Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj Readelle50319 Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 1)
Rate this Novel
Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 1)
Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj
یہ ڈفینس کی ایک سوسائٹی کا منظر تھا۔۔۔ جہاں رات دس بجے دور مسجدوں سے رمضان کا چاند نظر آنے کا علان ہورہا تھا۔۔۔
وہیں ایک خوبصورت دو منزل بنے گھر میں کوئی اپنے کمرے میں ان سب سے ناواقف ناول پڑھ نے میں مگن تھی۔
انو تم بس کمرے میں بند اپنے خوابوں کی دنیا میں رہنا۔۔۔ کچھ پتہ بھی ہے باہر کیا ہو رہا ہے۔۔۔ دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھولتے میشا عرف مشی کمرے میں داخل ہوتی بیڈ پر بیٹھی فون میں مگن ناول پڑھتی ہستی کو دیکھ غصے سے بولی۔
کیا ہوا ہے۔۔۔ ناول پڑھتی انمول عرف انو نے فون سے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔
جب تھوڑی دیر بعد بھی کوئی جواب نا آیا تو اسنے سر اٹھا کے دیکھا تو مشی کو خود کو گھورتا پایا۔
کھڑی کھڑی مجھے دیکھتی رہو گی یا بتانا بھی پسند کروں گی کہ اپنی تشریف کا ٹوکرا کیوں لائی ہو ۔۔۔ انمول نے خاصی بےزاریت سے کہا جیسے اسے اسکے خوابوں کے بیچ مداخلت اچھی نہیں لگی۔
رمضان کا چاند نظر آگیا ہے۔۔۔ کل روزہ ہوگا۔۔۔۔ میشا نے آکسائیڈمنٹ سے بتایا۔
لیکن میں تو یہاں ہوں پھر چاند باہر کیسے نظر آگیا۔۔۔۔ انمول نے گال پر انگلی رکھتے سوچنے کی بھرپور اداکاری کی۔
ویری فنی۔۔۔ میشا منہ بناتی نقلی مسکان کے ساتھ بولی۔
ہی ہی ہی۔۔۔۔ انمول کھلکھلائی۔
اچھا چلو اٹھو چاند دیکھنے چلتے ہیں۔۔۔ میشا نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اٹھانا چاہا۔
واہ۔۔۔ روہت ہلال کمیٹی کو تو اتنی دیر میں اتنی بڑی دوربین سے دیکھنے کے بعد چاند نظر آیا ہے اور تم کہہ رہی ہوں ہم چل کے اپنی ان چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے چاند دیکھیں۔۔۔ انو فون سائڈ پر رکھتی ماتھا پیٹ کے بولی جیسے اسکی عقل پر ماتم کیا ہو۔
ہاں یہ تو ہے۔۔۔۔ میشا کو بھی اسکی بات کافی حد تک ٹھیک لگی۔
میری بہن تم فکر نہیں کرو اگر ہم چاند کو نہیں دیکھ سکتے تو کیا ہوا چاند تو ہمیں دیکھ سکتا ہے نا۔۔۔چلو چل کے چاند کو اپنا دیدار کرواتے ہیں۔۔۔ انمول پیروں میں چپل ارستی میشا کو بولنے کا موقع دیئے بغیر ہاتھ پکڑے چھت کی طرف بھاگی۔۔۔
چلو جلدی سے دعا مانگ لو۔۔۔۔ وہ میشا سے کہتی خود بھی ہاتھ اٹھا کے دعا مانگنے لگی۔۔۔ جب کچھ یاد آنے پر چونکی۔
دعا سے یاد آیا۔۔۔۔ کل تو پھپھو لوگ بھی آنے والے ہیں نا۔۔۔ اور ان کے ساتھ حماد بھائی بھی آئیں گے ہممم۔۔۔ جبھی اتنی آکسائیڈمنٹ دیکھائی جارہی ہے۔۔۔ انمول بات سمجھتی معنیٰ خیزی سے مسکرائی تو میشا نے شرما کے سر جھکا لیا۔
میشا کی کچھ سال پہلے ہی اسکے پھپھو کے بیٹے سے منگنی کردی تھی۔۔۔ چونکہ وہ لوگ لندن میں رہتے تھے اور ہر سال رمضان اور عید منانے پاکستان آتے تھے۔۔۔ جب کے حماد کافی سال بعد آرہا تھا۔۔۔۔ وہ وہاں اپنا بزنس کرتا تھا جس کی وجہ سے اسے کم ہی وقت ملتا تھا۔
اچھا بس اب یہ دلہنوں کی طرح شرمانا بند کرو۔۔۔ بلکل بھی اچھی نہیں لگ رہیں شرماتے ہوئے۔۔۔ بلکل سنڈریلا کی سوتیلی بہن لگ رہی ہو۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے کہا تو ایک پل کو میشا بھی سوچ میں پڑھ گئی لیکن اگلے ہی پر بات سمجھ آنے پر اسے گھورنے لگی۔
باز آجاؤ انو۔۔۔ میشا آنکھیں دیکھاتی اسکی طرف بڑھی۔۔۔۔ تو انمول ہنستی ہوئی نیچے بھاگی گئی۔
ماما چچی آپ دونوں کو رمضان کا چاند بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ وہ سیدھا کچن میں آتی اپنی ماں اور چچی کو دیکھ علان کرنے لگی۔
تم سے پہلے سن چکے ہیں ہم۔۔۔ اسکی ماں شگفتہ بیگم نے اطلاع دی۔
او مطلب میں لیٹ ہوگئی ۔۔۔ اسنے معصوم سا منہ بنا کے چچی کو دیکھا تو وہ مسکرا کے ہاں میں سر ہلاگئیں۔
کوئی بات نہیں اگلے سال سب سے پہلے میں ہی آکے عطلاح دوں گی۔۔۔ اسنے ایک عزم سے کہا۔
اگلے سال کی اگلے سال ہی دیکھی جائے گی ابھی تو جاکے تم دونوں پھپھو اور حماد کا کمرہ سیٹ کرو وہ لوگ کل صبح تک پہنچ جائیں گے۔۔۔ شگفتہ بیگم برتن دھوتی مصروف انداز میں بولیں۔
بھئی میں کیوں کروں جس کے سسرالی ہیں وہ خود کرے گی۔۔۔۔ انمول نے نسرین بیگم (چچی) کے ساتھ آ کے بیٹھی میشا کو دیکھ شوخی سے کہا۔۔۔۔ تو میشا جھنپ گئی۔
ہاں تمہاری تو جیسے کچھ نہیں لگتیں نا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے آنکھیں دیکھائیں۔
لگتیں ہیں کیوں نہیں لگتیں لیکن مشی کے تو دو دو رشتے لگتے ہیں نا تو اصولاً تو اسے ہی انکا کام کرنا چاہیئے۔۔۔ انمول بھی ایک نمبر کی ڈھیٹ تھی کام سے بچنے کے لیئے ایک سے ایک بہانا موجود تھا ۔
کوئی بات نہیں بیٹا مشی کردے گی ۔۔۔ نسرین بیگم اچھے سے جانتی تھیں کے وہ صرف کام سے بچنے کے لیئے ایسی باتیں کر رہی۔۔۔ لیکن اپنی ماں کے ڈر سے سیدھا سیدھا بول نہیں پارہی ہے۔۔۔۔ کہ ان کا کوئی بھروسہ نہیں تھا کبھی بھی عزت افزائی کر سکتی تھیں۔
دیکھا چچی کتنی اچھی ہیں۔۔۔میری ہر بات کو سمجھتی ہیں۔۔۔ وہ نسرین بیگم کے گلے لگی تو شگفتہ بیگم نے سر جھٹکا۔۔۔ وہ اسکا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ گھر بھر کی لاڈلی ہونے کے ساتھ ساتھ سب کی حمایتیں بھی اسکے ساتھ شامل تھی۔۔
مشی تم اپنا کام وقت پر ختم کر لینا جب تک میں دائم کی طرف سے ہوکے آتی ہوں اخر وہ ہمارے پڑوسی ہیں اور ہمارے فیملی فرینڈ بھی انہیں بھی تو رمضان کی مبارکباد دینی چاہیئے نا۔۔۔ وہ آنکھیں پٹپٹا کے بولی۔
سیدھے دائم کے گھر ہی جانا اور سیدھے ہی واپس آیا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے سختی سے کہا۔۔۔. جانتی تھی اثر تو نہیں ہونے والا لیکن پھر بھی بولنا انکا فرض تھا۔
جی جی آپ بلکل فکر نہیں کریں میں سیدھا جاؤں گی اور سیدھا ہی واپس آؤں گی۔۔۔ وہ فرمابرداری سے کہتی گھر سے نکل گئی۔۔۔ پیچھے وہ ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی اسکی فرمابرداری پر۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
کون۔۔۔اسنے دروازے پر دستک دی تو اندر سے ملازمہ کی آواز آئی۔
میں ۔۔۔۔ اسنے نام بتانے کی جگہ میں کہا۔۔۔ ملازمہ نے اسکی آواز پہچانتے دروازہ گھولا۔
اتنی دیر لگادی دروازہ کھولنے میں۔۔ کیا کر رہی تھیں۔۔۔ انمول اندر داخل ہوتی ملازمہ کو گھور کے کہتی اندر بڑھ گئی۔۔۔ جب کے ملازمہ تو حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو دو منٹ سے بھی کم وقت میں دروازہ کھولنے کو اتنی دیر سے کہہ رہی تھی۔
رمضان مبارک ہو سب کو۔. کہاں ہیں سب۔۔۔۔۔ گھر میں کوئی ہے بھی کے نہیں۔۔۔ ارے بھئی کوئی سن رہا ہے۔۔۔ انمول بلال لاشاری آئی ہے کوئی ہے اسکے استقبال کے لئے وہ لاؤنچ میں داخل ہوتی بغیر رکے تیز آواز میں سب کو آوازیں لگا رہی تھی۔۔۔
اسکی آواز سنتے مسرت بیگم،،، ظفر صاحب اور اپنے کمرے میں سونے کے لیئے لیٹا دائم بھی باہر آگیا تھا۔۔۔
اگر تم ہمیں بتا کے آتیں تو ہم ضرور تمہارے استقبال کے لیئے کھڑے ہوتے پر تم تو ہمیشہ بن بلائے اور بن بتائے ہی آتی ہو۔۔۔ دائم مسکراہٹ پاس کرتا بولا۔
انکل دیکھ رہے ہیں اب آپ کے بیٹے کو میرے یہاں آنے پر بھی اعتراض ہے۔۔۔ وہ ظفر صاحب کے پاس بیٹھتی منہ بسور کے بولی۔۔۔ جب کے دائم تو اسکے ڈرامے دیکھتا ہی رہ گیا۔
دائم سوری بولو۔۔۔ ظفر صاحب جانتے تھے انمول کی شرارتیں لیکن پھر بھی اسکا مان رکھنے کے لیئے ہمیشہ دائم کو ہی ڈانٹتے تھے جس پر وہ اور پھیل جاتی تھی۔
یہ سب لوگ ایک ہی سوسائٹی میں رہتے تھے۔۔۔ ظفر صاحب بلال صاحب کے کافی پرانے دوست تھے۔۔۔ دونوں فیملیز کا ایک دوسرے کے گھر کافی آنا جانا تھا۔۔۔ انمول اور دائم تو جیسے ایک دوسرے کے پکے دوست اور کرائم پاٹنر تھے۔۔۔۔ ویسے تو دائم انمول سے چار پانچ سال بڑھا تھا لیکن دونوں کی آپس میں کافی اچھی دوستی تھی۔۔
میں نہیں بول رہا۔۔۔ اسنے صاف انکار کیا۔
دیکھا کیسے آپ کو بھی منا کر رہا ہے۔۔۔ کوئی عزت ہی نہیں ہے آپ کی اسکی نظر میں تبھی آپ کے منہ پر ہی آپ کی بات سے انکار کر دیا۔۔۔ انمول نے بھڑکایا۔۔۔ جب کے وہ منہ کھلے صدمے سے اسے دیکھ رہا تھا۔
دائم تم ہماری عزت نہیں کرتے۔۔۔ ظفر صاحب نے گھورا تو وہ گڑبڑا گیا۔
بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔۔۔ اسنے جلدی سے صفائی پیش کی۔۔۔
جھوٹ بول رہا ہے انکل ۔۔۔ اگر آپ کی اتنی ہی عزت کرتا ہوتا تو آپ کے کہنے پر مجھے سوری بولتا۔۔ ۔ لیکن اسنے بولا۔۔۔ نہیں نا تو پھر کہاں سے آپ کی عزت کرتا ہے۔۔۔ انمول خوب انکے کان بھر رہی تھی۔۔۔ اور وہ اسکی چالاکی پر مسکراہٹ چھپا رہے تھے۔
دائم نے بےچارگی سے خاموشی سے مسکراتی اپنی ماں کو التجائی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اب آپ ہی بچا سکتی ہو ورنا یہ تو پورا پروگرام بنائے بیٹھی ہے مجھے پٹوانے کا۔
اچھا بیٹا اس کو چھوڑو یہ تو ہے ہی بدتمیز۔۔۔ تم بتاؤ گھر میں سب کیا کر رہے تھے اور کل ہاجرہ آرہی ہے یا نہیں۔۔۔ اپنے بیٹے کی التجائیں دیکھ انہوں نے اسے دوسری باتوں میں لگایا۔
ارے ہاں میں تو بتانا ہی بھول گئی۔۔۔ کل پھپھو کی پوری فیملی آرہی ہے۔۔۔۔ مزہ آئے گا ۔۔۔ آپ لوگ بھی آئے گا ۔۔۔ وہ چہک کے بتانے لگی تو دائم نے شکر ادا کیا خود پر سے اسکا دھیان ہٹنے پر۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
کافی دیر ان سے باتیں کرنے کے بعد وہ محلے کے گھروں کی بیل بجاتی جلدی سے اپنے گھر میں بھاگ آئی تھی۔۔۔
وہ اپنی ہی مستیوں میں مست اندر آرہی تھی جب لاؤنچ کے دروازے پر قدم رکھتے ہی اسے اندر ایک خاتون اور تقریبا چار سال کا بچہ بیٹھا دیکھائی دیا۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اسکی والدہ محترمہ بیٹھی تھی۔۔۔
اس بچے کو دیکھ اسے اپنی تھوڑی دیر پہلے کی گئی حرکت یاد آئی ۔۔۔وہ دبے پاؤں قدم پیچھے لیٹی پیچھے کے دروازے سے اندر جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔ ڈرتی تو وہ کسی سے نہیں تھی لیکن اپنی ماں کا خاصہ ڈر تھا لیکن وہ بھی بس کچھ ہی دیر کا۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم پیچھے لے رہی تھی لیکن شائد اسکی قسمت ہی خراب تھی جو شگفتہ بیگم نے اسے دیکھ لیا۔
انو ادھر آؤ۔۔۔ اسے وہاں سے بھاگنے کی تیاری کرتے دیکھ وہ سختی سے بولیں۔
جی ماما۔۔۔ وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی اندر آئی
لو بہن آگئی آپ کی بیٹی۔۔۔ اب آپ اس سے پوچھیں کے یہ اور تو شرارتیں کرتی ہی ہے لیکن اب تو بچوں کے ہاتھوں سے چیزیں چھین کے کھانا بھی شروع کردی ہیں۔۔۔ اور ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دیتی ہے کہ اگر گھر پر بتایا تو اگلی بار پاپڑ کی جگہ تمہیں ہی کچا کھا جاؤں گی اور ڈکار بھی نہیں لوں گی۔۔۔۔ انمول کو سامنے دیکھتے وہ عورت تو جیسے پھٹ پڑی۔۔۔
اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں کچا نا کھاؤں تو کوئی بات نہیں پکا کے کھالوں گی ۔۔۔۔ اسنے بےنیازی سے کندھے اچکائے۔
میں اسکی طرف سے معذرت کرتی ہوں ۔۔۔ اب آگے سے یہ ایسی کوئی شرارت نہیں کرے گی۔۔۔ شگفتہ بیگم اسے گھورتی شرمندگی سے اپنے سامنے بیٹھی عورت سے بولیں۔
اپنی ماں کی گھوری میں دی گئی وارننگ سمجھتی انمول نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔
بہتر یہی ہوگا۔۔۔ وہ عورت منہ بنا کے کہتی اپنے بچے کو لیئے اٹھ کے چلی گئی۔
آپ نے مجھے کچھ بولنے کیوں نہیں دیا۔۔۔ ایسی طعبیت صاف کرتی نا کے دوبارہ شکایت لے کے آنے کی ہمت نہیں ہوتی۔۔۔ انمول نے فل لڑاکا اسٹائل میں آستین اوپر چڑہائیں۔
چپ۔۔۔ ایک دم چپ۔۔۔ آئے روز تمہاری کوئی نا کوئی شکایت آتی رہتی ہے۔۔۔ کبھی انو نے یہ کر دیا کبھی انو نے وہ کردیا۔۔۔ میں بتارہی ہوں اگر اب تمہاری ایک بھی شکایت آئی تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ کے گھر میں بیٹھا دوں گی۔۔۔۔۔ وہ بھڑک اٹھیں۔
پتہ نہیں ناولز میں صدقے واری جانے والی مائیں کہاں سے آجاتی ہیں۔۔۔ کاش میرے پاس بھی ویسی ہی ماں ہوتی۔۔۔۔ وہ حسرت سے بولی۔۔
تم جیسی گندی اولاد کو مجھ جیسی بڑے جگرے والی ماں ہی جھیل سکتی ہے۔۔۔۔ انہوں نے بھی رک کے بےعزتی کی۔۔۔ اور اسکے کچھ بھی بولنے سے پہلے وہاں سے چلی گئیں۔
کیا امی میری بےعزتی کر کے گئی ہیں۔۔۔ ہنہ کچھ نہیں ہوتا ماں ہیں کر سکتی ہیں ۔۔۔۔ وہ بھی دھیما سا مسکراتی سر جھٹک کے اپنے کمرے میں چل دی۔
۔![]()
![]()
![]()
بابا جانی میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔ انمول سحری کے لیئے ڈائنگ ٹیبل پر آتی اپنی جگہ پر بیٹھی۔
کیوں بھئی ہم سے ایسی کیا خطا ہوگئی جو آپ ہم سے ناراض ہیں۔۔۔ بلال صاحب اپنی سحری چھوڑ اسکی جانب متوجہ ہوئے۔
آپ کل اتنی دیر میں آئے۔۔۔ آپ کو پتہ ہے آپ کی بیگم نے کل مجھے کتنا ڈانٹا ہے۔۔۔ اگر آپ جلدی آتے تو کم سے کم مجھے سیفٹی تو فراہم ہو جاتی۔۔۔ وہ منہ بنائے بولی تو بلال صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔ جب کے سامنے بیٹھی شگفتہ بیگم نے اسے گھورا۔
اپنے کارنامے نہیں بتاؤ گی کے کیا کر کے آئی تھیں۔۔۔ وہ دانت پیش کے بولیں۔۔۔ اتنے میں مشی اور نسرین بیگم بھی آگئی تھیں۔
میں نے تو کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ اسنے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔۔ انو نے اپنی غلطی ماننا تو کبھی سیکھا ہی نہیں تھا ہاں البتہ سامنے والے کو ساری اگلی پچھلی یاد دلا دیتی تھی۔
ہاہاہا میں بتاتی ہوں تایا ابو اس نے کیا کیا ہے۔۔۔۔ شگفتہ بیگم کے ماتھے پر بل دیکھتے مشی ہنستے ہوئے بلال صاحب کو سب بتاتی گئی ۔۔۔۔ تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوتی گئی۔
سن لیا آپ نے۔۔۔ اس میں میری کیا غلطی۔۔۔۔ میں نے تو اس بچے کو منا بھی کیا تھا کہ کسی کو نا بتائے لیکن پھر بھی اگر اسنے آکے شکایت لگا دی تو یہ اسکی غلطی ہوئی نا۔۔۔ بھئی زرا سی بات تھی بھول جاتا نہیں چغلخور فورن اپنی اماں کو لے کر آگیا۔۔۔ انو نے بڑے آرام سے خود کو بری الزمہ کیا۔
آج سے تمہارا گھر سے باہر جانا بن۔۔۔ اب سے تم گھر میں رہ کر گھر کے کام اور کھانے پینے کے آداب سیکھو گی ۔۔۔۔ اسے جلدی جلدی منہ بھر بھر کے کھاتا دیکھ شگفتہ بیگم نے سختی سے کہا۔
جب کے انو نے ہر بار کی طرح ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا تھا۔۔۔
سن رہی ہو نا میں کیا کہہ رہی ہون۔۔۔ اپنی بات نظرانداز ہوتے دیکھ وہ ہر لفظ چبا چبا کر بولیں
ہائے کاش میں بابا کی پرنسز کے ساتھ ماما کی پرنسز بھی ہوتی۔۔۔۔ تو شاید مجھے آج یہ نا سنے کو ملتا لیکن میں تو ہمیشہ اپنی ماما کی کام والی اور گندی اولاد ہی رہوں گی۔۔۔ اسنے مصنوعی آہ بھری تو شگفتہ بیگم سمیت سب ہی مسکرائے۔۔۔۔ وہ الگ بات تھی شگفتہ بیگم نے منی نیچے جھکا کے مسکراہٹ چھپا لی تھی ۔
اچھا بیٹا اب باتیں بعد میں کرنا جلدی جلدی سحری کرلو ٹائم کم رہ گیا ہے۔۔۔ نسرین بیگم نے کہا تو وہ سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتی اپنے ازلی انداز میں کھانا شروع ہو گئی
مطلب اس لڑکی کو سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔۔شگفتہ لب بھیج کے رہ گئی۔۔
انو کیا تم نے سنا نہیں مولوی صاحب نے کہا ہے سحری کا ٹائم ختم ہو گیا ہے۔۔۔ پھر بھی تم پانی پیئے جارہی ہو۔۔۔ مشی ٹیبل سے چیریں سمیٹتی انو کو پانی پیتے دیکھ بولی۔
یہ ہماری مسجد کے مولوی صاحب نہیں ہیں۔۔۔ انو آخری کھونٹ بھرتی بولی۔۔۔۔ تو وہ اسکی بات پر اسے دیکھ کہہ رہ گئی۔
سحری بند ہوگئی ہے جاؤ جا کے نماز قرآن پڑھو۔۔۔ شگفتہ بیگم اسکے ہاتھ سے پانی کی بوتل چھنتی بولیں۔۔۔۔ تو وہ بھی منہ بناتے اٹھ گئی۔۔۔
چونکہ وہ رات کو جاگ کے ناول پڑھ رہی تھی اس لیئے اب اسے سخت نیند آرہی تھی جس کی وجہ سے اسنے زیادہ بہس نہیں کی اور اٹھ کے اپنے کمرے میں چل دی۔
کمرے میں آتے وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی۔۔۔۔ قرآن پڑھا اور پھر اپنے خوابوں کی دنیا میں لوٹ گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
