170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 9)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

مشی بیٹا دیکھو کون آیا ہے۔۔۔ دروازہ بجنے کی آواز پر چچی نے اپنے سامنے بیٹھی کتاب پڑھتی مشی سے کہا۔۔. تو وہ ہاں میں سر ہلاتی اٹھ گئی۔

جی آپ لوگ کون۔۔۔ مشی نے دروازہ کھولا تو دو انجان چہرے نظر آئے جن میں سے ایک تو جانا پہچانا لگ رہا تھا لیکن اسے یاد نہیں آرہا تھا کے کہاں دیکھا ہے۔

میں فہد خان ہوں اور یہ میرے بابا ہیں۔۔۔ ہمیں دراصل بلال انکل سے ملنا ہے۔۔۔ فہد کے تعارف کے ساتھ کہا۔

جی میں انہیں بلاتی ہوں۔۔۔ میشا کسی انجان کو گھر میں نہیں بلا سکتی تھی اس لیئے انہیں انتظار کرنے کا کہہ کے خود اندر چلی گئی بلال صاحب کو عطلاح کرنے۔

اسنے اندر آکے بلال صاحب کو بتایا تو وہ سوچتے ہوئے باہر آئے کے آخر فہد کون ہے۔

جی کہیں میں بلال ہوں۔۔۔ بلال صاحب نے دروازے پر کھڑے ہوئے ہی کہا۔

اسلام​ و علیکم بلال صاحب میں دلاور خان ہوں اور یہ میرا بیٹا فہد خان ہے اصل میں ہمیں آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے تو کیا ہم اندر آرام سے بیٹھ کے بات کر سکتے ہیں۔۔۔ مسٹر خان نے رسان سے کہا تو بلال صاحب ہاں میں سر ہلاتے انہیں اندر لائے

آپ لوگوں کا روزہ ہے۔۔۔ ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھتے بلال صاحب پوچھا۔

جی انکل۔۔۔۔ فہد نے مسکرا کے جواب دیا۔

اچھا جی تو پھر آپ لوگ بتائیں آپ لوگوں کو مجھ سے کیا کام تھا۔۔۔ بلال صاحب نے وجہ دریافت کی۔

بلال صاحب میں ایک بزنس ٹائیکون ہوں اور یہ میرا بیٹا بھی میرے ساتھ ہی ہوتا ہے ۔۔۔ یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔۔۔ میری وائف کا انتقال ہوچکی ہے اس کے بعد اب یہی میرا سب کچھ ہے۔۔۔ اسکی خوشی میں ہی میری خوشی ہے ۔۔۔ اور اسکی خوشی آپکی بیٹی میں ہے۔۔۔ مسٹر خان نے بات کا آغاز کیا

میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔ بلال صاحب الجھے۔

میں اپنے بیٹے کا رشتہ آپکی بیٹی انمول کے لیئے لایا ہوں۔۔۔ مسٹر خان نے یہاں آنے کی وجہ بتائی۔۔۔

انمول کا رشتہ۔۔۔ بلال صاحب ایک پل کے لیئے خوش ہوگئے کے اتنے بڑے گھر سے رشتہ آیا ہے لیکن ساتھ الجھ بھی گئے کے اتنے بڑے لوگ آخر ان جیسے مڈل کلاس لوگوں میں رشتہ کیوں کرنا چاہتے ہیں۔

جی انکل میں انمول کو بہت پسند کرتا ہوں ۔۔۔ میں صرف اس سے دو بار ملا ہوں جب کے اس نے تو پہلی نظر میں ہی میرے دل میں گھر بنا لیا تھا ۔۔۔ فہد نے مسکرا کے بتایا۔

مگر بیٹا ہم۔۔۔۔

کون آیا ہے بابا۔۔۔۔ بلال صاحب ابھی کچھ کہتے کے اس سے پہلے انمول ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔

وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی بےدھڑک کہیں بھی گھس جاتی تھی۔

ارے مسٹر ہنڈسم تم۔۔۔۔ وہ فہد کو بیٹھے دیکھ خوش ہوئی۔

بیٹا آپ جانتی ہو۔۔۔ بلال صاحب نے پوچھا۔

جی بابا یہ مجھے مال میں ملے تھے اور پھر کل انہوں نے ہی مجھے یونی سے گھر چھوڑا تھا ۔۔۔ ورنا میں وہیں دھوپ میں بیٹھی بیٹھی کالا توا بن جاتی۔۔۔ انمول بلال صاحب کے ساتھ بیٹھی ہنس کے بتانے لگی۔

بہت پیاری ہے آپ کی بیٹی ۔۔۔ مسٹر خان نے تعریف کی۔

تھینک یو ویسے آپ کون ہیں۔۔۔ مسکرا کے تعریف وصول کرتے اسنے ان انجان شخص کو جاننا چاہا۔

انو یہ میرے بابا ہیں۔۔۔ فہد نے تعارف کروایا۔

او واؤ ۔۔۔ مطلب تم اپنے بابا پر گئے ہو ہممم انکل آپ تو اس ایج میں بھی کافی ہنڈسم اور ڈیشنگ لگ رہے ہیں۔۔۔ انمول نے کھلے دل سے تعریف کی تو وہ مسکرا دیئے۔

ہاہاہا شکریہ بیٹا ۔۔۔ ہلکا سا ہنس کے جواب دیا۔

بلال صاحب ہمیں آپ کی بیٹی بہت پسند ہے بس اب جلدی سے اسے ہماری بیٹی بنادیں۔۔۔ مسٹر خان اب بلال صاحب سے مخاطب ہوئے۔

انمول نے ناسمجھی سے فہد سے اشارے میں پوچھا کہ یہ چکر کیا ہے تو اسنے مسکرا کے صبر رکھنے کا کہہ دیا۔

دلاور صاحب میں ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا گھر میں مشورہ کر کے پھر ہی کوئی جواب دے سکتا ہوں۔۔۔آپ جانتے ہیں میں لڑکی کا باپ ہوں اپنی پوری تسلی کر کے ہی کوئی جواب دو گا۔۔۔۔ بلال صاحب نے مناسب الفاظ میں انتظار کا کہا۔

آپ کو جتنا ٹائم لینا ہے لے لیں مگر جواب ہمیں مثبت چایئے۔۔۔ مسٹر خان نے حتمی انداز میں کہاں تو بلال صاحب سر ہلا کے مسکرا دیئے۔

کیا کوئی مجھے بتائے گا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔۔۔ انمول بے چینی سے بولی ۔۔۔ وہ کب سے سب کی باتیں سن رہی تھی جب کچھ سمجھ نا آیا تو آخر اپنی بےچین طبیعیت کی وجہ سے پوچھ بیٹھی۔

ہاہاہا بھئی جس کی بات وہ رہی ہے ہم نے تو اسے بتایا ہی نہیں۔۔۔ مسٹر خان نے ہنس کے کہا۔

کیا بات ہو رہی ہے میری۔۔۔ اسنے آنکھیں چھوٹی کیئے مشکوک انداز میں پوچھا۔

بیٹا ہم آپ کے بابا سے آپ کو مانگنے آئے ہیں۔۔۔۔ اپنے بیٹے کے لیئے۔۔۔ مسٹر خان نے پیار سے بتایا۔

اچھا ۔۔۔۔ انمول نے آرام سے ہاں میں سر ہلایا لیکن پھر بات سمجھ آنے پر اپنی جگہ سے اچھلی۔

کیاااااااااا۔۔۔۔۔ حیرت کے مارے اسکی آنکھیں پھیلیں۔

آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے بیٹا۔۔۔ مسٹر خان نے خوشگواریت سے پوچھا۔

مطلب میرا وظیفہ کام کر گیا۔۔۔ وہ حیرت سے بڑبڑائی۔

کون سا وظیفہ ۔۔۔۔ فہد نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔

یا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چیختی ہوئی باہر بھاگ گئی۔۔۔ سب نے اسکے چہرے پر خوشی دیکھتی تھی ۔۔۔ اسکے چہرے کی چمک دیکھتے بلال صاحب سوچ میں پڑھ گئے۔۔۔

۔🌺🌺🌺

آ۔۔۔۔۔ یہاں پہ دیوار کہاں سے گئی۔۔۔۔۔ انمول بھاگتی ہوئیں میشا کو بتانے جارہی تھی کہ اسکا وظیفہ کام کر گیا ہے پر راستہ میں ہی کسی سے زور دار ٹکر ہوئی جس سے اسے دن میں تارے نظر آگئے۔

کہاں بھاگے جارہی ہو ایسے اندھا دھند ۔۔۔۔ ابتسام جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی آفس سے آیا تھا انمول کے ٹکرانے پر غصے سے بولا۔

او تو یہ دیوار آپ ہیں۔۔۔ خیر ابھی میرا موڈ بہت اچھا ہے پلیز جانے دیں۔۔۔ وہ منہ بنا کے کہتی اسکے سائڈ سے نکلنے لگی۔

مہمان کون آیا ہے۔۔۔۔ اسے جاتے دیکھ ابتسام نے ناگواری سے پوچھا۔۔۔۔ اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا کہ وہ اسے یوں اگنور کر کے جارہی ہے۔

میرے رشتے والے۔۔۔ وہ مسنوعی شرما کے کہتی تیزی سے سیڑھیاں پھلانگ گئی۔

رشتے والے۔۔۔۔ ابتسام ناسمجھی سے کہتا ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔

اسلام و علیکم ۔۔۔وہ سلام کرتا ڈائنگ روم میں پہنچا تو اسے ایک جانا پہچانا چہرا نظر آیا۔

مسٹر دلاور خان آپ یہاں۔۔۔ دلاور خان جیسے مغرور بزنس ٹائیکون کو اپنے گھر دیکھ ابتسام کو حیرت کا جھٹکا لگا۔

کیا میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔ دلاور خان نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔

جی نہیں لیکن مسٹر خان آپ کو کون نہیں جانتا ۔۔۔ بزنس انڈسٹری کا جانا مانا نام ہیں آپ۔۔۔ ابتسام مسکرا کے کہتا بلال صاحب کے ساتھ بیٹھا۔

اسکی بات اسنے دلاور صاحب چوڑے ہوگئے۔۔۔

یہ کون ہے۔۔۔ ابتسام نے فہد کی جانب اشارہ کیا۔

بیٹا یہ دلاور صاحب کا بیٹا ہے اور یہ میرا بھتیجا ابتسام ہے۔۔۔ بلال صاحب نے تعارف کروایا۔

یہ لوگ انمول کا رشتہ لے کے آئے ہیں۔۔۔۔ بلال صاحب نے کہا تو ایک بار پھر ابتسام کو جھٹکا لگا۔

کون نہیں جانتا تھا دلاور خان کو۔۔۔ ایک گھمنڈی، غصیل، مغرور بزنس مین جو اپنے سے چھوٹے لوگوں کو کچھ نہیں سمجھتا تھا اور آج وہ ان کے گھر مطلب ایک مڈل کلاس فیملی میں اپنے بیٹا کا رشتہ لے کے آئے تھے یہ کافی حیران کن بات تھی۔

کس سوچ میں پھر گئے بیٹا۔۔۔ دلاور خان نے اسے سوچ میں ڈوبا دیکھ پوچھا۔

کچھ نہیں انکل بس سوچ رہا تھا کے آپ جیسا بزنس مین آخر ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں میں رشتہ کیوں کرنا چائیں گے۔۔۔ اپنے دل میں آتا سوال ابتسام نے پوچھ ہی لیا۔

فہد انمول کو بہت پسند کرتا ہے۔۔۔ اور جو میرے بیٹے کی پسند ہوگی وہی میری پسند ہوگی۔۔۔ میرے بیٹے کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے ۔۔۔۔ دلاور صاحب نے مسکرا کے کہا۔۔۔ تو ابتسام تھوڑا پرسکون ہوگیا۔

اچھا انکل اب ہم چلتے ہیں یہ میرا اور بابا کا نمبر ہے آپ لوگ پلیز جلد ہی ہمیں مثبت جواب دیجیئے گا۔۔۔ فہد کہتا کھڑا ہوا تو ساتھ ہی سب کھڑے ہوگئے۔

جی ۔۔۔ بلال صاحب نے مسکرا کے کہا اور وہ لوگ دعا سلام کرتے واپسی کے لیئے نکل گئے جب کے لاؤنچ میں اب باری باری سب آنا شروع ہوگئے تھے

۔🌺🌺🌺

مشی مشیییییییی۔۔۔ انمول اندھی طوفان کی طرح مشی کے کمرے میں داخل ہوتی اسے بیڈ سے بازو پکڑے کے اٹھاتی گول گول گھمانے لگی۔

انو پاگل ہوگئی ہو گیا۔۔۔ میشا اس اچانک حملے پر گڑبڑا گئی۔

ہاں ہاں ہوگئی ہوں میں پاگل ۔۔۔ تم نہیں جانتی میرا کل کیا ہوا وظیفہ جو تم نے خراب کروا دیا تھا وہ کام کر گیا ہے۔۔۔۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کے وظیفہ اتنی جلدی کام کر جائے گا۔۔۔۔ انمول اسے چھوڑ بیڈ پر چڑ کے کودتے ہوئے خوش سے بتانے لگی۔

ایسا بھی کیا ہو گیا ہے جو تم اتنی باولی ہوئی جا رہی ہو۔۔۔ میشا نے بہت مشکل سے اسکا ہاتھ پکڑ کے بیڈ پہ بیٹھایا۔

مشی میں تمہیں کیا بتاؤ وہ جو مسٹر ہنڈسم تھا نا جو ہمیں مال میں ملا تھا یاد ہے نا تمہیں۔۔۔ انمول آکسائیٹ ہوئی۔

ہاں یاد ہے پر ہوا کیا ہے۔۔۔ مشی نے الجھ کے پوچھا۔

وہ ہنڈسم سا امیرزادہ میرا رشتہ لے کے آیا ہے۔۔۔ انمول نے مئشا کے سر پر بم پھوڑا۔

کیا۔۔۔۔ رشتہ لے کے آیا ہے۔۔۔ اسے ہمارے گھر کا اڈرس کیسے پتہ چلا۔۔۔ میشا ایک دم کھڑی ہوئی۔

اففف بیٹھو بتاتی ہوں۔۔۔ انو اسے واپس بیٹھاتی فہد سے ہوئی کل کی ملاقات کا بتانے لگی لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کے اگر وہ کل فہد کے ساتھ گھر نہیں بھی آتی تب بھی فہد اسکے گھر کا پتہ جانتا تھا۔

انو مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ اور میری مانو تو تم بھی اس رشتے کے لیئے انکار کر دینا ۔۔۔ سوچنے والی بات ہے وہ امیر زاده ہم جیسے لوگوں میں رشتہ کیوں کرے گا۔۔۔ اپنے برابر کے لوگوں کو چھوڑ کے۔۔۔ میشا نے فکرمندی سے کہا۔

کیا پتہ اسے مجھ سے محبت ہوگئی ہو۔۔۔ انمول بالوں کی لٹ اپنی انگلی پر لپیٹتی اترا کے بولی۔

ہاں اسکے سرکل کی ساری حسین لڑکیاں مرگئی ہوگی نا جو تم سے محبت کرے گا۔۔۔ میشا نے طنز کیا۔

دفا کرو اس بات کو مجھے تو بس اس بات کی خوشی ہے کے میرے سارے خواب پورے ہونے والے ہیں۔۔۔

یہ بڑا سا بنگلہ ہوگا۔۔۔ گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں ہوں گی۔۔۔ نوکروں کی لائن لگی ہوگی۔۔۔ اور میں مہارانی بن کے راج کروں گی پوری دنیا گھوموں گی جو دل چائے گا وہ کروں گی۔۔۔ انمول پیچھے بیڈ پر گرتی آنکھیں بند کیئے آنے والے کل کا سوچنے لگی۔۔۔

جب کے میشا کو تو فکر ہی کھائے جارہی تھی کے نا جانے اس شادی کے پیچھے ان لوگوں کا کیا مقصد ہے۔۔۔۔

۔🌺🌺🌺

مجھے آپ سب لوگوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ افطاری کے وقت بلال صاحب نے سب کو مخاطب کیا۔

جی جی بابا بولیں ہم سن رہے ہیں۔۔۔ انمول سب سے پہلے جوش سے بولی تھی۔

بلال صاحب نے مسکرا کے اسکا خوشی سے چمکتا چہرا دیکھا تھا اور پھر بس کچھ ہی پل میں انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا۔

جیسا کے میں نے آپ لوگوں کو دوپہر میں بتایا تھا کے انمول کا ایک بہت اچھا رشتہ آیا ہے اور میں اس بارے میں سوچ رہا ہوں۔۔۔ میں نے اپنے ذریعے اور ابتسام نے اپنے ذریعے لڑکے اور اسکی فیملی کی ساری معلومات نکلوائی ہے۔۔۔ کافی اچھے لوگ ہیں کافی بڑے لوگ ہیں۔۔۔ باپ تھوڑا مغرور ہے لیکن جب وہ آج گھر آئے تو مجھے ان کے انداز میں کہیں بھی مغروریت نہیں دیکھتی اس لیئے میں نے بہت سوچ سمجھ کے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان کو آج ہی ہاں کردیں گے۔۔۔ بلال صاحب نے رسان سے تفصیل سے بات سب کے گوش گزار کی۔

پہلے اپنی لاڈلی سے تو پوچھ لیں کہیں ایسا نا ہو وہ لوگ پھر آئیں اور یہ انہیں اپنی حرکتوں سے بھگا دے۔۔۔ شگفتہ بیگم نے انمول کو گھور کے کہا۔

وہ اس سرپھری کو جانتی تھیں کب کیا کر جائے اسے کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا تھا۔

ارے مما جی اب لڑکی اپنے رشتے کے بارے میں کچھ بولتی ہوئی اچھی لگے گی کیا جو آپ کو اور بابا کو ٹھیک لگے وہ کرے گا۔۔۔ انمول معصومیت سے سر جھکائے شرمانے کی ناکام کوشش کرتی دھیمے سے بولی تو وہاں موجود میشا کو چھوڑ (جو جاتی تھی کہ اسے اس رشتے سے اعتراض کیوں نہیں ہے) باقی سب حیران تھے۔

سب اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ کیا یہ وہی انمول تھی جو ہر آئے رشتے کو بھگا دیتی تھی ہر رشتے میں کوئی نا کوئی برائی نکلتی تھی اور اب کیسے شرافت سے سب کچھ اپنے ماں باپ پر چھوڑ رہی تھی۔

بیٹا آپ کو آج کیسے خیال آیا کہ ماں باپ ہیں وہ دیکھ لیں گے اس سے پہلے تو کبھی نہیں آیا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے میٹھا سا طنز کیا۔

دیر آئے درست آئے۔۔۔ اسنے سمجھداری سے سر ہلا کے کہا

ہماری بیٹی نے فیصلہ ہم پر چھوڑا ہے تو ہمارا یہی فیصلہ ہے کہ ہم انہیں ہاں کر دیں گے۔۔۔ بلال صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔

جی جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔ سب کو ہی انکا فیصلہ ٹھیک لگا تھا۔

بلکے میں تو کہتا ہوں اس سے پہلے اسکا موڈ بدلے کل ہی نکاح پڑھا کے رخصت کردیں۔۔۔ حماد نے شوخی سے چھیڑا۔

پھوپھو ابھی تو مشی پڑھ رہی ہے پھر ایک دو سال اسے گھر کے کام سیکھنے میں لگیں گے اور ابھی وہ چھوٹی بھی ہے تو آپ شادی تین سال کے بعد کرلے گا۔۔۔ انمول نے بھی اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی دوپہر میں ہی انمول کی شادی کے ساتھ میشا کی شادی کا بھی پروگرام بنایا جارہا تھا۔۔۔ اور حماد تو کب سے جلدی مچا رہا تھا اس لیئے اسنے بھی حصاب برابر کیا۔

میرا مطلب تھا تم تو موڈی ہو کب موڈ بدل جائے پتہ ہی نہیں چلتا اس لیئے بس مزاق کر رہا تھا۔۔۔ حماد فورن لائین پر آیا۔۔۔

او اچھا اچھا مزاق تھا ۔۔۔۔ تو میں بھی مزاق ہی کر رہی تھی۔۔۔ انمول نے شان بےنیازی سے کہا تو سب کی ہنسی نکل گئی جب کے حماد کی بولتی بند ہوتے دیکھ آج پہلی بار ابتسام اسکی بات پر مسکرایا تھا۔

۔🌺🌺🌺