170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 12)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

سنو بیچ میں فہد بھی لگ دینا۔۔۔ انو نے مسکرا کے مہندی والی سے کہا۔

کل نکاح کا دن تھا۔۔۔ اور آج سب مہندی لگوا رہے تھے۔۔۔ اور سب سے آخر میں دلہن کو مہندی لگ رہی تھی کیونکہ اسکا ماننا تھا کہ آخر میں لگے گی تو وہ دیر تک دھوئے گی تو پھر رنگ زیادہ اچھا آئے گا۔

انمول کی ہدایت پر مہندی والی نے ہتیلی کے بیچ میں فہد کا نام لگ دیا تھا۔۔۔

کافی دیر تو انمول بیٹھی رہی لیکن اب اسکی بےچین ہڈی تھک گئی تھی ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے۔۔۔

تھوڑا جلدی جلدی لگاؤ نا میں تھک گئی ہوں۔۔۔ انمول کے منہ پہ فل بارہ بجے ہوئے تھے۔

آپ ہلیں گی نہیں تو میں جلدی جلدی لگاؤں گی نا ۔۔۔ مہندی والی اسے کتنی بار ہلنے سے منا کر چکی تھی پر انمول کا ہلنا بند نہیں ہو رہا تھا۔

انو کیوں اتنا ہل رہی ہو۔۔۔ میشا کمرے میں داخل ہوتی مہندی والی کی بات سن چکی تھی

اففف ہو بھئی کیا سانس بھی نہیں لوں اب۔۔۔ اسنے چڑھ کے کہا۔

تو اتنی زور زور سے سانس لینے کو کس نے بولا ہے آہستہ آہستہ لو۔۔۔ میشا نے پیار سے کہا۔

تم سیکھادو آہستہ آہستہ کیسے لیتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ مجھے تو مجھ آتا۔۔۔ وہ منہ بن آکے بولی۔

پلیز آپ ان سے باتیں نہیں کریں یہ ویسے ہی اتنا ہل رہی ہیں اور آپ کے بات کرنے سے تو یہ اور بھی زیادہ ہل رہی ہیں۔۔۔۔ مہندی والی تنگ آگئی تھی اس لیئے تھوڑا منہ بنا کے بولی۔

اچھا ٹھیک ہے میں جارہی ہوں۔۔۔ مشی خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔۔۔ وہ ایک بار پھر انو کی جلدی جلدی کہ رٹ شروع ہوگئی تھی۔

۔🌺🌺🌺

انو کہاں جارہی ہو۔۔۔ انو کے ہاتھ پاؤں میں مہندی لگ چکی تھی اور اب وہ دوپٹہ اوڑھے باہر جا رہی تھی جب اسے باہر جاتے دیکھ چچی نے پوچھا۔

دائم کی طرف جارہی ہوں چچی۔۔۔۔ اسنے عطلاح دی۔

کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں بھی جانے کی۔۔۔ تم دلہن ہو کل نکاح ہے تمہارا ایسے منہ اٹھا کے باہر جاتی اچھی لگو گی۔۔۔ شگفتہ بیگم نے لاؤنچ میں آتے سختی سے منا کیا۔

ماما بس تھوڑی دیر میں آجاؤ گی۔۔۔ پلیز جانے دیں نا۔۔۔ مجھے دائم سے بہت ضروری کام ہے۔۔۔ انکا سخت انداز دیکھ اسنے التجاہ کی۔

انو منا کردیا تو کر دیا بس۔۔۔ تم گھر سے باہر ایک قدم بھی نہیں نکالو گی۔۔۔ جو بھی ضروری کام ہے فون پہ کرلو۔۔۔ انہوں نے گھور کے کہا۔

مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا۔۔۔ اسنے بےبسی سے کہا۔۔۔ وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا اس لیئے تو وہ جارہی تھی۔

مسرت کو فون کر لو وہ بات کروا دے گی۔۔۔ انہوں نے اسے پریشان دیکھ حل بتایا۔

دو گھر چھوڑ کے تو ہے میں بس یوں جاؤں گی اور یوں آ جاؤں گی۔۔۔ اسنے ایک بار پھر انہیں منانے کی کوشش کی۔

انو۔۔۔ انہیں نے تنبیہ کیا۔

اچھا ٹھیک ہے نہیں جارہی۔۔۔ وہ چڑھ کے کہتی کمرے میں بھاگ گئی۔

کمرے میں آتے اسنے مسرت بیگم کو فون ملا کے دائم کا پوچھا اور آگے سے جو انہیں نے بتایا وہ اسکا دماغ گھمانے کے لیئے کافی تھا۔

آنٹی آپ ابھی دائم کو فون دیں۔۔۔ میں ابھی خبر لیتی ہوں اسکی۔۔۔ اپنی بیسٹ فرینڈ کی شادی سے زیادہ اس کے لیئے اپنی میٹنگ اہم ہے۔۔۔ انمول غصے سے بولی۔

ہیلو۔۔۔ مسرت بیگم کے فون دے کے کمرے سے جاتے ہی دائم نے کہا

سمجھتے کیا ہو تم خود کو ۔۔۔ تمہارے لیئے مجھ سے زیادہ اہم تمہاری میٹنگ ہوگئی ہے جو تم کل دبئی جارہے ہو میٹنگ اٹینڈ کرنے۔۔۔ تمہیں شرم نہیں آتی۔۔ اپنی بیسٹ فرینڈ کی شادی کو چھوڑ تم میٹنگ میں جارہے ہو ۔۔۔۔ اور جب میں تمہیں کہہ کے بھی آئیں تھی کہ تم نے جلدی آکے سارا کام دیکھنا ہے پھر بھی تم جارہے ہو۔۔۔ تم نے سوچا بھی کیسے جانے کا۔۔۔۔ انمول تو اسکی ہیلو سن کے غصے سے پھٹ پڑی تھی۔

بس یار ایک بہت ضروری میٹنگ ہے اس لیئے جانا پڑے گا۔۔۔۔ اسکی اتنی لمبی بات پر اسنے صرف چند لفظی جواب دیا ۔

مجھ سے بھی زیادہ۔۔۔ انمول نے معصومیت سے بھرپور آواز میں بلیک میل کیا۔

نہیں!!! تم سے ضروری کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ وہ ہلکا ساہ مسکرایا۔۔۔.

وہ اسے کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا اس لیئے خاموشی سے جارہا تھا۔۔۔ اس کی وجہ سے اسنے اپنا فون بھی بند کردیا تھا کہ اگر ایک بار بھی انمول اسے رکنے کا کہتی تو وہ منا نہیں کرپاتا۔۔۔۔ اور اب بھی ایسا ہی ہوا تھا وہ چاہ کے بھی اسے انکار نہیں کر سکا تھا۔

تو پھر ٹھیک ہے اب کل ٹھیک تین بجے تم گھر آنا اور مجھے پالر لے کے جانا اور واپس لے کے آنے کی زمیداری بھی تمہاری ہے۔۔۔ اور اگر تم نے میرا مان نہیں رکھا تو مجھ سے زندگی بھر بات نہیں کرنا۔۔۔ اور یہ انمول نے اسکے دل پہ ظالم ڈھا کے فون بند کر دیا تھا۔۔۔

کتنی ہی دیر دائم فون کو خالی خالی نظروں سے دیکھتا رکھا۔۔۔ وہ تو ان سب چیزوں سے بچ کے بھاگ جانا چاہتا تھا۔۔۔ وہ کبھی کسی پہ اپنی حالت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اسنے خاموش محبت کی تھی اور وہ اس خاموش محبت کو ہمیشہ اپنے دل کے کسی کونے میں سب سے چھپا کے رکھنے والا تھا۔

۔🌺🌺🌺

اگلا سورج اپنے ساتھ کافی مصروفیت بھرا دن لایا تھا۔۔۔ ہر کوئی کام میں مصروف تھا۔۔۔ لیکن دلہن میڈم مزے سے سورہی تھیں۔

انو اٹھو بیٹا تین بج گئے پالر نہیں جانا کیا۔۔۔ شگفتہ بیگم کمرے میں داخل ہوتی اسے جھنجھوڑ کے اٹھانے لکھیں۔

ہیںںںںں تین بج گئے۔۔۔. ماما آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں اٹھایا۔۔۔ اور یہ الارم کیوں نہیں بجا۔۔۔ میں نے تو دو بجے کا الارم لگایا تھا۔۔۔

انمول ہڑبڑا کے اٹھتی فون میں الارم چیک کرنے لگی جب کے شگفتہ بیگم اسکی چیزیں نکال رہی تھیں۔

لگتا ہے میرے فون کی گھڑی خراب ہوگئی ہے۔۔. تبھی ابھی تک ایک بجا رہی ہے۔۔۔ فون میں ٹائم دیکھ جمائی روک کے بولی۔

گھڑی بلکل صحیح ہے۔۔. ایک ہی بج رہا ہے۔۔۔ شگفتہ بیگم مزے سے مصروف انداز میں بولیں

تو پھر آپ نے اتنی جلدی کیوں اٹھایا۔۔۔ اسنے صدمے سے پوچھا۔

کیونکہ میں اپنی بیٹی کو جانتی ہوں۔۔۔ دو کھنٹے پہلے اٹھاؤ گی تبھی تم وقت سے پالر پہنچوں گی۔۔۔ سمجھیں۔۔ اب یوں آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھو نہیں۔۔۔ جلدی سے اٹھو نماز پڑھو اور پھر وقت سے پالر جاؤ ۔۔۔ یاد رہے دیر نہیں کرنی عصر میں نکاح ہے۔۔۔

جلدی کرو سست لڑکی۔۔۔ اسکی ساری چیزیں بیڈ پہ اسکے سامنے رکھتی اسے صدمے میں چھوڑ باہر چلیں گئیں۔

میں اپنے بچوں پہ ایسا ظلم نہیں کروں گی۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی اٹھ کے واشروم میں گھس گئی۔

۔ 🌺🌺🌺

چلو جلدی کرو۔۔۔ میشا اپنے کمرے سے نکلی تو اسی وقت چادر اوڑھے انمول بھی کمرے سے نکلی۔۔۔

باہر آجاؤ۔۔۔ ابتسام دونوں کو نیچے آتا دیکھ ان سے کہتا باہر جانے لگا جب انمول نے روک دیا۔

ہم دائم کے ساتھ جارہے ہیں وہ باہر آگیا ہے۔۔۔ ہم اسی کے ساتھ جائیں گے اور اسکی کے ساتھ واپس آئیں گے۔۔۔ انمول نے دوٹوک کہا

دائم کو کیوں پریشان کر رہی ہو میں چھوڑ اور لے آؤں گا۔۔۔ ابتسام نے عام سے انداز میں کہا۔

دائم میرا دوست ہے مسٹر ڈریگن۔۔۔ اور جب دائم کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تو آپ کو بھی نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔ انمول نے بھی اسی کے انداز میں کہاں تھا لیکن مسٹر ڈریگن سن کے ابتسام کا دماغ گھوما تھا۔

جس کے ساتھ مرضی جاؤ۔۔۔ مجھے کیا میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ۔۔۔ وہ غصے سے کہتا باہر نکل گیا۔۔

ہا۔۔۔۔۔مشی دیکھ رہی ہو اپنے بھائی کو کیسے مجھے باتیں سنا کے گئے ہیں۔۔۔ انمول منہ کھولے میشا کو گھورنے لگی۔

صحیح سنا کے گئے ہیں ۔۔۔ چلو اب جلدی دیر ہورہی ہے۔۔۔۔ انمول کی گھوریوں کی پروا کیئے بغیر میشا اسے گھسیٹتی ہوئی باہر لے گئی۔

۔🌺🌺🌺

میشا اور انمول بلکل تیار پالر میں بیٹھی دائم کے آنے کا انتظار کررہی تھیں۔۔۔ اور کچھ دیر بعد دائم آ بھی گیا تھا۔

وہ ڈائیونگ سیٹ پہ بیٹا ان دونوں کے آنے کا انتظار رہا تھا جب وہ سفید فراک کے ساتھ سرخ دوپٹہ اوڑھے کسی اور کے نام کا ہار سنگھار کئے میشا کا ہاتھ پکڑے پالر سے نکلی۔

وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ دائم کو نظر ہٹانا ہی مشکل لگ رہا تھا لیکن اسنے اپنے دل پہ قابو پاتے نظروں کا رخ بدلا تھا۔

میشا انمول کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتی خود پیچھے بیٹھ گئی۔

اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔ دائم نے اسے دیکھے بغیر گاڑی اسٹاٹ کرتے کہا۔

پتہ ہے۔۔۔ اسنے اترا کے کہا تو دائم پھیکا سا مسکرا دیا۔

سارے راستے میشا تو خاموشی سے باہر دیکھتی رہی جب کے دائم بار بار چور نظروں سے انمول کو اپنی سیلفیاں لیتے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسکا دل کر رہا تھا کہ سفر کبھی ختم نا ہو۔۔۔ چاہے وہ ختم ہو جائے لیکن سفر ختم نا ہو۔۔۔ لیکن سفر کو ختم ہونا تھا اور وہ ہوگیا۔

دائم نے پھولوں سے سجے گھر کے باہر گاڑی روکی تو میشا اور انمول اندر بڑھ گئیں جب کے دائم انمول کی چھوڑی ہوئی جگہ دیکھتا رہ گیا۔

۔ 🌺🌺🌺

نکاح کی ساری تیاریاں مکمل تھیں ۔۔۔نکاح کی ساری ارینجمنٹ لان میں گئی تھی۔۔۔ زیادہ مہمانوں کو بلایا نہیں تھا بس چند ایک خاص لوگ تھے جو آچکے تھے اور اب بس انتظار تھا لڑکے والوں کا۔

تایا ابو آپ کال کر کے پوچھیں کہاں رہ گئے ہیں وہ لوگ۔۔۔ اب تو کاگی دیر ہوگئی ہے۔۔۔ ابتسام بلال صاحب کے پاس آکے بولا تو وہ ہاں میں سر ہلاتے مسٹر خان کو کال کرنے لگے۔۔۔

بیٹا وہ فون نہیں اٹھا رہے۔۔۔ میں فہد کو فون کرتا ہوں۔۔۔ بلال صاحب نے فہد کو فون کیا لیکن اسکا نمبر بھی بند جا رہا تھا۔

فہد کا فون بھی بند جارہا ہے۔۔۔ انہوں نے پریشانی سے کہا

شاید مصروف ہوں گے ۔۔۔ اس لیئے نہیں اٹھا رہے ہوں گے آپ فکر نہیں کریں اٹھا لیں گے ۔۔۔ میں جب تک مہمانوں کو دیکھتا ہوں۔۔۔ ابتسام انہیں تسلی دیتا مہمانوں کی طرف آگیا تھا۔

وہ انہیں تو تسلی دے آیا تھا لیکن خود ابھی بھی فکر مند تھا۔۔۔ اسنے جلدی سے اپنے کسی دوست کو فون کیا اور اسے فہد کے گھر جا کے وہاں کی صورتے حال سے آگاہ کرنے کا کہا۔

ابتسام بیٹا کیا ہوا ہے پریشان لگ رہے ہو۔۔۔ اسکی ماں کب سے اسے بےچینی سے ادھر سے ادھر ٹہلتے دیکھ رہی تھیں۔۔۔ پر جب رہا نہیں گیا تو اسکے پاس اگئیں۔

امی تایا ابو اور میں نے فہد اور اسکے والد کو فون ملایا تھا پر ایک فون نہیں اٹھا رہا تو دوسرے کا فون بند جارہا ہے۔۔۔ مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا امی۔۔۔ ابتسام نے ان سے بغیر کچھ چھپائے سچ بتایا۔

پریشان نہیں ہو بیٹا۔۔۔ سب ٹھیک ہوگا۔۔۔ انہوں نے اسے تسلی دی۔

ایک منٹ امی۔۔۔ کال آتے دیکھ اسنے فورن کال ریسیو کی۔۔۔ لیکن​ آگے سے ملنے والی خبر نے اسکے سر پر پہاڑ گرا دیا تھا۔

کیا ہوا بیٹا۔۔۔اسے ایک دم چپ اور چہرے پر پریشانی دیکھ انہوں نے فکرمندی سے پوچھا۔

امی وہ۔۔۔ میں نے اپنے ایک دوست کو بھیجا تھا فہد کے گھر دیکھنے کے وہاں کیا ہو رہا ہے۔۔۔ اسنے بتایا ہے کہ اسنے گارڈ سے پوچھا کہ فہد اندر ہے یا نہیں تو وہ کہتا ہے کہ وہ لوگ صبح ہی کہیں باہر چلے گئے ہیں۔۔۔ ابتسام نے پریشانی سے ماتھا مسلتے بتایا۔۔۔ وہ کیسے نا پریشان ہوتا اسکے تایا ابو کی عزت کا سوال تھا۔۔

یہ تم کیا کہہ رہے ہو ابتسام ۔۔۔ شاید اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی تم پھر سے فہد کو فون کرو۔۔۔ نسرین بیگم بھی فکرمند ہوئیں۔

امی میرے دوست نے انکے آفس جاکے بھی پتہ کیا ہے وہاں سے بھی ان کا کچھ پتہ نہیں چلا۔۔۔ ابتسام کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اب کرے تو کیا کرے۔

اب کیا ہوگا اس معصوم بچی کا۔۔۔۔ ابتسام تم ایک کام کرو بھائی اور بھابھی کو میرے کمرے میں لے کے آؤ جلدی۔۔۔ نسرین بیگم کچھ سوچتی ہوئی اندر بڑھ گئی پیچھے ابتسام انکے حکم کی تعمیل کرتا بلال صاحب کی جانب بڑھ گیا۔

تھوڑی دیر میں وہ لوگ نسرین بیگم کے کمرے میں موجود تھے۔۔۔ ابتسام ساری بات بلال صاحب کو بتا چکا تھا جو اب سر پکڑے بیٹھے تھے۔۔۔ جب کے شگفتہ بیگم رو رہیں تھیں۔۔ انہیں اپنی بیٹی کی فکر کھائے جارہی تھی۔

بھابھی آپ روئیں نہیں۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ نسرین بیگم نے تسلی دی۔

کیسے ٹھیک ہو کا نسرین۔۔۔ لوگ میری بیٹی پہ انگلیاں اٹھائیں۔۔۔ اسکا قصور نا ہونے کے باوجود بھی اسکی ذات پہ انگلیاں اٹھیں گی۔۔۔ وہ قرب سے کہتی رودیں۔

بھائی بھابھی میرے پاس اسکا ایک حل ہے اگر آپ لوگ بڑا نا مانے تو میں کہو۔۔۔ نسرین بیگم نے جھجھکتے ہوئے کہا۔

ہاں نسرین بولو۔۔۔ شگفتہ بیگم نے فورن کہا۔

بھائی بھابھی آپ انو کو میرے ابتسام کی دلہن بنا دیں۔۔۔ یقین کریں میری تو کب سے خواہش تھی اسے اپنی بہو بنانے کی لیکن فہد کے رشتے پہ وہ اتنی خوش تھی کہ میں کچھ بول ہی نہیں پائی۔۔۔ ورنا مجھے یقین تھا اگر جب بھی میں اسے آپ سے مانگتی تو آپ مجھے انکار نہیں رکتے۔۔۔لیکن انمول کی خوشی نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔۔۔ نسرین بیگم کی بات سنتے جہاں بلال صاحب اور شگفتہ بیگم نے تشکر سے انہیں دیکھا تھا وہیں ابتسام چونکا تھا۔

مگر نسرین ابتسام سے تو پوچھ لو پہلے۔۔۔ بلال صاحب نے ابتسام کی طرف دیکھا جو بےتاثر چہرے لیئے کھڑا تھا۔

مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے تایا ابو۔۔۔ ابتسام اپنے باپ جیسے تایا کو اس مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا لیکن وہ الگ بات تھی کہ اگر کسی دوسرے وقت میں اسے انمول سے شادی کرنے کا کہتے تو وہ صاف انکار کر دیتا۔

شکریہ بیٹا۔۔۔ بلال صاحب نے فورن کھڑے ہوکے اسے گلے لگایا۔

شکریہ کی ضرورت نہیں ہے تایا ابو ۔۔۔ آپ میرے بابا کی جگہ ہیں آپ بس مجھے حکم کیا کریں۔۔۔۔ چلیں اب باہر آجائیں نکاح شروع کرتے ہیں دیر ہو رہی ہے لوگ باتیں کر رہے ہوں گے ۔۔۔ ابتسام مسکرا کے کہتا سب کو لیئے باہر نکل گیا۔

۔🌺🌺🌺

انمول گھونگھٹ کرلو مولوی صاحب آرہے ہیں۔۔۔ میشا باہر سے سب سن کے آگئی تھیں مگر انمول کو بتائے بغیر اسے گھونگھٹ کرنے کا کہنے لگی۔

سب کو ہی پتہ چل گیا تھا کہ انمول کا نکاح ابتسام سے ہو رہا ہے۔۔۔ آخری وقت پہ دلہا بدل جانے پہ لوگوں میں چہ میگوئیاں تو ہو رہی تھیں لیکن کسی نے زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔۔۔ دائم کو جب پتہ چلا تو ایک بار پھر سے دیر ہوگئی تھی۔۔۔ اب کے اسکا نکاح ابتسام سے طے ہو گیا تھا۔۔۔ وہ کہنا تو چاہتا تھا کے نکاح اس سے کردیں لیکن پہلے ہی مہمانوں میں چہ میگوئیاں ہورہیں تھی وہ اور ان کے لیئے پریشانی کی وجہ نہیں بن سکتا تھا۔

کیا لڑکے والے آگئے۔۔۔ انمول گھونگھٹ لیتی پوچھنے لگی۔

تمہارا دلہا بھاگ گیا ہے اس لیئے اب تمہارا نکاح۔۔۔۔۔۔

کیااااااااا۔۔۔ ابھی میشا اپنی بات مکمل کرتی کہ انمول ایک دم چیخ کہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

چپ ہو جاؤ اور گونگھٹ کرو۔۔۔ اسنے فورن اسے بیٹھا کے گھونگھٹ کیا۔

مشی میری زندگی تو واقعی ناول کی ہیروئنوں کی طرح ہوتی جارہی ہے۔۔۔ انمول نے آہستہ آواز میں بےیقینی سے کہا۔

ششششششش۔۔۔ میشا نے چپ کروایا جب کمرے میں بلال صاحب مولوی صاحب کو لیئے اندر داخل ہوئے۔

بیٹا مجھے امید ہے ابتسام تمہیں بہت خوش رکھے گا۔۔۔ بلال صاحب نے نم آواز میں اسکے سر پر ہاتھ رکھتے یقین سے کہا

انو نے بےیقینی سے گونگھٹ سے ہی اپنے بابا کو دیکھا جن کی انکھوں میں نمی تھی۔۔۔ وہ ابتسام سے شادی تو مر کے بھی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اپنے بابا کی آنکھوں میں مان دیکھ اور آنسو دیکھ وہ چپ ہوگئی۔

اور کچھ دیر بعد ہی وہ انمول بلال سے انمول ابتسام ہوگئی تھی۔۔۔

اسکی طرف سے رضامندی ملتے ہی بلال صاحب اسکا ماتھا چومتے باہر نکل گئے۔

مبارک ہو بھابھی جان۔۔۔ میشا نے شوخی سے چھیڑا۔

میں نے رکھ کے ایک تھپڑ لگانا ہے تمہیں ۔۔۔۔ دفا ہو جاؤ میرے سامنے سے۔۔۔ انمول نے غصے سے کہتے اٹھ کے اسے کمرے سے باہر نکالا اور اسکے منہ پہ ہی دروازہ بند کرتی واپس بیڈ پہ آکے بیٹھ گئی۔

پہلی بار دیکھا ہے کسی ہیروئن کو ولن کا ہوتے ہوئے۔۔۔ اففف انو اب کیا ہوگا تیرا۔۔۔ مسٹر ڈریگن تو اب ساری زندگی تیرا خو،ن چوسیں گے۔۔۔ لیکن میں بھی کون سا کسی سے کم ہوں ۔۔۔ انہیں بھی انکی نانی نا یاد کرا دی تو کہنا۔۔۔ مسٹر ڈریگن تیار ہوجائیں ایک سرپھری لڑکی کو ساری زندگی برداشت کرنے کے لیئے۔۔۔ وہ منہ پہ ہاتھ پھیرتی بڑبڑائی۔

۔🌺🌺