Madhoshi by Mirha Kanwal NovelR50583 Madhoshi (Episode 06)
Rate this Novel
Madhoshi (Episode 06)
Madhoshi by Mirha Kanwal
آحِل۔۔۔ ریحان۔۔۔
Where are you both?
آحِل اور ریحان نے فاریہ کو کلب آنے کا کہا تھا مگر جب فاریہ آئی تو کلب میں گھپ اندھیرا تھا
Ahil I’m scared, plz come forward if you are here
پھر اچانک کلب میں لائٹس آن ہوئیں۔۔۔
Happy birthday too you happy birthday too you dear faria…
آحِل اور ریحان کے ساتھ باقی سب بھی گنگاتے ہوئے اس کے قریب آئے۔۔۔
فاریہ کی خوشی کی حد نہ تھی کیوں کہ جس طرح ان دنوں آحِل فاریہ کو ٹائم نہیں دیتا تھا اسے امید تھی کہ آحِل اس بار اس کا برتھ ڈے بھول جائے گا
فاریہ نے آحل کو ہگ کرنا چاہا تو آحل تھوڑا پیچھے ہوا۔۔۔ جب سے ذائشہ اس کی زندگی میں آئی تھی اس نے کسی لڑکی کو چھوا بھی نہیں تھا اب وہ جو بھی تھا صرف ذائشہ کا تھا
فاریہ اس بات کو نظرانداز کر گئی۔۔۔
کلب میں آحِل اور ریحان کے علاوہ ان کی پرانے کلاس فیلوز تھے۔۔۔
ٹیبل پر بہت بڑا اور خوبصورت چوکولیٹ کیک پڑا تھا جس پر ڈیزائننگ سے H.B faria لکھا ہوا تھا۔۔۔
فاریہ کیک کو دیکھ کر ایکسائیٹڈ ہوئی اس نے کیک کاٹا پہلے آحِل اور پھر ریحان کو کھلایا۔۔۔
وہ آج خوش تھی کہ آحِل کو اس کی فکر ہے۔۔۔
سب اسے گفٹس دے ہے تھے۔۔
آحِل نے اسے ڈائمنڈ کی بریسلیٹ گفٹ کی جو فاریہ کو بہت اچھی لگی اس نے اسی وقت کلائی میں پہن لی۔۔۔
آحِل آج بہت دن بعد ان سے مل رہا تھا جب سے اسے ذائشہ ملی تھی وہ اس کی دنیا سے نکلتا ہی نہیں تھا۔۔۔
فاریہ آحل اور ریحان ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے۔۔۔
فاریہ جوس پی رہی تھی جو ہلکا سا اس کے ڈریس پر گر گیا ۔۔۔
افف یہ کیا ہوا گیا میں اسے واش کر کے آتی ہوں۔۔۔ اس نے آحل اور ریحان کو کہا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
آحِل کیا بنا تمہاری محبوبہ کا اس سے کانٹیکٹ میں ہو یا دو دن کا بھوت تھا تمہارے سر پر۔۔۔ ریحان نے جوس کا سِپ لیتے ہوئے پوچھا
دو دن نہیں یہ تو ساری عمر کا بھوت ہے عشق کا بھوت۔۔۔ آحِل نے مسکرارتے ہوئے کہا
لیکن تمہارے اور اس کے سٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔
اوہ تو تم بھی یہ دقیہ نوسی سوچ رکھتے ہو مجھے آج معلوم ہو رہا۔۔۔
اوکے جو دل میں آئے کرو لیکن میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔۔
ہاں بولو۔۔۔ آحِل نے کہا
کیا تم جانتے ہو کہ فاریہ تم سے محبت کرتی ہے۔۔۔
آحِل نے ریحان کی طرف دیکھا مگر کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
اس کا مطلب تم اچھی طرح واقف ہو اس کے جزبات سے۔۔ ڈوڈ ہم بچپن سے ایک ساتھ ہیں ہماری دوستی اتنی گہری ہے کہ آج تک کوئی چوتھا اور ہم میں شامل نہیں ہو سکا۔۔۔
اور میں جانتا ہوں کہ جیسے تم ہمارے لیے اہم ہو ویسے میں اور فاریہ بھی تمہارے لیے اہم ہیں۔۔۔ تم بس میری بات مانتے ہوئے ایک بار فاریہ کے ساتھ ریلیشن۔۔۔۔
یہیں چپ ہو جاؤ۔۔۔ ریحان کی بات ادھوری تھی جب آحل نے اسے ٹوک دیا
وہ میری دوست ہے میرے دل میں اس کے لیے پیار اور عزت دونوں ہیں تم کیا چاہتے ہو کہ میں فاریہ کے ساتھ ریلیشن میں آؤں تا کہ کسی دن ڈرنک ہو کر اس کے ساتھ کچھ غلط کر بیٹھوں۔۔۔
میرا مطلب یہ نہیں تھا آحِل۔۔۔
تمہارا جو بھی مطلب تھا کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے آج تک جس لڑکی کے ساتھ ریلیشن شپ رکھا ہے اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال بھی کیا ہے۔۔۔
تو کیا تم ذائشہ کو بھی استعمال کرو گے۔۔۔
میں ذائشہ کے ساتھ ریلیشن میں نہیں ہوں یہ ون سائیڈڈ لوّ ہے۔۔۔ آحِل نے نظریں جھکا کر کہا
اچھا تو جس دن ذائشہ بھی کو تم سے محبت ہو گئی تو کیا اس دن تم اسے۔۔۔
شٹ اپ ریحان ذائشہ نہ ہی فاریہ جیسی ہے اور نہ ہی ان لڑکیوں جیسی جن کو میں استعمال کر چکا ہوں۔۔۔ وہ پاک ہے اور میں اسے پاک ہی رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
میں جب بھی اس کے قریب آیا اس سے پہلے وہ میرے نکاح میں ہو گی۔۔۔
ریحان خاموش ہو گیا کیوں کہ وہ جانتا تھا آحِل کو فورس نہیں کر سکتا اور اس نے آحل کو کنوِنس کرنے کی یہ کوشش صرف فاریہ کے لیے کی تھی۔۔۔
فاریہ دیوار کے پیچھے کھڑی آحِل کی سبھی باتیں سن چکی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس کا یہاں رکنا ناممکن تھا وہ مڑی اور کلب سے باہر نکل گئی ۔۔۔



سلطان صاحب آفس میں بیٹھے کام کر رہے تھے جب ان کے سیکرٹریٹ نے کال کر کے بتایا کہ فاروق مدانی نام کا ایک آدمی ان سے ملنا چاہ رہا ہے۔۔۔ سلطان صاحب نے اندر بھیجنے کا کہا اور فون رکھ دیا
فاروق ہمدانی اندر داخل ہوا اور سلطان صاحب کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔۔۔
سلطان صاحب نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔۔۔
فاروق کیا یہ تم ہو میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا۔۔۔ سلطان صاحب حیرت زدہ دیکھتے ہوئے بولے
نہیں میرے دوست یہ کوئی خواب نہیں حقیقت ہے اٹھو اور گلےملو تا کہ تمہیں یقین آئے۔۔۔ فاروق اور سلطان سکول کے زمانے کے دوست تھے انہوں نے اپنی زندگی کے دس سال ساتھ گزارے پھر فاروق کو اس کے والد نے پڑھائی کے سلسلے میں آؤٹ آف کنٹری بھیج دیا۔۔۔
وہاں فاروق کو ایک لڑکی پسند آگئی جس کا نام بیلا تھا۔۔۔
پڑھائی مکمل کر کے اس نے اپنے گھر والوں کو بیلا کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔
کوئی بھی اس کے فیصلے سے متفق نہ تھا اور اس کے والد نے اس کو ایک مہینے کے اندر اندر واپس آنے کا کہا۔۔۔
فاروق نے اپنی مرضی سے شادی کر کے گھر فون کر کے بتایا کہ وہ اب پاکستان کبھی نہیں آئے گا۔۔۔
اور اب اتنے سالوں بعد وہ پاکستان اپنے ماں باپ کے بلانے پر آئے۔۔۔
تم تو بھول ہی گئے تھے وہاں جا کر کبھی کانٹیکٹ بھی نہیں کہا۔۔۔ سلطان صاحب نے شکوہ کیا
سوری میرے دوست پہلے کچھ مصروفیات کی وجہ سے کانٹیکٹ نہیں کر پایا پھر روڈ پر میرا موبائل چھن گیا۔۔۔ مگر یقین کر میری دوستی میں آج بھی فرق نہیں آیا۔۔۔
کل رات پاکستان پہنچا ہوں اور آج دیکھو صبح صبح ہی تمہارے پاس۔۔۔
فاروق مجھے تو اب بھی یقین نہیں ہو رہا کہ تم میرے سامنے ہو میں تو یہی سوچ رہا تھا اب کبھی ملاقات نہیں ہو گی۔۔۔
بھابھی بھی آئی ہیں ساتھ؟۔۔۔ سلطان صاحب نے پوچھا
نہیں سلطان وہ ایک موزی بیماری کی وجہ سے یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔ فاروق ہمدانی دکھی ہو کر بولے
دکھ ہوا سن کر اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔۔۔ سلطان صاحب چشمہ اتار کر ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولے
تم بتاؤ میرے بچے کیسے ہیں۔۔۔ فاروق ہمدانی نے ماحول بدلنے کے لیے بات کی
ماہا کی پیدائش کے دو سال بعد تک وہ کانٹیکٹ میں تھے۔۔۔
بچوں سے تم خود مل لینا آج رات تم میرے گھر ڈنر کر رہے ہو۔۔۔
لیکن آج رات۔۔۔
آگے کچھ نہیں بولو گے آج رات ہی تم آرہے ہو۔۔۔ سلطان صاحب نے فاروق کو ٹوکا
فاروق مسکرانے لگے
اور تمہارا بیٹا بھی آیا ہو گا ساتھ۔۔
ہاں میرے ساتھ ہی آیا ہے اس وقت میرا شہزادہ بیٹا گھر میں سو رہا ہے
اس کو بھی تم رات کو اپنے ساتھ لے کر آؤ گے بتا رہا ہوں میں تمہیں ۔۔۔ سلطان صاحب نے حکمیہ انداز میں کہا
فاروق ہنسنے لگے اور سر ہاں میں ہلایا



ماہاویرا یونی سے واپس آئی تو سلطان صاحب کچن کے ملازموں کو شام کا مینیو بتا رہے تھے۔۔۔
اس نے کچن کی طرف رخ کیا۔۔۔
ڈیڈ آج کوئی سپیشل آنے والا ہے کیا۔۔۔
ہاں ماہا بیٹا آج میرا جگری دوست آرہا ہے تمہیں یاد ہے نا میں تمہیں اپنے سکول کالج کے قصے سناتا تھا اور اپنے دوست فاروق کا ذکر بھی کرتا تھا۔۔۔ سلطان صاحب پرجوش لہجے میں بتا رہے تھے
جی ڈیڈ بٹ آپ سے تو ان کا کانٹیکٹ نہیں تھا یوں اتنے سالوں بعد اچانک کیسے۔۔۔ اس نے سبزی والی ٹوکری سے ایک گاجر اٹھائی
بس بیٹا اسے بھی اپنے بوڑھےماں باپ کا خیال گیا۔۔۔ اسی لیے آیا ہے اتنے سالوں بعد
ہممم بہت جلدی خیال نہیں آگیا۔۔۔ ماہاویرا نے گاجر چباتے ہوئے کہا
تم مجھے باتوں میں نہیں لگاؤ مجھے ابھی بہت کام کرنے ہیں اور ہاں میں نے اپنی گڑیا کے لیے ایک پیارا سا ڈریس خریدہ ہے اور ساتھ اور بھی چیزیں ہیں تم آج شام وہی پہنو گی۔۔۔ سلطان صاحب پیار سے بولے
مگر ڈیڈ آپ نے میرے لیے شوپنگ کیوں کی میرے پاس ہر چیز نیو ہی تو ہے میں کچھ بھی پہن لیتی شام کو۔۔۔
مجھے پتا ہے تمہارے پاس ہر چیز ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ آج میری پیاری بیٹی ویسے تیار ہو جیسے میں چاہتا ہوں۔۔۔
اوکے ڈیڈ نو پرابلم میں دیکھتی ہوں جا کر۔۔۔
وہ کچن سے نکل کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
اس نے ایکسائٹڈ ہو کر بیڈ پر پڑا سامان شوپنگ بیگ سے باہر نکالا۔۔۔
مگر یہ کیا۔۔۔ ماہاویرا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں
پرپل کلر میں قمیض شلوار اور ساتھ لائٹ پنک دوپٹہ۔۔۔
اس نے شوز والا بیگ نکالا تو پینسل ہیل کے ساتھ میچنگ سینڈل۔۔
وہ سامان لیے نیچے کی طرف بھاگی
ڈیڈ۔۔۔۔ ڈیڈ اس کی آواز سن کر گھر کے سارے ملازم اس کی طرف متوجہ ہوئے
سلطان صاحب جانتے تھے کہ ماہاویرا کا کیا ری ایکشن ہو گا وہ اس وقت کے لیے تیار بیٹھے تھے ۔۔۔
ڈیڈ what is this اس نے ڈریس کو ڈائینگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
بیٹا یہ ڈریس ہے جو میں اپنی گڑیا کے لیے لایا ہوں۔۔۔۔ سلطان صاحب معصوم سی شکل بنا کر بولے
Dad, you know i’ve never worn a dress like that…
گڑیا I know صرف آج ہی کی تو بات ہے اپنے ڈیڈ کی اتنی سی بات نہیں مان سکتی کیا۔۔۔سلطان صاحب ایموشنل بلیک میلنگ پر اتر آئے
And what is this? Like a bed sheet.
ماہاویرا نے دوپٹے کو پھیلاتے ہوئے کہا۔۔۔
This is the scarf you will wear on your head.
سلطان صاحب آرام سے بولے
What dad??
ماہا کے چودہ طبق روشن ہوئے۔۔۔
پلیز ماہا گڑیا بس آج شام کے لیے پلیز پاپا کی بات مان لو۔۔۔
ماہا نے لمبا سانس کھینچا۔۔۔۔
Ok, but only for this evening.
سلطان صاحب نے خوشی سے ماہا کی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔۔



بلال بھائی لندن سے جہانگیر دادا کا فون ہے۔۔۔
بلال جم روم میں muscles exercise میں مصروف تھا۔۔۔ اپنے آدمی کی بات سن کر رکا۔۔۔
اس مے ٹاول اٹھا کر پسینے سے بھیگا ہوا اپنا چہرہ اور سینہ صاف کیا۔۔۔
موبائل پکڑ کر کان کو لگایا اور بولا
جی دادا کیسے یاد کیا۔۔۔
بلال میرے شیر کیسے ہو تم۔۔۔ رعب دار آواز موبائل سے بلال کے کانوں میں گئی
اللہ کا کرم ہے دادا۔۔۔ آپ بتائیں کیسے ہیں۔۔۔
تمہارے بغیر کچھ اچھا نہیں لگتا جب سے تم گئے ہو کوئی اور تمہارے جیسا نہیں ملا۔۔۔
تو دادا آج مجھے کیسے فون کیا کوئی خاص بات۔۔۔۔
جیسا کہ تمہیں معلوم ہے میرے گینگ کا اصول ہے کہ یہاں سے کوئی بھی ریزائن نہیں کر سکتا جس کو جانا ہے وہ سیدھا اوپر جائے گا۔۔۔
لیکن اس کے باوجود میں نے تمہیں صحیح سلامت اپنے گینگ سے جانے دیا۔۔۔
صرف اس لیے کہ تمہارا جب دل مانے تم اسے پھر سے جوائن کر سکتے ہو کیوں کہ تم جیسا شیر نہ تم سے پہلے مجھے ملا تھا اور نہ تم سے بعد میں
داد میں یہ کام چھوڑ چکا ہوں پھر سے جوائن نہیں کروں گا۔۔۔
بلال تم سترہ سال کے تھے جب تم میرے گینگ میں شامل ہوئے تھے کچھ نہیں تھا تمہارے پاس سوائے بھوک کے۔۔۔ تمہاری جس چیز نے مجھے تمہاری طرف متوجہ کیا تھا وہ تھا صرف تمہارا بے خوف ہونا تمہاری بہادری۔۔۔
پھر تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے میں نے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔۔۔
آج مجھے تمہاری ضرورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم مجھے انکار نہیں کرو گے۔۔۔
بلال کچھ دیر خاموش رہا
دادا مانا کہ مجھ پر آپ کے بہت احسانات ہیں مگر میں ایک بار یہ کام چھوڑ چکا ہوں پھر سے نہیں کرنا چاہتا۔۔۔
سوچ لو بلال اپنے اوپر میری مہربانیوں کو یاد کرو۔۔۔
بس ایک کام ہے وہ تمہارے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے سوچنے کا وقت دیں
جیسے تم کہو۔۔۔ مگر جواب صرف ہاں میں ہونا چاہیے
بلال نے لمبا سانس کھینچا۔۔۔
ٹھیک ہے دادا میں آپ کا کام کروں گا۔۔۔ مگر آپ کو مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا کہ پھر آپ کبھی مجھے کسی بھی قسم کا کام کرنے کے لیے نہیں کہیں گے۔۔۔
وہ جانتا تھا دادا اسے انکار نہیں کرنے دے گا اسی لیے سوچنے پر وقت ضائع کرنے سے بہتر تھا وہ جلد از جلد اپنا ٹارگٹ پورا کرے
میں جانتا تھا میرا شیر یہ کام ضرور کرے گا۔۔۔ اور میں تمہیں اپنی زبان دیتا ہوں پھر کبھی تم سے کوئی کام نہیں کہوں گا۔۔۔
بتائیں پھر کیا ٹارگٹ ہے میرا۔۔۔
خفیہ ایجینسی کا ایک ایجنٹ لنڈن سے پاکستان آیا ہے اس کے پاس ایک فائل ہے جس میرے تمام کالے دھندوں کے خلاف پختہ ثبوت ہیں سب سے پہلے وہ اوریجنل فائل پاکستان کی ایجینسی کو دینے کے بعد اس کی فوٹو کاپی یہاں لنڈن کی ایجینسی کو دے گا تا کہ میرے یہاں سے بھی اریسٹ وارنٹ جاری ہو جائیں۔۔۔۔ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تو میری زندگی کی ساری محنت پر پانی پھر جائے گا۔۔۔
یہ کام میں کسی اور کو بھی کہہ سکتا تھا لیکن تمہیں کہنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ لڑکا تمہاری ہی طرح کا ہے اسے موت سے ڈر نہیں لگتا وہ بڑے سے بڑے گینگز کا پردہ آسانی سے فاش کر چکا ہے وہ عقاب کی نظر رکھتا ہے اسے مات دینا آسان کام نہیں۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم فائل کے ساتھ اسے بھی ختم کر دو۔۔۔ نہ رہے گا سانپ اور نہ بجے گی بانسری
کیا نام ہے اس کا۔۔۔ بلال نے پوچھا
شہروز ہمدانی
اوکے اس کی تصویر اور باقی ڈیٹیلز مجھے ای میل کر دیں کام ہو جائے گا۔۔۔
دل خوش کر دیا میرے شیر تمہیں منہ مانگی رقم دوں گا۔۔۔
نہیں داد اس بار میں رقم نہیں لوں گا میں یہ کام کر کے اپنے اوپر آپ کے احسانوں کو اتارنا چاہتا ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے بلال اس کام کے بعد تم اپنے راستے میں اپنے راستے۔۔۔
ٹھیک ہے داد۔۔۔
یہ کہتے ہوئے اس نے کال ڈسکنیکٹ کی اور کچھ سوچتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔
ساتھ ہی اس کی موبائل رنگ ہوا اس نے اٹھا کر دیکھا تو شہروز ہمدانی کی تصویر اور باقی ڈیٹیلز تھیں



رات کے آٹھ بجے فاروق ہمدانی اور اس کا بیٹا سلطان صاحب کے گھر پہنچے۔۔۔ سلطان صاحب ان کے استقبال کے لیے لان میں ہی موجود تھے۔۔۔
ڈرائیور نے گیٹ کھولا انہوں نے گاڑی پارک کی۔۔۔ فاروق ہمدانی گاڑی سے نکلے
خوش آمدید میرے دوست۔۔۔ سلطان صاحب فاروق ہمدانی کے گلے ملے۔۔۔
بیٹا نہیں آیا تمہارا۔۔۔ سلطان صاحب نے سوال کیا
آیا ہے نا۔۔۔ فاروق ہمدانی بولے
اس نے گاڑی کے باہر پاؤں رکھا اس کے برانڈڈ بلیک شوز لان میں لگی لائٹس کی روشنی میں چمک رہے تھے۔۔۔
وہ باہر نکلا اور اپنا کوٹ درست کیا۔۔۔ اس کی پرسنیلٹی بارعب تھی۔۔۔
وہ ایک ایک قدم اٹھاتا سلطان صاحب کی طرف آیا۔۔۔ اس نے ہینڈ شیک کے لیے سلطان صاحب کے آگے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
ہیلو۔۔۔ مائے سیلف شہروز ہمدانی
