Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 23)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 23)
Madhoshi by Mirha Kanwal
بلال نے ماہاویرا کو گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔
ماہاویرا سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اس کی طبیعت خراب ہو چکی تھی اس کا جسم بخار میں تپنے لگا۔۔۔
بلال نے اپنا ٹھکانہ بدل لیا تھا وہ ماہا کو لیے وہاں پہنچا اس کے آدمی نے گیٹ کھولا۔۔۔
یہ گھر چھوٹا مگر خوبصورت تھا۔۔۔
بلال گاڑی سے نکلا اس نے دوسرے طرف آکر ماہا کو بازؤوں میں بھرا اور لا کر بیڈ پر لٹایا۔۔۔
ماہاویرا نیم بے ہوشی کی حالت میں جا چکی تھی۔۔۔
ماہا میری جان آنکھیں کھولو۔۔۔ بلال ماہا کو جگانے کی کوشش کرنے لگا مگر وہ نہ اٹھی۔۔۔
بلال نے سائیڈ ٹیبل پہ پڑا جگ اٹھا کر گلاس میں پانی ڈالا اور اور ماہاویرا کے منہ پر چھینٹے مارنے لگا۔۔۔
میری جان ہوش میں آؤ پلیز۔۔۔ وہ پریشان ہونے ہوا
ماہا ہوش میں آتے ہی کھانسنے لگی بلال نے اس کو پانی پلانے کے لیے گلاس اس کے ہونٹوں سے لگایا۔۔۔
اس نے دو گھونٹ پانی پینے کے بعد بلال کا ہاتھ پیچھے کیا۔۔۔
تمہیں یہ ٹیبلٹ کھانی ہو گی تمہیں بخار ہو رہا ہے۔۔۔ اس نے دراز سے ٹیبلٹ نکال کر ماہا کے ہاتھ پر رکھی
ماہا نے اسے منہ میں رکھا تو بلال نے اسے پانی پلایا اور وہ ٹیبلٹ کو نگل گئی۔۔۔
بلال گلاس ٹیبل پر رکھ کر اس کے ساتھ لیٹا اور کمفرٹر دونوں کے اوپر اوڑھ لیا۔۔۔
ماہاویرا سردی سے کپکپا رہی تھی اس نے ماہا کو بازؤوں کے گھیرے میں لے کر سینے سے لگایا۔۔۔
تم ابھی ٹھیک ہو جاؤ گی میری جان۔۔۔ اس نے کہتے ہوئے ماہا کے سر پر بوسہ دیا۔۔۔
سیکریٹ ایجینسی کے آفس تک جانے کے تین راستے تھے بلال کے آدمی ان تینوں راستوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔۔۔
جیسے ہی ایک راستے سے ان کی گاڑی گزری تو بلال کے آدمی نے فون کر کے بلال کو بتایا۔۔۔
بلال کو معلوم ہو چکا تھا کہ ضرور ماہاویرا پکڑی گئی ہے تبھی ان کی ٹیم یہاں آ رہی ہے۔۔۔
وہ جلدی سے بھاگا اور ماہاویرا تک پہنچا۔۔۔



ایجینسی کی پوری ٹیم ہوسپٹل میں ایمر جینسی روم کے باہر کھڑی تھی۔۔۔
وہ لڑکا جس کو بلال نے بری طرح سے پیٹا تھا اس کی حالت اتنی نازک ہو چکی تھی کہ اسے ایمرجنسی میں ہوسپٹل لانا پڑا۔۔۔
جہانگیر دادا کے نام کی فائل چوری ہونے پر ان سب کو ہی صدمہ لگا ان کی اتنی محنت اور کوشش ضائع ہو چکی تھی۔۔۔
سر ہم کیمرہ ری کارڈنگ سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کون شخص تھا جو کل ہمارے آفس میں گھسا تھا۔۔۔ شہروز نے ایاز اسفند سے کہا
ہاں یہ کام ہمیں ابھی کرنا ہو گا۔۔۔
انہوں نے ٹیم کے دو لڑکوں کو ہوسپٹل رہنے کا کہا اور باقی سب آفس کے لیے روانہ ہوئے۔۔۔
آفس پہنچ کر شہروز نے کل رات کی ریکارڈنگ چیک کرنا شروع کی۔۔۔
رات کے ایک بجے کے قریب کا وقت تھا جب کسی نے ان کے ایجینٹ کے منہ پر رومال رکھ کر بے ہوش کیا۔۔۔
یہ لڑکا کون ہو سکتا ہے کافی کم عمر لگ رہا ہے۔۔۔ ایاز اسفند نے کہا
شہروز نے وڈیو پر نظریں گاڑھیں۔۔۔
اس نے ماہاویرا کو پہچاننے میں وقت نہ لگایا۔۔۔
سب سے بڑی نشانی اس کی نیلی آنکھیں تھیں۔۔۔
وہ کمرے کے اندر ہونے والے واقع کو نہیں دیکھ پائے کیوں کہ کمرے میں کوئی کیمرہ نہ لگا تھا۔۔۔
سر یہ لڑکا نہیں وہی لڑکی ہے جس کے بارے میں میں نے آپ کو بتایا تھا۔۔۔ شہروز نے ایاز اسفند کو کہا
کیا وہی جو تمہارے انکل کی بیٹی بلال کے ساتھ کانٹیکٹ میں ہے۔۔۔ ایاز حیران ہوئے
جی سر وہی ہے یہ۔۔۔ اس نے وڈیو کی طرف دیکھتے ہوۂے کہا
اوہ مائے گاڈ۔۔۔ یہ تو بہت بہادر لڑکی ہے اور اتنا بڑا رسک اس نے صرف بلال کے کہنے پر لیا ہو گا۔۔۔ ایاز اسفند نے حیرت کا اظہار کیا
شہروز کو دل ہی دل میں دکھ ہوا کہ ماہاویرا بلال کی خاطر اتنا بڑا رسک لے چکی تھی کیا اتنا چاہتی ہے وہ بلال خان کو۔۔۔



آحِل اور ذائشہ کی شادی کو ایک دن رہ گیا تھا۔۔۔
فاریہ اپنی انسلٹ کو بھول نہیں پا رہی تھی جو آحل نے ذائشہ کے سامنے کی تھی۔۔۔
اس نے اپنی انسلٹ میں آحل کو پانے کا خواب بھلا دیا اب اس کا مقصد صرف اور صرف ان دونوں کو الگ کرنا تھا۔۔۔
وہ تب سے پلین بنا رہی تھی ایسا کیا کرے کہ جس سے ان دونوں کی شادی نہ ہو پائے۔۔۔
اس نے کچھ سوچتے ہوئے پرس اٹھایا اور آحِل کے گھر جانے کے لیے تیار ہو گئی۔۔۔
پندرہ منٹ کا راستہ طے کرتے ہوئے وہ آحِل کے گھر پہنچی۔۔۔
آحِل شادی کی ارینجمینٹس میں مصروف تھا پرسوں اس کی مہندی تھی مگر وہ خوشی کا مارا آج سے ہی گھر کو سجا رہا تھا۔۔۔
فاریہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو حیرت سے گھر کو دیکھنے لگی۔۔۔
آحِل لائٹس کا ارینجمنٹ کروا رہا تھا جب فاریہ اس کے پاس آکر کھڑی ہوئی۔۔۔
ہیے آحل۔۔۔ اس نے خوش اخلاقی سے کہا
ہاں۔۔ فاریہ تم۔۔۔ وہ اسے اچانک دیکھ کر حیران ہوا
ہاں میں ہوں کیسے ہو تم اور یہ ارینجمنٹس کچھ جلدی نہیں کروا رہے۔۔۔ اس نے لائٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ہاں مجھے میری شادی کی خوشی ہی اتنی ہے کہ میں دو دن پہلے ہی گھر کو سجانا چاہتا ہوں۔۔۔
آحل مصروف سے انداز میں بولا وہ ویسے بھی فاریہ سے دوستی قائم نہیں رکھنا چاہتا تھا۔۔۔
اس نے اپنا موبائل نکالنے کے لیے پاکٹ میں ہاتھ ڈالا
اوہ میرا موبائل لگتا ہے روم میں رہ گیا ہے مجھے ضروری کال کرنی ہے۔۔۔ اس نے خود کلامی کی
میں لے کر آتی ہوں۔۔۔ فاریہ جھٹ سے بولی
نہیں میں خود جاتا ہوں۔۔۔ آحل بولا
تم اتنے مصروف ہو آحل میں بس ہیلپ کر رہی ہوں تمہاری۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا لے آو۔۔۔ آحل نے نہ چاہتے ہوئے کہا
فاریہ مسکرائی اور گھر کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
لان میں داخل ہو کر وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی آحل کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا آحل کا موبائل دیکھا۔۔۔
اس نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے موبائل آن کیا موبائل کو لاک نہیں لگا تھا شاید فاریہ کی کوششیں رنگ لا رہی تھیں۔۔۔
فاریہ نے جلدی سے ذائشہ کا نمبر نکالا اور میسیج ٹائپ کرنے لگی۔۔
“ذائشہ میں شادی سے پہلے ایک بار تم سے ملنا چاہتا ہوں اگر تم واقع ہی مجھ سے محبت کرتی ہو تو ایک بار مجھ سے ملنے آجاؤ پلیز میں تمہیں دیکھنے کے لیے ترس رہا ہوں میں اڈریس بھیج رہا ہوں کل صبح پلیز آجانا اگر مجھ سے محبت ہے تو اور ابھی مجھے کوئی ریپلایے مت کرنا بس میں تم سے مل کر باتیں کرنا چاہتا ہوں”
اس نے ایڈریس لکھ کر سینڈ کر دیا اور موبائل لیے لان کی طرف چل دی۔۔۔
ذائشہ کچن سے فارغ ہو کر کمرے میں آئی اس نے دوپٹہ اتار کر رکھا اور بالوں کو سمیٹنے لگی۔۔۔
تبھی اس کے موبائل پر میسیج رنگ ہوا۔۔۔
آحل کے نمبر سے آئے ہوئے میسیج کو پڑھ وہ پریشان ہو گئی۔۔۔
آحل کو اچانک کیا ہو گیا وہ ملنے کی بات کیوں کر رہے ہیں اور وہ بھی میری محبت کا ثبوت مانگ کر۔۔۔ اس نے خود کلامی کی
ہوٹیل کا نام اور کمرہ نمبر پڑھ کر اس کی پریشانی میں اضافہ ہوا کیوں کہ آحل نے پہلے کبھی اسے اس طرح اکیلے کمرے میں ملنے کو نہیں کہا تھا۔۔۔
آحل اگر آپ میری محبت کو آزما رہے ہیں تو میں ضرور آؤں گی۔۔۔ اس نے موبائل تکیے تلے رکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔



کانچ کی بڑی کھڑکی سے سورج کی آتی شعاؤں نے بلال اور ماہا کی نیند میں خلل پیدا کیا۔۔۔
ماہاویرا نے اپنی نیلی آنکھیں آہستہ سے کھولی سورج کی روشنی میں اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔۔۔
اس نے بلال کی طرف دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ بلال کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی۔۔۔
ماہاویرا کے ذہن میں رات والا منظر گھومنے لگا خوف کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑ اٹھی۔۔۔
بلال بھی نیند سے بیدار ہو چکا تھا اس نے ماہاویرا کی طرف دیکھا۔۔۔
طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔ اس نے ماہا کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اس کا بخار چیک کیا
میں ٹھیک ہوں بلال۔۔۔ ماہا کا بخار اتر چکا تھا
تو میری جان اتنی ڈری ہوئی کیوں لگ رہی ہو۔۔۔ بلال اٹھ کر بیٹھا
ماہاویرا خاموش رہی رات والے واقع سے وہ ابھی تک سہمی ہوئی تھی۔۔۔
ماہا۔۔۔ بلال نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا
بلال م۔۔میں نے کل رات۔۔۔ وہ رکی
ماہا ایک برا خواب سمجھ کر بھول جاؤ میں آئندہ کبھی بھی تمہیں کسی مشکل میں نہیں ڈالوں گا میرا وعدہ ہے۔۔۔ اس نے ماہا کی پیشانی پر لب رکھے
ب۔۔بلال کل رات میں نے وہاں ایک ل۔۔لاش دیکھی تھی۔۔۔ وہ ڈرتے ہوئے بولی
لاش مگر کس کی۔۔۔ بلال نے پوچھا
پتہ نہیں مجھے لگتا ہے وہ تمہارے آدمی کی لاش تھی اس کو بہت بے رحمی سے مارا گیا تھا سارا کمرہ خون سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ بتاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کہ کیسے کل رات وہ اکیلی ایک لاش کے ساتھ کمرے میں موجود تھی۔۔۔
وقاص کی لاش۔۔۔ بلال حیران ہوا
اچھا تم پریشان نہیں ہو اب میں ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔ اس نے ماہا کو سینے سے لگایا
ماہاویرا ابھی تک رو رہی تھی۔۔
میری جان اب رونا بند کرو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔
بلال۔۔ ماہا کو کچھ یاد آیا
جی میری جان۔۔ وہ پیار سے بولا
ماہاویرا اس کے دور ہوئی اور اپنے آس پاس دیکھنے لگی۔۔۔
کیا ڈھونڈ رہی ہو ماہا۔۔۔ بلال نے پوچھا
وہ تم نے جو فائل کہی تھی میں وہ لے آئی ہوں میرا بیگ کہاں ہے۔۔۔
تمہارا بیگ گاڑی میں ہے رات میں نے تمہیں اٹھاتے وقت اتار کے رکھا تھا۔۔۔ بلال نے اسے بتایا
تم فائل سمبھال لینا۔۔۔ ماہا پریشان سا چہرہ لیے بول رہی تھی۔۔
سمبھال لوں گا لیکن اس سے پہلے میں اپنی بیوی کو سمبھالوں گا۔۔۔ اس نے پھر سے ماہا کو سینے سے لگایا



کل پوری رات ماہاویرا گھر نہیں تھی تھا کیا وہ گھر سے بھاگ گئی تھی کیسے ان کی بیٹی ان کو اتنا بڑا دھوکا دے سکتی تھی سلطان صاحب کا سوچ سوچ کر مرنے کو جی چاہ رہا۔۔۔
انہوں نے ماہاویرا کو ہر طرح کی آزادی دی تھی کیوں کہ انہیں پورا یقین تھا اپنی بیٹی پر مگر وہ ان کا یہی یقین اور بھروسہ کسی کانچ کی طرح چکنا چور کر کے جا چکی تھی۔۔۔
انہوں نے ابھی تک ماہا کو ایک بھی کال نہیں کی تھی کرتے بھی کیسے اسے اپنے پاب کا بلکل بھی خیال نہیں آیا کہ اس کے بھاگنے کے بعد ان کی عزت کی کتنی دھچیاں اڑیں گیں معاشرے میں سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔۔۔
سلطان صاحب پریشان سے صوفے پر بیٹھے تھے وہ آج آفس بھی نہیں گئے تھے۔۔۔
ان کا موبائل رنگ ہوا وہ خیالوں میں گم بیٹھے رہے۔۔۔ کال بند ہو چکی تھی
جب دوسری بار رنگ ٹیون بجی تو سلطان صاحب کو ہوش آیا
انہوں نے صوفے پر رکھا ہوا موبائل اٹھایا۔۔۔
شہروز کا نمبر دیکھ کر انہوں نے دکھی دل کے ساتھ کال ریسیو کی کیوں کہ شہروز ماہاویرا اور بلال کے بارے میں جانتا تھا۔۔۔
انکل مجھے آپ کو بہت ضروری بات بتانی ہے ماہاویرا کل رات بلال کے کہنے پر ہمارے آفس سے ایک فائل چرا کر گئی ہے۔۔۔
وہ فائل ہمارے لیے بہت ضروری تھی اس میں بلال خان کے باس جہانگیر دادا کے خلاف وہ ثبوت تھے جو میں نے ایک سال لگا لر اکٹھے کیے۔۔۔
شہروز کے لفظ تھے یا پتھر جو سلطان صاحب کے دل پر برس رہے تھے۔۔۔
انکل آپ مجھے سن رہے ہیں۔۔۔
میری کوئی بیٹی نہیں۔۔۔ انہوں نے کہتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کی۔۔۔
