Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 3)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 3)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
انو۔۔۔۔۔ انو نیچے آؤ۔۔۔۔ مشی اسے زور و شور سے آوازیں دے رہی تھی جب کے انو ہمیشہ کی طرح اپنے کمرے میں بند فنٹسی کی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔
آرہی ہوں۔۔۔۔ وہ فون سے نظریں ہٹائے بغیر ایسے ہی کمرے سے نکلی۔۔۔۔
وہ ناول پڑھنے میں اتنی مگن تھی کہ ریلنگ کے پاس کھڑے فون پر بات کرتے حماد کو بھی نا دیکھ سکی اور اس سے ٹکرا گئی۔۔
آ۔۔۔۔۔ ٹکر اتنی زور دار تھی کے انمول کا فون تو زمین پر گرا لیکن حماد جو بلکل ریلنگ کے ساتھ کھڑا تھا اسکا فون نیچے لاؤنچ میں گرا۔۔۔
اناللہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔ پھوپھو کے پاس لاؤنچ میں بیٹھے دائم نے فون کے ٹکرے ٹکرے دیکھ باآواز بلند کہا۔۔۔۔ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی ان سے ملنے آیا تھا۔
یہ کیا کیا تم نے لڑکی۔۔۔۔ حماد نے صدمے سے نیچے اپنے مردہ فون کو دیکھا۔
اوہو لگتا ہے خالق حقیقی سے جا ملا۔۔۔۔ خیر کوئی بات نہیں دوسرا لے آئے گا۔۔۔ انمول ایک نظر نیچے دیکھ کندھے اچکاتی واپس اپنے فون میں مصروف ہوتی آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگی۔
ارے دائم تم کب آئے۔۔۔۔ انمول ایک نظر دائم کو دیکھ پوچھنے لگی۔
بس تھوڑی دیر پہلے۔۔۔ اسنے مسکرا کے جواب دیا۔
یہ کس کا فون ہے۔۔۔۔ میشا جو ابھی کچن سے نکلی تھی زمین پر فون کے ٹکرے پڑے دیکھ حیرت سے پوچھنے لگی۔
آپ کے منگیتر صاحب کا ہے۔۔۔۔ اور تو کب تک وہیں کھڑے کھڑے فون کا سوگ مناتا رہے گا۔۔۔۔ چل نیچے آجا۔۔۔ ہم کچھ دیر میں نیا فون لینے چلیں گے۔۔۔۔ دائم پہلے میشا سے پھر حماد کو صدمے سے ایک ہی خگہ کھڑا دیکھ بولا تو وہ بھی آفسردگی سے نیچے آگیا۔
یہ کیسے ٹوٹا۔۔۔۔ میشا ابھی ہی حیران تھی۔
پتہ نہیں۔۔۔۔ انمول نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
تمہیں نہیں پتہ۔۔۔ اگر تم اندھوں کی طرح نا چلتیں تو شاید آج میرا فون زندہ ہوتا۔۔۔ حماد ٹوٹا فون اٹھاتا افسوس سے بولا۔
پھوپھو دیکھ رہی ہیں آپ اپنے بیٹے کو ۔۔۔۔ کیسے مجھے باتیں سنا رہے ہیں ۔۔۔ فون ان کے ہاتھ سے چھوٹا ہے۔۔۔۔ ان کے ہاتھ میں کیا جان نہیں تھی جو ہلکی سی ٹکر لگنے سےفون نیچے گر گیا۔۔۔ انمول اپنی غلطی مان جائے ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔
حماد جو ہو گیا سو ہوگیا ۔۔۔ اب جا کے نیا فون لے آنا ویسے بھی یہ کافی پرانا ہوگیا تھا۔۔۔ اپنی ماں کو بھی انمول کی سائڈ لیتے دیکھ حماد نے سر جھٹکا ۔۔۔
ایک کام کرتے ہیں ہم دونوں چلتے ہیں اور افطاری بھی باہر ہی کر لیں گے۔۔۔ دائم نے حماد کی بیچاری شکل دیکھ کہا۔
ہم بھی چلیں گے۔۔۔ انمول فورن فون بند کرتی بولی۔
کوئی ضرورت نہیں ہے پہلے ہی تم میرا نقصان کرا چکی ہو اب اور نہیں۔۔۔ حماد نے فورن انکار کیا۔
پھوپھو۔۔۔۔ انمول نے رونی صورت بنائے ہاجرہ بیگم کو دیکھا۔
حماد لے کے جاؤ لڑکیوں کو بھی اور اس کے آگے میں کچھ نہیں سنوں گی۔۔۔۔ پھوپھو نے اسے کچھ بولنے کے لیئے منہ کھولتے دیکھ حکمیہ لہجے میں کہا تو ناچاہتے ہوئے بھی حماد کو ماننا پڑا۔
چلو مشی جلدی سے تیار ہو جاؤ میں بھی تیار ہو کے آتی ہوں۔۔۔۔ انمول میشا کے گال کھینچتی اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
انو یار ای سی چل رہا ہے۔۔۔۔ ہاتھ اندر کرو اور کھڑکی بند کرو۔۔۔ گاڑی ڈرائیو کرتے دائم نے انمول کو کھڑکی سے باہر جھولتے دیکھ ٹوکا ۔
اففف ہو یار زندگی انجوائے تو کرنے دو۔۔۔ مجھے فیل کرنے دو کہ فلموں کی ہیروئنز کیسا محسوس کرتی ہوں گی ایسے کھڑکی سے باہر لٹتے ہوئے۔۔۔۔ انمول مزے سے کہتی اپنے کام میں مصروف رہی۔
اچھا ہے جب کوئی گاڑی والا مار کے جائے گا نا تب مزا آئے گا۔۔۔۔ حماد استہزاء اندازمیں مسکرایا۔
انسان کی شکل اچھی نا ہو تو بات تو اچھی کرنی چاہیئے۔۔۔ وہ غصے سے بولی۔
انو وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔۔ یہ چلتا ہوا روڈ ہے کوئی گاڑی والا مار کے بھی جا سکتا ہے۔۔۔۔ میشا نے سمجھایا لیکن وہ نہیں. جانتی تھی اسکا سمجھانا اسکے ہی گلے پڑھ جائے گا۔
او ہو ہو ہو۔۔۔۔ دیکھو تو دائم کیسے کوئی ابھی سے اپنے ہونے والے انکی حمایت کررہا ہے۔۔۔۔ انمول گرنے کے سے انداز میں سیٹ پر بیٹھتی دائم سے بولی۔
انو میں کسی کی حمایت نہیں کر رہی۔۔۔ مجھے بھی دیکھ رہا ہے باہر کتنی گاڑیاں چل رہی ہیں اگر۔۔۔۔
ہاں ہاں سب جانتی ہوں میں۔۔۔۔ اب تو تم یہی کہوں گی نا کہ تمہیں میری فکر ہے اس لیئے بول رہی ہو۔۔۔ جب کے اصل میں تو تم حماد بھائی کے سامنے اچھی بن رہی ہو۔۔۔۔ انمول اسے تیخی نظروں سے گھورتی ہوئی بولی۔
جاؤ کھڑکی سے باہر لٹکو یا گاڑی سے نیچے گر جاؤ ۔۔۔۔ میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ۔۔۔میشا زچ ہوتی اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتی بولی۔
اوہو میری پیاری بہنا میں تو مزاق کر رہی تھی تم تو ناراض ہی ہو گئیں۔۔۔ انمول اسکے گرد گھیرا بناتی اسے منانے لگی۔
ہٹ جاؤ پیچھے مجھے تم سے بات نہیں کرنی۔۔۔ وہ بھرپور ناراضگی کا اظہار کرتی اسکا حصار توڑنے لگی۔
اوئے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ ابھی انمول کچھ بولتی جب دو موٹرسائیکل سوار لڑکے انہیں دیکھ کے سیٹی بجانے لگے۔
آگے بیٹھے دائم اور حماد کے ماتھے پر بل پڑے جب کے انمول کی تو آنکھیں چمکیں تھیں۔۔۔
کیا تم لوگوں نے مجھے دیکھ کے سیٹی بجائی ہے۔۔۔۔ انمول آکسائیڈ ہوتی باہر جھانکتی ان آوارہ لڑکوں سے پوچھنے لگیں جو خباثت سے ہنستے ہاں میں سر ہلانے لگی۔
انو چپ کر کے اندر بیٹھو ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگنا چاہیئے۔۔۔ دائم نے سختی سے کہا لیکن انمول کہاں کسی کی سنے والی تھی۔
تمہیں پتہ ہے میری بڑی خواہش تھی کے کوئی لڑکا مجھے بھی چھیڑے جیسے ناولز میں ہیروئنز کو چھیڑتے ہیں۔۔۔ انمول حسرت سے بولی جب کے اسکی الٹی بات پر سب نے اپنا ماتھا پیٹا۔
انو یہ افسانوی دنیا نہیں ہے بلکہ حقیقت کی دنیا ہے یہاں تمہیں کوئی ہیرو بچانے نہیں آئے گا اور نا ہی تم کسی ہیروئن کی طرح اتنی بہادر ہو کو ان جیسے لوگوں کا مقابلہ کر سکو۔۔۔۔ میشا نے اسے عقل دی ۔
تمہارا کہنا ہے میں بہادر نہیں ہوں۔۔۔۔ دائم گاڑی روکو فورن میں اسے دیکھاتی ہوں کے میں کتنی بہادر ہوں۔۔۔ انمول پھاڑ کھانے والے انداز میں میشا سے کہتی پھر دائم سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔۔ جو کم سے کم اس کے کہنے پر تو گاڑی روکنے والا نہیں تھا۔
جب کے وہ لڑکے ابھی تک اپنی بائیک انکی گاڑی کے آگے پیچھے دوڑا رہے تھے۔
دائم تم نے سنا نہیں گاڑی روکو۔۔۔ انمول اپنی بات کو نظرانداز ہوتے دیکھ ڈرائیو کرتے دائم کو جھنجھوڑ کے بولی۔
انو پاگل نہیں بنو۔۔۔ تم کیا چاہتی ہو یہاں روڑ پر تماشا لگ جائے۔۔۔ حماد نے اسے گھورا۔
دائم گاڑی روکو۔۔۔ وہ حماد کی بات نظرانداز کرتی اسٹیرنگ ادھر ادھر گمانے لگی جس سے گاڑی ڈس بیلنس ہوگئی۔۔۔ دائم نے گاڑی سمبھالنے کے لیئے فورن بریک لگائی اور اگلے ہی لمحے انمول گاڑی سے باہر نکل گئی۔۔
گاڑی رکتے ہی ان لڑکوں نے اپنی بائیک بھی روک لی تھی۔
کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔ حماد کو گاڑی سے باہر نکلتے دیکھ دائم نے سکون سے پوچھا۔۔۔۔
انو کے پاس اسے ایسے اکیلا تو نہیں چھوڑ سکتے نا۔۔۔ حماد نے پریشانی سے کہا۔
آپ بیٹھ کے یہیں سے دیکھیں۔۔۔ وہ تھوڑی دیر میں خود آجائے گی۔۔۔۔ میشا بھی بےفکری سے کہتی باہر جھانکنے لگی جہاں انمول کھڑی ان لڑکوں سے مذاکرات کر رہی تھی۔
دائم اور میشا کافی پرسکون تھے وہ جانتے تھے انمول ایسے لڑکوں کو اچھے سے ہنڈل کر سکتی ہے۔۔۔ وہ تو سب یہاں کوئی تماشہ نہیں چاہتے تھے اس لیئے انمول کو روک رہے تھے لیکن اب تو شاید تماشہ لگنا ہی تھا۔۔
ان دونوں کو سکون سے بیٹھے دیکھ حماد بھی کندھے اچکاتے وہیں بیٹھے دیکھنے لگا۔۔۔ دائم اور میشا بلکل بےفکر تھے کیونکہ وہ جاتے تھے اپنی دوست کو جو ایسے لوگوں کو اچھے سے ہنڈل کرنا جانتی تھی۔
ویسے تم دونوں ہی اچھے ہو ۔۔۔۔ لیکن کیا ہے نا میں تم میں سے کسی ایک سے دوستی کر سکتی ہوں تو اب تم دونوں ڈیسائڈ کر لو کے کس نے مجھ سے دوستی کرنی ہے۔۔۔ انمول ہاتھ نچا نچا کے بولی۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کے تم ہم دونوں سے دوستی کرلو۔۔۔۔ یقین کرو ہم دونوں مایوس نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ ایک لڑکا اپنے گندے پیلے دانتوں کی نمائش کراتا بولا تو انمول نے دانت پیسے۔
اچھا چلو لاؤ اپنا فون دو۔۔۔ میں تمہیں اپنا پتہ اور نمبر دے دیتی ہوں۔۔۔ انمول کے کہتے ہی پہلے لڑکے نے اپنا فون نکالتے فورن اسے دیا۔
یہ لو۔۔۔ بلکے تھوڑی دیر میں لے لینا۔۔۔ جب تک ہم ایک کام کرتے ہیں پہلے تھوڑی سی جان پہچان بڑها لیتے ہیں۔۔۔ انمول جلدی جلدی فون میں کچھ ٹائپ کر کے سینڈ کرتی فون ان لڑکوں کی طرف بڑھانے ہی لگی تھی پھر ہاتھ واپس کھینچ کے ان کو باتوں میں لگانے لگی۔
تقریباً پانچ منٹ بعد وہاں پولیس پہنچ گئی تھی۔۔۔ پولیس کو دیکھتے ہی ان لڑکوں نے فورن بھاگ نے کی تیاری پکڑی لیکن اس سے پہلے ہی وہ لوگ پولیس کے ہتھے چڑھ چکے تھے۔
ماننا پڑے کا اسپیکٹر صاحب۔۔۔۔ آج آپ لوگوں نے جلدی پہنچ کے ثابت کر دیا کے پولیس ہمیشہ دیر سے نہیں آتی۔۔۔ انمول نے آئبرو اچکائے داد دی تھی پولیس والوں کو۔۔۔
پولیس کے آتے ہی گاڑی میں بیٹھے وہ تینوں بھی نکل کے باہر آگئے تھے ان کے اردگرد لوگوں کا ہجوم بھی لگ گیا تھا۔
تھینک یو میڈم اگر آپ جیسے بہادر اور سمجھدار لوگ ملک میں موجود ہوں تو ایسے آوارہ اور بدمعاش لڑکوں سے ہمارا ملک پاک ہو سکتا ہے۔۔۔ افسر نے اسکی تعریف کی جس کو اسنے سر کو خم دے کے وصول کی۔
تماشہ ختم ہوا آپ سب لوگ جائیں اپنا اپنا کام کریں۔۔۔۔ انمول وہاں کھڑے تماشہ دیکھتے لوگوں سے کہتی شان بےنیازی سے چلتی گاڑی میں آ بیٹھی۔۔۔۔
یار تم نے پولیس کو کیسے بلایا۔۔۔ حماد ابھی تک شاکڈ تھا۔
یہی تو ہمارا ٹیلنٹ ہے کے سامنے والے کے سامنے سارا کام بھی کر دیتے ہیں اور اسے پتہ بھی نہیں چلتا۔۔۔ انمول نے فرضی کالر کھڑے کیئے۔۔۔ جب کے دائم مسکرا کے گاڑی اسٹاٹ کر چکا تھا۔
دائم بھائی افطاری کا وقت ہونے والا ہے تو پہلے کسی ریسٹورینٹ کی طرف لے لیں اس کے بعد فون لینے چلیں گے۔۔۔۔ میشا نے کہا تو دائم نے ہاں میں سر ہلاتے گاڑی ریسٹورینٹ کی جانب موڑ لی۔
۔![]()
![]()
![]()
میں سوچ رہی ہوں اب جب کے ہم مال آہی گیئے ہیں تو کیوں نا تھوڑی سی رمضان کی شوپنگ کرلیں۔۔۔۔وہ لوگ افطاری کرکے وہیں ریسٹورینٹ میں نماز پڑھ کے مال آئے تھے۔۔۔ جب وہاں موجود کپڑوں کو دیکھ انمول کا دل للچایا۔
انو ہم پیسے نہیں لائے ہیں۔۔۔ میشا نے یاد دلایا۔
ہم حماد بھائی یا دائم سے ادھار لے لیں گے اس میں کون سی بڑی بات ہے۔۔۔ انمول نے منٹوں میں حل نکالا۔
نہیں انو یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔۔۔۔ میشا نے فورن اسکی بات کی نفی کی۔
ٹھیک ہے تم نہیں کرنا شوپنگ میں کرلوں گی۔۔۔ انمول کہتی کچھ فاصلے پر چلتے حماد اور دائم کی طرف تیزی سے بڑھ گئی تو مجبوراً میشا کو بھی آنا پڑا۔
دائم اپنا کریڈٹ کارڈ دو میں نے شوپنگ کرنی ہے۔۔۔۔ اور یہ نہیں سمجھنا کے میں تمہارے پیسوں کی شوپنگ کر کے پیسے واپس نہیں دوں گی۔۔۔ میں گھر جاتے ہی بابا سے پیسے لے کے واپس کردوں گی۔۔۔ انمول اسکے آگے ہاتھ کیئے کارڈ مانگتی ساتھ وضاحت بھی دینے لگی۔
پیسے واپس دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ آج کی شوپنگ تم میری طرف سے کر سکتی ہو۔۔۔۔ دائم اسکے ہاتھ پر کارڈ رکھتا بولا تو وہ بھی خوش ہوگئی۔
اوکے ہم لوگ اپنی شوپنگ کرنے جارہے ہیں تھوڑی دیر بعد فوڈ کورٹ پر ملتے ہیں۔۔۔۔ بائے۔۔۔ انمول چہک کے کہتی میشا کا ہاتھ پکڑے وہاں سے لے گئی۔۔۔۔ تو وہ لوگ بھی تیسرے فلور کی طرف بڑھ گئے فون لینے کے لیئے۔
۔![]()
![]()
![]()
