Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 7)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 7)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
کہاں جارہی ہو اس وقت۔۔۔ وہ جلدی جلدی گھر سے باہر نکلنے ہی لگی تھی جب اسے ابتسام کی آواز آئی۔۔۔ اسنے پورا گھوم کے اپنے پیچھے دائیں باتیں ہر طرف دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
کیا آج مجھے روزہ لگ رہا ہے۔۔۔ جو اس وقت مسٹر ڈریگن کی آواز آرہی ہے۔۔ وہ تھوڑی پہ ہاتھ رکھے سوچنے لگی۔
لڑکی کچھ پوچھا ہے کہاں جارہی ہو اس وقت
۔۔۔ ابتسام اسے سوچ میں پڑے دیکھ اپنی بات دھرانے لگا۔
مسٹر ڈریگن آپ ہیں کہاں۔۔۔ وہ آنکھیں ادھر ادھر گھماتی بلند آواز میں پوچھنے لگی۔
اوپر۔۔۔ اسنے ناگواریت سے کہا۔
ہیںںںںں آپ اوپر پہنچ گئے اور کسی نے مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔ لیکن اگر آپ اوپر پہنچ گئے ہیں تو پھر مجھ سے کیسے بات کر رہے ہیں۔۔۔ کہیں میں بھی تو نہیں مر گئی۔۔۔ وہ حیرت سے کہتی آخر میں ناک کے پاس ہاتھ لاتی اپنی سانسیں چیک کرنے لگی۔
اگر تمہاری بکواس ہوگئی ہو تو مجھے بتاؤں گی کے صبح کے دس بجے تم اکیلی کہاں جارہی ہو۔۔۔ وہ سرد لہجے میں بولا
انمول نے آواز کے تعاقب میں منہ اٹھا کے اوپر دیکھا تو وہ اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔ اسنے اپنے بزنس کی شروعات کردی تھی جس کے سلسلے میں وہ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا جب اسے انمول باہر نکلتی نظر آئی تھی۔۔۔ جس سے وہ سوال کر کے اب پچھتا رہا تھا۔
او شکر ہے آپ زندہ ہیں اور میں بھی۔۔۔ اسنے شکر کا سانس لیا۔۔۔
اسکی بات سنتے ابتسام نے دانت پیسے۔۔۔ وہ کب سے سوال کر رہا تھا اور وہ جواب دینے کے بجائے اپنی ہی ہانکے جارہی تھی۔
انمول میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔۔۔ اب کی بار اسکے لہجے میں بلا کی سختی تھی۔۔۔ لیکن دوسری طرف فرق پڑتا کسے تھا۔
کیا پوچھا تھا۔۔۔ انمول نے معصومیت سے پوچھا۔
کہاں جارہی ہو اس وقت۔۔۔۔ اسنے ایک ایک لفظ پر زور دیا تو انمول اپنی مسکراہٹ لب دانتوں تلے دبا کے چھپاگئی۔
میں یونیورسٹی جارہی ہوں۔۔۔۔ کچھ اسائمنٹ جما کروانے ہیں اور کچھ نوٹس بھی لے نے ہیں۔۔۔ اسکا اور میشا کا گریجویشن کا لاسٹ ایئر تھا۔۔۔ عید کے بعد پیپر تھے جس پر دونوں کو اب پڑھنے کا ہوش آیا تھا۔
اکیلی جارہی ہو مشی ساتھ نہیں جارہی۔۔۔ اسنے تحمل سے پوچھا۔
اتنا زیادہ کام نہیں ہے بس تھوڑی دیر کا کام ہے اس لیئے میں اکیلی ہی جارہی ہوں۔۔۔ انمول نے شرافت سے جواب دیا۔۔۔ یہ الگ بات تھی اسنے بہت مشکل سے کوئی الٹا جواب دینے سے خود کو باز رکھا تھا۔۔۔۔ ورنا دل تو چاہتا تھا کے کہ دے جنگ پہ نہیں جارہی جو سب کو ساتھ لے کے جائے۔
اکیلی جاؤ گی۔۔۔ ابتسام نے پوچھا۔
نہیں دائم کے ساتھ جاؤ گی۔۔۔۔ افففف میں تو آپ کے سوالوں کے چکر میں بھول ہی گئی دائم باہر میرا انتظار کر رہا ہے۔۔۔ اسے جواب دیتے یاد آنے پر کے دائم تو باہر ہے اسنے زور سے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
اوکے بائے مسٹر ڈریگن۔۔۔ وہ بائے کرتی جلدی سے باہر بھاگ گئی۔۔۔۔ پیچھے ابتسام نے غصے سے منٹھیاں بھیجیں تھی اس لقب پہ۔
۔![]()
![]()
![]()
اتنی دیر کیوں لگادی۔۔۔ وہ گاڑی میں آکے بیٹھی تو دائم نے فورن گاڑی اسٹاٹ کی۔۔۔ اسے آفس سے دیر ہورہی تھی اور اوپر سے انمول میڈم اتنی دیر سے آئی تھیں۔
مسٹر ڈریگن نے دیکھ لیا تھا تو انوسٹیگیشن کرنے لگ گئے تھے۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی بتانے لگی۔۔۔ تو اسنے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتے ڈرائورنگ پر فوکس کیا۔
اچھا لینے کب آنا ہے۔۔۔۔ یونی کے باہر گاڑی رکتے ہی انمول اترنے لگی تو اسے دیکھ دائم نے پوچھا۔
نہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے میں خودہی چلی جاؤں گی۔۔۔ اسنے فورن انکار کیا۔
اکیلے کیسے جاؤ گی۔۔۔ اسنے فکرمندی سے کہا۔
پہلی بار ہے۔۔۔ اسنے آنکھیں چھوٹی کیئے گھورا
نہیں۔۔۔ دائم نے دانتوں کی نمائش کی۔
تو پھر۔۔۔ چلی آجاؤں گی میں اکیلی تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اسنے چڑ کے کہا۔
مجھے تمہاری فکر نہیں ہے مجھے اس کی فکر ہے جس کے ساتھ تم گھر جاؤ گی۔۔۔ ایسا نا ہو راستے میں ہی اسے پاگل کردو اور وہ تمہیں گھر چھوڑنے کی بجائے پاگل خانے چھوڑ آئے اور خود بھی وہیں اڈمٹ ہو جائے۔۔۔۔ دائم نے سیریس انداز میں اسے زچ کیا۔
اور وہاں جاکے سب سے پہلے تمہیں ہی بلاؤں گی۔۔۔ آخر تم میرے بیسٹ فرینڈ ہو اور ایک پاگل کا بیسٹ فرینڈ پاگل ہی ہو سکتا ہے۔۔۔ انمول دل جلے انداز میں کہتی گاڑی سے نکل کے یونی کی جانب بڑھ گئی۔
ہمممم ٹیڑھی ہے۔۔۔ پر میری ہے۔۔۔ وہ مسکرا کے سر جھٹکتا گاڑی بڑھا لے گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
انمول یونی کا کام ختم کرتی باہر نکل کے کوئی رکشہ کیا ٹکسی دیکھنے لگی لیکن دور دور تک کسی رکشے یا ٹکسی کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔
وہ فٹ پاتھ پر پیدل چلتی یونی سے تھوڑا پہچھے نکل آئی تھی لیکن اسے اب تک کوئی رکشہ یا ٹکسی نہیں ملی تھی۔۔۔ سورج سر پہ تھا۔۔۔ اسکا روزہ بھی تھا جس کی وجہ سے تھک کے وہ وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔
یااللہ آج ہی کوئی رکشہ ٹیکسی نہیں مل رہی ورنا تو یہاں سے کتنی گزرتی تھیں اور آج ایک بھی نہیں ہے۔۔۔ وہ گرمی سے بےحال ہوتی افسوس سے بولی
دائم کو ہی بلا لیتی ہوں۔۔۔ بیچارہ پوچھ بھی رہا تھا کہ لینے کب آؤ میں بھی نا پاگل تھی جو نا کر دیا۔۔۔ ورنہ اب تک کی تو گھر بھی پہنچ جاتی اور مزے سے ائے سی اون کر کے سو جاتی۔۔۔۔ وہ اپنے ہی سر پر ہلکی سی چپت لگاتی بیگ سے فون نکالنے لگی کے اتنی دیر میں ایک چم چماتی بی ایم ڈبلیو اسکے سامنے آکے رکی۔
چونکہ وہ فٹ پاتھ پہ بیٹھی تھی اس لیئے دیکھ نا سکی کے گاڑی میں کون بیٹھا ہے۔۔۔ جب گاڑی کا دروازہ گھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی۔
اسنے تھوڑی سی گردن دائیں جانب آڑہی کر کے دیکھا کے شاید کوئی دیکھ جائے کے کون نکلا ہے گاڑی سے لیکن دیکھ نا سکی۔
جب کچھ دیر بعد اسے اپنے سامنے مال والا لڑکا کھڑا نظر آیا۔۔۔
وہ خوشگوار حیرت لیئے کھڑی ہوئی
ارے تم یہاں۔۔۔۔ یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔ وہ خوشی سے پوچھنے لگی۔
فہد تو اسکے خوشی سے چمکتے چہرے میں ہی کھو گیا تھا۔۔۔ اسکے باریک مسکراتے لب فہد کو چند منٹ کے لیئے مسمرائز کر گئے تھے۔
کہاں کھو گئے مسٹر ہنڈسم۔۔۔۔ انمول نے اسکے چہرے کے سامنے چٹکی بجائی۔۔ تو وہ ہوش میں آیا۔
کہیں نہیں۔۔۔ تم بتاؤ یاد ہوں میں تمہیں ابھی تک۔۔۔ مجھے تو لگا بھول گئی ہونگی۔۔۔ وہ بلیک پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے مسکرا کے سر تا پاؤں اسکا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔ جو گرے کرتی پاجامہ میں بالوں کی پونی کیئے جس سے چند لٹیں چہرے پر جھول رہی تھیں۔۔۔ دوپٹہ سر پر اوڑہے کچھ نوٹس ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی۔۔۔ اس وقت وہ جتنی معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی فہد کا دل کر رہا تھا وہ ایسے ہی اسکے سامنے کھڑی رہے۔۔۔۔ یہ وقت کبھی نا گزرے۔
تم جیسے ہیرو کو بھی کوئی بھول سکتا ہے بھلا۔۔۔ اور میں تو پھر انمول ہوں جسے ایک بار دیکھ لوں تو قیامت تک نہیں بھولتی۔۔۔ وہ گردن اکڑا کے فخر سے بولی۔
تم یہاں فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھی تھیں۔۔۔ فہد نے اسکے بارے میں سب پتہ کروا لیا تھا اور اب اسکی یونی ہی آرہا تھا لیکن وہ یونی سے تھوڑا پہلے ہی اسے فٹ پاتھ پر بیٹھی دیکھ گئی تھی تو وہ وہیں رک گیا تھا
میں نا بیک لوٹ کے آئی ہوں۔۔۔ پولیس میرے پیچھے ہے ان سے بھاگ بھاگ کے تھک کے یہاں بیٹھ گئی تھی تھوڑا سانس لینے کے لیئے۔۔۔ انمول نے سیریس انداز میں کہا۔۔۔۔ تو اسنے چونک کے پاکسز سے ہاتھ نکالے۔
تم مزاق کر رہی ہونا۔۔۔ اسنے ہونقوں کی طرح اسے دیکھا
ظاہر ہے مزاق ہی کر رہی ہوں اب مجھ جیسی شریف لڑکی یہ کام کرتی اچھی لگے گی کیا۔۔۔ اسنے معصومیت سے کہا۔۔۔ اور ایک بار پھر فہد اسکی معصومیت پھر فدا ہوگیا۔
آؤ میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں جہاں بھی تمہیں جانا ہے۔۔۔ فہد نے دل سے آفر کی۔
ہائے اللہ تمہارا بھلا کرے۔۔۔ میں کب سے یہاں بیٹھی دھوپ میں سڑ رہی تھی کسی رکشہ ٹیکسی کے انتظار میں تمہارا شکریہ جو مجھ حسین و انجان لڑکی کو لفٹ دے رہے ہو۔۔۔ اللہ تمہاری من کی مراد پوری کرے تمہیں چاند سی دلہن سے۔۔۔ انمول فل ڈرامائی انداز میں دوپٹہ پھیلائے اسے دعائیں دے رہی تھی جب کے وہ اسکے انداز پر کھل کے مسکرا رہا تھا۔
چلو آجاؤ۔۔۔ فہد نے اسکے سائڈ کا دروازہ کھولا۔
ہممم لیکن ایک منٹ۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کے تم مجھے اغو،اہ کرنے کا سوچ رہے ہو۔۔۔ اسنے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھا۔
میں بھلا ایسا کیوں سوچوں گا۔۔۔ اسنے ناسمجھی سے پوچھا۔
ایک جوان اور حسین لڑکی دیکھ کسی کی بھی نیت خراب ہو سکتی ہے۔۔۔ انمول نے گھور کے کہا۔
توبہ لڑکی میں تمہیں ایسا لگتا ہوں۔۔۔ فہد نے فورن کانوں کو ہاتھ لگایا۔
لگتے تو نہیں ہوں۔۔۔لیکن میں نے ناول میں پڑھا ہے جو لڑکے ہیرو لگتے ہیں وہیں خوبصورت لڑکی یانی ہیروئن کو کڈنیپ کر لیتے ہیں اور پھر ان سے زبردستی نکاح بھی کرتے ہیں۔۔۔۔ انمول نے شان بےنیازی سے کہا
فکر نہیں کرو میں ان ہیرو میں سے ہوں جو ہیروئن کے گھر باقائدہ رشتہ بھیجے گا۔۔۔ وہ دلکشی سے مسکراتا اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
گڈ یہ ہوئی نا بات۔۔۔ لیکن اگر زندگی میں ایڈوینچر چاہتے ہو تو ہیروئن کو اغوا کر لینا مزہ آئے گا۔۔۔ گاڈی میں بیٹھتے اسنے رازداری سے کہاں تو فہد مسکرا کے سر جھٹکتا دروازہ بند کرتا ڈرائیونگ سیٹ پر آتا گاڑی بڑھا گیا۔
کہاں جانا ہے۔۔۔ فہد نے ڈرائیو کرتے ایک نظر اسے دیکھ پوچھا جو گاڑی میں لگے ساؤنڈ سسٹم سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی
گھر۔۔۔ اسنے ایک لفظی جواب دیا۔
گھر کا پتہ۔۔۔۔فہد اسکے گھر کا پتہ جانتا تھا وہ پہلے ہی اسکی مکمل ڈیٹیل نکلوا چکا تھا لیکن پھر بھی انجان بنتے راستہ پوچھ رہا تھا۔
او ہاں میں تو بھول گئی کے گھر کا پتہ بھی بتانا ہے۔۔۔ انمول ماتھے پر ہاتھ مارتی گھر کا اڈرس بتانے لگی۔
کیا ہم بیسٹ فرینڈز بن سکتے ہیں۔۔۔ اڈرس سنے کے بعد فہد نے پوچھا۔
ہممم بن تو سکتے ہیں لیکن میرا بیسٹ فرینڈ دائم ہے تو اس لیئے ہم صرف فرینڈز بن سکتے ہیں۔۔۔ انمول نے کہتے اپنا ہاتھ تالی کے اسٹائل میں آگے کیا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
تالی مار کے میرے فرینڈ بن جاؤ۔۔۔۔ یہ میرا فرینڈ شیپ کرنے کا اسٹائل ہے۔۔۔ انمول نے مسکرا کے کہا۔
فہد نے اسکے انوکھے اسٹائل پر مسکراتے ہوئے تالی ماری تو وہ کھلکھلائی۔۔۔ اسکی کھلکھلاہٹ پر فہد کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔
کیا تمہاری کوئی منگنی ونگنی ہوئی ہے ۔۔۔ فہد نے عام سے لہجے میں پوچھا جب کے نا کے جواب کا شدت سے انتظار تھا۔
کیا ہے نا جو رشتہ آتا ہے وہ مجھے پسند نہیں آتا اس لیئے میں انہیں بھگا دیتی ہوں اور جیسے رشتے مجھے پسند ہیں وہ آتے نہیں ہے اس لیئے میں ابھی تک سنگل ہوں۔۔۔ اسنے تفصیل سے بتایا۔
سنگل لفظ سنتے فہد کے دل پہ تو جیسے ٹھنڈی پھوار پڑھ گئی تھی۔۔۔ اسنے چند پل میں ہی ایک فیصلہ کرلیا تھا ۔۔۔
اوکے خدا حافظ ۔۔۔ انمول کے گھر کے باہر گاڑی رکی تو وہ اترنے لگی۔
اچھا سنو۔۔۔ فہد نے پکاہ تو اسنے رک کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
میں اپنی دوست کی خیر خیریت کیسے پوچھوں گا۔۔۔۔نمبر تو دے دو۔۔۔ فہد نے مسکرا کے کہا۔
ہممم لاؤ فون دو اپنا۔۔۔ انمول کے کہتے ہی اسنے فورن اپنا فون انمول کے حوالے کیا۔۔۔
انمول اپنا نمبر اسکے فون میں سیو کرتی بائے کہتی اندر بڑھ گئی۔۔۔ دروازے سے اندر جانے تک فہد نے اسے دیکھا اور جب وہ اندر چلی گئی تو اسنے نمبر کی طرف دھیان دیا جس پر انو لگا ہوا تھا۔۔۔
انو۔۔۔۔ وہ بہت محبت سے نام دھراتا فون جیب میں ڈالے وہاں سے نکل گیا۔۔۔ اسنے سوچ لیا تھا اب جو بھی کرنا ہے جلدی کرنا ہے۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
