Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 02)

Madhoshi by Mirha Kanwal

اس کو بند کمرے میں کسی کے قدموں کی چانپ اپنے قریب آتے سنائی دے رہی تھی۔۔۔

اس شخص نے اس کا سر سے لے کر پاؤں تک لڑکوں جیسا حلیہ نوٹ کیا۔۔۔

اس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لگا کر دھواں اس کے چہرے پر پھونکا۔۔۔

وہ بری طرح کھانسنے لگی۔۔۔

جاہل انسان میں تمہیں جان سے مار دوں گی کون ہو تم کھولو میرے ہاتھ۔۔ وہ چلائی

ششش۔۔۔ اس نے شخص سرگوشی کی جو کہ ماہا ویرا کو اپنے کان کے قریب سنائی دی۔۔۔

وہ اس کے پیچھے کھڑا تھا ۔۔۔ اگر وہ زرا سا بھی پیچھے ہوتی تو اس کی کمر اس شخص کے سینے کو چھوتی

میرے آدمیوں نے تمہیں سمجھایا نہیں کہ میرے سامنے کیسے پیش آنا ہے۔۔ اس نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا مگر سرگوشی میں

میں تمہاری غلام نہیں ہوں جو تمہارے سامنے ادب سے پیش آؤں میں ماہا ویرا سلطان خانزادی ہوں آر یو انڈرسٹیند اگر تم نے مجھے یہاں قید کر کے رکھنے کا سوچا ہے تو تمہاری بہت بڑی غلط فہمی ہے مسٹر۔۔۔ ماہاویرا غصے سے بولی

اتنا غرور تمہارے لیے اچھا نہیں تم میرے سامنے ایک چیونٹی سے کم نہیں۔۔ اس نے آرام سے کہا

ماہا ویرا اس کی اس بات سے چڑ گئی۔۔۔

میرا تم سے چیلنج ہے میرے ہاتھ کھولو اور فائیٹ کرو مجھ سے اگر میں نے تمہیں زمین پر گرایا تو تم مجھ سے معافی مانگو گے اور خود ڈرائیو کر کے مجھے میرے گھر تک چھوڑنے جاؤ گے۔۔۔ اس نے مارشل آرٹ میں کلاسز لی تھیں اسی لیے وہ فائیٹ کرنا جانتی تھی۔۔۔

اور اگر میں نے تمہیں زمین پر گرا دیا تو۔۔۔شخص نے سوال کیا

تو جو تم کہو گے میں مانوں گی ۔۔۔ماہا ویرا کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی

ڈن۔۔۔وہ کہہ کر قاتلانہ انداز میں مسکرایا تو اس کے رخسار کا ڈمپل ہلکا سا رونما ہوا

اس نے ماہا ویرا کے ہاتھ کھولے تو ماہا نے جلدی سے اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹائی

وہ بے دھیانی میں پیچھے مڑی تو اس کے سینے سے ٹکرا گئی

آؤچ۔۔۔ وہ خود کو سمبھال نہیں پائی تو اس شخص نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے گرنے سے بچایا

ماہا ویرا کی نظر اس کے چھوٹے سرخ ہونٹوں پر پڑی جو شاید سگریٹس پینے کی وجہ سے کناروں سے کلیجی مائل تھے۔۔۔

پھر اس کے بالوں پر جو کالے اور لمبے ہونے کے ساتھ ہلکے سے اس کے پیشانی، کانوں اور گردن کو ڈھانپ رہے تھے

اس کی شخصیت میں روعب تھا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے والی تھی۔۔ کہ وہ بولا

تم تو فائیٹ سے پہلے ہی گرگئ میڈم۔۔ اس نے تنز سے کہا تو ماہا نے خود کو کمپوز کیا

یو۔۔۔ ہٹو پیچھے ۔۔۔ ابھی تم جانتے نہیں مجھے۔۔ ماہا نے چڑ کر کہا۔۔۔۔سب سے پہلے مجھے کڈنیپ کرنے کا مقصد بتاؤ

وہ یہ کہ تم نے میرے آدمی کو مارا سنا ہے اس کا دانت بھی توڑدیا۔۔۔ یہ تم شکر مناؤ وہ ابھی میرے گینگ میں نیۓ ہیں ابھی ٹریننگ میں ہیں ورنہ۔۔۔

ورنہ کیا ہاں۔۔۔پہلی بات تو یہ کے تمہارے وہ چھچھورے آدمی اسی لائق تھی اور دسری بات یہ کہ میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں میں فائیٹ کرنا جانتی ہوں جو کہ تمہیں ابھی پتہ چل جاۓ گا۔۔۔ ماہاویرا اسے انگلی سے وارن کرتے ہوۓ بولی

آہاں۔۔۔۔چلو ابھی دیکھ لیتے ہیں کتنا دم ہے تم میں۔۔۔اسے ماہا کا یہ ایٹی ٹیوڈ اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔

اب وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔۔۔

وہ دیکھ سکتی تھی کہ باڈی بلڈر انسان کے سامنے وہ واقع چیونٹی کی طرح ہے مگر اس وقت اس کے سر پر چیلنج پورا کرنے کا بھوت سوار تھا۔۔۔

ماہا ویرا نے ہاتھ کا مکا بنا کر اس کو مارنا چاہا تو اس نے پھرتی سے ماہا کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھمایا ۔۔۔

ماہا کی کمر اور اس کا سینہ ایک دوسرے کو چھو رہے تھے

ماہا غصے سے پیچھے ہٹی۔۔۔

اب ماہا نے اسے مارنے کے لیے اپنی لات اٹھائی ۔۔۔ تو وہ نیچے ہو کر اٹھ کھڑا ہوا

ماہا کا نشانہ پھر سے چوک گیا جس سے اس کو شدید غصہ آیا

وہ شخص فائٹ نہیں صرف بچاؤ کر رہا تھا ۔۔۔

ماہا دوسری طرف رخ کیے آرام سے کھڑی ہو گئی۔۔۔

کیا ہوا بس ہو گئی کیا۔۔۔ وہ شخص بولا

ماہا بجلی کی تیزی سے پیچھے مڑی اور اس کے منہ پر زوردار پنچ مارا۔۔۔

وہ ایک طرف کو جھک گیا۔۔۔ اس کی ہونٹ سے خون کی بوند نکلی جو اس نے ہاتھ کے انگوٹھے سے صاف کی۔۔۔

اچھا لگا۔۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولا

ماہا ویرا نے تنزیہ ایک سائیڈ کی سمائل دی۔۔۔ جسے اس شخص نے ہرگز نظرانداز نہیں کیا

اب ماہا ویرا نے اپنے ہاتھ اٹھاۓ ہی تھے کہ اس نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگایا۔۔۔۔

دونوں کی نظریں آپس میں ملیں۔۔

ماہا کو اس کی آنکھوں میں عجیب کشش دکھائی دی جیسے اس کی آنکھوں میں کئی راز چھپے ہوں۔۔۔

پھر اس شخص نے ماہا کی نیلی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔ وہ ایسی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ ماہا ویرا پر خوف طاری ہو رہا تھا ماہا نے محسوس کیا جیسے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی ہو۔۔۔

وہ اپنا مقصد بھولے اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی

تبھی اس نے ماہا کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر اسے ہلکا سا دھکا دیا اور وہ زمین پر جا گری۔۔۔

ماہا اب ہوش میں آئی تھی اسے شدید احساس ہورہا تھا اپنی غلطی کا۔۔۔

اب وہ اس سوچ میں تھی کہ وہ اس سے کیا بات منواۓ گا۔۔

🔥
🔥
🔥

صدیق اور رخسانہ شدید پریشان تھے ان کی بیٹی کالج کے لیے گئ تھی اور ابھی تک گھر نہیں آئی تھی وہ تو شام میں بھی گھر سے باہر نہیں نکلتی تھی اور اب رات ہو چکی تھی ایک وہ حد سے زیادہ ڈرپوک لڑکی تھی۔۔۔

وہ اس کے کالج اور محلے میں اس کی کچھ دوستوں سے پتا کر آۓ تھے مگر کہیں سے کچھ معلوم نہیں ہوا۔۔۔

صدیق میرا دل بیٹھا جا رہا ہے ہماری بچی ضرور کسی مصیبت میں ہے۔۔۔ رخسانہ روتے ہوۓ بولی

اللہ رحم کرے گا رخسانہ ایسے وسوسے دل میں نہ آنے دو۔۔۔ پریشان تو وہ بھی اتنے ہی تھے مگر رخسانہ کو حوصلہ دینا ضروری تھا وہ ماں تھی۔۔۔

کیسے نہیں آئیں گے وسوسے رات کے گیارہ بج رہے ہیں اور وہ ابھی تک گھر نہیں آئی ۔۔۔

اللہ ہی ہماری بچی کی حفاظت کرنے والا ہے رخسانہ اس کی عزت پر آنچ نہیں آۓ گی مجھے یقین ہے میرے رب پر۔۔۔

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ان دونوں کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا

🔥
🔥
🔥

آحِل گھر کے لان میں اپنی نیو گرل فرینڈ سے بات کر رہا تھا جب اس کی نظر گردش کرتی ہوئی اپنی گاڑی پر پڑی۔۔

اس نے لڑکی کو باۓ بولا اور گاڑی کی طرف قدم بڑھاۓ۔۔۔

آحِل نے گاڑی کا اندر سے جائزہ لیا مگر کوئی نہیں تھا وہ اسے اپنا وہم سمجھ کر جانے لگا کہ گاڑی میں سے آواز آنے لگی۔۔

آحِل نے ڈگی کی طرف دیکھا ۔۔۔

وہ چلتا ہوا گاڑی کی بیک سائیڈ کی طرف آیا اور ڈگی کھولی۔۔۔

وہ سہمی ہوئی ڈگی میں لیٹی تھی۔۔۔

جب تک آحِل گھر پہنچا تھا وہ تھکن اور پیاس کی شدت سے بے ہوش چکی تھی اور ہوش آنے پر وہ مسلسل ڈگی کھولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس سے کھل نہیں رہی تھی شاید آحل نے اسے لاک کر دیا تھا۔۔۔

تم کون ہو تم اور یہاں میری گاڑی میں کیاکر رہی ہو۔۔۔ آحل حیران ہوا ایک انجان لڑکی کو اپنی گاڑی میں دیکھ کر

مگر وہ خاموشی سے آحِل کو دیکھتی رہی۔۔۔

آحِل نے اس کو بازو سے پکڑ کر باہر نکالا۔۔۔ اسے وہ ڈری ہوئی لگ رہی تھی

پاگل لڑکی کون ہو تم بتاؤ مجھے یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔ آحِل غصے بولا تو وہ ہچکیوں سے رونے لگی

آحِل انے اپنا سر پکڑا اگر وہ اپنے پرسنل ہاؤس میں ہوتا تو کوئ پرابلم نہیں ہونی تھی۔۔

مگر وہ اس وقت اپنے ڈیڈ کے گھر تھا اگر اس کے ڈیڈ دیکھ لیتے تو 100 سوال جواب ہوتے کیوں کہ سلطان صاحب آحِل کے کسی بھی قسم کے کرتوتوں سے بے خبر تھے۔۔۔

دیکھو مجھے بتاؤ تم یہاں کیسے آئی۔۔۔ اس نے لہجہ نرم کیا تا کہ وہ لڑکی اس سے ڈرے نہ

وہ۔۔وہ میں۔۔۔ وہ کچھ بولنے ہی والی تھی جب سلطان صاحب نے آحل کو آواز دی

آحل نے اسے جلدی سے گاڑی کی ایک طرف نیچے بٹھایا اور خود دوسری طرف آ کر کھڑا ہو گیا

یس ڈیڈ ۔۔۔

آحِل تمہیں کتنی بار کہا ہے جب گھر ہوتے ہو تو ٹائم سے سو جایا کرو ورنہ تمہیں پارٹیوں سے فرصت ہی نہیں ملتی گھر آنے کی۔۔۔

یس ڈیڈ میں بس سونے کیلئے آنے ہی والا تھا۔۔

اور تم یہ اپنی گاڑی کے پاس کیا کر رہے ہو۔۔۔ سلطان صاحب نے حیرانگی سے پوچھا

ڈیڈ مجھے لگا یہاں کوئی ہے مگر جب میں یہاں آیا تو بلی تھی۔۔ آحِل نے بہانہ بنایا

ٹھیک ہے اب آؤ سونے کیلئے

اوکے ڈیڈ۔۔۔

سلطان صاحب جیسے ہی گۓ آحِل نے اس لڑکی کو اٹھایا

چلو میرے ساتھ ۔۔ وہ پریشان بھی تھا اپنے ڈیڈ کی وجہ سے۔۔۔

مجھے گھر جانا ہے۔۔ اس نے روتے ہوۓ کہا

اس وقت گھر جانا ہے تمہیں رات کے بارہ بج رہے ہیں۔۔۔ آحِل نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا

بارہ بجے کا سنتے ہی وہ مزید رونے لگی کیوں کہ وہ جانتی تھی اس کے ماں باپ کتنے پریشان ہوں گے

ہیے چپ کرو۔۔۔ آحِل نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا

چلو میرے ساتھ تم مجھے آج مرواؤ گی ۔۔۔

وہ اسے زبردستی پکڑ کر ادھر ادھر دیکھتا ہوا اپنے کمرے میں لے گیا

🔥
🔥
🔥

شام کے سات بج چکے تھے اور ماہا ابھی تک گھر نہیں آئی تھی سلطان صاحب نے اسے کئ بار کال کی مگر اس کا فون مسلسل آف تھا یہ بات ان کی پریشانی کو مزید بڑھا رہی تھی۔۔

سلطان صاحب نے آحل کو کال ملائی اور ماہاویرا کے بارے میں بتایا۔۔۔

ڈیڈ آپ پریشان نہ ہوں وہ آ جاۓ گی آپ کو پتہ تو ہے وہ رات کے وقت گھر سے زیادہ باہر نہیں رہتی۔۔

پریشان کیسے نہ ہوں اس کا فون صبح سے بند جا رہا ہے جب تمہاری پھوپھو آنے والی تھی تب میں نے اسے کال کی تھی تب بھی فون بند تھا مگر میں نے اس بات پر دھیان نہیں دیا اور اب دیکھو کتنا ٹائم ہو گیا ہے اس کا فون آن نہیں ہوا۔۔۔ سلطان صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا

ڈیڈ ابھی سات ہی تو بجے ہیں اتنا ٹائم نہیں ہوا آپ آج سے پہلے تو کبھی ایسے پریشان نہیں ہوۓ سب خیریت ہے نہ۔۔

سلطان صاحب نے لمبا سانس لیا۔۔۔

دراصل بات یہ ہے کہ تمہاری پھوپھو نے کاشف کے لیے ماہا کا رشتہ مانگا ہے بلکہ مانگا نہیں بس مجھے بتایا ہے کہ ماہا اس کی بہو بنے گی۔۔۔

واٹ۔۔۔ ڈیڈ پھوپھو اپنے ہوش میں ہیں کہ نہیں ماہا جیسی لڑکی اس ابنارمل شخص کیلئے ۔۔۔ میں ابھی پھوپھو سے بات کرتا ہوں۔۔

وہ کال بند کرنے ہی والا تھا کہ سلطان صاحب نے اسے روکا۔۔۔

آحِل میری بات سنو۔۔۔

میں کونسا چاھتا ہوں کہ ایسا ہو میری بیٹی کے لیے رشتوں کی کمی تو نہیں مگر۔۔۔

مگر کیا ڈیڈ آپ اس بارے میں سوچیں گے بھی نہیں پھوپھو آج ماہا کا رشتہ لینے آگئی ہیں کیا آپ کو وہ دن یاد نہیں جب موم ماہا کی پیدائش کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں اور آپ نے پھوپھو سے ماہا کی دیکھ بھال کرنے کیلئے کہا تھا یاد ہے نہ انہوں نے کیا جواب دیا تھا کہ میرا تو اپنا بیٹا دماغی مریض ہے مجھے اس کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے اور آپ کو انہوں نے دوسری شادی کا کہا اور موم کو تب فوت ہوۓ صرف دو ہی دن ہوۓ تھے۔۔۔ اور آج وہ اسی دماغی مریض کے لیے ماہا کا رشتہ لے کر آ گئی ہیں ۔۔۔۔۔آحِل نے دکھ سے کہا

میں آپ کو اس بارے میں سوچنے بھی نہیں دے سکتا ڈیڈ اگر آپ پھوپھو کو انکار نہیں کر سکتے تو میں کر دیتا ہوں۔۔۔

آحِل میں نے کونسا کہا ہے کہ میں اس رشتے پر راضی ہوں بس مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کروں آپا کو صاف انکار کیا تو انہوں نے ساری زندگی یہاں قدم نہیں رکھنا اور رشتہ داروں میں پتہ نہیں کیا کیا باتیں بنائیں گی۔۔۔

جب سے آئی ہیں دس بار پوچھ چکی ہیں کہ ماہا ابھی تک گھر کیوں نہیں آئی تمہیں تو پتہ ہے نہ ان کی سوچ کیسی ہے۔۔۔۔

ڈیڈ آپ نے ہم دونوں کی خاطر دوسری شادی نہیں کی حالانکہ سارے رشتے دار آپ کو کہتے رہ گئے لیکن آپ نے صرف ہمارا سوچا کہ آپ کی دوسری بیوی ہماری ماں نہیں بن سکے گی۔۔

اور مجھے یقین ہے کہ آپ اب بھی ہمارا ہی سوچیں گے نہ کہ رشتہ داروں کی۔۔۔ آحِل کہہ کر خاموش ہوا

میں ہمیشہ اپنے بچوں کی ساتھ ہوں ۔۔۔سلطان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا

آحل نے اللہ حافظ کہہ کر کال بند کی۔۔۔

سلطان صاحب کمرے سے باہر نکلے کہ سامنے ماہا ویرا آتی دکھائی دی۔۔۔

ماہا بیٹے کہاں تھی تم میں کتنا پریشان تھا۔۔۔

پاپا لونگ ڈرائیو پر گئی تھی ۔۔۔

بیٹا کتنی بار کہا ہے لونگ ڈرائیو نہ کیا کرو یہ ٹھیک نہیں ہے تم اکیلی ہوتی ہو۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا پاپا یہی تو دن ہوتے ہیں لائف انجواۓ کرنے کے ابھی میں بہت تھکی ہوئی ہوں صبح ناشتے کے ٹیبل پر ملیں گے۔۔۔

مگر بیٹا تمہاری پھوپھو آئی ہیں تم نہ ملی تو مجھے ہی سو باتیں سنائیں گی۔۔

پلیز پاپا آئے ایم ٹو مچ ٹائیرڈ صبح مل لوں گی نا۔۔۔ وہ کہتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔

صحیح کہتی ہے آپا بچے زیادہ ہی بگڑ گئے ہیں ۔۔۔ سلطان صاحب خود کلامی کرتے ہوئے اپنے کمرے میں ہو لیے

🔥
🔥
🔥

وہ کرسی پر بیٹھی اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ جو کہ شرط کے مطابق اس نے اس کی کہی ہوئی بات پوری کرنی تھی۔۔۔

وہ پچھلے دس منٹ سے اسے گھورے جا رہا تھا ۔۔ جس پر ماہا ویرا اندر ہی اندر اپنا غصہ دبا رہی تھی۔۔ مگر اس نے کچھ کہا نہیں کیوں وہ جانتی تھی وہ شرط ہاری ہے اور ایسا اس کی زندگی میں پہلی بار ہوا تھا ورنہ اس نے صرف جیتنا ہی سیکھا تھا ۔۔۔

تمہیں آج رات میرے پاس رکنا ہو گا۔۔

اس کے بولنے کی دیر تھی کہ ماہا کے سر پر بم پھٹا۔۔۔

نہیں ہرگز نہیں۔۔۔ وہ حیرت سے بولی

تم اپنی بات سے مکر رہی ہو تم نے کہا تھا میں جو کہوں گا وہ تم مانو گی تو اب کیا ہوا۔۔۔ اس نے ایک آئی برو اٹھا کر ماہا ویرا کو دیکھتے ہوۓ کہا

مگر مجھے نہیں معلوم تھا تمہاری شرط اتنی گھٹیا ہو گی تم نے مجھ پر ہی اپنی گندی نظر رکھ لی۔۔۔ ماہا ویرا نے چلا کر کہا

آواز نیچے ۔۔۔ تم شرط ہاری ہو اب جو میں کہوں گا وہ تو تمہیں ماننا ہی ہو گا ورنہ۔۔۔

ورنہ کیا۔۔۔ ماہا نے اس کو گھور کر دیکھا

ورنہ میں تمہیں آزاد نہیں کرنے والا تمہارے پاس نہ تمہارا موبائل ہے نہ تم نے کسی کو بتایا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا تو اس لیے میں ہر طرح سے محفوظ ہوں بتاؤ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ تم میرے علاقے میں میرے پاس ہو۔۔۔ اس نے آرام سے کہا

موبائل کا سنتے ہی ماہا نے اپنی پینٹ کی سائیڈ پاکٹ میں ہاتھ ڈالا۔۔۔

تمہارا موبائل میرے آدمی وہیں پھینک آۓ تھے جہاں سے تمہیں اٹھا کر لاۓ۔۔۔ اس نے سگریٹ جلا کر ہونٹوں میں رکھی

ماہا ویرا بری طرح پھس چکی تھی اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا بھی ہو گا وہ بے یقینی کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

ایسے نہ دیکھو پیار ہو جاۓ گا۔۔۔ اس نے ماہا کو آنکھ مارتے ہوۓ کہا

تم جیسے انسان کے ساتھ تو کبھی بھی نہیں۔۔۔ وہ اس کا ضبط آزما رہا تھا

بہت وقت ضائع کر لیا چلو تیار ہو جاؤ شرط پوری کرنے لئے ۔۔۔ اس نے منہ سے دھواں نکالتے ہوۓ کہا

ماہا ویرا شرم سے پانی ہوئی اس نے کبھی کسی لڑکے کو خود کو چھونے بھی نہیں دیا تھا یونی میں سینکڑوں لڑکے اسے پرپوز کر چکے تھے مگر وہ ہمیشہ انکار کرتی آئی اور آج ایک انجان شخص جس سے اس کی آج ہی ملاقات ہوئی تھی وہ اسے اتنے آرام سے اپنے ساتھ رات گزارنے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔۔

ویسے تو بہت ہمت دکھاتی ہو چلو اب بھی دکھاؤ اپنی ہمت۔۔۔اس نے تنزیہ کہا

ماہا نے ضبط سے آنکھیں بند کیں۔۔

بلال نے سگریٹ زمین پر پھینک کر اپنے شوز سے رگڑ دی اب وہ اس کے قریب آرہا تھا ۔۔۔

یہ سب ماہا ویرا کی سمجھ سے باہر تھا وہ نہیں جانتی تھی اب اسے کیا کرنا ہے۔۔۔

وہ اس کے قریب آکر کھڑا ہوا اس نے ماہا ویرا کی گردن پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھے۔۔۔

ماہاویرا نے آنکھیں بند کی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔۔

بلال کے ہاتھ اب اس کی شرٹ پر تھے ۔۔

بلال کی دست رازئیاں بڑھیں تو ماہا ویرا نے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کیا۔

رکو۔۔۔ ماہا ویرا نے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے

یہ۔۔۔یہ ٹھیک نہیں ہے یہ سب ناجائز ہے۔۔۔ ماہا نے ڈرتے ہوئے کہا

ٹھیک ہے تم چاہو تو اسے جائز بنا سکتی ہو۔۔۔ اس نے ماہاویرا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

کے۔۔۔کیسے ۔۔۔ ماہا ویرا کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔۔

نکاح کر کے۔۔۔

اس نے کہا تو ماہا کی آنکھیں پھٹ پڑیں ۔۔۔

نک۔۔نکاح۔۔۔مگر۔۔۔

اگر تم چاہتی ہو کہ تم یہ ناجائز کام نہ کرو تو نکاح کر لو سب جائز ہو گا

ماہا ویرا بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ اس انجان شخص کے ساتھ کیسے نکاح کر لیتی مگر نامحرم کے ساتھ رات گزارنے سے یہی بہتر تھا کہ وہ اس کا محرم بن جاتا۔۔۔

ٹھیک ہے میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔۔۔ماہا ویرا نے دل پر پتھر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

اس کے ہونٹوں پر قاتلانہ مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔

ماہا ویرا اپنے کمرے میں آئی تو آنکھیں بند کیۓ اپنے ساتھ دن میں ہونے والے واقع کو یاد کرنے لگی۔۔۔

وہ اس وقت بلال خان کے نکاح میں تھی۔۔۔ اسے اس کا نام نکاح کرتے ہوئے معلوم ہوا تھا

اس نے اپنی ماں کے علاوہ کسی کے لیے آنسو نہیں بہائے تھے مگر آج وہ رو رہی تھی اپنی ذات کیلئے ۔۔۔۔

نکاح کے بعد اس نے ماہا ویرا کو جانے کے لیے کہا اور کہا کہ وہ جلد ہی اس سے مل کر اپنا حق وصول کرے گا۔۔۔

ماہا ویرا کی سمجھ سے یہ سب کچھ باہر تھا۔۔۔ سب کو پتا چلے گا تو کیا ہو گا یہ سوچ سوچ کر اس کے آنسو آنکھوں سے بہتے جا رہے تھے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *