Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 4)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 4)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
انکل کوئی ایسا سوٹ دکھائیں جس کا دوپٹہ کسی ہنڈسم سے لڑکے کی گھڑی میں پھنس جائے۔۔۔۔ انمول دوکان میں داخل ہوتی دکاندار سے بولی تو دکاندار سمیت وہاں موجود باقی لوگوں نے بھی حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھا۔۔۔ جب کے میشا نے اپنا سر پیٹا۔۔۔ اس لڑکی سے کہیں بھی کسی بھی بات کی امید کی جا سکتی تھی۔۔
یہ مزاق کر رہی ہے انکل ۔۔۔۔ آپ دکھائیں نا کوئی اچھا سا سوٹ۔۔۔ میشا نے بات سنبھالی۔
نہیں میں مزاق نہیں کر رہی۔۔۔ انمول نے سیریس انداز میں کہا۔
انو چپ ہوجاؤ۔۔۔۔ کیوں خود کو سب کی نظروں میں پاگل ثابت کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔ میشا نے اسکا بازو پکڑتے اسے آنکھیں دیکھا کے باز رکھنا چاہا۔۔۔۔ تو انمول بھی برا سا منہ بناتی خاموشی سے پوری دکان میں نظریں دوڑانے لگی۔۔۔ اور پھر جو اسنے دکاندار کی ناک میں دم کیا پھر تو مشی بھی اسے روک نا پائی۔
تم بہت بدتمیز ہو مشی۔۔۔ کیا ہوجاتا اگر میں چیک کر کے ڈوپٹہ لے لیتی ۔۔۔ کیا پتہ میرا ڈوپٹہ بھی کسی کی کھڑی میں اٹک جاتا۔۔۔ دکان سے نکلتے ہی انمول حسرت بھرے لہجے میں بولی۔
جب تم اکیلے آؤ نا تو یہ شوق بھی پورا کر لینا۔۔۔ لیکن میرے ساتھ اپنی ان فضول حرکتوں پر زرا کنٹرول کیا کرو۔۔۔۔ وہ دونوں باتیں کرتی آگے بڑھ رہی تھی کے ایک دم انمول کا دوپٹہ کسی چیز سے اٹکا جس کی وجہ سے ایک دم اسکی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
آہ ه ه۔۔۔ وہ ایک دم جھٹکے سے مڑی تو اپنا دوپٹہ ایک خوبرو نوجوان کی گھڑی میں اٹکا ہوا دیکھ آنکھیں حیرت کے مارے پھیل گئیں ۔۔۔ اسکی حسرت ایسے پوری ہوگی یہ تو اسنے سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔ بےیقینی سے یہ منظر دیکھتے جیسے انمول کی تو دل کی مراد پوری ہوگئی تھی جب کے میشا بھی حیرت سے منہ کھولے سب دیکھ رہی تھی۔
سوری پتہ نہیں یہ کیسے اٹک گیا۔۔۔ میں نکال دیتا ہوں۔۔۔ وہ لڑکا غلطی نا ہونے کے باوجود بھی شرمندہ ہوتے بولا۔
ہائے آپ نہیں جانتے آج آپکی گھڑی نے میری چند خواہشوں میں سے ایک خواہش پوری کر دی ہے۔۔۔۔ انمول آنکھیں پٹپٹاتی اس لڑکے کے سامنے آ رکی تو ان سے ناسمجھی سے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔ جس کی بھوری آنکھیں تیخے نقش، درمیانہ قد۔۔۔ وہ چہرے سے اسے کافی معصوم لگی۔۔
اور انمول کی یہی تو خاصیت تھی۔۔۔ وہ دیکھنے میں جتنی معصوم لگتی تھی ۔۔۔ اسکی حرکتیں اتنی ہی خطرناک ہوتی تھیں۔
میں سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں ۔۔۔ وہ لڑکا گھڑی سے دوپٹہ نکالنے کی جدوجہد کرتا ناسمجھی سے پوچھنے لگا۔
میری نا برسوں سے خواہش تھی کے میرا بھی دوپٹہ کسی ہنڈسم سے لڑکے کی گھڑی میں پھنس جائے اور دیکھیں اللہ نے آج میری یہ خواہش بھی پوری کردی۔۔۔ انمول کے چہرے پر خوشی ہی خوشی تھی۔
کیا میں آپ کو ہنڈسم لگتا ہون۔۔۔ وہ تو جیسے سامنے والی کے چہرے میں ہی کھوگیا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں۔۔۔ انمول نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔
وہ لڑکا واقع کسی ہیرو سے کم نہیں تھا۔۔۔ لمبا قد۔۔۔ گندمی رنگت۔۔۔ گھنی داڑھی مونچھوں۔۔۔ سوٹ بوٹ پہنے وہ کسی کا بھی دل دھڑکانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
انو ہمیں چلنا چاہیئے۔۔۔ اور سوری یہ پتہ نہیں کیا کیا بولتی رہتی ہے۔۔۔ خاموش کھڑی میشا آخر بول پڑی اور آگے بڑھ کے ڈوپٹہ گھڑی کے لاک سے کھینچ کے نکالا جس کی وجہ سے دوپٹہ میں سوراخ ہوگیا۔
ہاں مشی کی بچی یہ کیا کیا تم نے۔۔۔ وہ سوراخ میشا کو دیکھاتے چیخی۔
پاگل ہوگئی ہو آہستہ بولو لوگ متوجہ ہو رہے ہیں ہماری طرف۔۔۔ میشا نے فورن اسکے منہ پر ہاتھ رکھا۔
اور تم نے جو میرے فیوریٹ سوٹ کا دوپٹہ پھاڑ دیا اسکا کیا۔۔۔ اب کے وہ ماتھے پر بل ڈالے دبا دبا چیخی۔
اب جو ہونا تھا وہ ہوگا چلوں یہاں سے دائم بھائی فوڈ کورٹ میں ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔ میشا اسکا ہاتھ پکڑے اپنے ساتھ گھسیٹتی ہوئی لے جانے لگی
ایک منٹ رکو۔۔۔ انمول کے کہنے پر میشا کے قدموں کو بریک لگی۔
ہیلو مسٹر ہنڈسم تمہارا نام کیا ہے۔۔۔ انمول پیچھے مڑتی اس لڑکے سے بولی جو اب تک اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
فہد۔۔۔ وہ دلکشی سے مسکرایا۔
اچھا لگا آپ سے مل کے۔۔۔ بائے۔۔۔ میشا کے پکڑ کے لے جانے پر وہ ہاتھ سے بائے کرتی اسکے ساتھ فوڈ کوڈ کی طرف بڑھ گئی جب کے دور تک فہد کی مسکراتی نظروں نے اسکا پیچھا کیا تھا۔
۔ ![]()
![]()
![]()
تیسری سحری مبارک ہو آپ سب کو۔۔۔ انمول فریش سی ڈائنگ ٹیبل پر آتی اپنی کرسی سمبھال چکی تھی۔
آپ کو بھی مبارک ہو بیٹا۔۔۔ پھوپھا نے پیار سے کہا تو وہ مسکرا دی۔
مجھے تو لگتا تھا سحری میں تمہارے چہرے پر بارہ بجتے ہوں گے لیکن تم تو بلکل فریش لگ رہی ہو۔۔۔ حماد نے دلچسپی سے پوچھا۔۔۔۔ ورنہ اسے تو لگتا تھا جتنی وہ کام چور اور السی ہے اسے اٹھانا اتنا آسان کام نہیں ہوگا جب کے وہ ایک بار اسے اٹھا کے اپنا حال دیکھ بھی چکا تھا لیکن ابھی تو وہ بلکل فریش لگ رہی تھی۔
میں سوتی تب میرے چہرے پر بارہ بجتے نا۔۔۔ میں تو ان لوگوں میں سے ہوں جو سحری کر کے سوتے ہیں۔۔۔ وہ انڈے پراٹھے سے بھرپور انصاف کرتی بتانے لگی۔
تو تم ساری رات جاگ کے کرتی کیا ہو۔۔۔ کہیں کوئی چکر وکر تو نہیں چل رہانا۔۔۔ حماد تھوڑا سا آگے جھکتا آخری بات رازداری سے بولا۔۔۔۔ جب کے اتنی آہستہ آواز میں اسنے بولا تھا اس سے دو گناہ زیادہ تیز انمول بولی تھی
استغفراللہ۔۔۔ حماد بھائی کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔۔ آپ کو لگتا ہے میں کسی لڑکے سے چکر چلاوں گی۔۔۔ اور وہ بھی آج کل کے ایلے میلے دھان پان سے لڑکوں سے۔۔۔ ہاں اگر لڑکا سالار سکندر کی طرح ہو تو پھر سوچ سکتی ہوں۔۔۔ اسکی بات پر سحری چھوڑ سب اسے دیکھ رہے تھے جب کے حماد تو گڑبڑا ہی گیا تھا اس کے یوں منہ پھاڑ کے کہنے پر۔
انو کچھ شرم ہے گھر کے بڑوں کے سامنے کیسے منہ بھاڑ کے کسی غیر مرد کے ساتھ چکر چلانے کی باد کر رہی ہوں۔۔۔ شرم حیا کچھ ہے یا سب بیچ دی۔۔۔۔ شگفتہ بیگم کو تو غصہ ہی آگیا تھا اسکی بےشرمی پر۔
وہ ماں جی شرم حیا نا تو مجھے کل تھی اور نا آگے کبھی ہو گی۔۔۔۔ وہ بھی برا منائے بغیر دانت نکالنے لگی۔
انو تمم۔
ایک منٹ۔۔۔ انو بیٹا یہ سالار سکندر کون ہے اور اگر وہ تمہیں پسند ہے تو تم ہمیں بتا سکتی ہوں ہم خود تمہارا باقائدہ رشتہ لے کے جائیں گے۔۔۔ شگفتہ بیگم ابھی اسے اور باتیں سنانے ہی لگی تھی جب بابا نے انہیں روک کے بہت شفقت سے انمول سے سالار کے بارے میں پوچھا تھا۔
وہ ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے سب کے چہروں پر پریشانی اور بےیقینی دیکھ چکے تھے۔۔۔ وہ نہیں چاہتے تھے کے کوئی بھی انکی بیٹی کے بارے میں کچھ برا سوچے اس لیئے وہ خود ہی اس سے پوچھ رہے تھے۔۔۔ جب کے میشا تو چہرا جھکائے مسکراہٹ روکے اپنی سحری کی طرف متوجہ تھی۔
ہائے بابا آپ کبھی میرا رشتہ اس کے پاس لے کے نہیں جا سکتے۔۔۔ ایک تو وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور۔۔۔۔۔
کیا مطلب تمہیں ایک شادی شدہ آدمی پسند ہے۔۔۔ اسکی بات پوری نا ہوئی تھی جب حماد نے اچھمبے سے اسے دیکھتے پوچھا۔۔۔۔ جب کے اسکی بات سنتے تو بابا بھی پریشان ہوگئے تھے۔
وہ شادی شدہ ہونے کے بعد بھی صرف مجھے ہی نہیں بلکے شاید ناول پڑھنے والی ہر لڑکی کو ہی پسند هوگا۔۔۔ بہت سی لڑکیاں اس جیسے لڑکے کے خواب دیکھتی ہوں گی۔۔۔ لیکن ہائے وہ تو جیسے ہماری حسرت ہی رہے گا۔۔۔ وہ بولے جارہی تھی جب کے سب ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے وہ کیا کہہ رہی تھی کس کے بارے میں بات کر رہی تھی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ آپ سب لوگ اتنے پریشان نا ہوں سالار سکندر صرف ایک ناول کا کریکٹر ہے۔۔۔ سب کی پریشان شکل دیکھ میشا قہقہہ لگاتی بتانے لگی تو سب نے سکون کا سانس لیا۔
کیا ناول کا کریکٹر۔۔۔۔ مطلب حد ہوتی ہے یار آفسردہ تو ایسے ہو رہی تھیں جیسے وہ سچ مچ میں ہو۔۔۔۔ حماد نے سر جھٹکا۔
آپ کو نہیں پتہ ہمارے لیئے تو وہ سچ مچ میں ہی ہے۔۔۔۔ ہم ناول کی دیوانیاں تو اسے اپنی دل کی آنکھوں سے دیکھ سکتی ہیں۔۔۔ وہ آہ بھرتے ہوئے بولی تو اسکے انداز پر سب مکسرا اٹھے۔
بیٹا اب سحری کرلو وقت بہت کم بچا ہے۔۔۔ چچی نے اسکی توجہ سحری کی طرف دلائی تو وہ بھی جلدی جلدی کھانے لگی۔
۔![]()
![]()
![]()
مشی جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ وہ آنے ہی والا ہوگا۔۔۔۔ انمول غباروں میں رنگ بھر کے مشی کو دیتی جا رہی تھی جو ان میں پانی بھر کے گٹھا لگا رہی تھی۔
دوپہر کے وقت دونوں انمول کے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھی یہ کاروائی سر انجام دے رہی تھیں۔
انو یار ایسا نہیں کر۔۔۔۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔ انکا روزہ ہوگا۔۔۔ مشی نے بےچارے دائم کی حالت کا سوچتے ترس کھایا تھا۔
ہاں تو میں کون سا یہ غبارے اسکے منہ میں پھوڑوں گی جو اسکا روزہ ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔ اور تمہیں اسکا ہمدرد بنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وہ اتنا بھی اچھا نہیں ہے اب۔۔۔ میں نے گھر آنے کا کہاں تو کیسے کہہ دیا کے میرا روزہ ہے اور اتنی گرمی میں میں گھر سے باہر نہیں نکلتا۔۔۔ کیسا ٹکا سا جواب دیا تھا مجھے یانی اپنی بیسٹ فرینڈ کو۔۔۔ اب دیکھوں میں کیسے اسے گرمی میں ٹھنڈے پانی سے نہلاتی ہوں۔۔۔ اچھا ہے مجھے ثواب بھی ملے گا۔۔۔۔ جتنی تیزی سے اسکی زبان چل رہی تھی اتنی ہی تیزی سے وہ ہاتھ میں چلا رہی تھی۔
میشا نے بالٹی بھر کے پانی کے غباروں کو دیکھا اور پھر افسوس سے سر دائیں بائیں ہلایا۔
شاباش۔۔۔۔ یہ سارے ہوگئے ۔۔۔۔ اب بس یاد رکھنا وہ جیسے ہی اندر آئے بغیر رکے تمہیں میرا ساتھ دیتے پوری طاقت سے اسے مارنے میں ۔۔۔ وہ دونوں تھوڑی دیر میں ہی سارے غبارے پھلاکے تیار کر چکیں تھی اب بس دائم کے آنے کا نتظار تھا۔
انو میں ابھی بھی کہتی ہوں۔۔۔ وقت ہے سمبھل جاؤ ایسا نہیں کروں.۔۔۔ میشا نے ایک بار پھر سمجھانے کی ناکام کوشش کی تھی۔
اب اگر تم کام کے علاوہ کچھ بولیں تو میں تم پر ہی یہ پوری بالٹی خالی کر دوں گی۔۔۔ انمول نے اسے گھور کے دھمکی دی جو کافی کار آمد ثابت ہوئی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد مین دروازہ کھولتے ابھی کوئی اندر آیا ہی تھا کہ انمول تین تک گنتی۔۔۔ شروع ہوگئی تو مجبوراً میشا کو بھی شروع ہونا بڑا۔
وہ دونوں بغیر رکے ایک کے بعد ایک بڑی پھرتی سے غباروں کی برسات کر رہی تھیں جب کے وہ پانی میں نہایا ہوا اس اچانک ہونے والے حملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
مزا آیا اب کرو گے مجھے انکار۔۔۔۔ آخری غباروں بھی اس کی طرف پھیکتے انمول مزے سے بولی۔
ارے یہ ٹریفک لائٹ بن کے کون کھڑا ہوا ہے۔۔۔ دائم دروازے سے اندر داخل ہوتا اسکی طرف پشت کیئے کھڑے شخص کو دیکھ پوچھنے لگا۔
تم !!!!! اگر تم یہاں ہو تو یہ کون ہے۔۔۔۔۔ ان دونوں کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔
واٹ دا۔۔۔۔۔۔ اسکا روزہ تھا جس وجہ سے وہ اپنا غصہ ضبط کرتا بولتے بولتے رکھ گیا۔
کس نے کیا ہے یہ۔۔۔۔ وہ کافی ضبط کرنے کے باوجود اپنی دھاڑ کو نا روک سکا اور چہرہ اٹھا کے اوپر کھڑکی کی طرف دیکھا جہاں وہ دونوں کھڑی تھیں۔
ابتسام بھائی۔۔۔۔ میشا کی تو اسے دیکھ سانس ہی رک گئی تھی۔
مسٹر ڈریگن۔۔۔۔ میشا کی نسبت انمول کی آواز کافی اونچی تھی۔۔۔
خود کے لیئے مسٹر ڈریگن نام سن اسکی انکھیں لال سرخ ہوئیں تھیں۔
ارے ابتسام تم کب آئے اور یہ لال پیلی ہری ٹریفک لائٹ بن کے کیوں کھڑے ہو۔۔۔ دائم اسے ناسمجھی سے دیکھ پوچھنے لگا۔۔۔۔ جس کی وائٹ شرٹ رنگ کی وجہ سے لال پیلی ہو رہی تھی۔۔
یہ تم ان سے پوچھو۔۔۔ وہ غصے سے بولا۔
اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ آپ بغیر بتائے آئے ہیں۔۔۔ آپ کو بتا کے آنا چاہیئے تھا۔۔۔ ہمیں کیا پتہ تھا آپ بیچ میں آ جائیں. گے ہم نے تو یہ دائم کے لیئے کیا تھا اب آپ میرے حملے کی زد میں آگئے اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔۔ انمول اپنی غلطی مان لے ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا۔
اس کی ڈھٹائی دیکھ وہ اپنا غصہ قابو کرتا بیگ لیئے اندر بڑھ گیا۔۔۔۔ وہ وہاں رکھ کے اسے کچھ الٹا سیدھا بول کے اپنا روزہ خراب نہیں کر سکتا تھا۔
تم مجھے ان رنگ برنگی پانی سے نہلانے والی تھیں۔۔۔ دائم کا منہ کھلا تھا۔
ہاں۔۔۔ اور اب کوئی سوال نہیں کرنا اندر جاؤں اور دیکھو مسٹر ڈریگن کو۔۔۔ ہم بھی نیچے آتے ہیں۔۔۔ انمول دائم کو جواب دیتی پریشان کھڑی میشا کا ہاتھ کپڑے اندر بڑھ گئی۔
میشا کو تو اپنے بھائی کی ہی فکر لگی ہوئی تھی ایک تو وہ اتنے سال بعد گھر آیا تھا اور اسکا ویلکم ایسے کیا جائے گا یہ تو اسنے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ وہ اپنے بھائی کے غصے سے اچھے سے واقف تھی۔۔۔ نا جانے اب نیچے جا کے کیا ہونے والا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
