170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 17)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

انو بیٹا کہاں جارہی ہو۔۔۔۔ دوپہر میں انمول کو سر پہ دوپٹہ لیئے باہر جاتے دیکھ لاؤنچ میں بیٹھی پھوپھو نے پوچھا۔

پھوپھو میں دائم کی طرف جارہی ہوں ۔۔۔۔ اسنے رک کے بتایا

خیریت۔۔۔

جی خیریت ہی ہے۔۔۔۔ وہ بس دائم دبئی گیا ہوا ہے تو آنٹی گھر پہ اکیلی ہونگی۔۔۔ اس لیئے سوچا تھوڑی دیر جا کے انہیں کمپنی دے دیتی ہوں۔۔۔ اسنے مسکرا کے کہا۔

اچھا۔۔۔ انہوں نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا تو وہ خدا حافظ کہتی باہر نکل گئی۔

وہ گھر سے نکلتی ارابر برابر والوں کے دروازے بجاتی اسپیڈ سے دائم کے گھر بھاگی اور زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔۔۔ ساتھ ساتھ پیچھے بھی دیکھتی جا رہی تھی کہ کہیں کوئی اسے پکڑ ہی نا لے۔

کون ہے۔۔۔ اندر سے ایک انجان آواز آئی۔

میں ہوں دروازہ کھولو جلدی۔۔۔ انمول پیچھے دیکھتی ہمیشہ کی طرح میں بولی۔

میں کون نام بتائیں۔۔۔ اندر سے پھر سے پوچھا گیا۔

میں مطلب انمول۔۔۔ انمول نے دانت پیستے کہا تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دروازہ کھل گیا۔

جلدی بند کرو۔۔۔ انمول فورن گھر میں داخل ہوتی دروازہ بند کر گئی۔۔۔ اور دروازہ کھولنے والی اسکی جلد بازی پہ حیران ہوئی۔

ایک بات بتاؤ جب میں نے کہا میں ہوں تو تم نے دروازہ کیوں نہیں کھولا۔۔۔ جانتی ہو اگر میں کسی کے ہاتھ لگ جاتی تو سیدھی شکایت ماما کے پاس جاتی اور پھر وہ میری بہت بےعزتی کرتیں۔۔۔ وہ یہ جانے بغیر کے وہ کوئی نئی لڑکی ہے بس شروع ہوگئی تھی۔

اب مجھے کیسے پتہ ہوگا کے میں کون ہے وہ تو آپ نے اپنا نام بتایا تو میں جانی کے آپ انمول ہیں۔۔۔ آپ کا اس گھر میں بہت ذکر ہوتا ہے اس لیئے میں پہچان گئی۔۔۔دائم بھی آپ کا بہت ذکر کرتے ہیں اس لیئے میں پہچان گئی۔۔۔سامنے کھڑی لڑکی نے وضاحت دی۔

ویسے تم کون ہو ۔۔۔ اتنے سالوں میں میں نے تمہیں پہلے تو نہیں دیکھا۔۔۔ انمول کو آخر خیال آہی گیا پوچھنے کا۔

میں ماہی ہوں۔۔۔ اور یہ میری پھوپھو کا گھر ہے۔۔۔ میں کل رات کو ہی دبئی سے آئی ہوں۔۔۔ ماہی نے مسکرا کے بتایا۔

کیا تم دبئی میں رہتی ہو۔۔۔۔ انمول ایک دم خوش ہوتی جوش سے چیخی۔

ہممم۔ اسنے ہاں میں سر ہلایا۔

ایک بات بتاؤں کیا واقعی وہاں کوئی یارم نام کا ڈان بھی ہے۔۔۔ انمول اسکی طرف جھکتی رازداری سے پوچھنے لگی۔

نہیں وہاں تو ایسا کوئی نہیں ہے۔۔۔ اسنے الجھ کے سوچتے ہوئے کہا۔

ہائے یارم کاش تم سچی میں ہوتے۔۔۔۔ خیر چلو اندر چلیں کیا تم مجھے یہاں باہر گرمی میں کھڑے کر کے باتیں کر رہی ہو۔۔۔ یہ نہیں کے اندر جا کے باتیں کرلو چلو۔۔۔ انمول جو کتنی دیر سے خودہی اس سے باتیں کیئے جارہی تھی ۔۔۔۔ اسے ڈانٹنے والے انداز میں کہتی اندر بڑھ گئی۔

پیچھے ماہی اپنی غلطی ڈھونڈ رہی تھی کی کب اسنے اسے یہاں کھڑا رکھا تھا۔

اسلام و علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔ انمول لاونچ میں بیٹھی مسرت بیگم کو سلام کرتی انکے برابر والے صوفے پہ بیٹھ گئی۔

وعلیکم اسلام بیٹا میں ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ سناؤ آپ کیسی ہو اور گھر میں سب کیسے ہیں۔۔۔ انہوں نے شفقت سے مسکرا کے پوچھا۔

میں بلکل ٹھیک ہوں اور گھر میں بھی سب بلکل ٹھیک ہیں۔۔۔ میں نے سوچا آپ گھر میں اکیلی ہوں گی دائم بھی نہیں ہے تو کیوں نا آپ کو جاکے کمپنی دی جائے لیکن آپ نے تو اپنی کمپنی پہلے سے ہی بلا رکھتی ہے۔۔۔ انمول انہیں بتاتے ہوئے صوفے پہ بیٹھتی ماہی کی جانب اشارہ کر کے بولی تو انکی مسکراہٹ گہری ہوئی۔

ماہی میری بھتیجی ہے۔۔۔ یہ کل ہی آئی ہے دبئی سے دائم کے ساتھ۔۔۔ مسرت بیگم نے بتایا۔

کیا دائم بھی واپس آگیا۔۔۔ وہ جو ریلیکس ہو کے صوفے پہ بیٹھی تھی اسکی بات سنتے چونکی۔

ہاں بیٹا کل رات کو ہی آیا ہے ۔۔۔ اسکے ساتھ ماہی بھی آگئی ۔۔۔ ماہی پاکستان آئی ہے لیکن بہت کم پر اب وہ یہاں عید منانے آئی ہے۔۔۔ مسرت بیگم نے سکون سے کہا جب کے انمول کوئی بھی تاثر دیئے بغیر اٹھ کھڑی ہوئی۔

آنٹی میں جارہی ہوں پھر آؤ گی جب دائم گھر پہ نہیں ہوگا۔۔۔ انمول سنجیدگی سے کہتی جانے لگی تو وہ پریشان ہوگئی۔۔۔ وہ جانتی تھی انمول دائم سے ناراض ہے لیکن اس حد تک کے اس کے گھر ہونے کی وجہ سے جارہی تھی۔

انو۔۔۔۔ یار رکو۔۔۔ انمول جو ابھی باہر نکلنے ہی لگی تھی ایک دم دائم کے سامنے آنے سے رکی۔۔۔

جس طرح سے انمول دروازہ بچا رہی تھی اس طرح سے دائم اندازہ لگا چکا تھا کہ دروازہ انمول ہی بجا رہی ہے کیوں ایسا پہلے بھی بہت بار ہو چکا تھا۔۔۔ پھر اسنے انمول کو ماہی سے بات کرتے بھی دیکھا تھا۔۔۔ وہ جلدی سے فریش ہوکے نیچے آیا تو انمول کی آخری بات سنتے اسکی ناراضگی سمجھتے اسکے جانے سے پہلے ہی اسکے راستے میں حائل ہو چکا تھا۔

دائم کے اچانک سامنے آنے پہ انمول نے کہا تو کچھ نہیں تھا بس اسے گھور کے سائڈ سے نکلنے لگی تھی

انو یار کیا ہوگیا ہے ایسے کیوں جا رہی ہو۔۔۔ دائم نے پریشانی سے پوچھا۔

میں تمہیں بتانے کی پابند نہیں ہوں۔۔۔ وہ منہ پھیرے فل ناراضگی کا اظہار کرتی بولی تو دائم مسکرا دیا۔۔۔ جب کے صوفے پہ بیٹھی ماہی ان دونوں کو دیکھ ناجانے کیوں لیکن دکھ سے مسکرائی۔

یار میں تمہارا بیسٹ فرینڈ ہوں مجھے نہیں بتاؤ گی تو پھر کسے بتاؤ گی۔۔۔۔ دائم نے مسکراہٹ چھپائے معصوم شکل بنائے پوچھا ۔۔

اگر تو انمول اسکی مسکراہٹ دیکھ لیتی تو پھر اسے منانا اور بھی مشکل ہوجاتا۔

اوہو بیسٹ فرینڈ۔۔۔ انمول طنزیہ ہنسی۔

سوری یار وہ میں جلدی میں چلا گیا تھا۔۔۔ اس لیئے تمہیں بتا کے نہیں گیا۔۔۔ دائم اسکا انداز سمجھ کر شرمندگی سے معازت کرنے لگا۔۔۔

اپنا سوری اپنے پاس رکھو ۔۔۔ ہٹو میرے راستے سے مجھے جانا ہے۔۔۔ انمول اسے گھورتی بھڑک کے بولی۔

میں تمہیں ایسے جانے ہی نہیں دوں گا۔۔۔ جب تک تم مان نہیں جاتیں میں یہاں سے ہلوں گا بھی نہیں۔۔۔ دائم ضدی انداز میں بولا۔

دائم میں کہہ رہی ہوں مجھے جانے دو۔۔۔ انمول نے سختی سے کہا.

یار پلیز۔۔۔ مان جاؤ نا۔۔۔ دیکھو میں کان پکڑ کے سوری کہتا ہوں۔۔۔ دائم التجائی لہجے میں کہتا کان پکڑ کے کھڑا ہوگا۔

اس کے انداز پہ انمول کو بےساختہ ہنسی آئی لیکن نخرے دیکھانے کے لیئے منہ بناتی چہرا پھیر گئی۔

انو تم جانتی ہو ۔۔۔۔ میں تمہاری ناراضگی افوڈ نہیں کر سکتا۔۔۔۔ دائم بےبسی سے بولا۔

ماہی کو انمول اور دائم کی دوستی پہ رشک ہو رہا تھا۔۔۔ بھلا آج کے زمانے میں بھی ایسے دوست ملتے ہیں۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔ زیادہ ایسی مسکینوں والی شکل بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔ انمول اسکی اتری ہوئی شکل دیکھ احسان کرنے والے انداز میں بولی۔

مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔۔۔۔ بس تم مجھ سے ناراضگی ختم کردو۔۔۔ دائم نے فورن کہا۔۔۔ اسے اور کیا چاہیئے تھا وہ مان رہی تھی بس اتنا ہی کافی تھا۔

ٹھیک ہے تو پھر چلو پہلے ہم شوپنگ پہ جائیں گے اور پھر وہاں سے افطاری کرنے اور افطاری کے بعد کسی اچھی جگہ سے آئسکریم کھاتے ہوئے آئیں گے۔۔۔ انمول نے اپنی شرط بنائی۔

اوکے۔۔۔ دائم نے مسکرا کے سر کو خم دیا۔

چلو چلیں۔۔۔۔ دائم سب کچھ چھوڑ چھاڑ فورن تیار ہوا۔

ماہی تم بھی چلو نا ہمارے ساتھ ۔۔۔۔ انمول نے مڑ کے صوفے پہ بیٹھی ماہی سے کہا۔

میں کیا کروں گی جا کے آپ لوگ جاؤ۔۔۔۔ انمول کے ایک دم پوچھنے پہ ماہی نے جھجھکتے ہوئے سادگی سے کہا۔

تم بھی وہی کرنا جو ہم کریں گے۔۔۔ گھومیں گے پھریں گے شوپنگ کریں گے کھائیں گے پیئں گے اور واپس آجائیں گے۔۔۔ تم بھی چلو بہت مزاح آئے گا۔۔۔تم بھی بولو نا دائم اسے ساتھ چلنے کے لیئے۔۔۔ انمول نے اسے پورا پلین بتاتے دائم کو مخاطب کیا۔

ہاں ماہی انو دیکھ کہہ رہی ہے چلو تم بھی ساتھ۔۔۔ دائم نے مسکرا کے کہا۔

نہیں آپ لوگ جاؤں میں پھر کبھی سہی۔۔۔۔ ابھی مجھے تھوڑا سا کام ہے ۔۔۔ ماہی نے رسان سے انکار کیا۔

اوکے لیکن اگلی بار کوئی بہانا نہیں۔۔۔ انمول انگلی اٹھا کے وارن کرتی مسرت بیگم کو خدا حافظ کہہ کے باہر نکل گئی۔۔۔ اسکے پیچھے ہی دائم بھی باہر نکلا۔

بہت اچھی بچی ہے ماشاءاللہ۔۔۔ اللہ اسے اسکے گھر میں خوش و آباد رکھے۔۔۔ اس کے جاتے ہی مسرت بیگم نے مسکرا کے دعا دی۔

ہممم دائم اور انمول کی کافی دوستی ہے۔۔۔ مجھے لگتا ہے شاید دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔ ماہی نے جھجھکتے ہوئے اپنے دل میں چلتا سوال پوچھا۔

ارے نہیں ۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔ بس دونوں بچپن سے دوست ہیں تو ایک دوسرے سے روٹھنا منانا ایک دوسری سے ہر بات شیئر کرنے کی عادت ہے۔۔۔. اور اب تو ماشاءاللہ سے انو کا نکاح بھی ہوگیا ہے اسکے چچازاد کے ساتھ۔۔۔ اور عید کے بعد شادی بھی ہے اسکی۔۔۔۔ بہت خوش ہے وہ۔۔۔ مسرت بیگم نے خوشی سے بتایا تو ماہی کو یہ جان کے حیرانگی ہوئی کے انو کا نکاح ہو گیا ہے۔۔۔ لیکن کہیں نا کہیں دل میں ایک سکون بھی ہوا تھا۔۔۔ لیکن یہ سکون کس لیئے تھا وہ بھی نہیں جانتی تھی۔

۔🌺🌺🌺

اففف انو بس بھی کرو اور کتنی چیزیں خریدو گی۔۔۔ دائم اب جھنجھلا گیا تھا اسے فضول کی چیزیں لیتے دیکھ ۔۔۔ وہ فضول میں کبھی ایک دکان پہ جارہی تھی تو کبھی دوسری۔۔۔ اسے کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں تھی لیکن پھر بھی بلاوجہ پچھلے دو گھنٹے سے شوپنگ کر رہی تھی۔۔۔ دائم کے تو دونوں ہاتھ بیگز سے فل ہوگئے تھے لیکن انو میڈم کی شوپنگ ختم نہیں ہو رہی تھی۔

تم چپ چاپ چلتے رو بس میرے ساتھ۔۔۔۔ یہ تمہاری سزا ہے اور سزا کے بیچ میں بولتے نہیں ہیں یہ میرا اصول ہے۔۔۔ انو مصروف انداز میں کہتی چوڑیاں دیکھنے لگی۔

سارے اصول صرف دوسروں پہ ہی لاگو ہوتے ہیں۔۔۔ تمہاری باری پہ یہ سارے اصول کہاں جا سوتے ہیں۔۔۔ دائم اسکی پشت کو گھور کے بولا۔

فالتو باتیں نہیں کرو اور خاموشی سے میرے پیچھے آؤ۔۔۔ انو بھی اسے گھور کے ایک نظر دیکھتی دکان سے نکل گئی۔۔۔ تو پیچھے بیچارے دائم کو بھی آنا پڑھا۔

کس کا فون کاٹ رہی ہو۔۔۔ انو کو بار بار فون کاٹتے دیکھ دائم نے آخر پوچھ ہی لیا۔۔۔ اسے تین بار کسی کا فون آچکا تھا اور وہ تینوں بار کاٹ چکی تھی۔

سیکنڈ فلور پہ کھڑے ابتسام نے انمول کے کال کاٹنے پہ غصے سے مٹھیاں بھیجیں تھی۔۔۔ وہ یہاں کسی میٹنگ کے لیئے آیا تھا اور اب واپس جا رہا تھا جب دائم اور انمول شوپنگ کرتے دیکھتے۔۔۔۔ وہ انمول سے پوچھنے کے لیئے کال کر رہا تھا کہ وہ کہاں ہے لیکن انمول نے آگے سے تینوں بار اسکی کال کاٹ دی تھی۔۔۔ اور یہ ابتسام سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

مسٹر ڈریگن کا۔۔۔ انو ساتھ چلتے دائم کو دیکھتی بولی۔

لیکن کیوں۔۔۔۔ کیا کوئی ناراضگی چل رہی ہے۔۔۔ دائم نے بھاری ہوتے دل دے پوچھا۔۔۔ کچھ پل کے لیئے تو وہ بلکل ہی بھول گیا تھا کہ انو کا نکاح ہوچکا ہے اب وہ کسی اور کی امانت ہے۔۔۔

ہممم چلو افطاری کرنے چلتے ہیں افطاری کا وقت ہو رہا ہے۔۔۔۔ وہیں پہ تمہیں پوری بات بھی بتاؤں گی۔۔۔۔ چوتھی دفعہ بھی کال کاٹتے دائم سے بولی تو وہ بھی ہاں میں سر ہلاتا اسکے ساتھ مال سے باہر نکلا۔

جب کے ابتسام اپنا غصہ کنٹرول کرتا رہ گیا۔۔۔ اسے اس وقت شدید غصہ آرہا تھا انمول کے اگنور کرنے پہ۔۔۔ مطلب اب اس کے لیئے اپنے شوہر سے زیادہ اہم دائم ہوگیا تھا کہ وہ اسکے ساتھ ہوتے ہوئے اسکا فون نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔ اسکے ساتھ خوشی خوشی شوپنگ کر رہی تھی۔۔۔ اور انمول کی یہ حرکت ابتسام کے دل میں شک پیدا کر گئی تھی۔

۔🌺🌺🌺

تم بھی میرے ساتھ آرہے ہو۔۔۔ وہ لوگ گھر پہنچے تو دائم کو اپنے پیچھے ہی آتا دیکھ انو نے آئبرو اچکائی۔

ہاں مجھے ابتسام سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔

اور ان سے کیا بات کرنی ہے۔۔۔ انمول مشکوک ہوئی۔

بس کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔ دائم نے سکون سے کہا۔

دائم دیکھو میں نے جو تمہیں آج بتایا ہے۔۔. تم اس بارے میں مسٹر ڈریگن سے کوئی بات نہیں کرو گے سمجھے۔۔۔ انمول سمجھاتے ہوئے بولی۔۔۔۔

لیکن دائم تو جیسے کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ ابتسام سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اسے ابتسام کے رویہ پہ دکھ ہوا تھا۔۔۔ کہاں انمول کو کبھی کسی نے اس انداز میں ڈانٹا ک نہیں تھا۔۔۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ انمول شرارت ضرور ہے لیکن بلکل بھی ایسی نہیں ہے کے وہ کسی کا جان بوجھ کے مزاق بنوائے۔۔۔ وہ اپنے رشتوں کے لیئے بہت حساس ہے ۔۔۔ عزت کرنا اور کروانا جانتی ہے۔۔۔ وہ ابتسام سے مل کے اسے انمول کو سوری کہنے کا تو ہرگز نہیں بولنے والا تھا لیکن وہ ابتسام کو سمجھانے کا ارادہ ضرورت رکھتا تھا کہ وہ آگے جا کے انمول کے ساتھ ایسا رویہ نا رکھے۔۔۔۔ اسے کوئی تکلیف نا دے۔۔۔

تم فکر نہیں کرو میں اسے کچھ نہیں کیوں گا۔۔۔ وہ اسے بےفکر کرتا اندر بڑھ گیا ۔۔ جب کے انمول کو تو اسکی بات پہ بلکل یقین نہیں تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی دائم ابتسام سے اس بارے میں بات ضرور کرے گا۔۔۔۔ اس لیئے خود بھی سر جھٹکتی اندر بڑھ گئی۔

۔🌺🌺🌺