج میں بٹھاؤ میں آتا ہوں۔۔۔

جی اچھا۔۔۔ وہ کہتی ہوئی مڑی

فاریہ لاؤنج میں بیٹھی آحل کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔

آحِل سیڑھیاں اترتا ہوا آرہا تھا۔۔۔

فاریہ نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔

بلو شرٹ بلیک، پینٹ، بلیک شوز وہ معمول سے زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔

فاریہ نے اس ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں سے دل تک اتارا۔۔۔

ہائے فاریہ کیسی ہو۔۔۔ وہ دوسرے صوفے پر بیٹھا

میں بلکل ٹھیک تم بتاؤ کب گھر سے نکلنے کا ارادہ ہے جناب کا۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی

آحِل کے ہونٹوں پر اس کی بات سے دلکش مسکراہٹ آئی۔۔۔ وہ بیٹھا فاریہ کے دل پر وار پہ وار کیے جا رہا تھا

اب کیا کرنا گھر سے باہر نکل کے۔۔۔ اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

کیوں ایسی کیا بات ہے۔۔۔ وہ حیران ہوئی

تم تو جانتی ہی ہو میری اسی مہینے شادی ہونے والی ہے تو بس ابھی سے خود کو گھر میں رہنے کی عادت ڈال رہا ہوں آخر بیگم کے آنے کے بعد کون کمبخت باہر جائے گا۔۔۔ وہ فاریہ کو آنکھ مارتا ہوا بولا

فاریہ اس کی بات سن کر دل ہی دل میں آگ بگولا ہوئی مگر اس نے مصنوعی قہقہ لگایا تا کہ آحِل کو کسی قسم کا شک نہ ہو۔۔۔

اس نے دل ہی دل میں یہ بھی شکر ادا کیا کہ ریحان نے آحل کو کچھ نہیں بتایا تھا۔۔۔

آحِل دیکھو کتنے دن ہو گئے ہیں تم مجھ سے اور ریحان سے ملے ہی نہیں چلو نہ آج کہیں باہر لنچ کرتے ہیں۔۔۔ اس نے بیچارہ سا منہ بنایا

ہاں لنچ تو میں تمہیں ضرور کرواؤں گا مگر میرے گھر میں۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا بولا

فاریہ کو تو بس اس کے ساتھ وقت گزارنا تھا چاہے وہ باہر ہو یا گھر میں۔۔۔

اوکے جناب۔۔۔ اس نے خوش ہو کر کہا۔۔۔

🔥
🔥
🔥

بلال نے ماہاویرا کو ایک رومال دیا جس میں بے ہوشی کے دوا ملائی گئی تھی اور ساتھ ہی ایک چاقو دیا۔۔۔

ضرورت پڑنے پر اسے استعمال کرنا۔۔۔

مگر گن ہے تو اس کی کیا ضرورت۔۔۔ وہ بولی

ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔ بلال بولا

ماہاویرا نے ہاں میں سر ہلایا اور گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔

جہاں وہ آئے تھے وہ آفس کی بیک سائیڈ تھی۔۔۔

ماہاویرا نے ایک بار پیچھے مڑ کر بلال کی طرف دیکھا۔۔۔

اس کا شوہر اس کی پہلی محبت وہ کب کیسے کتنا چاہنے لگی تھی اسے خبر تک نہ ہوئی۔۔۔

آج وہ اس کے لیے اپنی زندگی بھی خطرے میں ڈالنے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔

اس نے اپنا رخ سیدھا کیا اور چلنے لگی۔۔۔

جیسے جیسے وہ چل رہی تھی بلال کی نظروں سے اوجھل ہوتی جا رہی تھی۔۔۔

اپنی منزل پر پہنچ کر ماہاویرا اندر جانے کا راستہ تلاش کرنے لگی۔۔۔

اس نے آس پاس نظر دوڑائی تو ایک سائیڈ پر چھوٹی سی مارکیٹ تھی جو کہ اس وقت بند تھی۔۔۔

کیا پتہ یہاں سے کچھ مل جائے۔۔۔ اس نے خود کلامی کی اور چلنے لگی۔۔۔

ایک شاپ پر اسے لڑکی کا بینچ دکھا۔۔۔

یہ ٹھیک رہے گا۔۔۔ اس نے دل میں سوچا اور بینچ کو گھسیٹنے کے انداز میں اٹھائے دیوار تک لائی۔۔۔

اس نے بینچ کو لمبا کر کے دیوار کے ساتھ لگایا دیوار بھی زیادہ بڑی نہ تھی۔۔۔

اس نے جیسے تیسے کر کر بینچ پر چھڑ کر دیواد پر ہاتھ ڈالا۔۔۔

وہ گرنے ہی لگی تھی جب اس نے خود کو سمبھالا۔۔۔

اب وہ دیوار پر چھڑنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔۔۔

اس نے اندر کی طرف دیکھا وہاں سناٹا چھایا ہوا تھا۔۔۔

ایک بار تو ماہاویرا کو بھی خوف آنے لگا مگر اسے ہر حال میں یہ کام کرنا تھا۔۔۔

اس نے نیچے کی طرف چھلانگ لگائی اس دوران اس کے ہاتھ پر چوٹ لگی مگر اس نے پرواہ نہ کی۔۔۔

ہاتھ کو مسلتی وہ اٹھی اور ماسک چہرے پر کیا۔۔۔

اس نے ایک ہاتھ میں گن پکڑی اور دوسرے ہاتھ میں رومال پکڑا۔۔۔

اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اندر کی جانب بڑھی۔۔۔

اس نے دیکھا کہ واچ مین گیٹ کے پاس چکر کاٹ رہا ہے۔۔۔ مگر گیٹ ماہاویرا سے کافی دور تھا۔۔۔

اس نے اندر جانے کے لیے کوئی کھڑکی تلاشنا شروع کیا۔۔۔

اسے ایک کھڑی ملی جو لاک بھی نہیں تھی۔۔۔

اس نے اسے دھکیلا تو وہ کھلتی چلی گئی۔۔۔

ماہاویرا نے اس کے اندر قدم رکھا اب وہ اس کمرے میں کھڑی تھی۔۔۔

ٹیبل پر ایک فوٹو فریم پڑا تھا جس ہر ایک آدمی کی تصویر تھی اور نیچے ایاز اسفند لکھا تھا۔۔۔ اسے بلال کی بات یاد آئی

ماہاویرا نے ٹیبل کے دراز کھولنے کی کوشش کی مگر وہ سبھی لاک تھے۔۔۔

ان میں ہو سکتا ہے فائل یو اسی لیے تو لاک ہیں۔۔۔اب کیا کروں۔۔۔

وہ سوچ میں پڑی

اچانک اس کے ذہن میں چاقو آیا۔۔۔ اس نے جلدی سے اپنی پاکٹ سے چاقو نکالا اور دراز کی لاک والی جگہ پر مارنے لگی۔۔۔

اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے ۔۔۔ پانچ منٹ میں وہ لاک کھل گیا۔۔۔

اس میں کافی ساری فائلز تھیں اس نے سبھی فائلز کو نکال کر ٹیبل پر رکھا۔۔۔

اب وہ ایک ایک فائل چیک کر رہی تھی۔۔۔

اسے کمرے کے باہر سے آواز آئی۔۔۔۔

وہ فائلز اٹھائے ٹیبل کے نیچے گھسی۔۔۔

ایک آدمی نے دروازہ کھولا اور اندر آیا۔۔۔

ماہاویرا کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔

وہ آنکھیں بند کئے اللہ کو یاد کرنے لگی۔۔۔

اس آدمی نے کمرے کچھ اٹھایا اور باہر نکل گیا۔۔۔

ماہاویرا نے شکر ادا کیا۔۔۔

اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے فائلز کو زمین پر رکھا۔۔۔

اب وہ دھیان کے ساتھ فائلز پر لکھے نام پڑھنے لگی۔۔۔

کسی بھی فائل میں جہانگیر دادا کا نام نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔ وہ ناکام ہوئی

اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور دوسرا دراز کھولنے لگی۔۔۔

کچھ دیر بعد اس نے وہ بھی کھول کیا اس میں ایک ہی موٹی بڑی فائل دکھی جب ماہا نے اسے باہر نکال کر کھولا تو فرنٹ پیج پر ہی جہانگیر دادا لکھا ہوا نظر آرہا تھا۔۔۔

اس نے فائل کو خود سے لگا کر سکھ کا سانس لیا۔۔۔

اس نے فائل کو اپنے پیچھے پہنے بیگ میں ڈالا۔۔۔

اب وہ سوچ رہی تھی بلال کے آدمی وقاص کو کیسے ڈھونڈے اور کیسے نکالے کیوں کہ یہاں کوئی تھا جو ابھی اس کمرے سے کو کر گیا تھا۔۔۔

وہ سوچ کر پریشان ہوئی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *