Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Madhoshi (Episode 24)

Madhoshi by Mirha Kanwal

امی میری دوست ہے نا ثانیہ مجھے اسے شادی پہ انوائیٹ کرنا ہے اور سعدیہ کو بھی۔۔۔

ذائشہ نے رخسانہ سے کہا جو چارپائی پر بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھیں۔۔۔

ہاں کر لو انوائیٹ جس جس کو کرنا ہے۔۔۔ رخسانہ نے جواب دیا

تو میں چلی جاؤں ایک گھنٹے تک آجاؤں گی۔۔۔ ذائشہ ہچکچاتی ہوئی بولی وہ پہلی بار جھوٹ بول رہی تھی

ہاں چلی جاؤ۔۔۔ رخسانہ نے اجازت دی۔۔۔

ذائشہ فوراً اپنے کمرے کی طرف بڑھی سر اور کندھوں پر چادر اوڑھ کر چھوٹا سا پرس جس میں کچھ پیسے رکھے اور موبائل ہاتھ میں پکڑے گھر سے باہر نکل گئی۔۔۔

اس نے رکشے والے کو ہوٹیل کا نام بتایا کچھ ہی دیر بعد وہ اس ہوٹیل کے باہر تھی۔۔۔

وہ ڈر بھی رہی تھی اس طرح کا کام وہ پہلی بار کر رہی تھی۔۔۔

ذائشہ گھبراتے ہوئے ہوٹیل کے اندر داخل ہوئی کاؤنٹر سے کمرہ نمبر پوچھ کر قدم بڑھاتی اندرونی حصے کی طرف چل دی۔۔۔

وہ ایسی جگہ پر پہلی بار آئی تھی اتنے کمرے دیکھ کر وہ پریشان ہوئی۔۔۔

اس نے کمرہ نمبر ڈھونڈنے میں ہی پانچ منٹ لگا دیے۔۔۔

اب اس کے سامنے درست نمبر والا کمرہ تھا کمرہ نمبر 105۔۔۔

اس نے ہچکچاتے ہوئے ڈور ناک کیا۔۔۔

اسے کوئی ریسپانس نہ ملا۔۔۔

اس نے پھر سے ڈور ناک کیا۔۔۔

آگے پھر سے خاموشی۔۔۔

ذائشہ گھبرانے لگی۔۔۔

مگر آحِل پر یقین ہے اس کو یہ سوچ کر اس نے دروازہ دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا۔۔۔

وہ کمرے کے اندر داخل ہوئی تو دیکھا کمرہ خالی ہے۔۔۔

اسے اپنے پیچھے سے آہٹ محسوس ہوئی۔۔۔

اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا تو ایک شخص نے ڈور لاک کیا۔۔۔

🔥
🔥
🔥

ماہاویرا ونڈو کھولے ٹھنڈی ہوا کو اپنے اوپر محسوس کر رہی تھی جب بلال نے اسے پیچھے سے بازؤوں کے گھیرے میں لیا۔۔۔

بلال۔۔۔ ماہا بولی

ہممم۔۔۔ بلال نے اس کے کندھے پر لب رکھے

ڈیڈ کیا سوچ رہے ہوں گے میں کل رات سے کہاں ہوں۔۔۔

ماہاویرا نے پریشانی سے کہا

تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں میری جان میں نے انہیں یہاں بلا لیا ہے۔۔۔

کیا۔۔۔ ماہاویرا نے اپنا رخ بلال کی طرف کیا

بلال یہ تم کیا کہہ رہے ہو ڈیڈ کو یہاں کیوں بلایا۔۔۔

ایک نہ ایک دن تو ہمیں ان کو بتانا ہی تھا نا اپنے رشتے کے بارے میں تو آج کیوں نہیں۔۔۔

بلال نے سگریٹ جلا کر اپنے ہونٹوں میں رکھی

ماہاویرا حیرت سے بلال کو دیکھ رہی تھی جب اسے اپنے ڈیڈ کی آواز سنائی دی۔۔۔

چھوڑو مجھے کون لوگ ہو تم کیوں اٹھا کر لائے ہو۔۔۔

ڈیڈ۔۔۔ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا

وہ کمرے سے بھاگتی ہوئی گھر کے لاؤنج میں آئی

بلال کے دو آدمی سلطان صاحب کے منہ پر کالا کپڑا ڈالے ان کے ہاتھ باندھ کر انہیں سختی سے پکڑے ہوئے تھے۔۔۔

ڈیڈ۔۔۔ وہ سلطان صاحب کی طرف بھاگی

اس نے سلطان صاحب کے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔۔۔

سلطان صاحب نے ماہاویرا کی طرف دیکھ کر نظروں کا رخ بدل لیا۔۔۔

بلال یہ کیا حرکت ہے۔۔۔ وہ چلّائی

بلال نے اپنے منہ سے دھواں نکالتا ہوا لاؤنج میں آکر کھڑا ہوا۔۔۔

بلال۔۔۔ وہ پھر سے چلائی

کونسی حرکت۔۔۔ بلال نے لا پرواہی سے کہا

ماہاویرا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا بلال کیسے انجان بن رہا تھا۔۔۔

ہاتھ کھولو میرے ڈیڈ کے۔۔۔ اس نے بلال کے آدمی کو چلّا کر کہا

وہ اپنی جگہ پر جم کر کھڑا رہا۔۔۔

بلال ان کو کہو ہاتھ کھولیں میرے ڈیڈ کے۔۔۔

بلال سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیتا اپنے کام میں مصروف رہا۔۔۔

ماہاویرا کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔

اس نے بلال کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔

بلال ت۔۔تم میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے۔۔۔ وہ پریشان ہوئی

بلال اس کی طرف دیکھ کر قاتلانہ انداز میں مسکرایا

اس نے چٹکی بجائی تو اس کا ایک آدمی ہاتھ میں کچھ پیپر لیے بلال کے پاس آیا۔۔۔

بلال نے وہ پیپر پکڑے اور ماہاویرا کو تھما دیے۔۔۔

یہ لو مائے وائف تمہارے لیے ایک خاص تحفہ ہے۔۔۔

ماہاویرا اس کے رویئے سے ہکی بکی رہ گئی۔۔۔

کیا ہے یہ۔۔۔ اس نے حیرت سے پوچھا

خود دیکھ لو۔۔۔ وہ لاپرواہی سے بولا

اس نے وہ پیپر پکڑے اور کھول کر پڑھنا شروع کیا۔۔۔

اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی جب اس نے ڈائیوورس پیپر پر بلال کے سائن دیکھے۔۔۔

ب۔۔۔بلال یہ ک۔۔۔کیا ہے۔۔۔ ماہاویرا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔

یونیورسٹی میں پڑھتی ہو اتنا نہیں پتہ کیا ہے۔۔۔ چلو میں ہی بتا دیتا ہوں

یہ ہے ڈائیوورس پیپر جسے اردو میں کہتے ہیں طلاق نامہ۔۔۔ اس کے کہہ کر ماہاویرا کے منہ پر اپنے منہ سے دھواں نکال کر پھینکا

ماہاویرا کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا اس کا سر چکرانے لگا اور وہ زمین پر گر گئی۔۔۔

اس کے ہاتھ میں طلاق نامہ تھا وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔

ب۔۔بلال مگر کیوں م۔۔میں نے کیا کیا جو تم مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہو۔۔۔

بلال نیچے کی جانب جھکا۔۔۔

تم نے کچھ نہیں کیا میری جان تمہیں تو سزا ملی ہے کسی اور کے گناہ کی سزا۔۔۔

ماہاویرا آنکھیں پھاڑے اس کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔۔۔

سزا۔۔۔ وہ بلال کی طرف دیکھتی ہوئی بولی

ہاں سزا۔۔۔ بلال چلّایا

جاؤ اور پوچھو اپنے بھائی سے اس نے ایسا کیا کیا تھا میری معصوم بہن کے ساتھ جس وجہ سے اس نے خود کشی کر لی۔۔۔

بلال بولا تو ماہاویرا اور سلطان صاحب دونوں کے ہی قدموں تلے سے زمین نکلی۔۔۔

ماہاویرا کے ذہن میں آج سے چھ مہینے پہلے والی باتیں گھومنے لگیں۔۔۔

جب اس کے بھائی آحل کو ایک غریب لڑکی سے محبت ہو گئی تھی اور شادی والے دن وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یو۔کے چلا گیا تھا۔۔۔

ذ۔۔ذائشہ ۔۔۔ ماہاویرا کے منہ سے نکلا

ہاں ذائشہ میری معصوم بہن۔۔۔ جس سے تمہارے بھائی نے جینے کی وجہ چھین لی اسے مجبور کر دیا کہ وہ خود کشی کر کے اپنی جان لے لے۔۔۔

جب مجھے پتہ چلا تو میرے دل میں بدلے کی آگ بھڑکنے لگی۔۔۔

میں نے تمہارے بھائی کے بارے میں سب پتہ کروایا پھر مجھے معلوم ہوا کہ اس کی بھی ایک بہن ہے تب میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی بہن کا استعمال کر کے میں اسے بھی اسی تکلیف میں تڑپاؤں جس تکلیف میں میں تڑپ رہا ہوں۔۔۔

کچھ دن تک میں نے تمہارا پیچھا بھی کیا۔۔۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیسے تمہاری زندگی میں داخل ہو کر تمہارا دل جیتوں اتنا کہ تم میرے لیے پاگل ہو جاؤ۔۔۔

پھر تم نے تو میرا مسئلہ ہی حل کر دیا تم نے میرے آدمی کو پیٹا اس نے آکر مجھے بتایا۔۔۔

اس نے تمہارا جو حلیہ بتایا مجھے تب ہی شک ہو گیا تھا کہ وہ تم ہی ہو ماہاویرا خانزادی اسی لیے میں نے تمہیں اغواہ کروایا اور پھر نکاح کی شرط رکھی۔۔۔

پھر تمہیں اپنی محبت کا اتنا یقین دلایا جتنا تمہارے بھائی نے میری بہن کو دلایا تھا۔۔۔

تم مجھے اس قدر چاہنے لگی کہ جب میں نے تمہیں شہروز کے آفس سے جہانگیر دادا کی فائل چرانے کو کہا تو تم راضی ہو گئی۔۔۔

تب مجھے یقین ہوا کہ تم اب پوری طرح میری محبت کے جال میں پھنس چکی ہو اسی لیے اپنی جان بھی خطرے میں ڈالنے کو تیار ہو۔۔۔

تو میں نے سوچا کیوں نہ ایک تیر سے دو شکار صحیح۔۔۔ تمہیں طلاق تو دینی ہی ہے تو کیوں نہ پہلے وہ فائل چرانے کا کام تم سے کروا لوں وہ فائل تو میں نے کل رات ہی جلا کر اپنا کام ختم کر لیا تھا جب تمہیں اس گھر میں لے کر آیا تھا۔۔۔

اور رہا کام طلاق کا تو اس سے بھی میں اب فارغ ہو چکا ہوں۔۔۔

ماہاویرا بے یقینی سے بلال کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ نہیں یہ حقیقت نہیں ایک۔۔۔ایک بھیانک خواب ہے جو ابھی آنکھیں کھولنے پر ٹوٹ جائے گا ختم کو جائے گا میرا بلال ایسا نہیں ہے وہ تو مجھ سے بے حد محبت کرتا ہے بس ابھی سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا ۔۔۔ وہ دل ہی دل میں خود کو تسلی دے رہی تھی

سلطان صاحب نے ساری بات سنی کہ کیسے اس شخص نے ان کی بیٹی کو اغواہ کر کے اسے نکاح کے لیے مجبور کیا۔۔۔ اپنی معصوم بیٹی کے لیے ان کا دل خون کے آنسو رونے لگا

تو ت۔۔تم کسی ا۔۔اور کے گناہوں کی س۔۔۔سزا مجھے دو گے۔۔۔ کچھ دیر بے یقینی کے ساتھ بلال کو دیکھنے کے بعد ماہا بولی اس کی زبان اس کا ساتھ چھوڑنے لگی

بلال نے اسے بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔۔۔

ہو رہی ہے نہ تکلیف بلکل اسی تکلیف سے میری معصوم بہن گزری تھی۔۔۔

بلکہ نہیں تمہاری تکلیف تو اس کی تکلیف کے آگے بہت کم ہے۔۔۔

تم تو بہت آسانی سے یہ تکلیف برداشت کر رہی ہو اور میری بہن ۔۔۔ اس کی تو برداشت کی ہمت جواب دے گئی تھی اسی لیے اس نے اپنی جان لینے کا فیصلہ کیا۔۔۔ وہ پھر سے چلّایا

اس کا ایک ایک لفظ پگھلا ہوا سیسہ بن کر ماہاویرا کے کانوں میں اتر رہا تھا۔۔۔

اور صرف میری بہن ہی نہیں اس کے بعد میرے ماں پاب دونوں نے ہی اپنی جان لے لی۔۔۔ یہ کہتے ہوئے بلال کی آواز پست ہوئی اور اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔۔۔

اب تمہیں تمہارے اس باپ کو اور تمہارے بھائی کو تم سب کو ہی اس تکلیف سے گزرنا ہو گا۔۔۔

میں نے تمہیں طلاق دی ماہاویرا میں نے تمہیں طلاق دی طلاق دی۔۔۔

وہ اتنی زور سے چلا رہا تھا کہ ماہاویرا کو لگا اس کے کان کے پردے پھٹ جائیں گے۔۔۔

میں اب تمہاری زندگی سے ہمیشہ کے لیے جا رہا ہوں تم آئندہ کبھی مجھے دیکھ نہیں پاؤ گی۔۔۔

وہ کہتا کوا مڑا اور باہر کی جانب چلنے لگا۔۔۔

ماہاویرا پہلے تو بے جان سی اس کی طرف دیکھتی رہی پھر اسے جاتا دیکھ کر وہ ہمت کر کے اس کے پیچھے بھاگی

بلال نہیں بلال مجھے چھوڑ کے مت جاؤ میں مر جاؤں گی بلال میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں بلال۔۔۔

وہ گرتی سمبھلتی بلال کے پیچھے بھاگ کر اس کے قدموں میں گری۔۔۔ سلطان صاحب اپنی بیٹی کو تڑپتا دیکھ کر رونے لگے

ہٹو پیچھے۔۔۔ بلال دانت پیس کر بولا

بلال م۔۔۔میں مر جاؤں گی تمہارے بغیر۔۔۔ ماہاویرا کی حالت قابلِ رحم ہو رہی تھی

تو مر جاؤ ماہا جیسے میری بہن میری۔۔۔ بلال پیچھے مڑ کر ماہاویرا کی طرف دیکھ کر چلّایا

نہ۔۔۔ نہیں بلال مجھے ت۔۔تمہارے ساتھ جینا ہے تم تو م۔۔مجھ سے محبت کرتے ہو نا۔۔۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ روتی بمشکل بول رہی تھی۔۔۔

میں تمہیں بتا چکا ہوں وہ محبت نہیں بدلہ تھا آئی سمجھ تمہیں۔۔۔ اس نے ماہا کو خود سے الگ کرنے کے لیے اتنی زور سے پٹخا کہ ماہا کا سر دیوار پر لگا۔۔۔

ایک چینخ کے ساتھ ماہاویرا زمین پر گری اس کی نظریں ابھی تک بلال پر اٹکی ہوئی تھیں۔۔۔

وہ بے پناہ محبت کرنے والا شوہر جو رگ رگ میں سما چکا تھا اس کی دھڑکن اس کی جان بن چکا تھا آج اسے چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی سے جا رہا تھا۔۔۔

بلال نے اس کے چینخنے پر بھی ایک بار پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ کر گیٹ سے نکل گیا۔۔۔

ماہاویرا کی نظروں نے آخر تک اس کو دیکھا۔۔۔

بلال۔۔۔ اس کی زبان سے سرگوشی نما یہ لفظ ادا ہوا پھر کب وہ ہوش کی دنیا سے بے گانہ ہوئی وہ بے خبر تھی۔۔۔

🔥
🔥
🔥

آحِل آج چھ ماہ بعد پاکستان کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔۔۔

وہ پلین میں بیٹھا ان چھ ماہ کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔

وہ ذائشہ کو بھلانے کے لیے یہاں آیا تھا اس کی یادوں کو مٹانے کے لیے آیا تھا۔۔۔

مگر کوئی ایسا دن نہیں گزرا کوئی ایسی رات نہیں گزری جب اس کو ذائشہ کی یادوں نے تڑپایا نہ ہو۔۔۔

وہ آج بھی خون بن کر اس کی رگوں میں سمائی تھی۔۔۔

وہ لڑکی جو آحل خانزادہ کی پہلی محبت تھی اسے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی۔۔۔

اس نے اپنی جان لینے کا فیصلہ کیوں کیا اس بات سے آحل بے خبر تھا۔۔۔

اس کے بعد سے آحل نے کبھی کوئی خوشی نہیں دیکھی وہ کبھی مسکرایا تک نہیں تھا۔۔۔

اس کی زندگی میں کوئی لڑکی نہیں آئی یا شاید اس بے آنے نہیں دی۔۔۔

آحِل نے آنکھیں بند کیں اور اس کے کانوں میں ذائشہ کی آواز گونجنے لگی۔۔۔

“تم جیسے رئیس زادے مجھ جیسی غریب لڑکیوں سے کبھی شادی نہیں کرتے تم لوگوں کو لڑکی کا بھروسہ جیت کر ان سے اپنا مطلب نکالنے کے سوا اور کوئی غرض نہیں ہوتی، تم نے صرف میرا بھروسہ ہی نہیں مجھے بھی اندر تک توڑ دیا ہے آحِل تم مجھے دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکو گے کیوں کہ،

میں صرف تمہاری زندگی سے نہیں اس دنیا سے بھی ہمیشہ کیلیے جا رہی ہوں”

درد کی شدت سے آحل کی آنکھیں بھیگنے لگیں اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔

آحِل کو معلوم نہیں تھا کہ وہ اس رات ہوٹیل کے کمرہ نمبر 105 میں کیسے اور کیا کرنے گیا تھا۔۔۔

اسے جب ہوش آیا تو خود کو ایک کمرے میں سوتے ہوئے پایا اس کا سر چکرا رہا تھا۔۔۔

اسے کچھ یاد تھا تو بس ذآئشہ کی یہ باتیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *