Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 22) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 22) 2nd Last Episode
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
نیا سورج طلوع ہوا۔۔۔ ایک اور خوبصورت دن کا آغاز ہوا۔۔۔ رات مہندی کے فنگشن کے بعد سب کافی تھک گئے تھے۔۔۔ اس لیئے گیارہ بجے تک گھر میں بلکل سناٹا تھا جب اس سناٹے میں انمول مما مما پکاری ہوئی اپنے کمرے سے نکلی ۔۔۔۔ اسکی پکار اتنی تیز تھی کے چند ہی منٹوں میں پورا گھر اٹھ چکا تھا۔
کیا ہوا ہے بیٹا کیوں چیخ رہی ہو۔۔۔ بلال صاحب ہڑبڑا کے کمرے سے نکلے انکے پیچھے شگفتہ بیگم بھی آئیں۔
کیا ہوا ہے انو۔۔۔. سب ٹھیک تو ہے نا بیٹا۔۔۔پھوپھو نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
ہاں انو تم ٹھیک ہو۔۔۔۔ ابتسام بھی فکرمند ہوا۔
سبھی لوگ اسکے اردگرد فکر اور پریشانی سے جما ہوگئے تھے۔۔
ماما یہ دیکھیں۔۔۔ انو رونے والی شکل بنائے شگفتہ بیگم کو اپنا گال دیکھا رہائی تھی جہاں مہندی چھپ چکی تھی۔۔۔ وہ رات کو مہندی لگواتے لگواتے ہی سوگئی تھی۔۔۔ اسکی نیند خراب نا ہو اس لیئے اسے کسی نے جگایا نہیں تھا۔۔۔ تبھی شاید اسنے نیند میں ہی اپنا ہاتھ گال کے نیچے رکھا ہوگا جس کی وجہ سے اسکے گال پہ مہندی چھپ گئی تھی۔۔۔ مہندی کا نشان اتنا گہرا نہیں تھا جتنا انمول نے شور مچا کے سب کو اٹھا یا تھا۔
یہ تو میں بعد میں دیکھ لوں گی پہلے یہ بتاؤ تم چیخ کیوں رہیں تھیں۔۔۔ شگفتہ بیگم اسکا گال نظرانداز کرتی اسکے چیخنے کی وجہ پوچھنے لگیں۔۔۔ انہیں نہیں لگا تھا کہ انمول اتنی سی بات کے لیئے چیخ رہی ہوگی۔
مما یہی تو وجہ ہے۔۔۔ میرے گال پہ مہندی چھپ گئی ہے۔۔۔۔ اب کیا ہوگا میں دلہن کیسے بنوں گی۔۔۔ انمول کو ٹینشن ہونے لگی تھی۔۔۔ جب کے اسکی یہ فضول بات سنتے سب نے سرد آہ بھری تھی۔
انو تم اس وجہ سے چیخ رہی تھیں۔۔۔ شگفتہ بیگم نے دانت پیسے ۔۔۔ مطلب اتنے سے نشان کی وجہ سے جو چلا بھی جاتا اسنے چیخ چیخ کے سب کو اٹھا دیا تھا۔۔۔ انہیں اس وقت اسکی حرکت پہ بےانتہا غصہ آرہا تھا۔
انکے پوچھنے پہ انو نے معصومیت سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔ تو انکا دل چاہا رکھ کے ایک تھپڑ لگائیں اس سے۔
انو یہ نشان میک اپ میں چھپ جائے گا۔۔۔۔ مشی نے بےزاریت سے کہا۔۔۔ جب کے سب لوگ اب آہستہ آہستہ اپنے اپنے کمروں میں فریش ہونے کی غرض سے بڑھ گئے۔۔۔۔ کیونکہ اب سونے کاتو کوئی فائدہ تھا ہی نہیں انو میڈم نے اٹھا جو دیا تھا۔
ہاں یہ تو ہے۔۔۔ لیکن یہ بات میں نے کیوں نہیں سوچی۔۔۔ انو تھوڑی پہ ہاتھ رکھتی پرسوچ انداز میں بولی۔
کیونکہ تمہارے پاس دماغ کی کمی ہے۔۔۔ حماد اسے چھیڑتا اپنے کمرے میں چلا گیا جب کے وہ اسکی پشت گھور کے رہ گئی۔
مسٹر ڈریگن۔۔۔۔ انو سیڑھیاں چڑھتے ابتسام کے پیچھے بھاگی۔
بولو۔۔۔ وہ رک کے اسکی جانب گھوما۔
مشی نے یہ تو بتا دیا کے میک اپ میں مہندی کا نشان چھپ جائے گا لیکن میں بعد میں بھی تو منہ دھوں گی تو کیا آپ کو گال پہ مہندی لگی دلہن قبول ہوگی۔۔۔ انمول کو نئی فکر لاحق ہوگئی تھی۔
تمہیں مہندی کا چھوٹا سا نشان لگے یا پھر بڑا،،، تم کالی ہوجاو یا سانولی، تم بھینس کی طرح موٹی ہو یا تنکے کی طرح سوکھی مجھے ہر حال میں قبول ہو۔۔۔ ابتسام مسکرا کے کہتا رات کے مہندی کے سوٹ میں کھڑی انو پہ ایک بھرپور نظر ڈالتے اوپر بڑھ گیا۔
جب کے انو کو اسکی کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ وہ آخر کہنا کیا چاہتا تھا۔۔۔ بس یہی سوچتے وہ آہستہ آہستہ اوپر بڑھ گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
ارے واہ بیگم صاحبہ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔انو کو پالر سے لانے کے لیئے میشا اور حماد جا رہے تھے۔۔۔ جیسے ہی میشا گاڑی میں بیٹھی حماد نے شوخ لہجے میں کہا۔۔۔ میشا پرپل کلر کی فراک کے ساتھ بالوں کا اونچا جوڑا کیئے جن سے چند لٹیں چہرے پہ جھول رہی تھی ساتھ لاہٹ سے میک اپ اور جیولری میں وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔
شکریہ۔۔۔ میشا نے شرما کے گردن جھکائی۔۔
میرا دل چاہ رہا ہے میں آج ہی اپنی بھی رخصتی کروالوں۔۔۔ حماد نے مزید اسے چھیڑا۔
ابھی تو فلحال آپ خاموشی سے گاڑی چلائیں ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہوچکے ہیں۔۔۔ اسکی باتوں سے گھبراتی مشی باظاہر تو نارمل لہجے میں بولی تھی لیکن اندر سے اسکا دل کافی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
یار میرا دل بےایمان ہو رہا ہے دل چاہ رہا ہے تمہیں یہیں سے سب سے چھپا کے اپنے ساتھ لندن لے جاؤں جہاں صرف تم ہو، میں ہوں اور ہماری محبت۔۔۔ حماد اسکی حالت سے محظوظ ہوتا پھر سے بولا۔
حماد پلیز۔۔۔ میشا شرم سے سرخ پڑتی جھکے سر کو مزید جکاگئی۔
اسکی حالت پہ حماد قہقہہ لگا اٹھا اور پھر میشا کے منا کرنے کے باوجود بھی ہو بیچ بیچ میں اسے چھیڑتا رہا۔
اتنی دیر لگادی کیا دونوں ڈیٹ مارنے چلے گئے تھے۔۔۔ میشا نے انو کو پالر سے لا کے جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا یا انو حماد کو گھور کے بولی۔۔۔ وہ کب سے ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی لیکن انہیں آنے میں کافی دیر ہوگئی تھی۔
یار تمہاری بہن اتنی شرمیلی ہے۔۔۔ یہ کہاں میرے ساتھ ڈیٹ مارنے جائے گی۔۔۔ حماد کے بےچارگی سے کہنے پہ مشی نے اسے گھورا تھا۔
آپ اپنے رونے بعد میں روئے گا اور تم انہیں بعد میں گھور لینا ابھی چلیں۔۔۔ دیر ہو رہی ہے ۔۔۔ آج میری شادی ہے اور میں اپنی شادی پہ لیٹ نہیں ہونا چاہتی۔۔۔ انمول اپنا بھاری لہنگا سیٹ کرتے بولی تو حماد نے گاڑی اسٹاٹ کی وہ واقعی کافی لیٹ ہو چکے تھے۔
۔![]()
![]()
![]()
بارات آنے سے پہلے انمول کا فوٹو شوٹ ہورہا تھا۔۔۔ وہ باری باری سب کے ساتھ تصویریں بنوا رہی تھی۔۔۔ جب اسے ہال میں دائم اپنی فیملی کے ساتھ داخل ہوتا نظر آیا۔۔۔ وہ فوٹوگرافر کو ایک منٹ کہتی ان لوگوں کی جانب بڑھی۔
اتنی دیر لگادی آپ لوگوں نے آنے میں۔۔۔ میں کب سے ویٹ کر رہی تھی۔۔۔ اور دائم تم ، تم تو بہت ہی کوئی بےمروت ہوتے جارہے ہو۔۔۔ کل مہندی کے فنگشن میں بھی زیادہ نظر نہیں آئے اور اب بھی اتنی دیر سے آئے ہو۔۔۔ انمول ناراضگی سے بولی۔
وہ دلہن کے روپ میں اتنی پیار رہی لگ رہی تھی کی دائم اسے نظر بھر کے دیکھنا ہی نہیں چاہتا تھا اسے ڈر تھا کے کہیں اسکی نظر نا لگ جائے انمول کو۔۔۔ اس لیئے ایک نظر دیکھ کے خاموشی سے مسکرا کے نامحسوس انداز میں نظریں پھیر گیا تھا۔
بس بیٹا یہ لیڈیس نے تیار ہونے میں دیر کردی ورنا ہم مرد تو کب سے تیار تھے۔۔۔ ظفر صاحب (دائم کے بابا) نے مسکرا کے کہا تو وہ ہنس دی۔
چلیں اب آئیں تصویریں بنواتے ہیں۔۔۔ انمول سب کو اپنے ساتھ لیئے آگے بڑھی۔۔
انکل ایک ہم دونوں کی بھی اچھی سی تصویر لے گا۔۔ یہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے تو تصویر بہت اچھی آنی چاہیئے۔۔۔ سب تصویر بنوا کے فارغ ہوئے جب انو نے دائم کو روکتے فوٹوگرافر سے کہا۔۔۔ تو فوٹوگرافر نے دونوں کی تصویر لی۔
کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔۔ انمول اسکے سامنے آتی اسے اپنا لہنگا لہرا کے پوچھنے لگی۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ دائم نے مسکرا کے تعریف کی تو وہ کھل اٹھی۔۔۔ لیکن یہ تو دائم کا دل ہی جانتا تھا کے اس نے کس طرح سے کہا ہے۔۔۔ اپنے محبوب کو کسی اور کے نام کا ہار سنگھار کیئے دیکھ کتنا درد ہوتا ہے یہ دائم کو آج پتہ چلا تھا۔
ماہی چلو اب تم دائم کے ساتھ تصویر بنواو۔۔۔ انو نے پاس کھڑی ماہی کو پکڑ کے دائم کے ساتھ کھڑا کیا۔
نہ نہیں اسکی کیا ضرورت ہے۔۔۔ ماہی نے ہچکچاتے ہوئے انکار کیا۔
چلو مان لیا تمہیں ضرورت نہیں ہے لیکن دائم کو تو ہوگی نا۔۔۔ اس بیچارے کے کتنے ارمان ہوں گے اپنی منگیتر کے ساتھ تصویر بنوانے کے تم اسکے ارمان توڑ نہیں سکتیں۔۔. کیوں دائم۔۔۔ انمول ڈرامائی انداز میں کہتی دائم کو بھی اپنی بات میں گھسیٹ چکی تھی۔
ہممم۔۔۔ دائم نے نقلی مسکراہٹ کے ساتھ ہنکارہ بھرا۔۔۔ اور کچھ تھا ہی نہیں اس کے پاس کہنے کو۔۔۔
ماہی نے مسکرا کے اسکے مسکراتے چہرے کو دیکھا۔۔۔ وہ کافی ہنڈسم تھا اس میں کوئی شک نہیں تھا۔۔۔ جب سے انکے رشتے کی بات چلی تھی جب سے ہی ماہی کے دل میں اسکا ایک الگ مقام بن گیا تھا۔۔۔ پہلے جب اسے انمول کے نکاح کا پتہ نہیں تھا تو اسے انمول کا دائم کے ساتھ فری ہونا اچھا نہیں لگاتا تھا۔۔۔ لیکن جب سے اسنے خود انمول کو ابتسام کے ساتھ خوش دیکھا تھا اسکے دل کو ایک الگ ہی سکون مل گیا تھا اور پھر جب دائم نے اس سے شادی کے لیئے ہامی بھری تھی تب سے ہی اسکے دل کا ہر شک و شبہہ ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔
دائم اور ماہی کی تصویر بنی ویسے ہی بارات آنے کا شور اٹھ گیا۔۔۔ یو تو بارات ایک ہی گھر سے آرہی تھی لیکن انو اور اسکے والدین پہلے سے آگئے تھے۔۔۔ مشی اور حماد انو کو ہال میں چھوڑ کے واپس چلے گئے تھے آخر مشی کے اکلوتے بھائی کی شادی تھی تو وہ بارات کے ساتھ آنے والی تھی۔
بارات آتے ہی انو فورن اسٹیج پہ چڑھ کے بیٹھ گئی تھی۔۔۔ باہر سے ڈھول باجوں کی آواز آرہی تھی۔۔۔ اسکا دل تو بہت چاہ رہا تھا کے دروازے پہ جا کے دیکھ لے لیکن پھر اسے اپنے بابا کی بات یاد آگئی انہوں نے کہا تھا کے بیٹا آج کوئی ایسی حرکت نہیں کرنا جس سے تمہاری ماما غصہ ہوں۔۔۔ انکی بات سنتے اسنے بہت پیار سے پوچھا تھا کہ کیا آپ بھی میری شرارتوں سے تنگ ہوتے ہیں جس پہ اسکے بابا نے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے اسے اپنے ساتھ لگا کے پیار سے کہا تھا کہ جب سے وہ انکی زندگی میں آئی ہے تب سے وہ پرسکون ہوگئے ہیں اور اسکی ماں بھی اس سے تنگ نہیں ہوتی بس ڈرتی ہے کہ لوگ اسکی بیٹی کے بارے میں کوئی الٹی سیدھی بات نا کریں اس لیئے اسے اچھے سے رہنے کا کہتی ہیں۔۔۔
اپنے بابا کی بات یاد کرتے وہ دھیرے سے مسکراتی اپنے دل پہ قابو کرتے وہیں بیٹھی رہی۔
بارات کا ویلکم کافی اچھے سے کیا گیا تھا۔۔۔ نکاح ہو چکا تھا جس وجہ سے دلہے کے اوپر گلاب کی پتیاں نچھاور کرتے اسے اسٹیج تک لایا جارہا تھا۔۔۔
انمول نے گھونگھٹ نکالنے کی زحمت نہیں کری تھی جس سے ابتسام کی نظریں اسکے حسین چہرے پہ ٹک گئیں تھی۔۔۔ آج ابتسام کے دل نے سرگوشی کی تھی کہ تمہیں محبت ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔ اور وہ یہ بات جانتا تھا اسے محبت ہوگئی ہے۔
رکیں۔۔۔ ابتسام کو اسٹیج پہ چڑھتے دیکھ انو نے فورن کھڑے ہوتے اسے اسٹیج پہ چڑھنے سے روکا۔
کیا ہوا بیٹا۔۔۔ چچی نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
دلہن کو اس طرح کھڑے ہوتے دیکھ سب ہی لوگ اسکی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔۔۔ شگفتہ بیگم کے چہرے پہ الگ پریشانی تھی۔۔ نا جانے اب انکی بیٹی کے دماغ میں کون سی نئی شرارت آئی تھی۔
چچی جیسے دلہا دلہن کو ہاتھ دے کے اسٹیج پہ چڑھنے میں مدد دیتا ہے نا یہاں بھی ویسا ہی ہوگا بس تھوڑا سا الٹا کردیں۔۔۔ انمول شریر مسکراہٹ سجائے بولی۔
مطلب۔۔۔ حماد جو ابتسام کے پیچھے کھڑا تھا پوچھے بغیر نا رہ پایا۔
مطلب یہ کہ دلہن تو اسٹیج پہ ہی ہے تو اب دلہن دلہے کو ہاتھ دے کے اسٹیج پہ چڑھنے میں مدد کرے گی کیسا۔۔۔ انمول نے پرجوش انداز میں کہا تو ابتسام کے ہاتھ نے بےساختہ ماتھا پیٹا مطلب اسے دلہن بن کے بھی سکون نہیں تھا۔۔۔ جب کے اسکی بات سنتے ہال میں سب کا قہقہہ گھونجا تھا۔
واہ بہت اچھا آئیڈیا ہے۔۔۔ حماد بھی اسی کے انداز میں بولا۔
ہمم آخری شادی کس کی ہے۔۔۔ لوگوں کو یاد تو رہنا چاہیئے نا کے انمول کی شادی میں کچھ نیا ہوا تھا۔۔۔ چلیں مسٹر ڈریگن ہاتھ دیں۔۔۔ انمول گردن اکڑا کے کہتی اسکے سامنے اپنا نازک سا ہاتھ پھیلا گئ۔
انو۔۔۔۔
مما پلیز میری ایک ہی تو شادی ہو رہی ہے مجھے اپنی ساری خواہشات پوری تو کرنے دیں۔۔۔ شگفتہ بیگم کی بات کاٹتی وہ معصومیت سے بولی تو وہ چپ ہوگئیں۔
چلو بیٹا جلدی کرو دیر ہو رہی ہے۔۔۔ نسرین بیگم نے ابتسام کو ویسے ہی کھڑے دیکھ کہا تو ابتسام نفی میں سر ہلاتا انمول کے مہندی سے سجے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا۔۔. جس کے ساتھ سب نے ہوٹنگ کی تھی۔
وہ دونوں ساتھ بیٹھے چاند سورج کی جوڑی لگ رہے تھے ۔۔۔ نسرین بیگم تو اپنی بہو اور بیٹے کی بار بار نظر اتار رہی تھیں۔۔۔
دائم دور سے کھڑا دونوں کو ساتھ بیٹھے دیکھ رہا تھا۔۔. دونوں کے چہروں پہ خوشی تھی، مسکراہٹ تھی۔۔۔ دائم نے دل سے ان دونوں کے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا کی تھی۔
کچھ ہی دیر میں کھانا کھل گیا تھا۔۔۔ سب نے کھانا اچھے سے کھایا تھا۔۔. جب کے انمول نے تو آج بھی اپنے دلہن ہونے کا لحاظ نہیں کیا تھا۔
کھانے سے فارغ ہوتے ہی رخصتی کا شور اٹھا ۔۔۔ ویسے تو وہ رخصت ہو کے اسی گھر میں آنے والی تھی لیکن پھر بھی اسکے ماں باپ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔
آج آنسو تو دائم کی آنکھوں میں بھی تھے جسے وہ سب سے چھپائے کھڑا تھا ۔۔۔ اسنے محبت کی تھی۔۔۔ اور محبت کبھی بھلائے نہیں بھولتی۔۔۔ اسنے بہت کوشش کی تھی انمول سے کی محبت کو بھولنے کی لیکن محبت جب کسی کو ایک بار ہو جاتی ہے تو پھر وہ مرتے دم تک ساتھ نہیں چھوڑتی۔
مما بابا آپ تو ایسے رو رہے ہیں جیسے میں شادی کر کے سات سمندر پار جا رہی ہوں بس ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں تو جارہی ہوں۔۔۔ انمول اپنے بابا کے سینے سے لگتی پیار سے بولی۔
جب بیٹی کی شادی ہوجاتی ہی نا تو پھر وہ سات سمندر پار جائے یا ایک کمرے سے نکل کے دوسرے کمرے میں لیکن والدین کے لیئے پرائی ہو جاتی ہے۔۔۔۔ اسکے بابا نے سمجھایا۔
جی نہیں میں آج بھی آپ کی بیٹی ہوں اور کل بھی آپ کی بیٹی رہوں گی۔۔۔ میں کوئی پرائی ورائی نہیں ہوئی۔۔۔ کافی ضبط کرنے کے باوجود وہ رودی تھی۔۔۔ آج اسے پہلی بار روتے دیکھ سب کی انکھوں چھلک آٹھی تھیں۔۔۔
اسکی ماں نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگا کے چپ کروایا اور گاڑی میں بیٹھا کے ابتسام کے ساتھ ایک نئی منزل کی طرف روانہ کردیا۔
۔![]()
![]()
![]()
گھر آنے کے بعد انمول کا استقبال کافی اچھے سے ہوا تھا۔۔. شگفتہ بیگم اور بلال صاحب بھی گھر آگئے تھے۔۔۔
چلیں بھائی پہلے پیسے دیں پھر اندر جائے گا۔۔۔ مشی نے ان دونوں کو دروازے پہ ہی روک لیا تھا۔
یار مشی تمہیں اپنے بھائی سے پیسے لینے ہیں تو انہیں ہی کھڑا کرو میں بہت تھک گئی ہوں مجھے اندر جانے دو۔۔۔ انمول مشی کو سائڈ کرتے بولی۔
نا جی نا پہلے پیسے پھر اندر جانے دوں گی۔۔۔ مشی نے فورن ہاتھ کھڑے کیئے۔
اب آپ کیا ہماری شکل دیکھ رہے ہیں جلدی سے پیسے دیں ۔۔۔ میں کھڑے کھڑے تھک گئی ہوں۔۔۔ انمول نے ابتسام کا بازو جھنجھوڑ کے کہا تو اسنے پیسے نکال کے مشی کو تھمائے جس پہ اسنے خوش ہوتے انکا راستہ چھوڑ دیا۔
وہ اور ابتسام ساتھ ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی تازہ گلاب کی خوشبو انکے حواسوں پہ سوار ہوئی۔
انمول تو تیزی سے چلتی بیڈ پہ لہنگا پھیلا کے بیٹھ گئی تھی۔۔۔ ابتسام شیروانی اتارتا الماری سے لال مخملی ڈبیہ لیئے بیڈ پہ اسکے سامنے آکے بیٹھا۔
یہ لو تمہاری منہ دیکھائی۔۔۔ ابتسام نے سب سے پہلے اسکے سامنے ڈبیا کھول کے کی۔
انمول کی نظریں جیسے ہی ہیرے کی انگوٹھی پہ پڑی اسکی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔۔
یہ ہیرے کی ہے۔۔۔ اسنے خوبصورت چمکتی ہوئی انگوٹھی دیکھنے کنفورم کرنا چاہا۔۔۔ تو ابتسام نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔
ہائے آپ نہیں جانتے میرا خواب تھا کہ میرے پاس بھی ہیرے کی انگوٹھی ہو۔۔۔۔ چلیں اب جلدی سے پہنادیں۔۔۔ انمول نے ہاتھ آگے کیا تو اسنے اسکی نازک سی انگلی میں انگوٹھی پہنادی۔
اس سے پہلے انمول اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالتی ابتسام نے اسکے ہاتھ پہ اپنے لب رکھ دیئے جس سے وہ اچھی خاصی نروس ہوگئی۔
کافی پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ ابتسام نے گھمبیر آواز میں اسکی تعریف کی۔
مسٹر ڈریگن آج آپکے منہ سے آگ کی جگہ پھول کیوں برس رہے ہیں۔۔۔ انمول نے مسنوعی حیرت سے پوچھا۔
آج تم کچھ بھی بولو مجھے بلکل برا نہیں لگے گا۔۔۔ کیونکہ آج ہماری زندگی کی نئی شروعات ہونے جارہی ہے۔۔۔ اس لیئے میں آج کی رات بحث کر کے برباد نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ابتسام تھوڑا اسکے قریب ہوتے بولا تو انمول کو اپنے دل کی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دیں۔
انو تمہیں اپنے خوابوں سے عشق ہے نا تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں جتنا ممکن ہو سکے گا میں تمہارے خوابوں کو پورے کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ تم میرا ساتھ نبھانا کیونکہ میں جانتا ہوں تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی۔۔۔ اور میں بھی تم سے وعدہ کرتا ہوں کے کبھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ ابتسام چاہت بھرے لہجے میں کہتا اسکے ماتھے پہ محبت کی پہلی مہر مثبت کرتے اسے خود میں قید کر گیا۔
زندگی کے اس نئے سفر پہ انمول نے ابتسام کا ساتھ دیتے خود کو اسکے حوالے کر دیا تھا۔۔۔
دو الگ الگ راستوں کے مسافر آج ایک ہوگئے تھے۔۔۔ ہر آنے والا دن اپنے ساتھ انکے لیئے خوشیاں لانے والا تھا۔۔۔ اب سے خوشیاں انکی منتظر تھیں۔۔۔ ایک خوبصورت سفر کا آغاز ہو چکا تھا۔
![]()
![]()
۔
