Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 18)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 18)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
کیسے ہو ابتسام۔۔۔۔ دائم اسکا پوچھتے چھت پہ آگیا تھا۔۔۔ وہ سوچوں میں گم کھڑے ابتسام کا حال پوچھ رہا تھا۔
ہممم تم کب آئے۔۔۔۔ ابتسام اسکی اچانک آمد پہ چونکا۔۔۔
میں دبئی سے کل آیا تھا اور یہاں میں ابھی ابھی آیا ہوں۔۔۔ دائم نے مسکرا کے بتایا
ہممم اور آج تم میری بیوی کے ساتھ شوپنگ بھی کر کے آرہے ہو۔۔۔ ابتسام نے سپاٹ چہرے سے کہا۔
تمہاری بیوی میری بیسٹ فرینڈ بھی ہے۔۔۔ دائم نے جیسے اسے یاد دلایا تھا کہ اسکی بیوی دائم کی بھی کچھ لگتی ہے۔۔۔
ابتسام اس بار کچھ نہیں بولا تھا۔۔۔ بس خاموشی سے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ دماغ میں بہت سارے سوال تھے جو وہ دائم سے پوچھنا چاہتا تھا لیکن کچھ بول نہیں پا رہا تھا۔
ابتسام مجھے پتہ چلا ہے تم نے انو کو ہرٹ کیا ہے۔۔۔ اسے رلایا ہے۔۔۔۔ دائم سنجیدگی سے اسے دیکھے بغیر بولا۔
جس نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ میں نے اسے رلایا ہے تو اس سے جا کے یہ بھی پوچھ لیتے کہ کیوں رلایا ہے۔۔۔۔ ابتسام نے دانت پیستے کہا۔۔۔۔ اسے انمول سے یہی امید تھی کہ وہ دائم کو ضرور بتائے گی اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔۔ اسنے دائم کو بتایا تھا اور اب دائم اسکے بدلے لڑنے آیا تھا۔۔۔ ایسا ابتسام کا ماننا تھا۔
وہ مجھے سب بتا چکی ہے۔۔۔ اور اس میں انو کی کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ جب گھر میں سب نے تمہیں روکنے کی کوشش کی تو تم کیوں ہوا کے گھوڑے پہ سوار ہوئے بھاگ گئے۔۔۔ اگر رک کے تحمل سے کسی کی بات سن لیتے تو مزاق بنے سے تو بچ جاتے۔۔۔۔ دائم اسے سمجھا رہا تھا لیکن ابتسام کو غصہ آرہا تھا مطلب چاہے غلطی انو کی ہو لیکن سب سمجھا اسے رہے تھے۔۔۔ آج صبح ہی تو اسکی ماں اسے سمجھا کے گئیں تھی۔۔۔ اور پھر دوپہر میں میشا نے بھی سمجھایا تھا۔۔۔ جس میں انو ہی ٹھیک تھی اور وہ غلط اور اب دائم بھی وہی بات کر کے اسے غصہ دلا رہا تھا
مطلب تم کہہ رہے ہو اسنے جو حرکت کی وہ ٹھیک تھی۔۔۔ ابتسام نے بہت مشکل سے اپنا لہجہ دھیما رکھا تھا۔
اسنے کوئی حرکت نہیں کی بلکہ اپنی خواہش پوری کی ہے۔۔۔ وہ اپنے شوہر کی پونیاں بنانا چاہتی تھی ۔۔۔۔ اور تم اسکے شوہر ہو تو اسنے اپنی یہ خواہش تم پہ پوری کردی تو اس میں ایسی کون سی بڑی بات ہوگئی جو تم نے اسے اتنا ڈانٹ دیا۔۔۔ اگر کسی کے سامنے تمہارا مزاق بنا بھی ہے تو وہ تم نے خود بنوایا ہے۔۔۔ جب وہ تمہارا مزاق بنا رہے تھے تو تم کیوں شرمندہ ہوئے۔۔۔ بلکے اس بات کو ہنسی میں اڑا دینا چاہیئے تھے۔۔ لیکن نہیں تم شرمندہ ہوئے اور لوگوں کو موقع مل گیا تمہاری ٹانگ کھیچنے کا۔۔۔
دیکھوں ابتسام انو بہت احساس ہے اسے ایسے رویوں کی عادت نہیں ہے۔۔۔ بچپن سے اسے کبھی بھی کسی نے رونے نہیں دیا لیکن تم نے اسے رلایا۔۔۔ اسے ہرٹ کیا۔۔۔ ابھی تو صرف نکاح کو چند دن ہی ہوئے ہیں اور تم نے اپنا رویہ اسکے ساتھ اتنا برا رکھا ہوا ہے ابھی آگے تو پوری زندگی پڑی ہے تب کیا کرو گے تم اس کے ساتھ۔۔۔ دائم بہت سکون و اطمینان سے اسے سمجھا رہا تھا لیکن ابتسام کچھ بھی سمجھنے کے بجائے غصے سے مٹھیاں بھیج رہا تھا۔۔۔ اسے بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا دائم کا ایسے انمول اور خود کے بیچ میں بولنا۔
وہ میری بیوی ہے۔۔۔ ہم دونوں کے بیچ میں بولنے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔۔۔ ابتسام نے قدرے سختی سے کہا۔
تم نے اسے بند کمرے میں نہیں ڈانٹا تھا بلکے سب کے سامنے ڈانٹا تھا۔۔۔ تو یہ تمہارا کوئی پرسنل مسئلہ نہیں ہے جس میں میں بول نہیں سکتا۔۔۔ میں بس تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کے انو جتنی بہادر اور چنچل ہے وہ اتنی ہی جذباتی بھی ہے۔۔۔ ایسا نا ہو تمہارے رویہ سے اسکا شوخ اور چنچل پن ختم ہو جائے اور اگر ایسا ہوا تو اس گھر میں سناٹا چاجائے گا۔۔۔ تو بہتر ہے تم ابھی سے اسکے ساتھ اپنا رویہ ٹھیک رکھو اسے خوش رکھو کوئی تکلیف نا دو۔۔۔ امید ہے تم میری بات سمجھوں گے۔۔۔ دائم اپنی بات کہتا اسکا کندھا تھپتھپائے نیچے کی جانب بڑھا۔
تم انو سے محبت کرتے ہونا۔۔۔ وہ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کے ابتسام کی سنجیدہ آواز پہ اسکے قدم منجمد ہوگئے۔
میں جانتا ہوں تم اس سے محبت کرتے ہو۔۔۔ بھلے تمہاری آنکھوں میں کچھ نہیں لکھا لیکن تمہارے ہر عمل سے یہ چلتا ہے کہ تم اس سے محبت کرتے ہو۔۔۔ ابتسام پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے اسکے سامنے آرکا۔۔۔ جو بلکل بےحس و حرکت کھڑا تھا۔۔۔
دائم کو تو یقین ہی نہیں رہا تھا کہ جس محبت کو اسنے پوری دنیا سے چھپایا یہاں تک کے اپنے ماں باپ کو بھی اسنے بھنک نہیں پڑھنے دی وہ بات ابتسام نے کیسے جان لی۔
حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جب سے انو کا رشتہ پکاہ ہوا تھا تب سے ہی تم اس سے تھوڑا کھنچے کھنچے رہتے تھے۔. پہلے تم ہر وقت ہمارے گھر میں پڑے رہتے تھے اور انو کے رشتے کہ بعد تم تو جیسے اس گھر کا پتہ ہی بھول گئے تھے۔۔۔۔ پہلے تو میں سمجھا شاید تم مصروف ہوں گے لیکن پھر جب تم اسکے نکاح کےدن اور نکاح کے وقت بھی وہاں موجود نہیں تھے۔۔۔ تو اس بات نے میرے دل میں آئے شک کو یقین میں بدلہ تھا۔۔۔ اور پھر نکاح کے اگلے دن ہی انو کو بغیر بتائے چلے جاتا میرے یقین پہ مہر مثبت کرگئی تھی کہ تم اس سے محبت کرتے ہو لیکن کیا انو بھی تم سے محبت کرتی ہے؟؟؟۔۔۔۔ ابتسام دائم کو تفصیل سے بتاتا آخر میں سوال کرنے لگا جس پہ دائم نے چونک کے اسے دیکھا۔۔۔ مطلب اسکے دل میں انو کے لیئے شک آتا جارہا تھا۔۔۔ اور اگر اسکے دل میں یہ شک پکاہ ہو جاتا تو وہ انو سے بدگمان ہوسکتا تھا۔
ابتسام تم نے جو کچھ کہا ٹھیک کہا۔۔۔ میں انو سے محبت کرتا ہوں لیکن وہ یہ بات نہیں جانتی اور نا ہی وہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔۔۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ اسکے پاس پیار محبت جیسے فضول کے چونچلے پالنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔ وہ جب بھی پیار کرے کی شادی کے بعد صرف اپنے شوہر سے کرے گی۔۔۔ اسکا شوہر ہی ہوگا جو اسکے دل پہ حکمرانی کرے گا۔۔۔ وہ پہلے سے کسی کا بھی نام اپنے دل پہ نہیں لکھنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ چاہتی تھی صرف اسکے شوہر کا نام ہی اسکے دل پہ لکھا جائے۔۔۔ جو پہلا اور آخری نام ہوگا۔۔۔ باقی آگے تم خود سمجھدار ہو۔۔۔ تو بہتر ہے اپنے دل سے انو کے لیئے ہر شک کو مٹادو۔۔۔ وہ تمہارے ساتھ جڑے اس رشتے میں بہت مخلص ہے۔۔۔ بس تمہیں اپنے غصے پہ قابو رکھتے اپنا رویہ اسکے ساتھ ٹھیک کرنا ہوگا۔۔۔ دائم پرسکون انداز میں اسے سمجھاتا ابتسام کو ساکت کھڑا چھوڑ وہاں سے نکل گیا۔
کتنی ہی دیر تک ابتسام کے دماغ میں دائم کی باتیں گھومتی رہیں۔۔۔ اسکا دل بار بار اسے ملامت کر رہا تھا کہ وہ انو کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔۔۔ وہ سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ ایک شرارتی سی لڑکی جسے اپنے خوابوں سے عشق ہے جو ناول کی دیوانی ہے۔۔۔ جسے اپنی الٹی سیدھی شرارتوں سے فرصت نہیں ملتی وہ پیار محبت کیا خاک کرے گی۔۔۔ یا شاید اسنے کبھی اسے سمجھایا ہی نہیں تھا۔۔۔ نا اسنے کبھی انو سے دوستی کرنے کی کوشش کی تھی جو وہ اسے اپنے بارے میں کچھ بھی بتاتی۔۔۔ لیکن جو بھی تھا اب وہ اپنے کئے پہ شرمندہ ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن اسنے ارادہ کر لیا تھا کہ آج وہ انو کو سوری بول دے گا اپنے کیئے کی معافی مانگ لے گا۔۔۔ اسے یقین تھا وہ اسے معاف کر دے گی۔۔۔۔ اسی عزم کے ساتھ وہ نیچھے بڑھ گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں سب سحری کے لیئے اٹھنے والے تھے۔۔۔ ابتسام جانتا تھا انمول جاگ رہی ہوگی۔۔۔ اس لیئے وہ ہاتھ میں ایک بڑا سا چیزوں سے بھرا شاپر لیئے انمول کے کمرے کی جانب بڑھا۔
کمرے کے باہر رک کے اسنے دروازے پہ ہلکی سی دستک دی ۔۔۔ لیکن اندر سے کوئی رسپون نہیں آیا۔۔۔ اسنے پھر دستک دی لیکن اس بار بھی جواب ندارت۔۔۔ ایک بار دو بار تین اسنے دروازہ بجایا لیکن کوئی آواز نہیں ائی۔۔۔
وہ سمجھا شاید انو سوگئی ہوگی اس لیئے واپسی کے لیئے مڑنے لگا۔۔۔۔ پر اسکے مڑنے سے پہلے ہی دروازہ کھل گیا تھا۔
اتنی دیر سے دروازہ کیوں کھولا۔۔۔ اسکے دروازہ کھولتے ہی ابتسام نے عام سے انداز میں پوچھا۔۔۔۔ جب کے انو کی نظر تو اسکے ہاتھ میں موجود چیز کے شاپر پے تھی۔
وہ میں واشروم میں تھی۔۔۔ انو بامشکل شاپر سے نظریں ہٹاکے سپاٹ انداز میں بولی۔۔۔ جب کے ابتسام اسکے سائڈ سے نکلتے کمرے میں. داخل ہوگیا تھا۔
یہ لو یہ تمہارے لیئے۔۔۔ ابتسام نے شاپر اسکی جانب بڑھاتے نرمی سے کہا۔۔
آج اتنی مہربانی کس لیئے۔۔۔ وہ دونوں بازو سینے پہ باندھے ائبرو اچکائے سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔۔۔ اس وقت وہ چنچل سی انو تو بلکل بھی نہیں لگ رہی تھی۔
سوری۔۔۔ ابتسام نے شاپر ٹیبل پہ رکھتے کہا۔
کس لیئے۔۔۔ انمول کی پوری آنکھیں کھلیں۔۔۔ وہ جانتی تھی یہ سوری کس لیئے ہے لیکن اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ سامنے کھڑا کھڑوس انسان اسے سوری کہہ رہا ہے۔
اپنے کل کے رویہ کے لیئے۔۔۔ مجھے رئیلائز ہوگیا ہے کہ میں نے غصے میں تمہیں کچھ زیادہ ہی ڈانٹ دیا۔۔۔ ابتسام شرمندگی سے بولا۔
اور زور سے بازو بھی پکڑا تھا۔۔۔ جانتے ہیں کتنی دیر تک مجھے درد ہوتا رہا تھا بازو میں۔۔۔ انمول کی آنکھوں میں ایک دم موٹے موٹے آنسو آئے۔۔۔ اتنے پیار سے سوری کہنے پہ اور اپنے آس پاس کسی آنسوں پوچھنے والے کو دیکھ وہ اپنے آنسو روک نہیں پائی تھی۔
یار انو سوری مجھے معاف کردو۔۔۔ میں تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن غصے میں مجھے کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ پلیز تم رو نہیں۔۔۔ اسکے آنسو دیکھ وہ بوکھلا کے اسکے پاس آتا بہت نرمی سے انسو صاف کرنے لگا۔
ٹھیک ہے آئندہ نہیں کرے گا ورنا میں پھر معاف نہیں کروں گی۔۔۔ وہ آنکھیں صاف کرتی بولی تو ابتسام مسکرا دیا۔
میں پوری کوشش کروں گا آگے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی۔۔۔ کیونکہ میں جانتا ہوں مجھے ہی اپنا غصہ کنٹرول کرنا ہوگا کیونکہ تم تو اپنی شرارتوں سے باز آؤ گی نہیں۔۔۔ ابتسام نے سرد آہ بھرتے کہا تو کمرے میں انمول کی کھلکھلاہٹ گونچ گئی۔
مسٹر ڈریگن آپ نا بہت اچھے ہیں بس غصے کے تیز ہیں لیکن کوئی بات نہیں میں آپ کو ٹھیک کردوں گی۔۔۔ انمول کے یقین سے کہنے پہ ابتسام کچھ بول ہی نا سکا۔
اب میں چلتا ہوں۔۔۔ اور ہاں تھینک یو مجھے معاف کرنے کے لیئے۔۔۔ ابتسام اسکا کال تھپتھپاتے کمرے سے نکل گیا تو وہ بھی مسکراتی ہوئی چیز کے شاپر کی جانب متوجہ ہوگئی۔۔۔ جس پہ اسکی کب سے نظریں تھیں۔
۔![]()
![]()
![]()
نہیں مما مجھے نہیں جانا۔۔۔ مجھے اپنی ناک میں کوئی سوراخ نہیں کروانا۔۔۔ انمول اور شگفتہ بیگم دونوں کے بیچ میں کافی دیر تک بحث چل رہی تھی شگفتہ بیگم کا کہنا تھا اب اسکی شادی ہونے والی ہے تو اسے ناک چھدوا لینی چاہیے لیکن انمول بھی اپنی بات پہ باضد تھی کہ وہ ناک نہیں چھدوائے گی کیونکہ اسے پسند نہیں ہے۔۔۔ صبح سے دونوں بار بار ایک ہی بات پہ بحث کر رہی تھیں جو اب تک جاری تھی۔۔۔ اور ہر کوئی انو کو ہی سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا جو سمجھ کے ہی نہیں دے رہی تھی۔
انو بات کو سمجھنے کی کوشش کرو اب تمہاری شادی ہونے والی ہے۔۔۔ تمہیں ناک چھدوانی پڑے گی۔۔۔ سب چھدواتے ہیں۔۔۔ شگفتہ بیگم نے ایک بار پھر سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔
نہیں مطلب نہیں۔۔۔ میں نے منا کردیا تو بس کردیا۔۔۔ انمول اپنی بات پہ اڑی رہی۔
انو پھر شادی میں نتھ کیسے پہنو گی۔۔۔ مشی جو اسکے سامنے بیٹھی تھی اسکی ضد دیکھ کے مسئلہ بیان کرنے لگی۔
چپکانے والی بھی ملتی ہیں بازار میں۔۔۔ انو کے پاس ہر مسئلے کا حل تھا۔
مگر انو بیٹا شادی کے بعد بھی تو لونگ پہنوں گی نا۔۔۔ میں نے تو اپنی بہو کے لیئے اتنی اچھی لونگ بنوا کے رکھی ہے۔۔۔ اب اگر تم ناک نہیں چھدواؤ گی تو لونگ کیسے پہنوں گی۔۔۔ جب کے میرا تو بڑا ارمان ہے کہ میری بہو میری دی ہوئی لونگ پہنے۔۔۔ چچی نے اسے اموشنل بلیک میل کرنا چاہا۔
چچی آپ بہو بدل لیں ۔۔۔ لیکن میں ناک نہیں چھدواؤ گی۔۔۔ انو نے بےساختہ کہا جو افس جانے کے لیئے نیچے آتے ابتسام نے بھی سنا تھا۔
چلو انو تم میرے ساتھ چلو۔۔۔ ابتسام نیچے آتے سیدھا انو سے مخاطب ہوا جو صوفے پہ منہ بنائے بیٹھی تھی۔
کہاں جانا ہے۔۔۔ انو ویسے ہی منہ بنائے بولی۔
یہاں سب لوگ تمہیں تنگ کر رہے ہیں نا تو چلو کہیں باہر چلتے ہیں گھوم پھر آئیں گے۔۔۔ ابتسام نے سکون سے کہا جب کے اسکی بات سنتے وہاں موجود سب کا منہ کھلا تھا۔۔۔ مطلب کل تک تو وہ اس سے تنگ تھا اس سے ڈانٹ رہا تھا اور آج کیسے اسے خود ہی سب سے بچا کے باہر لے کے جارہا ہے۔۔۔
بھائی یہ توہی ہے نا۔۔۔ مطلب مسٹر ابتسام وہ بھی انمول میڈم کے ساتھ اتنی نرمی سے پیش آرہے ہیں واہ یہ کایا پلٹ کب ہوئی۔۔۔ حماد اپنی حیرت پہ زیادہ دیر قابو نا رکھ سکا اس لیئے پوچھ بیٹھا۔
انو تم چلو میرے ساتھ۔۔۔ ابتسام حماد کو اگنور کر انو سے بولا۔
میں تیار ہو کے آتی ہوں۔۔۔ انمول فورن کھڑی ہوئی۔
ایسے ہی ٹھیک ہو بس دوپٹہ اوڑھ کے باہر آجاؤ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ابتسام کہہ کے جانے لگا لیکن پھر اپنی ماں کی بات سنتے رک گیا۔
ابتسام بیٹھا ایسے اسے کہاں لے کے جارہے ہو۔۔۔ دیکھ رہے ہو ہم کتنی ضروری بات کر رہے ہیں۔۔۔ اور تم اسے سمجھانے کے بجائے الٹا اسے یہاں سے لے کے جارہے ہو۔۔۔ نسرین بیگم نے حیرت سے کہا۔۔۔ کل تک انکا بیٹا انو سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا آج کیسے اسکی طرفداری کر رہا تھا۔
امی آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نا میں سب سمبھال لوں گا۔۔۔ ابھی اس سے میرے ساتھ جانے دیں۔۔۔ ابتسام نے ماں کو سمجھایا۔
دیکھیں مسٹر ڈریگن آگر آپ مجھے اس لیئے اپنے ساتھ باہر لے کے جارہے ہیں کے آپ بھی مجھے سمجھائیں گے تو میں آپ کو ایک بات بتا دیتی ہوں کے میں کچھ نہیں سمجھنے والی۔۔۔ میں اپنی ناک میں سوراخ نہیں کروانے والی۔۔۔ اور اگر کسی نے میرے ساتھ زبردستی کی تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ انمول انگلی اٹھائے وارن کیا۔
تم فکر نہیں کرو میں تمہیں کچھ نہیں سمجھاؤں گا۔۔. اب چلو جلدی سے باہر آؤ۔۔۔ ابتسام کہتا باہر نکل گیا۔۔۔ تو انمول کو بھی اسکی بات سن کے تھوڑا سکون ہوا۔
اچھا جی خدا حافظ۔۔۔ انمول سب کو چڑاتی دوپٹہ اوڑھے اتراتی ہوئی باہر نکل گئی ۔۔۔ پیچھے سب اسے دیکھ کے رہ گئے۔۔۔ کہ یہ اچانک ایسا کیا ہوگیا کے انمول کی مخالفت کرنے والا ابتسام آج انمول کی سائڈ لے رہا تھا۔۔۔ یہ واقع ایک حیران کن بات تھی۔۔۔۔ جس پہ سب کا حیران ہونا بنتا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
