170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 16)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

ہائے میں صدقے میں واری۔۔۔ میرے مسٹر ڈریگن کتنے کیوٹ لگ رہے ہیں۔۔۔ ابتسام کے کمرے سے نکلتی فون میں لی گئی اسکی تصویریں دیکھتی وہ اپنی ہی دھن میں صدقے والی جاتی نیچے جارہی تھی تبھی اچانک سے آخری سیڑھی پہ اسکا پاؤں مڑا جس کے باعث ایک زور دار چیخ اسکے منہ سے برآمد ہوئی۔

آہہہہہہہہ ماما۔۔۔ جتنی زور سے لگی نہیں تھی اس سے کئی زیادہ زور سے چیختی وہ وہیں زمین پہ پاؤں پکڑے بیٹھ گئی تھی۔

انو کیا ہوا بیٹا۔۔۔ اسکی چیخ سن ایک ایک کر سب وہاں آگئے۔

ابتسام جو مزے سے سو رہا تھا چیخ کی آواز سنتا ہڑبڑا کے بیڈ سے اترتے کمرے سے نکلا۔

کیا ہوا سب ٹھیک ہے کون چیخا تھا۔۔۔ وہ لاؤنچ میں آتے پریشانی سے پوچھنے لگا۔

بھائی یہ انو کا پاؤں۔۔۔۔ مڑ۔۔۔ گیا ۔۔۔ تھا ۔۔۔ انو کو صوفے پہ بیٹھاتے میشا بتانے لگی لیکن جب نظر ابتسام پہ گئی تو آواز کم سے کم ہوتی چلی گئی۔

کتنی بار کہا ہے آہستہ آہستہ چلا کرو۔۔۔ دیکھاؤ اب کہاں لگی ہے۔۔۔ ابتسام فکرمندی سے جھوک کے اسکا پاؤں دیکھنے لگا۔۔۔ جب کے وہاں موجود سب لوگ اسے ہونق بنے دیکھ رہے تھے۔

بھائی یہ آپ۔۔۔۔

مسٹر ڈریگن میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔ میشا اپنی ہنسی روکتی اسے بتانے لگی تھی لیکن انمول نے اسکی بات کاٹتے اپنی شروع کر دی۔۔۔ انمول شاید ابھی تھوڑی دیر اور انٹرٹین ہونا چاہتی تھی۔

تو پھر اتنی زور سے کیوں چیخیں تھیں۔۔۔ ابتسام نے گھورا۔

وہ تو بس ایک دم پاؤں مڑ گیا تو میں ڈر گئی بس اس لیئے ہی چیخ مار دی۔۔۔۔ انمول دانتوں کی نمائش کراتی بتانے لگی۔۔۔ وہ الگ بات تھی اسکے دانت ابتسام کو دیکھ کے نکل رہے تھے۔

صاحب آپ سے کوئی فخر صاحب ملنے آئے ہیں۔۔۔ ملازمہ نے آکے اصطلاح دی لیکن ابتسام کے سر پہ بندھے دو سینگ دیکھ کے پورا منہ کھل گیا۔

اچھا ۔۔۔ ابتسام کہتا جلدی سے باہر بڑھ گیا۔

ابتسام بیٹا رکو۔۔۔۔ ایسے جاؤ گے ان کے سامنے۔۔۔ نسرین بیگم مسکرا کے آواز دینے لگیں۔

ایک منٹ امی بس آیا۔۔۔ ابتسام ان سنی کرتا جلدی سے باہر بڑھ گیا۔۔۔ آج کل وہ فخر صاحب کے ساتھ کام کر رہا تھا جس سے اسے بہت فائدہ بھی ہو رہا تھا اس لیئے وہ انہیں انتظار نہیں کروا سکتا تھا۔۔۔ بس تبھی کسی کی بھی سنے بغیر باہر نکل گیا تھا۔

مسٹر ڈریگن بات تو سنیں۔۔۔ انمول نے آواز دی لیکن وہ جا چکا تھا۔۔۔۔ اب اسے ڈر لگ رہا تھا آنے والے وقت سے کیونکہ اب اسکی شامت پکی تھی۔

انو یہ تم نے کیا ہے نا۔۔۔ مشی نے ہنسی روکتے پوچھا۔

ہمممم۔ انمول نے فخر سے سرہلایا۔

ماما آپ مجھے گھور کیوں رہی ہیں۔۔۔ وہ تو بس میری خواہش تھی کہ میں اپنے شوہر کی نکی نکی پونیاں کروں تو آج موقع دیکھ کہ میں نے اپنی خواہش پوری کر دی۔۔۔ انمول نے کندھے اچکائے۔۔۔ جب کے شگفتہ بیگم کچھ نا بولیں تھی جانتی تھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔

۔🌺🌺🌺

ابتسام باہر کوئی لوگ آئے ہیں تمہیں بلا رہے ہیں۔۔۔ حماد گھر میں داخل ہوتا بولا لیکن نظر ایک دم اسکے سر پہ گئی تو آنکھیں پھیل گئی۔

ہاں میں جارہا ہوں۔۔۔ ابتسام کہتا آگے بڑھ گیا۔

یار تو ایسے جائے گا باہر۔۔۔ حماد نے بہت مشکل سے اپنا قہقہہ روکا۔

ایسے مطلب ۔۔۔ ابتسام نے جاتے جاتے مڑھ کے پوچھا۔

ایک منٹ دیکھاتا ہوں۔۔. حماد کہتے جیب سے فون نکالتے لگا۔

بعد میں دیکھانا ابھی مجھے دیر ہورہی ہے۔۔۔ ابتسام جلدی سے کہتا باہر بڑھ گئی اور حماد آواز دیتا رہ گیا۔۔۔۔ وہ حماد کے مزاج سے واقف تھا ۔۔۔ اس لیئے وہ سمجھا ضرور کوئی فالتو چیز ہی دیکھا رہا ہو گا تبھی اس کی سنے بغیر باہر نکل گیا۔

ہاہاہاہا۔۔۔ مطلب کچھ دیر بعد بےعزتی اوف انمول شو شروع ہونے والا ہے ۔۔۔ واہ مزاح آجائے گا آج تو۔۔۔ حماد قہقہہ لگاتا دل ہی دل میں سوچتے اندر بڑھ گیا۔۔۔ وہ جانتا تھا یہ کام انمول کے علاوہ اور کوئی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ اس لیئے اسکی بےعزتی کا سوچتے خوش ہو رہا تھا۔

کیسے ہیں آپ فخر صاحب اور مسٹر خرم آپ کیسے ہیں۔۔۔ ابتسام نے خوش اسلوب سے مسکرا کے دونوں سے ہاتھ ملایا۔

ہاہاہا ہم تو ٹھیک ہیں لیکن لگتا ہے آج آپ کا موڈ کافی شریر ہے۔۔۔ فخر صاحب ابتسام کے سر پہ پونیاں دیکھ ہنس کے شرارت سے بولے۔

اچھا اور آپ کو کیسے لگا یہ۔۔۔ ابتسام نے مسکرا کے پوچھا۔

آپ کو دیکھ کے کوئی بھی بتا سکتا ہے۔۔۔ فخر صاحب نے مسکرا کے کہا۔

مطلب کیسے میں سمجھا نہیں۔۔. ابتسام الجھا۔۔

ہاہاہاہا مسٹر ابتسام یہ دیکھیں۔۔۔۔ مسٹر خرم نے ہنستے ہوئے​ فرنٹ کیمرہ کھول کے اس کے سامنے کیا۔

ابتسام نے جب کیمرے میں اپنے سر پہ بندھی دو پونیاں دیکھ تو اسکا دماغ بھنگ سے اڑا۔

یہ یہ کیسے۔۔۔ ابتسام نے جلدی سے بالوں سے پونیاں نکالیں اور ہاتھ سے بال درست کیئے۔۔۔

ہاہاہاہا ۔۔۔ مسٹر ابتسام آپ بہت کیوٹ لگ رہے تھے ویسے اگر اس کے ساتھ آپ فراک پہنتے تو اور بھی اچھے لگتے۔۔۔۔ ہاہاہاہا لیکن میرا مشورہ ہے کہ اگلی بار زرا احتیاط کرے گا۔۔۔ ایسے کام صرف گھر میں ہی اچھے لگتے ہیں۔۔۔ مسٹر خرم نے قہقہہ لگاتے مزاق کیا جس پہ ابتسام کھل کے ہنس بھی نہیں سکا تھا۔

وہ انکی بات سنتے کافی شرمندہ ہو گیا تھا۔۔۔ اسے کافی غصہ بھی آرہا تھا ۔۔. کیونکہ وہ جانتا تھا یہ کام کس کا ہے ۔۔۔ اور اب تو اسکی شامت بھی پکی تھی

خیر باتوں میں میں تو بھول ہی گیا میں یہ فائل دینے آیا تھا۔۔۔ فخر صاحب نے گاڑی سے ایک فائل نکالتے ابتسام کے سامنے کی۔

آپ لوگ اندر آئیں نا ۔۔۔ فائل تھامتے کہا۔

پھر کبھی آئیں گے ابھی ہمیں اجازت دیں ۔۔۔ اور ہاں میرے مشورہ پہ دھیان ضرور دے گا۔۔۔ مسٹر فخر مسکرا کے ہاتھ ملا کے رازدارانہ انداز میں کہتے مسکرا دیئے۔

جی۔۔۔ ابتسام زبردستی مسکرایا۔

ان کے جاتے ہی ابتسام تن فن کرتا اندر داخل ہوا۔۔۔۔ سب سے پہلے تو اسکے غصے کا شکار بے جان دروازہ ہوا تھا۔۔۔ جسے اسنے دھاڑ سے بند کرتے اپنا غصہ نکالا تھا۔

وہ غصے سے بھرا لمبے لمبے ڈنگ بھرتا لاؤنچ میں داخل ہوا۔۔۔ سامنے ہی انمول اسے قہقہہ لگاتی نظر آگئی جو اسکے غصے کو اور ہوا دینے کی وجہ بنی تھی۔۔۔ وہ دو تین قدموں میں ہی اسکے اور اپنے بیچ کا فاصلہ ختم کرتا اسکے سر پہ پہنچا۔

مسٹر ڈریگن وہ میں۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔ انمول ایک دم اسے اپنے پاس غصے سے بھرا آتا دیکھ اپنی شرارت کی صفائی دینے لگی لیکن ابتسام نے اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی سختی سے اسکا بازو اپنی گرفت میں لیتے اپنے مقابل کھڑا کیا۔

اسکے ایک دم حملے پہ سب اپنی اپنی جگہ خاموش کھڑے رہ گئے۔

ابتسام بیٹا کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے۔۔۔ چچی اسکے تیور دیکھ جلدی سے کھڑی ہوتی انمول کو چھڑوانے لگیں ۔۔۔

کوئی کچھ نہیں بولے گا آج ۔۔۔ آج میں اس سے اپنے طریقے سے بات کروں گا۔۔۔ جانتی ہیں آپ کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی ہے مجھے ان لوگوں کے سامنے ۔۔۔ کتنا مزاق اڑا رہے تھے وہ میرا۔۔۔اور میں جانتا ہوں آگے بھی وہ میرا ایسے ہی مزاق اڑاتے رہیں گے۔۔. وہ بھی صرف اس کی وجہ سے۔۔۔ ابتسام چچی سے کہتا آخر میں انمول کے بازو کو ایک جھٹکا دیتے اس پہ اپنی گرفت اور سخت کر گیا۔

انمول کو اسکی انگلیاں اپنے بازو میں دھستی ہوئی محسوس ہوئی جس کی وجہ سے اسکی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔۔۔۔ وہ جانتی تھی وہ اس پہ بہت غصہ کرے گا لیکن اس جارہانہ انداز کی امید ہرگز نہیں تھی۔۔۔

پہلے تو تم سب کے ساتھ شرارتیں کرتیں تھی اور اب تم نے میرے ساتھ بھی شرارت شروع کر دی ۔۔۔۔جانتی ہو تمہاری شرارت کی وجہ سے اب مجھے ساری زندگی اپنا مزاق بنتے دیکھنا ہوگا۔۔۔ وہ لوگ بار بار مجھے اس بات پہ چھیڑیں گے کہ میں پونیاں بناتا ہوں۔۔۔ جانتی ہو مجھے کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی ہے ان لوگوں گے سامنے۔۔۔۔. وہ شیر کی طرف دھاڑا۔۔۔ اسکی دھاڑ پہ انمول کانپ اٹھی۔

آج تک انمول سے گھر میں کسی نے بھی اتنی اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی۔۔۔ سب ہی اس سے پیار سے بات کرتے تھے اگر ڈانٹنا بھی ہوتا تھا تو بھی ہلکی آواز میں ہی ڈانٹتے تھے۔۔۔ وہ اس رویہ کی بلکل عادی نہیں تھی۔۔ جس کی وجہ سے اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔ لیکن ابتسام تو جیسے آج کچھ دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔

اب میری ایک بات کان کھول کے سن لو میں نا تو دائم ہوں اور نا ہی فہد اور نا ہی اس گھر کا کوئی اور فرد جو تمہاری شرارت کو تمہارا بچپنا سمجھ کے مسکرا کے نظرانداز کردے گا۔۔۔ اس لیئے آج کے بعد تم نے میرے ساتھ اگر کوئی شرارت کرنے کی کوشش بھی کی تو یاد رکھنا میں وہ کروں گا جس کی تم نے توقع بھی نہیں کی ہوگی۔۔۔ سمجھیں۔۔ ایک جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑتے اگلے پچھلے دن کی سب بڑاس نکالتے (جو وہ دائم اور فہد کا نام لے کے اسے چڑاتی تھی) لمبے لمبے قدم اٹھاتا اوپر چل دیا۔۔۔

انو۔۔۔ چچی فورن صوفے پہ گری انو کے پاس آئیں۔

دھاڑ کی آواز سے دروازہ بند ہونے پہ ان سب نے ایک ساتھ دل پکڑا۔۔۔ مطلب انو کو اتنا سنانے کے باوجود بھی اسکا غصہ نہیں اترا تھا۔

انمول آنکھوں میں آنسو لیئے تیزی سے اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔۔۔۔ سب نے اسے دکھ سے جاتے دیکھا تھا۔

حماد جو انمول کی بےعزتی ہوتے دیکھنا چاہتا تھا وہ اب افسوس سے انمول کو دیکھ رہا تھا اسکو ابتسام سے ایسے رویہ کی امید تو ہرگز نہیں تھی۔

پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ابتسام کو بچی نے ایک مزاق ہی تو کیا تھا۔۔۔ کیا ضرورت تھی اسے اتنی سختی سء ڈانٹنے کی۔۔۔ چچی وہیں سر پکڑ کے بیٹھ گئیں۔

نسرین تم پریشان نہیں ہو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔. انمول نے بھی تو حد کردی نا ۔۔۔ اگر چلو پونیاں بنا بھی دیں تھی تو جبھی کھول دیتی لیکن نہیں اسے بھی تو مزاح آرہا تھا ابتسام کو دیکھ کے۔۔۔ خیر تم فکر نہیں کرو جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہوگا تو ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔ شگفتہ بیگم نے چچی کو سمجھایا تو وہ سر جھٹک کے رہ گئیں۔

۔🌺🌺🌺

سحری کے وقت انمول کافی خاموش تھی۔۔۔ خاموشی سے ہی اپنی سحری کر رہی تھی۔۔۔ اسے بہت برا لگا تھا ابتسام کا رویہ۔۔۔ وہ چاہے اسے کتنا بھی ڈانٹ لیتا وہ اففف بھی نہیں کرتی بلکے سر جھکا کے سر لیتی لیکن اسکا جارہانہ انداز میں بازو پکڑنا اسے بہت بری طرح ہرٹ کر گیا تھا۔۔۔ گھر میں کبھی بھی اس سے کسی نے بھی اس انداز میں نہیں ڈانٹا تھا۔۔۔ شگفتہ بیگم کبھی کبھی ایک دو بار کمر پہ تھپڑ مار دیتی تھی لیکن اس نے کبھی برا نہیں منایا تھا جانتی تھی وہ ماں ہیں اور وہ اسکے بھلے کے لیئے ہی مار رہی ہیں۔۔۔لیکن ابتسام سے اسے اتنے سخت رویہ کی امید نہیں تھی۔

وہ پلیٹ پہ جھکی خاموشی سے سحری کر رہی تھی۔۔۔ اور اسکی خاموشی سبهی کو بہت بری لگ رہی تھی۔۔۔ سوائے ابتسام کے جس کا ماننا تھا کہ انمول کبھی خاموش نہیں رہ سکتی یہ بھی اسکی کوئی نئی چال ہوگی خاموش رہ کے سب کی توجہ حاصل کرنے کی۔

آج ٹیبل پہ اتنی خاموشی کیوں ہے بھئی۔۔۔۔ اسکی خاموشی سے تنگ آکے آخرکار بلال صاحب کو بولنا ہی پڑا۔۔۔ رات میں ہوئے ہنگامے کا انہیں شگفتہ بیگم بتا چکیں تھیں۔۔۔ لیکن اس وقت بلال صاحب رات کے واقع کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔

کچھ نہیں بابا بس مجھے آپ لوگوں کو ایک بہت اہم بات بتانی ہے فہد کے بارے میں ۔۔۔ انمول نے مسکرا کے بات بدلی۔۔۔ وہ کب سے سوچ رہی تھی کہ سب کو فہد کے بارے میں بتائے یا نہیں۔۔۔ لیکن اب اسنے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ سب کو فہد کے بارے میں بتا دے گی کیونکہ یہاں سب فہد کو غلط سمجھ رہے تھے جب کے غلطی تو مسٹر دلاور کی تھی۔۔۔ انہیں اپنے بیٹے کی خوشیوں سے زیادہ اسٹیٹس کی پرواہ تھی۔۔۔ لیکن وہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی بےقصور کو اس کے گھر والے قصور وار سمجھیں۔۔۔ اس لیئے سب کو فہد کی فون کال کا بتانے کا ارادہ کر چکی تھی۔

فہد کے بارے میں کیا بات کرنی ہے۔۔۔۔ ابتسام کے ماتھے پہ بل پڑے۔

بابا مجھے فہد کا فون آیا تھا۔۔۔ انمول ابتسام کی بات نظرانداز کرتی بلال صاحب سے مخاطب ہوئی۔

کیا تم نے اس سے بات کی؟؟؟۔۔۔۔ ابتسام نے مٹھیاں بھیجے سرد لہجے میں پوچھا۔

بابا وہ کہہ۔۔۔.

میری بات کا جواب دو۔۔۔۔ انمول کی بات بیچ میں کاٹتے وہ دبا دبا دھاڑا تھا ۔۔۔۔ اسے بلکل بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا انمول کا نظرانداز کرنا۔

میں نے آپ سے بات کی۔۔۔ نہیں نا۔۔۔ میں اپنے بابا سے مخاطب ہوں تو بہتر ہے آپ مجھ سے کوئی سوال جواب نا کریں نا ہی میں آپ کے کسی بھی سوال کی جوابدہ ہوں۔۔۔ انمول بھی بھڑک کے بولی۔۔۔ جب کے اسکی بات سنتے ابتسام کا پارہ ہائی ہوا تھا۔

تم مجھے جوابدہ نہیں ہو تو پھر کس کی جوابدہ ہو ہاں۔۔۔۔ اس بار اسنے بغیر کسی کی پرواہ کیئے غصے سے کہا۔

ابتسام چپ ہو کے بیٹھ جاؤ۔۔۔ انمول کو اسکی بات پوری کرنے دو۔۔۔ انمول بیٹا بتاؤ کیا بتا رہیں تھیں۔۔۔ نسرین بیگم سختی سے اںتسام سے کہتی پیار سے انمول کو بولیں تو ابتسام دانت پیس کے رہ گیا

بابا فہد کا فون آیا تھا اس نے بتایا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ انمول انہیں فہد سے ہوئی ساری بات بتاتی چلی گئی۔۔۔ سب ہی سنجیدگی سے اسکی بات سن رہے تھے لیکن ابتسام صرف انمول کو گھور رہا تھا۔

بابا میں چاہتی ہوں آپ سب فہد کو معاف کردیں ۔۔۔ اس سب میں اسکی کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ وہ بےقصور ہے۔۔ آپ لوگ پلیز اپنے دل سے اسکے لیئے بدگمانی نکال دیں۔۔۔ انمول بہت پیار سے سمجھا رہی تھی۔۔۔۔ جب کے انمول کا بار بار فہد کو ٹھیک کہنا اسکی طرف داری کرنا ابتسام سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ وہ بہت مشکل سے خود پہ قابو کیئے بیٹھا تھا۔

مگر بیٹا آپ کو کیسے پتہ کہ وہ سچ بول رہا ہے ہو سکتا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہو۔۔۔۔ پھوپھا نے اپنا خدشہ ظاہر کیا

پھوپھا میں جانتی ہوں میری اس سے کوئی زیادہ ملاقات نہیں ہوئی لیکن جب بھی ہوئی ہے مجھے کہیں سے بھی ایسا نہیں لگا کے وہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔ یا دھوکا دے رہا ہے۔۔۔ اور جب میری اس سے بات ہوئی اسکی آواز کی بےبسی اس بات کی گواہی​ تھی کہ وہ سچ بول رہا ہے۔۔۔ اگر اسے دھوکا دینا ہی ہوتا تو فون کر کے میرا مزاق اڑاتا ۔۔۔ مجھے عین نکاح کے وقت دنیا کے سامنے رسوا کرنے کے لیئے چھوڑ جانے پہ قہقہ لگاتا۔۔۔۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکے اسنے مجھ سے معافی مانگی تھی بابا۔۔۔ اسکی شرمندگی اس بات کی گواہ تھی کہ وہ سچا ہے۔۔۔ انمول نے بہت رسان سے کہا۔

انمول کی باتیں سب پہ ہی کافی اثر انداز ہوئی تھیں۔۔۔ کہیں نا کہیں ابتسام کو بھی اسکی باتیں ٹھیک لگیں تھیں لیکن انمول کا بار بار فہد کرنا ابتسام کو سخت ناگوار گزر رہا تھا۔

ٹھیک ہے بیٹا ہم مان لیتے ہیں کے جو آپ کہہ رہی ہو وہ ٹھیک ہے لیکن آپ اسے کہہ دینا کے آج کے بعد ہم سے کوئی رابطہ نا رکھے۔۔۔ جو باپ اپنے بیٹے کی خوشی کو نظرانداز کر سکتا ہے وہ یہ بات پتہ چلنے پہ کے فہد اب بھی ہم سے رابطہ میں ہے ہمیں پھر سے رسوا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔۔۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میرے خاندان پہ کوئی انگلی اٹھائے۔۔۔۔ بلال صاحب سنجیدگی سے بولے۔

بابا آپ بےفکر ہو جائیں وہ اب ہم سے کبھی رابطہ نہیں کرے گا۔۔۔۔ اسنے مجھے ہمیشہ کے لیئے خدا حافظ کہہ دیا ہے ۔۔۔ وہ چاہتا ہے میں اپنی زندگی میں خوش رہوں۔۔۔۔ انمول ہلکے سے مسکرا کے بولی۔

ہمممم۔۔۔ انہوں نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔

اچھا بابا مجھے اب سحری کرنے دیں ۔۔۔ آپ نے باتوں میں ہی سارا ٹائم نکلوا دینا ہے۔۔۔۔ انمول واپس اپنی ٹون میں آتی سحری کرنے لگی۔۔۔

اس کی شرارت سے بھرپور آواز سنتے سب کے چہرے کھل اٹھے۔۔۔

وہ ایک انسان کی وجہ سے پورے گھر والوں کو پریشان نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی اسکی چہکتی آواز اسکے بابا کو سکون دیتی ہے۔۔۔۔ اسکے قہقوں سے اس گھر میں رونق رہتی ہے۔۔۔ وہ ایک شخص کی وجہ سے سب کو اداس نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اس لیئے بغیر ابتسام کی طرف دیکھے اپنے کام میں لگ گئی۔

جب کے خود کو اگنور ہوتے دیکھ ابتسام نے لب بھیجے۔

۔🌺🌺🌺