170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 19)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

ایک بات پوچھوں۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے ڈرائیو کرتے ابتسام کو دیکھ عام سے انداز پہلی بار کچھ پوچھنے کے لیئے اجازت چاہی تھی۔

ہمم پوچھو۔۔۔ اسکے اجازت مانگنے پہ ابتسام کو حیرت ضرور ہوئی تھی لیکن وہ بغیر اپنی حیرت ظاہر کیئے سنجیدگی سے ڈرائیو کرتا رہا۔

آپ کے نام کا مطلب کیا ہے۔۔۔ اسی انداز میں پوچھا گیا۔

مسکرانا۔۔۔ اسنے پھر سنجیدگی سے جواب دیا۔

تو پھر آپ مسکراتے کیوں نہیں ہیں۔۔۔ پر وقت ٹنڈے جیسی شکل کیوں بنا کے رکھتے ہیں۔۔۔ بھئی ایک زندگی ملی ہے اسے ہنستے مسکراتے انجوائے کرتے گزارنی چاہیئے نا کے سڑی شکل بنا کے۔۔۔ انمول نے اپنے پاس سے کافی پتہ کی بات کہی تھی۔

ابتسام اسکی بات کا کوئی بھی جواب دیئے بغیر خاموشی سے گاڈی چلاتا رہا ۔۔۔ وہ جانتا تھا اگر جواب دے گا تو لمبی بحث ہوگی اور بحث میں ہمیشہ کی طرح انمول نے ہی جیتنا تھا اس لیئے بحث کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا۔

ہم جولرز کے پاس کیوں آئے ہیں۔۔۔ کیا آپ مجھے ہیرے کی انگوٹھی دلانے والے ہیں۔۔۔ جولرز کی دکان کے سامنے گاڑی رکھتے ہی انمول کے دماغ میں جو پہلی بات آئی وہ فورن اسکی زبان پہ بھی آگئی تھی۔

ہممم ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔ ابتسام آنے والے وقت کا سوچتے مسکراہٹ چھپاتا گاڑی سے اترا تو وہ بھی اسکے پیچے ہی جلدی سے گاڑی سے نکلی۔

آؤ۔۔۔ وہ اسے اپنی ساتھ لیئے اندر داخل۔

انو تم یہاں بیٹھو میں ابھی آتا ہون۔۔۔ ابتسام اسے ایک طرف بیٹھاتا خود کاؤنٹر کی جانب بڑھ گیا۔

انمول وہاں موجود ایک ایک چیز کو بہت غور غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ سب کچھ خرید لے۔

انو آنکھیں بند کرو۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ابتسام اسکے پاس آتا بولا

مگر کیوں ۔۔۔ اسنے فورن سوال کیا

تمہارے لیئے ایک سرپرائز ہے۔۔۔ تم اپنی آنکھیں بند کرو اور جب تک میں نہیں کہتا آنکھیں نہیں کھولنا اوکے۔۔۔۔ ابتسام کے پیار سے کہنے پہ انمول نے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔ اگر اسے پتہ چل جاتا کہ ابتسام اسے کیا سرپرائز دینے والا ہے تو وہ شاید کبھی نہیں لیتی۔

انو تمہیں اپنے چہرے پہ کچھ محسوس ہوگا لیکن تم نے میرے کہنے سے پہلے آنکھیں نہیں کھولنی۔۔۔ ابتسام ایک لڑکی کو اشارہ کرتا انمول کو سمجھانے لگا جس نے بغیر سوچے سمجھے ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔ اسے بس اپنا سرپرائز چاہیئے تھا وہ بھی جلد سے جلد۔

مسٹر ڈریگن یہ میری ناک پہ ٹھنڈا ٹھنڈا کیا لگا رہے ہیں۔۔۔ لڑکی نے جیسے ہی سن کرنے کے لیئے ٹیوب لگائی ویسے ہی انمول بول پڑی۔۔۔ اس وقت اسکے دماغ میں صرف اپنا گفٹ چل رہا تھا تبھی وہ یہ بھی نہیں سوچ پائی کہ کہیں اسکی ناک میں سوراخ تو نہیں ہونے والا۔

کچھ نہیں ہے انو بس تم نے آنکھیں نہیں کھولنی۔۔۔ تمہیں گفٹ بس ملنے ہی والا ہے۔۔۔ ابتسام نے بہت نرمی و پیار سے کہا جس پہ وہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔ لیکن کچھ ہی دیر میں انمول کی ایک زور دار چیخ بلند ہوئی جس کے ساتھ وہ آنکھیں بھی کھول چکی تھی۔

یہ کیا کروا دیا آپ نے ۔۔۔۔ انمول ناک پہ ہاتھ رکھتی ابتسام کو دیکھ چیخی تو پاس بیٹھی لڑکی ڈر کے پیچھے ہوئی۔

کیا ہوا درد ہو رہا ہے کیا۔۔۔ ابتسام فکرمند ہوا۔

نہیں درد تو نہیں ہو رہا لیکن اگر مجھے درد ہوجاتا تو۔۔۔ آپ کو کس نے پرمیشن دی تھی میری ناک میں سوراخ کروانے کی۔۔۔ وہ بھڑک اٹھی۔

تم میری ہو تو مجھے کسی کی پرمیشن کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ابتسام اطمینان سے بولا۔

مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی۔۔۔ وہ بچوں کی طرح منہ بسورے تیزی سے دکان سے نکل گئی۔

تھینک یو۔۔۔ ابتسام لونگ کی پیمنٹ پہلے ہی کر چکا تھا اس لیئے لڑکی کو شکریہ کہتا انمول کے پیچھے ہی باہر نکل گیا۔

وہ باہر آیا تو انمول گاڑی کے پاس کھڑی تھی۔۔۔ چونکہ گاڑی لوک تھی اس لیئے وہ اسکے پاس کھڑی ہوگئی تھی۔

اسنے آگے بڑھ کے گاڈی کو ان لوک کیا اور اپنی سیٹ کی جانب بڑھ گیا۔

گاڑی ان لوک ہوتے ہی انمول غصے سے بھری گاڑی میں بیٹھی اور ٹھا کی آواز کے ساتھ دروازہ بند کرگئی۔

لگتا ہے تم آج میری گاڑی توڑ دوگی۔۔۔ ابتسام اپنی مسکراہٹ روکتا نفی میں سر ہلاتا گاڑی اسٹاٹ کرچکا تھا۔

میں نے کہا نا مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ انمول منہ پھیر گئی تو ابتسام نے بھی اسکا موڈ دیکھتے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔

ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ابتسام نے ڈرائیو کرتے گردن گھما کے انو کو دیکھا جو اب تک ناک پہ ہاتھ رکھے منہ بسورے ہوئے تھی جیسے ابھی رو جائے گی۔۔۔ وہ اس وقت اتنی پیاری اور کیوٹ لگ رہی تھی کہ ابتسام کے چہرے پہ خود ہی ایک گہری مسکراہٹ آگئی لیکن اسکی بدقسمتی کہ انمول نے اسے دیکھ لیا۔

بہت ہنسی آرہی ہے آپ کو۔۔۔ انو غصے پہ قابو کرتی دانت پیس کے بولی

یار زندگی کو ہنستے مسکراتے انجوائے کرتے گزارنی چاہیئے۔۔۔ ابتسام نے اسکی بات اسے ہی لوٹائی جس نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا۔

شرم تو نہیں آرہی ہوگی آپ کو۔۔۔ بلکے آپ کو کیوں شرم آئے گی یہ سب آپ کا ہی تو کیا دھرا ہے۔۔۔۔ گھر والوں کے ظلم سے بچا کے لائے اور خود نے میری پیاری ناک کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کردیا۔۔۔ میں بھی نا پاگل ہوں سوچا ہی نہیں کہ آپ آج میرے ساتھ اتنے اچھے کیوں بن رہے ہیں میری بھی عقل پہ پردے پڑھ گئے تھے۔۔۔ وہ دکھ اور افسوس سے بولی۔

ہاہاہاہا یار تم غصے میں کتنی کیوٹ لگتی ہو۔۔۔ ابتسام اسکی حالت انجوائے کرتے قہقہہ لگا گیا۔۔۔ جس سے انمول کو آگ ہی لگ گئی۔

مسٹر ڈریگن گاڑی روکیں۔۔۔ انمول اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھی ایک ایک لفظ چبا کے بولی۔

کیا ہو گیا ہے مزاق کر رہا تھا۔۔۔ ابتسام مشکل سے اپنی ہنسی روکتا بولا۔

میں نے کہا گاڑی روکیں ابھی اور اسی وقت۔۔. ورنہ میں شور مچانا شروع کردوں گی کہ یہ آدمی مجھے زبردستی اٹھا کے لے جا رہا ہے۔۔۔ انمول نے اسے اپنی طرف سے کافی سنگین دھمکی دی تھی لیکن ابتسام اسکی دھمکی پہ کان دھرے بغیر مسکراتے ہوئے ڈرائیو کرتا رہا۔۔۔ اسنے یہی سوچا تھا کہ صرف اسنے دھمکی دی ہے کرے گی تو کچھ نہیں لیکن وہ انمول کو جانتا نہیں تھا۔

مسٹر ڈریگن آپ مجھے کافی ہلکے میں لے رہے ہیں۔۔۔ اپنی بات پہ دھیان نا دینے پہ انمول دل میں اس سے مخاطب ہوتی اسپیڈ سے گاڑی کا شیشہ نیچھے کرتی منہ باہر نکالے زور زور سے چلانا شروع ہوگئی۔

کوئی بچاؤ مجھے۔۔۔ یہ آدمی مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے کے جارہا ہے۔۔۔ پلیز کوئی تو بچاؤ مجھے۔۔۔ انمول کو چلاتا دیکھ ابتسام بوکھلا گیا۔۔۔ یہ سب اتنا جلدی میں ہوا تھا کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا تھا۔

انو۔۔۔ اسنے کہنچ کے اسے اندر کرتے جلدی سے شیشہ اوپر کیا۔

یہ کیا پاگل پن تھا انو۔۔۔۔ وہ غصے سے دبا دبا دھاڑا۔

آپ نے کیا سوچا تھا کہ انو صرف دھمکی دیتی ہے۔۔۔ اس لیئے میں نے آپ کو اپنی بات پوری کر کے دیکھائی ہے کہ انمول صرف بولتی نہیں بلکے کر کے بھی دیکھاتی ہے۔۔۔۔ انمول فخر سے گردن اکڑا کے بولی۔

اب تم کچھ الٹا سیدھا نہیں کرو گی۔۔ بلکل خاموشی سے بیٹھو گی سمجھیں۔۔۔ اسنے سختی سے کہا۔

مسٹر ڈریگن گاڑی رو۔۔۔۔

انو میں نے کہا نا​ خاموشی سے بیٹھو۔۔۔ اب کی بار ابتسام نے تھوڑی بلند آواز میں کہا تھا جس پہ وہ منہ بنائے چہرہ پھیر گئی تھی۔۔۔ ابتسام اس وقت اسکے ساتھ کسی بھی طرح کہ نرمی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا اگر وہ نرمی کرے گا تو وہ اور پھیل جائے گی۔۔۔اس لیئے اسنے سختی سے کہا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ وہ سارے راستے خاموشی سے بیٹھی رہی تھی اور ابتسام نے بھی دوبارہ اس سرپھری کو چھیڑنے کی غلطی نہیں کی تھی۔

۔🌺🌺🌺

انو۔۔۔ انو کو لال پیلا ہوئے کاؤنچ میں داخل ہوتے دیکھ شگفتہ بیگم نے پکارا۔

دیکھ لیں آپ اور خوش ہوجائیں ۔۔۔ آپ کے داماد نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔۔۔ انمول ناک کی جانب اشارہ کرتی غصے سے بولی۔۔۔ تو سب نے اسکی نام میں چمکتی لونگ کو حیرت سے دیکھا۔

انو یہ کیسے ہوا۔۔۔ مشی نے بےیقنی سے پوچھا۔

آرہے ہیں تمہارے بھائی صاحب انہیں سے پوچھ لینا۔۔۔ انمول پھاڑ کھانے والے انداز میں کہتی تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی اوپر چلی گئی۔

ارے ارے یہ تیز گام بنی کہاں جارہی ہو۔۔۔ حماد جو نیچے جارہا تھا انمول کو تیزی سے اوپر آتے دیکھ شرارت سے کہتا اسکے راستے میں حائل ہوا۔

میں ابھی بہت غصے میں ہوں حماد بھائی اس لیئے میرے راستے سے ہٹ جائیں۔۔۔ انمول خود پہ قابو پاتے بولی۔

کیوں کیا ہوا ہے۔۔۔ ارے یہ کیا تم نے اپنی ناک میں سوراخ کب کروایا۔۔۔ حماد کی نظر اسکی ناک پہ گئی تو حیرت سے پوچھنے لگا۔۔۔ جب کے آنکھوں میں شرارت صاف واضح تھی۔

اگر آپ نہیں چاہتے کہ میں سر پھاڑنے کا افتتاح آپ سے کروں تو ہٹ جائیں میرے راستے سے۔۔۔۔ انمول لب بھیج کے کہتی اسے ہاتھ سے سائڈ کرتے کمرے میں جا بند ہوئی۔۔۔ تو حماد بھی کندھے اچکاتا نیچھے بڑھ گیا۔

ابتسام بیٹا یہ کام تم نے بہت اچھا کیا ہے۔۔۔ ابتسام کو لاونچ میں داخل ہوتے دیکھ شگفتہ بیگم نے خوشی سے کہا تو وہ مسکرادیا۔

واہ ابتسام صاحب آپ تو بڑی پہنچی ہوئی چیز نکلے۔۔۔ ایک شیرنی کو ہنڈل کرلیا۔۔۔ لیکن یہ کرشمہ ہوا کیسے یہ تو بتائیں۔۔۔ حماد کو جاننے کا کافی تجسس تھا کہ انمول جیسی ضدی لڑکی کو ابتسام نے ناک چھدوانے پر راضی کیسے کیا ہوگیا۔

کچھ نہیں یار بس چالاکوں کے ساتھ تھوڑی سی چالاکی کرنی پڑتی ہے۔۔۔ وہ انمول کا غصے سے پھولا چہرا یاد کرتے مسکرایا۔

خیر میں اب چلتا ہوں ویسے ہی آج کافی لیٹ ہوگیا ہوں۔۔۔۔ ابتسام گھڑی میں ٹائم دیکھ کر بولا۔

خیر سے جاؤ بیٹا۔۔۔۔ نسرین بیگم نے پیار سے کہا تو وہ سب کو خدا حافظ کہتا باہر نکل گیا۔

امی میں بھی ابتسام کے ساتھ اسکے آفس جارہا ہوں۔۔۔ حماد اپنی ماں سے کہتا جلدی سے ابتسام کے پیچھے ہی باہر نکلا۔

نسرین میں آج بہت خوش ہوں اور اللہ کا بہت بہت شکر ادا کرتی ہوں کہ اسنے میری بیٹی کو ابتسام جیسا شوہر دیا۔۔۔ جو اسے سمبھالے گا۔۔۔ ورنا پہلے تو مجھے ڈر لگا رہتا تھا کہ یہ دونوں ایک ساتھ کیسے رہیں گے۔۔۔ دونوں گے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ لیکن آج مجھے لگ رہا ہے کہ آگے سب ٹھیک ہوگا۔۔۔ ابتسام میری شرارت کی پڑیا کو اچھے سے سمبھالے گا۔۔۔ اور کیا پتہ شاید سدھار بھی دے۔۔۔ شگفتہ بیگم آج کافی سکون اور اطمینان تھی۔۔۔ ورنا وہ تو یہی سوچتی رہتی تھی کہ انکی بیٹی کا کیا ہوگا۔۔۔ وہ ابتسام کے غصے سے واقف تھی اور اپنی بیٹی کی حرکتوں سے بھی۔۔۔۔ پر اب ابتسام کے رویہ سے انہیں تسلی ہوگئی تھی کہ انکا فیصلہ بلکل ٹھیک تھا۔

جی بھابھی بس اللہ دونوں بچوں کو ہمیشہ خوش و آباد رکھے۔۔۔ نسرین بیگم نے مسکرا کے دعا دی تو سب نے آمین کہا۔

۔🌺🌺🌺

دن تیزی سے گزر رہے تھے۔۔۔۔ انمول کی ناک چھدے دو دن ہوگئے تھے۔۔۔ انو سب سے تو اچھے سے بات کر رہی تھی لیکن ابتسام سے اب تک ناراض تھی۔۔۔ اسنے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔ ابتسام جانتا تھا کہ وہ ناراض ہے اور وہ اسکی ناراضگی ختم بھی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ آج کل اپنے آفس کے کاموں میں کافی مصروف تھا جس وجہ سے وہ اس مسئلے کو حل نہیں کر پا رہا تھا۔۔ وہ صبح جاتا اور دیر رات تک واپس آتا تو تھکن کی وجہ سے سیدھا اپنے کمرے میں چلا جاتا تھا۔۔۔ اس وجہ سے بھی انکا زیادہ آمنا سامنا نہیں ہو رہا تھا۔

گھر میں شادی کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی تھی۔۔۔ آج یا کل میں عید کا چاند نظر آنے کا بھی امکان تھا۔۔۔ عید کے فورن بعد انو کے پیپرز شروع ہونے والے تھے اور آخری پیپر والے دن ہی اسکی مہندی کی تاریخ رکھ دی گئی تھی۔۔۔ مہندی والے دن ہی حماد اور میشا کا نکاح بھی رکھا گیا تھا۔۔۔ ابھی صرف نکاح ہورہا تھا۔۔۔ حماد نے کہا تھا وہ اپنا سارا بزنس پاکستان شفٹ کر لے اسکے بعد رخصتی کرے گا۔

ہر کوئی کاموں میں مصروف تھا سوائے انمول کے جو بےفکر ہو کے مشی کو بتاتی دائم کے گھر نکل گئی تھی۔

وہ دائم کے گھر پہنچی تو دروازہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا۔۔۔ اسنے اندر آتے دروازہ بند کیا اور آگے بڑھ گئی۔

وہ لاؤنچ میں داخل ہوتی تو ہر طرف خاموشی تھی بس کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں آرہی تھی۔۔۔ آوازوں کا پیچھا کرتے ہوئے وہ کچن میں داخل ہوئی تو ماہی اسکی طرف پشت کیئے کھڑی ٹماٹر کاٹ رہی تھی۔

ہیلو کیسی ہو تم۔۔۔ انمول کی ایک دم آمد پہ ماہی ڈر کے اچھل پڑی۔

اففف انو آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔۔۔ وہ دل پہ ہاتھ رکھتی گہری سانس لے کے بولی۔

کیا کر رہی ہو۔۔۔ انمول مسکراتی ہوئی سلپ پہ چڑھ کے بیٹھ گئی۔

افطاری کی تیاری۔۔۔ ماہی نے آخری ٹماٹر کاٹتے ہوئے پیاز اٹھائی۔

ہمم۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ یہ باہر کا دروازہ کھلا کیوں تھا اگر کوئی گھر میں گھس آتا تو۔۔۔۔ انمول نے بڑوں کی طرف ڈانٹا۔

مجھے نہیں پتہ ۔۔۔ شاید رضیہ(ملازمہ) گئی ہوگی اس نے کھلا چھوڑ دیا ہوگا۔۔۔ ماہی نے سوچتے ہوئے کہا۔

اچھا آنٹی کہاں ہیں۔۔۔ انمول نے مسرت بیگم کو کہیں نا پاکے پوچھا۔

وہ اپنے کمرے میں ہیں۔۔۔ ماہی نے مصروف انداز میں کہا تو وہ سلپ سے چھلانگ لگا کے اترتی کچن سے نکل گئی۔

وہ مسرت بیگم کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتی اجازت ملنے کا انتظار کیئے بغیر اندر داخل ہو چکی تھی۔

کیسی ہیں آپ انٹی اور یہ سب کیا پھیلائے بیٹھی ہیں۔۔۔ مسرت بیگم کو بیڈ پر زیورات پھیلائے بیٹھے دیکھ پوچھنے لگی۔

میں ٹھیک ہوں بیٹھا آؤ بیٹھو۔۔۔ انہیں نے برا منائے بغیر اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ وہاں بیٹھ گئی۔

یہ دیکھو یہ کیسا ہے۔۔۔ انہوں نے ایک بہت ہی خوبصورت سا سیٹ اسے دیکھایا۔

بہت پیارا ہے کیا یہ آپ کا ہے۔۔۔ انمول نے ستائشی انداز میں کہتا۔

نہیں یہ میں نے کچھ وقت پہلے اپنی بہو کے لیئے بنوایا تھا تو سوچا اب زرا نکال کے دیکھ لوں۔۔۔ کیا پتہ اب اسکی ضرورت پڑھ جائے۔۔۔ مسرت بیگم نے مسکرا کے بتایا۔

کیا مطلب میں سمجھی نہیں۔۔۔ انو نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔

میرے بھائی نے ماہی اور دائم کے رشتے کی بات کی ہے۔۔۔ مجھے اور تمہارے انکل کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے پر دائم وہ ابھی شادی سے منا کررہا ہے۔۔۔ کہہ رہا ہے اسے ابھی شادی نہیں کرنی اب تم ہی بتاؤ ابھی شادی نہیں کرے گا تو کیا ہمارے مرنے کے بعد کرے گا۔۔۔ مسرت بیگم آفسردگی سے بولیں۔

کیسی باتیں کررہی ہیں آپ اللہ آپ کو اور انکل کو لمبی زندگی دے۔۔۔ آپ بلکل فکر نہیں کریں دائم شادی ضرور کرے گا۔۔۔ آپ بس ایک بار بول دیں انو تم دائم سے بات کرو اسے راضی کرنے کی کوشش کرو پھر دیکھیں میں کیسے اسے راضی کرتی ہوں بس آپ ایک بار کہیں تو سہی۔۔۔ انمول نے جوش سے کہا جیسے اسنے ٹھان لی ہو کے وہ دائم کو راضی کر کے رہے گی۔

ہاں بیٹا تم ضرور بات کرو اس سے۔۔۔ میں اپنے بھائی کو انکار نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ ماہی میری بھتیجی ہے وہ بہت اچھی لڑکی ہے تم دائم کو سمجھاؤ وہ ماہی کے ساتھ بہت خوش رہے گا مجھے یقین ہے وہ دونوں ایک ساتھ اچھی زندگی گزاریں گے۔۔۔ مسرت بیگم انمول کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتی یقین سے بولیں تو وہ مسکرا دی۔

آنٹی آپ فکر نہیں کریں میں آج ہی دائم سے بات کروں گی اور آج ہی آپ کو خوشخبری سنا کے جاؤں گی۔۔۔ اس لیئے میں آج یہیں پہ افطاری کروں گی۔۔۔ انمول انکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتی پورے یقین سے کہہ رہی تھی ۔۔. اسے یقین تھا وہ دائم کو شادی کرنے کے لیئے راضی کرلے گی۔

ہاں بیٹھا ضرورت۔۔۔ انہوں نے خوش دلی سے کہا۔

میں گھر فون کر کے بتا دیتی ہوں کے میں آج یہاں افطاری کروں گی۔۔۔ اور ماہی کو بھی اپنا افطاری کا مینیو بتا کے آتی ہوں۔۔۔ انمول اپنا فون لیئے کمرے سے نکل گئی پیچھے وہ اسکے اچھے نصیب کی دعا کرتی سکون سے بیک گراؤنڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گئیں۔

۔🌺🌺🌺