170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 5)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

ابتسام میرا بیٹا۔۔۔۔ ابتسام کو لاونچ میں داخل ہوتے دیکھ چاچی فورن اسکے گلے لگیں۔۔۔

کیسے ہوں بیٹا۔۔۔ کب آئے۔۔۔۔ اور یہ تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے۔۔۔۔ وہ اسکو بھیگا ہوا دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگیں۔

ابتسام کی نظر فورن سیڑھیوں کے پاس کھڑی انمول پر گئی۔۔۔ جو ایسے شان بےنیاز سے کھڑی تھی جیسے اس نے کچھ کیا ہی نا ہوں۔۔۔ ڈھونڈنے سے بھی اسکے چہرے پر ڈر یا پریشانی نہیں دیکھ رہا تھا۔

کچھ نہیں بس ایک سرپھری اور بد دماغ لڑکی کا کام ہے۔۔۔۔ جسے اپنی شرارتوں کے آگے اور کچھ نہیں دیکھتا۔۔۔۔ وہ سر جھٹکتا اپنی ماں کو مطمئن کرنے لگا۔۔۔۔ لیکن شاید اسکی بات ان کے سمجھ نہیں آئی تھی۔

کیا مطلب ہے آپ کی بات کا آپ مجھے ان ڈائرکٹلی پاگل کہہ رہے ہیں۔۔۔۔ اگر ہمت ہے تو میرے منہ پر بولیں نا،،، میرا نام لے کے۔۔۔ وہ جو سب لوگ ابتسام کی حالت دیکھ حیران و پریشان تھے انمول کی بات سنتے اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگے جو اپنی جلد بازی میں خودہی اپنی غلطی بتا گئی تھی۔

شگفتہ بیگم نے تو اسے سخت گھوری سے نوازہ تھا جسے وہ نظر انداز کر گئی تھی جب کے ابتسام کے پیچھے کھڑے دائم نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی تھی۔

ہمت کی تو تم بات ہی نا کرو۔۔۔ ابھی میرا روزہ ہے روزے کے بعد آنا پھر بتاؤں گا۔۔۔ فلحال میں ابھی تمہیں کچھ الٹا سیدھا کہہ کے اپنا روزہ خراب نہیں کر سکتا۔۔۔

امی میں اپنے کمرے میں جارہا ہوں تھوڑی دیر آرام کروں گا۔۔۔ باقی آپ سب سے تفصیلی ملاقات افطاری کے وقت ہوگی۔۔۔پہلے انمول کو گھور کے کہہ کے وہاں موجود سب کو مخاطب کرتا مسکرا کے اپنا بیگ لیئے انمول کو اگنور کرتا میشا کے سر پر ہاتھ رکھتے اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

وہ جانتا تھا اسکا کمرہ صاف ہوگا۔۔۔ کیونکہ اسکی ماں باقائدگی سے اسکا ہر سامنا سنبھال کے صاف ستھرا کر کے رکھتی تھی۔

وہ جب یہاں سے گیا تھا محض سترہ سال کا تھا جب اپنا انٹر مکمل کر کے وہ آگے کی پڑھائی کے لیئے اٹلی چلا گیا تھا اور پھر پڑھائی مکمل کر کے وہی جوب کرنے لگا تھا۔۔۔

اسکی ماں نے اسے کتنی بار واپس بلایا لیکن وہ کوئی نا کوئی بہانا کر دیا لیکن اسکے نا آنے کی اصل وجہ تو اسکے بابا تھے جن کا انتقال جب ہوا جب وہ صرف بارہ سال کا تھا وہ اپنے بابا کے سب سے زیادہ نزدیک تھا۔۔۔ اسے گھر کے ہر کونے سے اپنے بابا کی یاد آتی تھی ایسا نہیں تھا اسکے تایا ابو نے اسے کسی چیر کی کمی ہونے دی تھی وہ ہر ممکن طریقے سے اسے باپ کا پیار دینے کی کوشش کرتے تھے ۔۔۔ لیکن ماں باپ کی جگہ کبھی بھی کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔ بس یہی وجہ تھی کہ ان ساری یادوں سے دور بھاگتے وہ باہر چلا گیا تھا اور سال میں بس ایک بار ہی ملنے آتا تھا۔۔۔ اور جب بھی آتا تھا اسے اپنا کمرہ ہمیشہ پہلے جیسا ہی ملتا تھا۔

۔🌺🌺🌺

بڑے ابو مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ افطاری کرتے ابتسام نے اپنے برابر والی کرسی پر بیٹھے بلال صاحب کو مخاطب کیا۔

ہاں بیٹا بولو۔۔۔۔ وہ اپنی افطاری چھوڑ اسکی طرف متوجہ ہوئے

برے ابو میں اپنا بزنس اسٹار کرنا چاہتا ہوں یہاں۔۔۔ کچھ پیسوں کا تو میں نے انتظام کر لیا ہے باقی تھوڑے کم پڑھ رہے ہیں۔۔۔ وہ کہتے کہتے رکا۔

بیٹا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔ اور آپ کو جتنے بھی پیسوں کی ضرورت ہے لے سکتے ہوں سب آپ کا ہی ہے۔۔۔ بلکے ہم ایک کام کرتے ہیں ہم تین فیکٹریوں میں سے ایک بیچ دیتے ہیں اس سے اچھی رقم مل جائے گی۔۔۔ بلال صاحب نے منٹوں میں اسکا مسئلہ حل کیا۔

بڑے ابو آپ بس بابا کے حصے کے پیسے مجھے دیں دیں باقی کی دو فیکٹریاں تو آپ کی اپنی محنت کی ہیں ان میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے ۔۔۔۔ ابتسام نے کہا تو بلال صاحب کے ماتھے پر بل پڑے۔

ابتسام آج تو تم نے یہ بات کر دی آئندہ میں تمہارے میں سے یہ حصے کا نام نا سنوں۔۔۔ یہ سب کچھ تمہارا ہے۔۔۔ تم ہمارے اکلوتے بیٹے ہو اور جتنا حق ان سب چیزوں پر تمہارے بابا کا تھا اتنا ہی تمہارا بھی ہے۔۔۔ تمہارے باپ کو ہم نے اپنا چھوٹا بھائی نہیں بلکے بیٹا سمجھا تھا اور تم بھی ہمارے لیئے وہی اہمیت رکھتے ہوں۔۔۔ تو آج کے بعد ایسی بات مت کرنا۔۔۔میں کل ہی کسی سے بات کر کے جلد فیکٹری کا سودہ کر دوں گا۔۔۔ وہ ٹھہرے ہوئے حتمی انداز میں بولے تو وہ کچھ نا کہہ سکا۔

بابا مجھے بھی کچھ پیسے چاہئیں۔۔۔ انمول کہاں خاموش بیٹھ سکتی تھی ۔

تمہیں کس لیئے چاہیئں۔۔۔ اسکی سنجیدگی سے کہی بات پر شگفتہ بیگم نے ائبرو اچکائے۔

بابا میں آپ سے بات کر رہی ہوں۔۔۔ وہ شگفتہ بیگم کو اگنور کرتی اپنی بات پر زور دینے لگی۔۔۔۔ تو وہ اسے گھور کے رہ گئیں۔

ہاں بیٹا ضرور آپ کو بھی جتنے پیسے چاہیئیں لے لینا ۔۔۔ بابا نے پیار سے کہا ۔

تو لائیں دیں مجھے تیس چالیس لاکھ۔۔۔۔ اسنے خوش ہوتے مزے سے کہا تو سامنے بیھٹے پانی پیتے حماد کو اچھو لگا۔

اتنے پیسںو کا تم کیا کرو گی۔۔۔ حماد نے تجسس سے پوچھا۔۔۔ باقی سب تو اسکی باتوں کو انجوائے کرتے اپنے کھانے میں مصروف تھے۔

ہاں بیٹا اتنے پیسوں کا کیا کروں گی۔۔۔ بابا نے بھی فکر سے پوچھا۔

مجھے دبئی جانا ہے۔۔۔ اسنے سکون نے بتایا۔

دبئی جانے میں اتنے پیسے نہیں لگتے۔۔۔ میشا نے بتانا اپنا فرض سمجھا۔

جانتی ہوں میں بھی۔۔۔ لیکن وہاں جا کے شوپنگ بھی تو کرنی ہوگی اور پھر وہاں سے اپنے لیئے ایک بیش قیمتی رنگ بھی لوں گی ۔۔۔ سالار کی طرح تو نہیں لیکن پھر بھی تھوڑی مہنگی سی۔۔۔۔ جہاں اسکی اوٹ پٹانگ بات پر سب نے نفی میں سر ہلایا تھا وہیں ابتسام کے دماغ میں سوال آیا تھا کہ یہ سالار کون ہے جس کا نام اتنے پیار سے لے رہی ہے اور کوئی کچھ کہہ بھی نہیں رہا۔۔۔ لیکن یہ سوال وہ فلحال پوچھنا نہیں چاہتا تھا۔

بیٹا آپ کی برتھڈے پر آپ کو اپکی پسند کی انگوٹھی مل جائے گی ۔۔۔۔ اس کے لیئے آپ کو دبئی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وہ اپنی بیٹی کی انوکھی سوچ پر مسکراتے سمجھانے لگے تو وہ بھی خوش ہوگئی۔

سچی بابا۔۔۔ آپ مجھے بیش قیمتی رنگ دیں گے۔۔۔۔ اسنے خوشی اور حیرت کے ملے جھلے انداز میں پوچھا۔

بیش قیمتی کا تو پتہ نہیں لیکن قیمتی ضرور دیں گے۔۔۔ انہوں نے مسکرا کے کہاں تو وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھتی انہیں تھینکیو کہتی دائم کو بتانے کا کہہ کے کمرے میں بھاگ گئی۔۔۔

سوائے ابتسام کے اسکی حرکت پر سب مسکرائے تھے۔

۔🌺🌺🌺

(کچھ دن بعد)

تم مجھے باہر کیوں نہیں جانے دے رہی ہو۔۔۔ انمول نے میشا کو گھورتے ہوئے جھنجھلائے انداز میں پوچھا۔۔۔۔

وہ کب سے باہر جانا چاہتی تھی لیکن میشا تھی کے اسے جانے ہی نہیں دے رہی تھی۔

انو بس پانچ منٹ ابھی سب پتہ چل جائے گا۔۔۔ میشا نے بار بار بولا فکرہ پھر دھورایا۔

مشی نا جانے کیوں تم مجھے مشکوک​ مشکوک سی لگ رہی ہو۔۔۔ انمول نے آنکھیں چھوٹی کیئے اسے دیکھا تو وہ گڑبڑا گئی۔

سچ سچ بتاؤ باہر کیا کھچڑی پک رہی ہے۔۔۔ کیا چھپا رہی ہو تم مجھے سے۔۔۔ انمول نے گھورا۔

تم تو خواہ مخواہ سی آئی ڈی بنی رہا کرو۔۔. کچھ بھی نہیں چپا رہی میں۔۔۔ وہ خود کو نارمل رکھتے ہوئے بولی لیکن انمول کو اسکی بات پر پھر بھی یقین نہیں آیا۔

انو سر پر دوپٹہ لو اور باہر چلو۔۔۔۔ اور ہاں مہمانوں کے سامنے اپنا منہ بند کر کے تمیز سے بیٹھنا۔۔۔ شگفتہ بیگم کمرے میں داخل ہوتی اسکے سر پر خود ہی دوپٹہ رکھتی اسے سمجھانے لگی۔۔۔ یہ الگ بات تھی ان کے انداز سے ساف لگ رہا تھا کے وہ اسکی منت کر رہی ہیں کے اپنا منہ نا کھولے فضول میں۔

لیکن ماما باہر آیا کون ہے۔۔۔ انمول نے بےزاریت سے پوچھا۔

کچھ لوگ آئے ہیں تمہارا رشتہ لے کے۔۔۔ شگفتہ بیگم کی بات پر انمول کی آنکھیں چمکیں۔۔۔

سچ میں میرا رشتہ لائے ہیں۔۔۔ یا ہو مزا ہی آگیا۔۔۔ مشی جلدی سے جاؤ چائے بنا کے دو تاکے میں اپنے کانپتے ہاتھوں سے چائے انکے سامنے پیش کروں۔۔۔ اچھا ہے وہ سمجھے گے لڑکی کافی نروس اور شرمیلی ہے۔۔۔ انمول آخر میں شرمانے کی بھرپور کوشش کرنے لگی لیکن شاید اس میں شرمانے کا فیچر تھا ہی نہیں اس لیئے ناکام ہوگئی۔

چپ ہو جاؤ بلکل اور خبردار جو کوئی الٹی سیدھی بات کی ان کے سامنے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔ شگفتہ بیگم نے سختی سے وارن کیا تو وہ برا سا منہ بنا گئی.

میشا اسکی حالت پر ہنسی روکتی شگفتہ بیگم کے ساتھ اسے لاؤنچ میں لائی جہاں دو عورتیں بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔۔۔ چونکہ وہ دونوں شوگر کی مریض تھیں اس لیئے ان کا روزہ نہیں تھا۔

ماشاءاللہ ماشاءاللہ آؤ بیٹا میرے پاس بیٹھو۔۔۔۔ پہلی عورت نے شائستگی سے اسے اپنے پاس بلایا۔

انمول بڑی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خوشی خوشی انکے پاس بیٹھ گئی۔

تم اتنی سی تھیں تب دیکھا تھا تمہیں اور اب دیکھو. ماشاءاللہ کتنی بڑی ہوگئی ہو۔۔۔۔ دوسری عورت نے پیار سے کہا۔

بس آنٹی فارغ تھی کچھ کام نہیں تھا تو سوچا بڑی ہو جاتی ہوں۔۔۔۔ انمول دانتوں کی نمائش کرتی بولی تو وہاں موجود پھوپھو چاچی اور میشا نے اپنی ہنسی چھپانے کے لیئے منہ نیچے کر لیا۔۔۔ جب کے شگفتہ بیگم نے اسے آنکھیں دیکھائیں تھیں۔

اوپر گریل کے پاس کھڑے ابتسام نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔ وہ لڑکی ہر سال ہی ایک جیسی تھی بلکل نہیں بدلی تھی۔۔۔۔ بلکے یہ کہنا بہتر ہوگا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اسکی شرارتیں اور بڑھ گئیں تھیں۔

مزاق کر رہی ہے ۔۔۔ انمول کو چپ رہنے کا اشارہ کرتے شگفتہ بیگم نے زبردستی مسکرا کے بات سنبھالی تو وہ دونوں عورتیں جو ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں تھوری ریلیکس ہوگئیں۔

بیٹا آپ کچھ بولتی نہیں۔۔۔ تھوڑی ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد دوسری عورت نے اسے چپ بیٹھے دیکھ پوچھا۔

اور وہ جو کب سے بڑی مشکل سے شگفتہ بیگم کی گھوریوں کی وجہ سے خاموش بیٹھی صرف ہوں ہاں میں بےزاریت سے جواب دے رہی تھی ان کے کہتے ہی شروع ہوگئی۔

جی میں فضول لوگوں سے بات نہیں کرتی۔۔۔ اسکی زبان سے ایک دم پھسلا تو دانتوں تلے زبان دبا گئی۔۔

میرا مطلب ہے کہ میں فضول میں زیادہ نہیں بولتی بس کام کے وقت بولتی ہوں۔۔۔ اپنی ماں کی کھا جانے والی نظروں سے حلق تر کرتی انہیں وضاحت دینے لگی تو وہ عورتیں جیسے اسکی بات سمجھتی مسکرا دیں۔

اچھا بہن میں اپنے بیٹے کی تصویر بھی ساتھ لائی ہوں۔۔۔ پہلی عورت کہتی بیگ سے تصویر نکالنے لگی۔

انمول کی آنکھیں مسلسل ان کے بیگ کی طرف ہی تھیں جیسے وہ اپنے بیگ سے کوئی آٹھواں عجوبہ نکالنے والی ہوں۔

یہ دیکھیں بہن۔۔۔ وہ عورت ابھی تصویر شگفتہ بیگم کی طرح بڑھا رہی تھی جب انمول بیچ میں بول پڑی۔

ارے آپ ماما کو کیوں دیکھا رہی ہیں۔۔۔۔ شادی تو مجھے کرنی ہے تو مجھے دیکھائیں تصویر۔۔۔ وہ جوش سے کہتی اپنی ماں کی نظروں کو نظرانداز کرتی تصویر عورت نے ہاتھ سے لے چکی تھی۔

یہ آپ کا بیٹا ہے۔۔۔ اسنے کنفورم کرنا چاہا۔

ہاں بیٹا۔۔۔

لگتا ہے سارے فارمولے منہ پر ہی لگائیں ہیں صرف تبھی گلہ اور گردن کالی رہ گئی ہے۔۔۔ وہ پرسوچ انداز میں ان کے سامنے ہی انکے بیٹے میں خامی نکال رہی تھی جس پر ان کے ماتھے پر بل پڑے۔

انمول۔۔۔شگفتہ بیگم نے تنبیہ کیا۔۔۔ جب کے سب اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں لگے ہوئے تھی ۔۔۔ ابتسام سرد آہ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ اس سے زیادہ وہ سن نہیں سکتا تھا۔

ہمارا بیٹا بہت پڑھا لکھا ہے۔۔۔ اپنا میدیکل اسٹور چلاتا ہے۔۔۔۔ لڑکے کی منہ نے فخر سے بتایا۔

غالباً اسٹور چلتا نہیں ہے لیکن خیر آپ کہہ رہی ہیں تو ماں لیتی ہوں۔۔۔ انمول نے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔۔۔ اسکا موڈ تو لڑکے کی تصویر دیکھتے ہی اوف ہو گیا تھا۔

ماشاءاللہ بہت اچھا ہے آپ کا بیٹا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے بات بدلی۔۔۔ تو وہ عورت مسکرا دی۔

جی بہت اچھا ہے۔۔۔۔ گرہن لگا ہوا چاند۔۔۔ انمول نے نارمل انداز میں کہا لیکن شاید وہ عورتیں مائنڈ کرگئی تھی۔

تم کہنا کیا چاہتی ہو لڑکی۔۔۔ تم ہمارے ہی سامنے بیٹھ کے ہمارے ہی منہ پر ہمارے بیٹے کو برا کہہ رہی ہو۔۔۔۔ پہلی عورت تو جیسے بھڑک ہی اٹھی تھی۔

افف ہو آنٹی میں کہاں آپ کے بیٹے کو برا کہہ رہی ہوں بس جو سچ ہے وہ بتارہی ہوں لیکن اگر آپ سے وہ سچ ہضم نہیں ہو رہا تو نہیں کہتی سچ ۔۔۔۔

آپ کا بیٹا تو ماشاءاللہ بہت پیار ہے۔۔۔ ایسا لگتا ہے کالی ڈنڈی پہ سفید گلاب۔۔۔ انمول نے عام سے لہجے میں کہا لیکن وہ عورتیں سمجھ نا پائیں کے وہ انکے بیٹے کی تعریف کر رہی ہے یا برائی۔

بہن ہمیں لگتا ہے ہمیں اب چلنا چاہیئے۔۔۔ لیکن آپ ہمیں اپنی بیٹی کی شادی پر بلوائے گا ضرور۔۔۔ ہم بھی آکے دیکھیں گے کے آخر آپ کی بیٹی کی شادی کس ہیرو سے ہوئی ہے۔۔۔ وہ صاف تو نہیں لیکن اپنی باتوں سے یہ تو واضح کر گئیں تھی کہ وہ یہ رشتہ نہیں کرنا چاہتیں۔۔

شگفتہ بیگم انہیں روکتی رہ گئیں لیکن وہ نہیں رکھیں۔۔۔ اور ان کے جاتے ہی انہوں نے صوفے پر بیٹھی انمول کی کمر پر ایک زور دار تھپڑ لگایا تھا جس سے وہ بل بلا گئی۔

آہ ماما یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔ ایک روزے دار پر ہاتھ اٹھا رہی ہیں کتنا گناہ ملے گا آپ کو۔۔۔ وہ فورن سیڑھیوں پر پہنچتی ان کی پہنچ سے دور ہوئی۔

انو آج تم میرے ہاتھوں بچو گی نہیں ۔۔۔ وہ اسکی طرف بڑھیں تو وہ فورن اوپر بڑھ گئی۔

چھوڑیں بھابھی بچی ہے۔۔۔ پھوپھو نے انہیں اپنے ساتھ بیٹھایا۔

کیسے چھوڑوں۔۔۔۔ یہ کوئی پانچواں رشتہ ہے جو یہ بھگا چکی ہے۔۔۔ وہ بےبسی سے بولیں

تو بھابھی رشتے بھی تو ہماری انمول کے جوڑ کے ہوں نا۔۔۔ ایک بھی دھنکا رشتہ نہیں تھا ہمارے انمول کے لیئے۔۔. چچی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا جو بہت مشکل تھا۔

اس سے پہلے جو رشتہ آیا تھا وہ لڑکا کتنا اچھا تھا۔۔۔۔ کماتا بھی اچھا تھا۔۔۔۔ لیکن اس لڑکی نے انہیں بھی بھگا دیا۔

جی بلکل درست فرما رہی ہیں آپ امی جان۔۔۔ وہ موٹی تھون والا بھالو میرا مطلب ہے لڑکا کافی اچھا تھا۔۔۔ اسنے فورن اپنی بات کی درستگی کی۔۔۔۔ جب کے شگفتہ بیگم کو اٹھتے ہوئے دیکھ فورن کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔

اور پیچھے وہ سب سرد آہ بھر کے رہ گئی۔

۔🌺🌺🌺