Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 25)

Madhoshi by Mirha Kanwal

ایک سترہ سالہ لڑکا جو مزدوری کی تلاش میں روڈ پر باقی مزدوروں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ابھی کوئی آئے گا اور اسے کام کے لیے لے جائے گا۔۔۔

کچھ پیسے کما کر وہ لڑکا اپنے بیمار باپ کے لیے دوائیاں خریدے گا اور کچھ کھانے پینے کا سامان لے کر وہ گھر لوٹے گا۔۔۔

آس بھری اس کی گہری کالی آنکھیں اپنے مسیحا کو تلاش کر رہی تھیں۔۔۔

اوئے چھوٹے۔۔۔ ایک آدمی کی آواز اس کے کانوں کو سنائی دی اس نے جھٹ سے اپنے پیچھے گردن موڑ کر دیکھا۔۔۔

ہاں تم ادھر آؤ۔۔۔ وہ آدمی پھر سے بولا

وہ لڑکا کام ملنے کی خوشی سے بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا مگر وہ خوشی صرف دل ہی دل میں رہی اس کے خشک ہونٹوں نے تو مسکرانا کب کا چھوڑ دیا تھا۔۔۔

کیا نام نے تمہارا۔۔۔ آدمی نے سوال کیا

بلال۔۔۔ وہ بولا

چلو میرے ساتھ گدام کی کچھ بوریاں اٹھانی ہیں تمہیں تمہاری مزدوری مل جائے گی۔۔۔

وہ آدمی چلنے لگا تو بلال بھی اس کے پیچھے چل دیا۔۔۔

ایک جگہ پہنچ کر آدمی نے بلال کو گدام کی بوریاں دکھائیں۔۔۔

اپنی جان سے زیادہ بوجھ اٹھانے والا کم عمر لڑکا بلال اپنے ماں باپ اور بہن کا پیٹ پالنے کے لیے بمشکل سے بوری اٹھاتا ہوا اس کے ٹھکانے پر رکھتا گیا۔۔۔

دو گھنٹوں میں کام ختم ہونے کے بعد وہ آدمی کے پاس آکر کھڑا ہوا۔۔۔

کب سے مزدوری کر رہے ہو۔۔۔ آدمی نے پوچھا

چھ مہینے ہو گئے ہیں۔۔۔ بلال نے جواب دیا

اپنی عمر دیکھو بچے ہو ابھی پڑھ لکھ کر اچھی نوکری لگ جاؤ محنت مزدوری کرتے رہے تو ساری عمر یہی کام کرتے رہ جاؤ گے۔۔۔ آدمی نے پانچ سو کا نوٹ بلال کو تھماتے ہوئے کہا

میٹرک کیا ہے انکل ابو کا روڈ ایکسیڈینٹ ہو گیا تب سے گھر میں فاقہ چل رہا ہے میں یہ مزدوری کرتا ہوں تو گھر کا تھوڑا بہت خرچہ چل جاتا ہے۔۔۔ بلال نے پیسے پکڑتے ہوئے کہا

اوہو یہ تو بہت برا ہوا اللہ تمہارے رزق میں برکت ڈالے۔۔۔

آدمی کو اس کی بات سن کر افسوس ہوا

آمین۔۔۔ بلال نے کہا اور گھر کی طرف چل دیا

شام ہونے کو تھی بلال نے اپنے ابو کے لیے دو سو پچاس روپے دوائیاں خریدیں اور باقی پیسوں سے گھر میں پکانے کے لیے سبزی اور آٹا خریدا ان پیسوں میں سے اس نے دس روپے بچا کر رکھے اور گھر کے راستے چلنے لگا۔۔۔

محلے کی دکان سے اس نے ان دس روپے کی کینڈیز لے کر پاکٹ میں ڈالیں۔۔۔

دروازہ کھٹکنے کی آواز پر دس سالہ بچی دوڑتی ہوئی آئی اور دروازہ کھولا۔۔۔

بلال بھائی آپ آگئے میری کینڈیز لائے ہیں نا۔۔۔ خوبصورت بچی نے اپنی باریک سی آواز نکالے بلال سے آتے ہی سوال کیا

اندر تو آنے دے منھی۔۔۔ بلال نے اسے مسکرا کر کہا

وہ فوراً راستے سے ہٹی اور بلال گھر میں داخل ہوا۔۔۔

سب سے پہلے وہ اپنے بیمار باپ کے پاس گیا اور اسے دوائیاں دیں۔۔۔

ابو یہ رہیں آپ کی دوائیاں۔۔۔ بلال نے دوائیاں ان کی چارپائی پر رکھیں۔۔۔

زیادہ بھاری کام تو نہیں کیا نا۔۔۔ صدیق صاحب دکھ سے بولے وہ اس حال میں بستر پر لیٹے تھے اور ان کا سترہ سالہ بیٹا مزدوری کرنے پر مجبور تھا

نہیں ابو کام تو بہت ہی آسان تھا۔۔۔ بلال نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا

صدیق صاحب کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے کیوں کہ اگر وہ سچ بولتا تو ان کی طرف دیکھ کر بولتا۔۔۔ صدیق صاحب کو ڈھیروں تکلیف ہوئی

امی۔۔۔ بلال صحن میں آکر چارپائی پر بیٹھا

بھائی بتائیں آپ میری کینڈیز نہیں لائے کیا۔۔۔ وہ بچی اب افسردہ سی ہو گئی

او ہو ذائشہ کتنی بار کہا ہے تمہارا بھائی تھکا ہوا آتا ہے اسے تھوڑی دیر سانس تو لے لینے دیا کرو۔۔۔ رخسانہ بلال کو پانی کا گلاس دیتے ہوئے بولی

امی میں بتا رہا ہوں آئندہ آپ نے میری منھی کو ڈانٹا تو میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گا۔۔۔ اس نے ذائشہ کو پکڑ کر اپنے ساتھ چارپائی پر بٹھایا

بس تم نے ہی تو لاڈلی رکھا ہوا ہے اسے دیکھو کتنی بگڑ گئی ہے یہ۔۔۔ رخسانہ نے گلہ کیا

میرے ہوتے ہوئے آپ فکر ہی نا کریں امی میری منھی میری ذمہ داری ہے۔۔۔ بلال نے پاکٹ سے کینڈیز نکال کر ذائشہ کو دیں

کینڈیز دیکھ کر ذائشہ کی بتیسی نکلی اس جلدی سے بلال کے ہاتھ سے کینڈیز پکڑی اور نکال کر کھانے لگی۔۔۔ بلال اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا

دیکھو زرا اسے پرواہ بھی نہیں کہ میں اس کے بارے میں بات کر رہی ہوں۔۔۔ رخسانہ ذائشہ کو مزے سے کینڈیز کھاتا دیکھ کر بولی

ذائشہ نے ان کی بات پر ایک پل کے لیے منہ چلانا بند کیا اور دفاعی نظروں سے بلال کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔

امی بھئی جائیں آپ مجھے میری منھی کے ساتھ کھیلنا بھی ہے۔۔۔

کھیلنے کا نام سن کر ذائشہ خوش ہوئی۔۔۔ ہاں بھائی کینڈیز دیکھ کر تو میں بھول ہی گئی تھی۔۔۔

رخسانہ ماتھے پر ہاتھ رکھتی کچن کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔

☆☆☆☆

رات کے دس بجے جب سب گھر والے سو رہے تھے بلال کے کمر میں ہونے والی درد نے اسے سونے نہ دیا۔۔۔

وہ دبی دبی سسکیوں سے رو رہا تھا جب اس کو اپنی کمر پر دو ہاتھ محسوس ہوئے۔۔۔

اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کی امی اس کی کمر دبا رہیں تھیں۔۔۔

بلال نے اپنا رخ پھر سے سیدھا کیا۔۔۔

کچھ دیر تک مسلسل سکون حاصل ہونے پر وہ نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا۔۔۔

صبح سات بجے اس کی آنکھ کھلی۔۔۔

ناشتہ کرنے کے بعد وہ پھر سے روڈ پر باقی مزدوروں کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔

لوگ آتے رہے اور مزدوروں کو لے کر جاتے رہے۔۔۔ بلال کو بچا دیکھ کر زیادہ تر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے تھے۔۔۔

شام کا سورج ڈھلنے کو آگیا مگر آج بلال کی پر امید نظروں کو نا امیدی کا سامنا کرنا پڑا وہ گھر جانے کے لیے اٹھا اور چلنے لگا۔۔۔

وہ چل رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ بڑے سے کنٹینر سے ایک شیر نکل کر ایک آٹھ سالہ بچی پر جھپٹنے کے لیے اس کی طرف اپنے قدم بڑھا رہا ہے۔۔۔

اس پچی نے شیر کو دیکھ کر رونا شروع کیا اور ڈر کے مارے وہاں سے ہل نہ سکی۔۔۔

بلال کو اس پچی میں اپنی منھی نظر آئی وہ اس کی طرف بھاگا۔۔۔

ادھر شیر نے دوڑ لگائی اور ادھر بلال بھاگتا ہوا اس کی طرف آرہا تھا۔۔۔

بچی کے رونے کی آواز بلند ہوئی تو کنٹینر سے آگے مہنگی گاڑی میں بیٹھے ایک آدمی نے ونڈو کا شیشہ نیچے کی طرف کھسکایا۔۔۔

شیر نے بچی پر جھپٹنے کے لیے ایک بڑی چھلانگ لگائی اور ادھر بلال نے اپنی رفتار تیز کی۔۔۔

جب تک اس کے پنجے بچی کے جسم کو نوچتے تب تک بلال شیر پر جھپٹا اور اس کے جبڑوں پر پوری قوت سے پینچ مارا۔۔۔

وہ درندا ایک پل کے لیے حواس باختہ ہوا۔۔۔ گاڑی میں بیٹھا شخص دلچسپی سے یہ منظر دیکھنے لگا

بلال نے بچی کو اپنے پیچھے چھپایا اور شیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا۔۔۔

شیر سمبھل کر کھڑا ہوا تو زور دار دھاڑا اس کی دھاڑ سے بچی کے چینخنے کی آواز بلند ہوئی اور بلال نے خود کو حملے کے لیے تیار کیا۔۔۔

شیر بچی پر جھپٹنے کے لیے ایک طرف ہوا تو بلال بھی اس طرف ہو گیا۔۔۔

پھر شیر دوسری طرف ہوا تو بلال بھی اس طرف ہو گیا۔۔۔

شیر غصے سے دھاڑا اب اس کا نشانہ بلال تھا۔۔۔

بلال نے اپنے آس پاس نظر دوڑائی تو اسے ایک نوکدار لوہے کا سریہ دکھائی دیا شیر اس سے کچھ فاصلے پر تھا بلال نے پھرتی سے وہ سریہ اٹھایا اور واپس اپنی جگہ آ کر کھڑا ہوا۔۔۔

شیر نے بلال پر چھپٹنے کے لیے دوڑ لگائی بلال نے سریے کی نوک سیدھی کی۔۔۔

جیسے جیسے شیر اس کی طرف بڑھ رہا تھا بلال نے اس پر نشانہ باندھا۔۔۔

ایک چھلانگ کے ساتھ شیر اپنا منہ کھولے اس پر چھپٹا بلال نے بچی کو ایک طرف دھکا دیا جیسے ہی شیر بلال کے پاس پہنچا تو بلال نے سریہ اس کے منہ میں گاڑھ دیا ۔۔۔

بلال زمین پر گرا اور شیر اس کے اوپر گر گیا۔۔۔

شیر کا خون ٹپک کر بلال کے کپڑوں پر گرنے لگا۔۔۔

وہ آدمی گاڑی سے باہر نکلا اس کے ساتھ دس آدمی جو ایک ہی قسم کے بلیک یونیفارم پہنے ہوئے تھے بلال کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔

اس نے بلال کے پاس کھڑے ہو کر اپنے آدمیوں سے بلال کے اوپر سے شیر کو ہٹانے کے لیے کہا۔۔۔

بلال ان اجنبیوں کو حیرت سے دیکھنے لگا۔۔۔

انہوں نے شیر کو ہٹا کر بلال کو کھڑا کیا۔۔۔

ویل ڈن بچے بہت بہادر ہو تم۔۔۔ اس نے سگار اپنے ہونٹوں میں رکھی

جی آپ کون۔۔۔ بلال نے حیرت سے پوچھا

میں اس شیر کا مالک تھا۔۔۔ اس نے مرے ہوئے شیر کی طرف اشارہ کیا

بلال پریشان ہوا کہ شیر کا مالک کہیں اس سے شیر کی قیمت وصول کرنے کے لیے تو آیا ہے پسینے کے ننھے قطرے بلال کے ماتھے پہ نمو دار ہوئے۔۔۔

کیا بات ہے بچے تم ایک درندے کو مارتے ہوئے نہیں ڈرے اور اب کیوں۔۔۔ اس آدمی نے بلال کو گھبرایا ہوا دیکھ سوال کیا

م۔۔میں اس لیے پریشان ہوں کیوں کہ آپ مجھ سے اس شیر کی قیمت وصول کرنے آئے ہیں۔۔۔بلال نے گھبراتے ہوئے جواب دیا

اس آدمی نے بلال پر گہری نظر ڈالی۔۔۔

بھوک کے مارے ہوئے ہو کیا۔۔۔ اس نے سوال کیا

جی مگر آپ کو کیسے پتہ۔۔۔ بلال حیران ہوا

تم جیسا بہادر شیر صرف بھوک سے ہی ڈر سکتا ہے۔۔۔ اس آدمی نے منہ سے دھواں نکالتے ہوئے کہا

بلال خاموش ہوا

پہلے میں اس شیر کا مالک تھا اب میں اس شیر کا مالک بننا چاہتا ہوں کیا تمہیں منظور ہے۔۔۔

اس کے سوال پر بلال کو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

کیا تم میرے گینگ میں کام کرو گے جیسے یہ میرے آدمی ہیں۔۔ اس نے اپنے آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

کام کا سن کر بلال خوش ہوا

ک۔۔کیا آپ مجھے کام پر رکھیں گے۔۔۔ خوشی سے اس کی زبان لڑکھڑانے لگی

ہاں اور تمہیں اتنا پیسہ دوں گا کہ تم سے سمبھالا نہیں جائے گا۔۔۔

بلال کی کالی خوبصورت آنکھوں میں خواب امڈنے لگے۔۔۔

م۔۔میں آپ کے لیے کام کرنے کو تیار ہوں صاحب۔۔۔ بلال جھٹ سے بولا

صاحب نہیں دادا کہو یہ سب مجھے دادا کہتے ہیں اور میرا نام ہے جہانگیر دادا۔۔۔ اس نے سگار کا دھواں بلال کے منہ پر پھونکا تو بلال کھانسنے لگا

ٹ۔۔ٹھیک ہے دادا ل۔۔لیکن مجھے کام کیا کرنا ہو گا دادا۔۔۔ اس نے کھانستے کھانستے کہا

تمہیں ہر روز ایک نیا کام ملے گا۔۔۔

نیا کام مگر وہ کیسے۔۔۔ بلال نے حیرت سے پوچھا

ابھی تم بچے ہو وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ جاؤ گے۔۔۔ دادا نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھا

اس نے اپنی جیکٹ کی جیب سے ہزاروں کے نوٹ کی گٹھی نکالی اور بلال کی طرف اچھالی بلال نے وہ کیچ کی اور منہ کھولے پیسوں کی طرف دیھکنے لگا

یہ۔۔یہ میری اڈوانس میں تنخواہ ہے کیا دادا۔۔۔ بلال نے خوشی سے پیسوں کو دیکھتے ہوئے کہا

اس کی بات پر جہانگیر دادا مسکرایا اور اپنے آدمی کی طرف دیکھتا ہوا واپس گاڑی کی طرف مڑ گیا۔۔۔

اس کے آدمی نے بلال کو سمجھایا کہ کل اسے کس وقت اور کہاں آنا ہے اور وہ بھی جہانگیر دادا کے پیچھے والی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے چلنے لگا۔۔۔

پل ہی میں وہ گاڑی بلال کی نظروں سے اوجھل ہو گئی اس کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کے پاس اتنے پیسے ہیں اتنے تو اس نے خواب میں ہی دیکھے تھے۔۔۔

بلال نے گھر کے لیے جی بھر کے راشن خریدا منھی کے لیے ڈھیر ساری کینڈیز اور چاکلیٹس خریدیں اور باقی کے پیسے اپنی پاکٹ میں چھپائے گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔

صدیق صاحب اور رخسانہ کو اس نے بتایا کہ ایک بڑے آدمی کا ایکسیڈینٹ ہوا بلال نے اس کو ہسپتال پہنچا کر اس کی جان بچائی تبھی اس کے کپڑوں پر خون بھی لگ گیا اور انعام میں اس آدمی نے بلال کو نوکری پہ رکھ لیا۔۔۔

صدیق اور رخسانہ تو اللہ کا لاکھ شکر ادا کرنے لگے۔۔۔

جہانگیر دادا نے شروع میں بلال کو جانوروں پر گن چلانا سیکھایا پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کب جانوروں سے انسانوں کو مارنے لگا اس کو خود خبر تک نہ ہوئی۔۔۔

جہانگیر دادا نے بلال جیسے بہادر لڑکے سے بڑے بڑے کام نکلوائے اور اسے پیسوں سے نہلا دیا۔۔۔

دن بدلتے گئے بلال کے گھر میں خوشحالی آتی گئی بھوک کیا ہوتی یے وہ اس بات کو کب کا بھلا چکے تھے۔۔۔

بلال نے صدیق صاحب کی کمر کی ہڈی کا اوپریشن کروا لیا جو ایکسیڈینٹ ہونے کے دوران ہلکی سی ٹوٹی تھی۔۔۔

بلال نے نیا گھر خریدا جس میں وہ اپنی فیملی کو لے گیا۔۔۔

پانچ سال تک اس کے گھر والوں کو بلال کے کام کی خبر نہ ہوئی۔۔۔

پھر ایک دن نیوز پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں بلال ایک آدمی پر بے رحمی سے گولیاں چلا رہا تھا۔۔۔

اس کے ماں پاب کو دیکھ کر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ ان کا بلال ہے۔۔۔

انہوں نے بلال سے پوچھا تو بلال کے پاس انکار کرنے کا کوئی بہانہ نہ تھا اس لیے اس نے چپ چاپ اپنا جرم قبول کر لیا۔۔۔

اس دن بلال نے ماں باپ اور اس کی بہن ذائشہ اپنے پرانے گھر میں واپس آگئے۔۔۔

بلال نے انہیں منانے کی بہت کوشش کی مگر انہوں نے بلال سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تعلق توڑ دیا اور اسے کہا کہ آج سے وہ اس کے لیے مر گئے اور بلال ان کے لیے مر گیا۔۔۔

تب سے صدیق صاحب اور رخسانہ سے کوئی ان کے بیٹے کا پوچھتا تو وہ کہتے ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے

بلال اپنے پرانے گھر کے سامنے کھڑا اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔

اس کا گھر جہاں وہ اس کے ماں باپ اور اس کی معصوم منھی رہتی تھی۔۔۔

وہ اس شہر کو چھوڑنے سے پہلے ایک بار یہاں آیا تھا۔۔۔

اس نے اپنے ماں باپ اور اپنی بہن کا بدلہ لے لیا تھا اب وہ کہیں دور جانا چاہتا تھا ایسی جگہ جہاں اسے سکون حاصل ہو سکے۔۔۔

🔥
🔥
🔥

سلطان صاحب اور شہروز ہوسپٹل میں ایمرجنسی روم کے باہر بیٹھے تھے۔۔۔

سلطان صاحب تب سے رو رو کر اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے دعا کر رہے تھے۔۔۔

سب جاننے کے بعد شہروز کو ماہاویرا کی قسمت پر افسوس ہو رہا تھا۔۔۔

ڈاکٹر باہر نکلا تو سلطان صاحب اور شہروز اٹھ گئے۔۔۔

ڈاکٹر کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔ سلطان صاحب پریشانی سے بولے

ایک اچھی خبر ہے اور ایک بری۔۔۔ ڈاکٹر سلطان صاحب کی طرف دیکھتا ہوا بولا

کیا خبر بتائیں۔۔ سلطان صاحب جلدی سے بولے

بری خبر یہ ہے کہ آپ کی بیٹی کو نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے وہ مرتے مرتے بچی ہے اب اسے کسی بھی قسم کا صدمہ برداشت نہیں کر پائے گی ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اس کی جان بھی جا سکتی ہے

ڈاکٹر کی بات سن کر سلطان صاحب کرسی پر بیٹھے اور ان کی آنکھیں پھر سے بھرنے لگیں۔۔۔

اور اچھی خبر کیا ہے۔۔۔ اس بار شہروز نے ڈاکٹر سے پوچھا

پیشینٹ پریگنینٹ ہیں۔۔۔ ڈاکٹر کہہ کر اپنے راستے چل دیا

شہروز اور سلطان صاحب دونوں ہی آنکھیں کھولے جاتے ہوئے ڈاکٹر کی کمر کو دیکھتے رہے

اس کا مطلب ماہاویرا کو ڈائیوورس نہیں ہوئی۔۔۔ شہروز زیرِلب بڑبڑایا

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *