170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 8)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

چھوٹے لوگوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے اپنی اوقات دیکھا جاتے ہیں فورن۔۔۔ مسٹر خان ٹیبل پر فون پٹختے نخوت سے سر جھٹک کے بولے۔

کیا ہوا ہے بابا۔۔۔۔ فہد جو وہیں بیٹھا افطاری کر رہا تھا انہیں غصے میں دیکھ پوچھنے لگا۔۔۔۔ وہ ابھی تو فون پہ آئی کال سننے گئے تھے اور اب غصے میں واپس آئے تھے۔

ہونا کیا ہے۔۔۔۔ میں نے راشد کو ایک کام بولا تھا تو آگے سے بولتا ہے اسکے پیسے الگ سے ہوں گے ۔۔۔۔ جیسے میں تو اسے پیسے دیتا ہی نہیں۔۔۔ لیکن نہیں اسنے فورن اپنی اوقات دیکھا دی۔۔۔ وہ غصے سے بولے۔

میری ایک بات یاد رکھنا بیٹا ہمیشہ چھوٹے لوگوں کو چھوٹا ہی رکھنا کبھی اپنے سر پے بیٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ انہوں نے فہد کو سمجھایا تھا جسے ان کی بات اچھی تو نہیں لگی تھی لیکن خاموش رہنے کے علاوہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔

وہ جانتا تھا دولت کے نشے نے اسکے باپ کی آنکھیں بند کر دی ہیں جو اپنے سے چھوٹے لوگوں کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔۔۔۔ ان سے کوئی تعلق رکھنا تو دور وہ ان سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتا تھے یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے باپ کو انمول کے بارے میں بھی نہیں بتا رہا تھا ورنا جب پہلی بار انمول کو دیکھا تھا وہ تب سے ہی اسکا دیوانہ ہوگیا تھا اور جلد سے جلد اسے اپنا بنانا چاہتا تھا۔۔۔ اسکے لیئے انمول کا اسٹیٹس کوئی معنی نہیں رکھتا تھا لیکن وہ جانتا تھا اسکے باپ کے لیئے یہ سب چیزیں معنی رکھتی ہیں۔

اپنی ماں کے جانے کے بعد وہ اپنے باپ کے قریب رہا تھا لیکن ان کے جیسا کبھی نہیں بنا تھا۔۔۔۔ وہ غصے کا تیز تو تھا لیکن سب انسانوں کو ایک برابر سمجھتا تھا۔۔۔ کسی جو اسکے کپڑوں سے جج نہیں کرتا تھا۔۔۔ لیک. اسکے بابا کو اسکی یہ بات بلکل پسند نہیں. تھی وہ اسے اپنے جیسا بنانا چاہتے تھے لیکن اب وقت گزر چکا تھا ۔۔۔

ہمم ہم بابا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ اسنے گلہ کھنکھارتے تہمید باندھی۔۔۔

ہاں بولو۔۔۔۔ انہوں نے مصروف انداز میں کہا۔

وہ بابا مجھے ایک لڑکی پسند ہے۔۔۔ اسنے رسان سے کہا۔

مسٹر خان نے چونک کے اپنے بیٹے کو دیکھا پھر ایک دم مسکرا کے بولے۔

کون ہے وہ لڑکی جس کی قسمت چمکنے والی ہے۔۔۔

انمول نام ہے اسکا۔۔۔ فہد نے گہرا سانس بھر کے بتایا۔

ہممم کیا بیک گراؤنڈ ہے اسکا۔۔۔ وہ پوری طرح سے اسکی طرف متوجہ ہوئے۔

بابا مجھے اسکے بیک گراؤنڈ سے نہیں اس سے شادی کرنی ہے۔۔۔

پھر بھی پتہ تو چلے کس خاندان سے ہے۔۔۔ کیسے لوگ ہیں، کیا کرتے ہیں۔۔۔ انہوں نے تفصیل جاننی چاہی جو فہد بتانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ لیکن مجبوری تھی بتانا تو تھا ہی اور راضی بھی کرنا تھا

ڈفینس میں گھر ہے انکا زیادہ تو نہیں لیکن تین فیکٹریاں تھیں جن میں سے ابھی ایک بیچ کے اسکے بابا نے اپنے بھتیجے کا بزنس اسٹار کروایا ہے۔۔۔ ایک معزز گھرانہ ہے۔۔۔ فہد نے تفصیل بتائی۔

ہممم لیکن بیٹا ہمیں رشتے داری اپنے برابر کے لوگوں میں جوڑنی چاہیئے۔۔۔۔ انہوں نے کافی پرسکون لہجے میں سمجھایا تھا۔۔۔ جانتے تھے جوان بیٹا ہے اور وہ بھی اکلوتا اسکے علاوہ انکا تھا ہی کون ۔۔. اس لیئے کافی تحمل سے کام لے رہے تھے۔

بابا ہمارے لیئے لڑکی اور لڑکی کا گھر بار دیکھنا ضروری ہے ۔۔۔ وہ لوگ اچھے لوگ ہیں باقی ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔۔۔ یہ سب میرا ہے تو جب انمول یہاں آئے گی میری دلہن بن کے آپ کی بہو بن کے تو یہ سب بھی اسکا ہی ہوگا۔۔۔ پلیز بابا آج اپنے بیٹے کی خوشیوں کے لیئے بینک بیلنس کو سائڈ رکھ کے سوچئیں۔۔۔ وہ بہت سکون اور پیار سے سمجھا رہا تھا جب کے اسکی بات سنتے مسٹر خان کسی گہری سوچ میں چلے گئے تھے۔۔۔

ٹھیک ہے جب بھی چلنا ہو رشتہ لے کے بتا دینا۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ مسکرا کے بولے تو فہد کی جان میں جان آئی۔

تھینکیو سو مچ بابا ہم کل ہی چلیں گے اور دس دن بعد نکاح اور پھر عید کے بعد شادی کی تاریخ بھی رکھ کے آئیں گے۔۔۔ فہد نے اپنی پلینگ بتائی۔

صاحبزادے آپ نے پہلے سے ہی سب کچھ طے کیا ہوا ہے تو مجھے سیدھا شادی کا کارڈ ہی پہنچا دیتے۔۔۔۔ اسکی جلد بازی پر انہوں نے طنز کیا۔۔۔۔ تو وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے مسکرا کے رہ گیا۔

سوری بابا لیکن پلیز ہم کل چلیں گے اور ساری باتیں طے کر کے بھی آئیں گے۔۔۔ فہد نے التجاہ کی۔

بیٹا وہ لڑکی والے ہیں انہیں فیصلہ کرنے میں وقت لگے گا۔۔۔ مسٹر خان نے سمجھایا۔

جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا لیکن ہم کل چلیں گے بس۔۔۔ اسنے حتمی انداز میں کہا تو مسٹر

مان گئے۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔ انہوں نے مسکرا کے کہا۔

جب کے فہد کا تو بس نہیں چل رہا تھا وہ ابھی رشتہ لے کے پہنچ جائے لیکن اس کے لیئے ابھی اتنا ہی کافی تھا کے اسکے بابا مان گئے ہیں ۔

۔🌺🌺🌺

انمول بیٹا زرا مشی کو تو دیکھو کتنی دیر ہوگئی ہے کب کی نماز پڑھنے گئی ہوئی تھی اور ابھی تک نہیں آئی ہے۔۔۔ جاؤ بلا کے لاؤ اسے۔۔۔۔ افطاری کے بعد نماز پڑھ کے انمول پھر سے کھانے بیٹھ گئی تھی جب چچی کچن سے نکلتی اسے میشا کو بلانے کا کہنے لگیں۔

جی چچی۔۔۔ وہ جوس کا گلاس ختم کرتی اٹھ گئی۔

دائم تم اس وقت یہاں کیسے۔۔۔ ابھی انمول اوپر جاتی کے اسے لاؤنچ میں دائم داخل ہوتا دیکھا۔

مجھے ابتسام نے بلایا ہے ۔۔۔ اسے کچھ کام ہے مجھ سے۔۔۔ دائم اسکے سامنے آ رکا۔

کیسا کام۔۔۔ وہ اسکی طرف جھکتی رازداری سے پوچھنے لگی۔

پتہ نہیں اب جاؤ گا تو پتہ چلے گا۔۔۔ اسنے کندھے اچکائے۔

جب پتہ چلے تو مجھے بھی بتانا۔۔۔ انمول نے ایسے کہا جیسے ابتسام نے اسے کسی خزانے کا بتانے کے لیئے بلایا ہے

جی میڈم جو حکم۔۔۔ دائم نے مسکرا کے سر کو خم دیا۔۔۔ تو وہ بھی مسکرا کے اوپر بڑھ گئی۔۔۔ اسکے پیچھے ہی دائم بھی اوپر بڑھا۔

دائم کیا تم نے کوئی آواز سنی۔۔۔ وہ ابھی میشا کے کمرے میں جاتی کے اسے اوپر چھت کی سیڑھیوں پر چوڑیوں کی کھنکھناہٹ سنائی دی۔

ہاں اوپر سے آرہی ہے۔۔۔ دائم نے تصدیق کی۔

چلو چل کے دیکھتے ہیں کہیں کوئی چور تو نہیں آگیا۔۔۔ انمول کہتی دبے پاؤں اوپر کی جانب بڑھی۔

انمول چور چوڑیاں نہیں پہنتا۔۔۔

کیا پتہ چورنی ہو۔۔۔۔ انمول کی بات سنتے دائم نے نفی میں سر ہلایا اور آہستہ آہستہ انمول کے پیچھے اوپر بڑھا۔

وہ لوگ بغیر آواز کیئے اوپر پہنچے اور دیوار کی اوٹ سے چھپ کے دیکھنے لگے کے چھت پر کون ہے لیکن سامنے ہی میشا اور حماد کو دیکھ چونک گئے۔۔۔ مطلب جیسے وہ چور سمجھ رہے تھے وہ لوگ میشا اور حماد تھے۔

اففف یہ دونوں ہیں ۔۔۔ اگر ملنا ہی تھا تو بتا تو دیتے خامخواہ ہمیں ڈرا دیا۔۔۔ چلو چلیں ۔۔۔ دائم ان دونوں کو آپس میں بات کرتے دیکھ واپسی کے لیئے مڑا جب کے انمول تو تن فن کرتی میشا اور حماد کے سر پر پہنچی تھی۔

مشی۔۔۔ حماد بھائی۔۔۔ وہ دونوں کو پکاری گھورتے ہوئے ان کے پاس آئی جب کے وہ دونوں جو ایک دوسرے سے باتوں میں مگن تھے انمول کی آواز سنتے ایک دم گڑبڑا گئے۔

نیچے جاتا دائم انمول کی آواز سنتے واپس آگیا۔

انو تم۔۔۔ وہ ہم بس۔۔۔۔ مشی کے تو جیسے ہاتھ پاؤں ہی بھول گئے تھے۔

کیا وہ ہم لگا رکھا ہے ہاں۔۔۔ کیا کر رہے تھے آپ دونوں یہاں۔۔۔۔ انمول نے تیخی نظروں سے گھورا۔

کچھ نہیں کر رہے تھے بس میں مشی کو گفٹ دے رہا تھا۔۔۔ حماد نے فورن مشی کے ہاتھ میں موجود گفٹ کی طرف اشارہ کیا۔

تو یہ نیچے بھی تو دے سکتے تھے یوں چھپ کے دینے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ انمول تو پیچھے ہی پڑھ گئی تھی۔

انو یار اگر یہ دونوں اکیلے تھوڑا سا ٹائم ساتھ گزار لیں گے تو کون سی بڑی بات ہوگئی۔۔۔ دائم نے سمجھانا چاہا لیکن انمول کچھ سمجھ جائے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔

یہ بڑی بات ہے۔۔۔ جب میں نے مشی سے کہا تھا کے حماد بھائی سے مل لے وہ اس سے ملنا چاہتے ہیں تب تو بہت مشرقی لڑکیوں کی طرح شرما کے اور مجھ پہ غصہ کر کے کہہ رہی تھی کے اسے شادی سے پہلے ایسے اکیلے ملنا پسند نہیں ہے اور اب خود مل رہی ہے۔۔۔۔ اگر جب میری بات مان کے مل لیتی تو میں حماد بھائی سے لگائی ہوئی شرط جیت جاتی نا۔۔۔ انمول ہاتھ نچا نچا کے غصے سے بولی۔

کون سی شرط۔۔۔ دائم نے پوچھا۔

یہی کے میں مشی کو حماد بھائی سے ملنے پر راضی کر لوں گی ۔۔۔ انمول نے دکھ سے کہا اسے اپنی شرط ہارنے کا زیادہ ہی دکھ تھا۔

یار کوئی بات نہیں ۔۔۔ شاید مشی جب شرما رہی ہوگی۔۔۔ دائم نے ایک اور کوشش کی اسکا غصہ کم کرنے کی۔

اونہہ شرما رہی ہوگی۔۔۔

بات نہیں کرنا تم مجھ سے۔۔۔ پہلی بات دائم کو منہ بنا کے کہتی دوسری میشا کو دیکھ کے غصے سے کہتی نیچے چل دی۔

میں دیکھتا ہوں اسے۔۔۔ دائم اسکے پیچے گیا۔

وہ ناراض ہوگئی مجھ سے۔۔۔ میشا نے منہ بسورا۔

کچھ نہیں ہوتا مان جائے گی۔۔۔ تم اس وقت مجھ پر دھیان دو۔۔۔ دائم نے اسکا دھیان ہٹانا چاہا۔

وہ مجھ سے بات نہیں کرے گی۔۔۔ میشا نے رونے کی تیاری پکڑی ۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی اس سے کسی کی ناراضگی برداشت نہیں ہوتی تھی اور پھر انو تو اسکی بہن، دوست، بچپن کی ساتھی تھی۔۔۔ وہ کیسے اسکا ناراض ہونا برداشت کر سکتی تھی۔

یار اگر تم روئیں نا تو میں تم سے ناراض ہو جاؤ گا۔۔۔ خبر دار جو تم روئیں اور اپنی ان خوبصورت آنکھوں پر ظلم کیا تو۔۔۔ مجھے ان آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھنے بلکے اپنا عکس دیکھنا ہے۔۔۔ حماد نے شوخی سے کہا تو میشا اپنا رونا بھول کے شرما گئی۔۔۔

اسکا موڈ ٹھیک ہوتا دیکھ حماد نے شکر ادا کیا اور اسے اپنی باتوں میں لگا لیا۔

۔🌺🌺🌺

انو یار میری بات تو سنو۔۔۔ دائم انمول کے پیچھے آیا لیکن وہ کمرے میں گھس کے دروازہ بند کر چکی تھی۔

چلے جاؤ دائم مجھے ابھی کسی سے بات نہیں کرنی اور ہاں اس مہارانی کو بتا دینا چچی اسے نیچے بلا رہی ہیں۔۔۔ انمول نے اندر سے ہی کہا۔

وہ تو میں کہہ دوں گا لیکن پلیز تم میری بات تو سنوں دروازہ تو کھولو۔۔۔ دائم نے پھر کوشش کی۔

چلے جاؤ دائم اور اب تمہاری آواز نہیں آئے۔۔۔ اقر نا دوبارہ دروازہ بجانا۔۔۔ انمول کانوں میں ہنڈ فری لگائی کمرے کی لائٹ بند کر کے بیڈ پر لیٹ گئی۔

دائم نے نا میں سر ہلایا اور ابتسام کے کمرے کی جانب چل دیا۔

بس انمول کچھ وقت اور ۔۔۔ تمہاری پڑھائی مکمل ہو جائے پھر میں ماما سے بات کرتا ہوں۔۔۔ دائم اسکے بند دروازے کو دیکھ مسکراتے ہوئے ابتسام کے کمرے میں گھس کیا۔

۔🌺🌺🌺

انو۔۔۔۔ کہاں گئی۔۔۔ میشا انمول کو سحری کے لیئے بلانے اسکے کمرے میں آئی تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھی۔۔۔ بالکنی کا دروازہ کھلا دیکھ میشا وہیں آگئی۔

انو سحری نہیں کرنی کیا آدھا گھنٹا بچا ہے بس۔۔۔ انمول کو تسبیح پڑھتے دیکھ بولی۔۔۔۔ مگر انمول نے منہ بنا کے چہرا گھما لیا۔

یار انو سوری ۔۔۔ میں تمہیں ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ تو حماد مجھے زبردستی اپنے ساتھ چھت پہ لے گئے میں تو جانا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ میشا نے اپنی صفائی دی۔

انمول نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہا۔۔۔ لیکن میشا سمجھی وہ ناراض ہے اس لیئے جانے کا بول رہی ہے۔

انو پلیز سوری نا اب یہ ناراضگی ختم کرو اور مجھ سے بات کرو۔۔۔ میں تو رات کو ہی تمہیں منانے آرہی تھی لیکن ماما نے کاموں میں لگا لیا تھا۔۔۔اس لیئے نہیں آپ پائی۔۔۔ میشا نے اسکا جھنجھوڑا۔

انمول نے پھر سے ہاتھ کے اشارے سے بعد میں بات کرنے کا کہا لیکن میشا تو یہی سمجھی کہ وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی اس لیئے ایسا کر رہی ہے۔

انو یار بات کرو نا مجھ سے۔۔۔ میشا نے ایک بار پھر اسے جھنجھوڑا۔۔۔۔ وہ یہاں انمول کی بس ہوگئی۔

مشی پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔ اشارہ کر بھی رہی ہوں کہ بعد میں بات کریں گے لیکن تمہارے سمجھ میں ہی نہیں​ آرہا۔۔۔ انو بات کرو انو بات کرو ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے۔۔۔ دیکھ نہیں رہا میں وظیفہ کر رہی تھی اور اس کے بیچ میں بولتے نہیں ہیں لیکن نہیں تمہیں تو جواب چاہیئے سن لیا اب جاؤ مجھے وظیفہ کرنے دو۔۔۔ انمول بھڑک کے کہتی واپس پڑھنے لگی لیکن یاد آیا کے اسنے تو بیچ میں بول دیا ہے۔

آہ۔۔۔ یہ میں نے کیا کیا۔۔۔ وظیفے میں تو بیچ میں بات نہیں کرنی تھی اور میں نے بات کرلی ۔۔۔ یعنی میرا وظیفہ غلط ہوگیا۔۔ انمول انکھیں پھاڑے صدمے سے بولی۔

کچھ نہیں ہوتا یار پھر سے شروع کر لو۔۔۔ میشا نے تسلی دی۔

یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ نا تم مجھ سے بات کرتیں اور نا میں تمہیں جواب دیتی۔۔۔ اب کیا ہوگا۔۔۔ کیا میرا وظیفہ الٹا ہوجائے گا۔۔۔ کیا اب میرے پیچھے جنات پڑھ جائیں گے۔۔۔ انمول انگلیاں مڑوڑتی اپنی ہی بولے جا رہی تھی جب کے میشا تو اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

ایسا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ میشا نے کہا۔

ہوتا ہے میں نے سنا تھا۔۔۔ انمول نے ڈرتے ہوئے کہا۔

ویسے تم یہ وظیفہ کر کیوں رہی تھیں۔۔ میشا نے تجسس سے پوچھا۔

اچھا، ہنڈسم ، گورا چٹا ، امیر خوبرو نوجوان، شوہر پانے کے لیئے۔۔۔ انمول نے کمرے میں نظریں دوڑاتے بتانے لگی۔

تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا انو۔۔۔ نیجے آ جاؤ سحری میں ٹائم کم بچا ہے۔۔۔ میشا نفی میں سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی

کہاں جارہی ہو مجھے اکیلا چھوڑ کے ۔۔۔۔ رکو میں آرہی ہوں۔۔۔اسے باہر نکلتے دیکھ انمول کمرے میں نظر گھماتی جلدی سے اسکے پیچھے ایسے بھاگی جیس ابھی جنات اسے دبوچ لیں گے۔

۔🌺🌺🌺