Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 11)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 11)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
اتنی تیار شیار ہو کے کہاں جانے کی تیاری ہے۔۔۔ آج اتوار کا دن تھا تو سب ہی لاؤنچ میں بیٹھے نکاح کی تقریب کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے جب انمول کو تیار ہوئے نیچے آتے دیکھ حماد نے شرارت سے پوچھا۔
شوپنگ پہ۔۔۔ پونی ٹیل میں قید بالوں کو اسنے ایک ادا سے پیچھے جھٹکا۔
اکیلے اکیلے۔۔۔ حماد نے پھر سے چھیڑا۔
نہیں پوری سوسائٹی ساتھ جارہی ہے۔۔۔ اسنے سیریس انداز میں کہا تو سب مسکرا اٹھے۔
اچھا بابا میں جارہی ہوں فہد باہر آگیا ہے۔۔۔ فون پر فہد کا میسج دیکھ اسنے بلال صاحب کو بتایا۔۔۔. تو انہوں نے ہاں میں سر ہلادیا۔
انو تمیز سے بات کرو وہ ہونے والا شوہر ہے تمہارا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے اسکے “آگیا” پہ ٹوکا۔
اففف ہو ایک تو یہ تمیز،،، ایک بار میرے ہاتھ لگ جائے، ساری ہڈیاں پسلیاں توڑ کے دفن کر آؤ گی۔۔۔ پھر دیکھتی ہوں کیسے آپ مجھے تمیز سے بات کرنے کا بولتی ہیں۔۔۔ نا وہ زندہ ہوگا نا میں اس سے بات کروں گی۔۔۔ وہ جھنجھلا کے بولی۔۔۔
اسکی بات سنتے شگفتہ بیگم نے غصے سے دانت پیسے ۔۔۔ انہیں سمجھ نہیں آیا کہ وہ اس لڑکی کا کیا کریں۔۔۔ دل تو چاہ رہا تھا ابھی رکھ کے دو تھپڑ لگائیں لیکن جانتی تھی۔۔۔ یہ لڑکی تھپڑوں سے بھی سدھرنے والی نہیں ہے اس لیئے خاموش ہی رہیں۔
اچھا بابا آپ لوگ ابھی دائم کے گھر نکاح کا پیغام دینے نہیں جائے گا میں آجاؤ پھر میں بھی ساتھ چلوں گی۔۔۔ انمول باہر جاتے جاتے رک کے بولی۔
دلہن خود نہیں جاتی اپنی شادی کا پیغام دینے۔۔۔ میشا نے اسے شرم دلانی چاہی۔
مشی ڈارلنگ یہ کس کتاب میں لگا ہے۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے فل بہس کے موڈ میں تھی۔
اسے بہس کے موڈ میں آتا دیکھ آخر بلال صاحب کو بولنا پڑا۔
بیٹا فہد باہر انتظار کر رہا ہے آپ کا۔۔۔ ایسے اچھا نہیں لگتا اسے انتظار کروانا۔۔۔
اففف میں تو بھول ہی گئی تھی کہ وہ باہر آگیا ہے اوکے اللہ حافظ اور جائے گا نہیں میں ساتھ جاؤ ں گی دائم کے گھر۔۔۔ انمول جلدی سے سر پر ہاتھ مارتی انہیں ایک بار پھر یاد کرواتی باہر نکل گئی۔
پاگل ہے بلکل ۔۔۔۔ حماد نے مسکرا کے سر جھٹکا۔
یہ چلی جائے گی تو گھر بلکل سونا سونا ہوجائے گا۔۔۔ چچی نے آفسردگی سے کہا۔
میں سوچ رہا ہوں کیوں نا ہم انو کے ساتھ ساتھ میشا اور حماد کا بھی نکاح کر دیں۔۔۔ اور رخصتی بعد میں ہوجائے گی۔۔۔ پھوپھا جان نےسب کو دیکھ اپنی رائے کا اظہار کیا۔
حماد نے سامنے بیٹھی میشا کو شوخ نظروں سے اپنے حصار میں لیا تو وہ گھبراتی شرماتی اٹھ کے اپنی کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
اتنی جلدی بھی کیا ہے پھوپھا جب انو کی شادی ہوگی جب ہی میشا کی شادی بھی کردیں گے ۔۔۔ ابتسام کی بات سنتے حماد کا منہ لٹکا۔
اتنی جلدی بھی نہیں ہے اور میں تو کہتا ہوں بھابھی اب آپ ابتسام کے لیئے بھی کوئی لڑکی ڈھونڈ لیں۔۔۔ پھوپھا نے بات کے آخر میں نسرین بیگم (چچی) کو مخاطب کیا۔
میں تو کب سے اس کے پیچھے پڑی ہوں لیکن یہ مان ہی نہیں رہا ۔۔۔ نسرین بیگم نے مسکرا کے بتایا۔
کیوں بھئی کیوں نہیں مان رہے ہو۔۔۔ حماد ابتسام کے کندھے پر ہاتھ رکھتا مسنوعی سختی سے پوچھنے لگا۔
پہلے میں اپنا بزنس اسٹبلش کرنا چاہتا ہوں پھر اسکے بعد شادی کے بارے میں سوچوں گا۔۔۔ اور آپ لوگ بھی ابھی فلحال میری اور میشا کی شادی کو چھوڑ کے انمول کے نکاح کی تیاری کریں زیادہ دن نہیں ہیں اس میں۔۔۔ فون پر ایک ضروری کال آتے دیکھ ابتسام اٹھ کے باہر چل دیا۔۔۔ جب کے میشا کی ابھی شادی سے منا کرنے پر حماد بدمزا ہوا۔
اونہہ خود تو شادی کرنا نہیں چاہتا اور جو کرنا چاہتا ہے اسکی بھی نہیں ہونے دے رہا۔۔۔ وہ برا سا منہ بنا کے بڑبڑایا۔۔۔ لیکن اسکے بڑبڑانے کی آواز اتنی تیز تھی کہ وہاں موجود سب لوگوں نے اپنی ہنسی روکی تھی۔
![]()
![]()
۔
یہ کیسا ہے۔۔۔ انمول نے ایک بہت لائٹ کام کی مہرون فراک اسکے سامنے کی تھی۔
بہت اچھی ہے اور تمہارے اوپر تو اور بھی اچھی لگے گی۔۔۔ فہد دلکشی سے مسکرایا۔
نہیں اب اتنی بھی اچھی نہیں ہے۔۔۔۔ چلو کہیں اور چلکے دیکھتے ہیں۔۔۔ انمول وہ فراک واپس رکھتی دکان سے نکل گئی اور پھر ایسے ہی کوئی سات آٹھ دوکانے دیکھنے کے بعد کہیں جا کے اسے ایک سفید اور لال رک کا غرارہ پسند آیا جو اسنے جھٹ سے لے لیا۔
غرارے کے ساتھ میچنگ چپل، جیولری لیتے وہ لوگ مال سے نکل کے کسی ریسٹورینٹ کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔ کیونکہ افطاری کا وقت ہونے والا تھا۔
ہم یہاں افطاری کریں گے۔۔۔فہد نے ایک سیون اسٹار ریسٹورینٹ کے سامنے گاڑی روکی تو انمول کی ستائش سے آنکھیں گھولیں۔۔۔ اسنے ہمیشہ سے ہی اسے بڑے بڑے ریسٹورینٹ میں جانے کے خواب دیکھے تھے اور آج اسکے سارے خواب حقیقت بن کے سامنے آرہے تھے۔
فہد مسکرا کے گاڈی سے اترا اور اسکی جانب کا دروازے کھولا۔۔۔ تو وہ جلدی سے باہر نکلی۔
فہد اسے اپنے ساتھ ایک کونے کی ٹیبل پر لایا تھا جہاں رش کم تھا۔۔۔ فہد کے کہنے پر انمول کے جو دل میں آیا تھا اسنے وہ منگوایا تھا۔۔۔ اور اب دونوں بیٹھ کے آرڈر کا انتظار کر رہے تھے۔
فہد ان آنٹی کو دیکھو کتنی موٹی اور بڑی عمر کی ہیں لیکن پھر بھی جوان بنے کا شوق چڑھا ہوا ہے۔۔۔ دیکھو تو ذرا کیسے ساڑھی پہن کے آئی ہیں۔۔۔ زرا شرم نہیں ہے۔۔۔ انمول نے بائیں جانب کچھ ٹیبلز چھوڑ کے ایک عورت کو دیکھ کہا۔
اسنے اسکی نظریوں کے تعاقب میں دیکھا تو اسے بھی اس عورت کا لباس اچھا نہیں لگا۔۔۔ جب کے اس ریسٹورنٹ میں زیادہ تر عورتوں نے ایسے ہی لباس پہنے ہوئے تھے۔
تم چھوڑو انہیں ہم اپنی باتیں کرتے ہیں۔۔۔ فہد نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔ کہ اتنی دیر میں انکا آرڈر بھی آ گیا۔
تھوڑی دیر بعد اذان ہوئی تو انہیں نے کھانا شروع کیا۔۔۔۔ انو کھانے سے بھرپور انصاف کر رہی تھی اسے کوئی فرق نہیں پڑھتا تھا کہ وہ کہاں بیٹھی ہے اسے بس اپنے کھانے سے مطلب تھا اور وہ بھر بھر کے کھا رہی تھی جب کے فہد کھا کم اور اسے زیادہ دیکھ رہا تھا جو بلو کلر کے سوٹ میں سر پر دوپٹہ لیئے ہر چیز سے بےنیاز کھانے میں مصروف تھی۔
انو میں ایک منٹ میں آیا۔۔۔ فون پھر کال آتے دیکھ وہ انمول سے کہتا سائڈ پر وہ گیا۔۔۔ انمول کھانے میں مصروف ہاں میں سر ہلاگئی۔۔
وہ اپنے میں ہی لگی تھی جب ساتھ والی ٹیبل سے کچھ لڑکیوں کی آواز اسکے کانوں میں پڑی۔۔۔۔
پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ آجاتے ہیں یہاں۔۔۔ اور اس ہیرو کو تو دیکھو کیسی بہن جی ٹائپ لڑکی کو لئے گھوم رہا ہے۔۔۔
انمول نے گردن موڑ کے اس ٹیبل پر دیکھا جہاں تین لڑکیاں بیٹھی تھیں ۔۔۔ دیکھنے میں ہی امیر زادیاں لگتی تھیں۔۔۔ تینوں کے ہی کپڑے انتہائی بےہودہ تھے۔
دو نے تو انتہائی چست ٹائٹز کے ساتھ سلیو لیس ٹاپ پہنا ہوا تھا اور جس نے انمول پر کمنٹ پاس کیا تھا وہ جینز کے ساتھ شوٹ ٹاپ پہنی ہوئی تھی جس کا اگلا گلہ کافی کہرا تھا۔۔۔ اور پیٹ بھی نظر آرہا تھا۔
انمول نے کافی ناگواریت سے ان لڑکیوں کو دیکھا اور آٹھ کھڑی ہوئی۔
کیا ہوا انو ۔۔۔ فہد بند کرتا وہاں آیا تو اسے کھڑا ہوتا دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگا۔
کچھ نہیں ہوا۔۔۔ تم بل دے دو جب تک میں کسی کی طبیعت صاف کر کے آتی ہوں۔۔۔۔ انمول مسکرا کے کہتی ان لڑکیوں کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔ جب کے فہد تو ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
ارے دیکھو تو بہن جی آئی ہیں۔۔۔ اسے ٹیبل کی طرف آتے دیکھ ایک لڑکی نے استہزا ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
اس لڑکی کی بات سنتے فہد کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔ وہ کچھ کہنے کے لیئے آگے بڑھا جب انمول نے بات شروع کی۔
جی باجی وہ کیا ہے نا آپ سب تو ماشاءاللہ سے اتنی اچھی اتنی حسین۔۔۔(استغفراللہ ان میک اپ کی دکانوں کو کیا کیا بولنا پڑھ رہا ہے) آپ لوگ اتنی پیاری ہو تو سوچا تھوڑی سی آپ لوگوں سے ٹپس لے لوں میں۔۔۔ انمول آنکھیں پٹپٹاتی معصومیت سے بولی۔
جب کے وہ لڑکیاں تو اپنی تعریف سن کے ہواؤں میں اڑ رہی تھیں۔
اگر تم بھی خوبصورت دیکھنا چاہتی ہو تو تمہیں ہماری طرح فیشن کرنا چاہیئے۔۔۔ جینز پہنی لڑکی نے اترا کے کہا تو انمول نے دانت پیسے۔
مطلب مجھے اب اپنی قمیض کے لیئے دو گز نہیں بلکے ایک گز کپڑا لینا ہوگا۔۔۔ دس من کا میک اپ کرنا ہوگیا اور یہ پھٹی پینٹ۔۔۔ ایسی پینٹ سے تو ہمارے گھر میں پوچھا لگتا ہے لیکن کوئی بات نہیں میرے پاس ثابت پینٹ رکھی ہے میں اسے پھاڑ کے ایسی بنا لوں گی۔۔۔ اور بال تو آپ کے چھوٹے چھوٹے سے ہیں لیکن کیا ہے نا میری امی کٹوانے نہیں. دیں گی تو پھر میں بالوں کا کیا کروں۔۔۔ وہ ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے سوچنے لگی جب کے وہ لڑکیاں اسے ہنقوں کی طرف دیکھ رہی تھی مطلب وہ ان کے منہ پر ہی انکی بےغیرتی کر رہی تھی۔
فہد انمول کی بات سنتے گہرا مسکرایا۔۔۔ وہ واقعی کتنی عزت سے بےعزت کرتی تھی۔۔۔ سامنے والے کو۔
ہاں میں ایک کام کروں گی بالوں میں نا ببل چپکا لوں گی پھر امی کٹوانے دیں گی۔۔۔ انمول اپنے ہی ہاتھ پر ہاتھ مارتی جوش سے بولی جیسے خود ہی اپنی بات سے لطف اندوز ہوئی تھی
او ہیلو تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہماری انسلٹ کرنے کی ۔۔۔ پہلی لڑکی بھڑک کے کھڑی ہوتی چیخ کے بولی۔
او ہنہ۔۔۔ یقین کرو میں اونچا نہیں سنتی۔۔۔ انمول کان پہ ہاتھ رکھتی اسکے چیخ نے پر چوٹ کر گئی۔
یو۔۔۔
یو نہیں اے۔۔۔۔ اے فور انمول۔۔۔ انمول اسکی بات کاٹ کے دل جلی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
انو چلیں۔۔۔ لوگوں کو ان کی طرف متوجہ ہوتے دیکھ فہد نے بات ختم کرنا چاہی۔
ہاں چلو۔۔۔ اور ہاں تمہارے لیئے ایک اڈوائس ہے۔۔۔ پلیز تھوڑے پیسے اور دے کے زیادہ کپڑا خرید لینا تاکہ تمہارا خان تو اچھے سے چھپ سکے اور ایک اچھی سے ثابت پینٹ۔۔۔ اچھی لڑکی ہونے کے ناطے یہ میرا فرض بنا ہے تمہیں بتانا کہ ایسے کپڑے پہن کے نا گھوما کرو ورنا لوگ فقیر سمجھ کے تمہیں پیسے دے جائیں گے اور بیچارے فقیروں کا حق مارا جائے گا۔۔۔۔ہممم۔۔۔ انمول خوبصورت سی مسکان سجائے اس لڑکی کو ہقابقا چھوڑ فہد کے ساتھ باہر نکل گئی۔۔۔
ہاہاہاہا انمول کیا چیز ہو تم۔۔۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی فہد کا قہقہہ چھوٹا۔۔
میں چیز نہیں انسان ہوں۔۔۔ اور اب جلدی چلو ایسا نا ہو وہ لڑکی جتنے غصے میں تھی ابھی مجھے مارنے اجائے۔۔۔
تمہیں ڈر لگ رہا ہے کیا اس سے۔۔۔ فہد کو لگا شائد وہ ڈر رہی ہے۔
کوئی مجھے ڈرائے ایسا ابھی کوئی پیدا ہی نہیں ہوا ۔۔۔ انمول نے گردن اکڑا کے کہا تو فہد مسکرا کے نفی میں سر ہلاتے گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔
آج کی شام فہد کے لیئے خوشگوار شاموں میں سے ایک تھی ۔۔۔ انمول کے ساتھ اسے زندگی بہت اچھی لگ رہی تھی وہ بہت خوش تھا۔۔۔ انمول جیسی لڑکی کو اپنی زندگی میں لانے کے لیئے بہت آکسائیڈڈ تھا۔۔۔ ایک نڈر، بہاد، شوخ، چنچل اور زندگی سے بھرپور لڑکی۔۔۔ جس کے ساتھ زندگی گزارنا اب اسکی زندگی کا مقصد بنتا جا رہا تھا۔
اور دوسری طرف انمول فہد کے جزبات سے بےنیاز اپنے خوابوں کے پیچھے تھی۔۔
۔![]()
![]()
![]()
کون۔۔۔ بلال صاحب شگفتہ بیگم اور انمول تینوں ہی اس وقت دائم کے گھر کے دروازے پہ کھڑے تھے جب اندر سے ملازمہ کی آواز آئی۔
میں۔۔۔ انمول نے ہمیشہ کی طرح میں کہا اور ملازمہ نے دروازہ کھول دیا۔
اسلام و علیکم۔۔۔ انمول لاؤنچ میں بیٹھے ظفر صاحب اور مسرت بیگم (دائم کے والدین) کو دیکھ باآواز بلند سلام کرتی اندر آئی۔۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔ آپ لوگ آئیں نا۔۔۔ مسرت بیگم پیچھے بلال صاحب اور شگفتہ بیگم کو بھی اندر آتے دیکھ کھڑی ہوئیں۔
آج یہاں کا راستہ کیسے بھول گئے بلال صاحب۔۔۔ ظفر صاحب نے ان سے گلے ملتے خفگی سے طنز کیا۔
ارے یار بس کام میں مصروف ہوتا ہوں تو ٹائم ہی نہیں ملتا آنے کا۔۔۔ انہوں نے مسکرا کے کہاں۔
آنٹی دائم کہا ہے۔۔۔ انمول نے دائم کو وہاں نا پاکے پوچھا۔
اوپر چھت پہ ہے ۔۔۔ کافی دن سے بہت تھکا تھکا رہنے لگا ہے۔۔۔ جاؤ تم مل لو۔۔۔ مسرت بیگم نے کہا۔۔۔ تو وہ آٹھ کے اوپر کی جانب بڑھ گئی۔
وہ چھت پر آئی تو دائم گرل کے پاس کھڑا ناجانے آسمان پر کیا تلاش کر رہا تھا وہ بغیر آواز پیدا کیئے اسکے پیچھے آکے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ گئی۔
انو۔۔۔ دائم دھیرے سے اسکا نام لیتا ہاتھ ہٹاتے اسکی جانب مڑا۔
اتنی جلدی پہچان گئے ۔۔۔ تھوڑا ٹائم لیتے تو مزہ آتا۔۔۔ انمول منہ بنا کے بولی۔
اب دائم اسے کیا بتاتا کہ وہ تو اسکی خوشبو اسکی آہٹ سے ہی پہچان جاتا ہے۔۔۔۔۔
تم بتاؤ کیسے آنا ہوا۔۔۔۔ دائم نے بات بدلی
صرف میں نہین ماما بابا بھی آئے ہیں۔۔ اور ہم نکاح کا پیغام دینے آئے ہیں۔۔۔ انمول اسکے برابر میں کھڑی ہوتی بتانے لگی۔
ہممم کب ہے۔۔۔ دائم جانتا تھا یہ دن تو آنا ہی ہے اس لیئے وہ پہلے سے ہی تیار تھا۔۔۔ اسنے اپنے دل کو کافی مضبوط بنایا ہوا تھا۔
تین دن بعد۔۔۔ اور پتہ ہے میں آج خود فہد کے ساتھ جا کے نکاح کا سوٹ لائی تھی۔۔۔ انمول خوش ہوکے بتا رہی تھی اور اسکی خوشی دیکھ دائم کے لبوں پہ ایک درد بھری مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔ وہ اسکی خوشی میں خوش تھا لیکن اسکے منہ سے کسی اور کام اسے اچھا نہیں لگا تھا۔
انو اگر فہد کے پاس زیادہ پیسہ نہیں ہوتا تو کیا تب بھی تم اس سے شادی کرتیں۔۔۔ نا جانے کیوں یہ سوال پوچھ رہا تھا۔
ہاں۔۔۔ پیسے کا کیا ہے وہ تو آتا جاتا رہتا ہے۔۔۔ لیکن بندہ ہنڈسم ہونا چاہیئے تاکہ بندہ شوخیاں تو بار سکے۔۔۔۔ انمول آنکھ دبا کے بولی۔
اور میں کیسا ہوں مطلب میں ہنڈسم ہوں یا نہیں۔۔۔ دائم ناجانے کیا سنا چاہتا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں تم بھی اچھے خاصے ہنڈسم ہو۔۔۔ کوئی بھی لڑکی تم پر مر مٹ سکتی ہے۔۔۔ وہ آنکھیں گھمائے شوخی سے بولی ۔
تو پھر تم کیوں نہیں مر مٹیں۔۔۔ اسنے بے ساختہ سوال کیا۔
دائم صاحب ہم کسی پہ نہیں مر مٹتے بلکے لوگ ہم پہ مر مٹتے ہیں۔۔۔ وہ ایک ادا سے بولی تو دائم اسے دیکھ کے رہ گیا۔۔. وہ صحیح تو کہہ رہی تھی۔
اسکا دل فورن بغاوت پر اتر آیا تھا ۔۔۔ بار بار چیخ چیخ کے بول رہا تھا اب بھی وقت ہے انمول کو حاصل کرلو۔۔۔۔ لیکن انمول کے چہرے پر خوشی دیکھ وہ بار بار اپنے دل کو سولا رہا تھا۔۔۔
کیا بات ہے دائم کوئی پریشانی ہے کیا۔۔۔ اسکا بھجا ہوا چہرا دیکھ انمول نے فکر سے پوچھا۔۔۔ وہ اسکا دوست تھا اور اسنے اپنے دوست کو کبھی بھی ایسے نہیں دیکھا تھا۔
نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ اسنے فورن اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش کی۔
پھر تم اتنے پریشان اور بھجے بھجے کیوں لگ رہے ہو۔۔۔ انمول نے ایک بار پھر پوچھا۔
بس یار آفس کی ایک ٹینشن ہے اس لیئے تھوڑا پریشان ہوں۔۔۔ باقی کوئی بات نہیں ہے تو تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اسنے بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
ہممم تم کہتے ہو تو مان لیتی ہوں خیر چلو نیچے چلیں سب انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ پکڑے اسے نیچے لے آئی۔
آپ سب نے آنا ہے ۔۔۔۔ بلال صاحب ظفر صاحب سے کہہ رہے تھے جب انمول نے بھی بات میں حصہ لیا۔
جی انکل آپ سب نے آنا ہے اور دائم تم نے سب سے پہلے آنا ہے بہت سارا کام بھی کروانا ہے۔۔۔۔ آخر کو تم میرے بیسٹ فرینڈ جو ہو۔۔۔ سب سے کہتی آخر میں دائم کو دیکھ مسکرا کے بولی جب کے دائم تو بس اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھ رہا تھا اور دعا کررہا تھا کہ یہ ہاتھ کبھی نا چھوٹے لیکن سب دعائیں کہاں پوری ہوتی ہیں۔
اچھا اب ہم چلتے ہیں چلو انمول۔۔۔ شگفتہ بیگم نے کھڑے ہوتے اجازت چاہی۔
ارے انمول نے تو ابھی کچھ کھایا پیا ہی نہیں ہے۔۔۔ مسرت بیگم نے فورن کہا۔
آنٹی میں کون سی مہمان ہوں۔۔۔ میرا اپنا گھر ہے۔۔۔ ابھی نہیں کھایا تو کیا ہوا بعد میں جب دل کرے گا آکے کھا لوں گی۔۔۔ لیکن ابھی ہم چلتے ہیں ۔۔۔ ابھی گھر جاکے مجھے اپنا نکاح کا سوٹ بھی پہن کے دیکھنا ہے۔۔۔ میں پھر آؤ گی۔۔۔ اوکے۔۔۔ بائے دائم۔۔۔۔ انمول دائم کا ہاتھ چھوڑ اسے ہاتھ ہلا کے بائے کہتی مسرت بیگم اور ظفر صاحب سے پیار اور دعائیں لیتی اپنے والدین کے ساتھ باہر نکل گئی۔
اور دائم اپنے خالی ہاتھ کو دیکھ وہیں سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
