170.3K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khuwab Nagar Ki Shehzadi (Episode 14)

Khuwab Nagar Ki Shehzadi By Angel Arooj

دائم کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔۔۔ جب فون کرو اٹھاتا ہی نہیں ہے۔۔۔ انمول کتنی دیر سے دائم کو فون ملا رہی تھی لیکن وہ اٹھا کے ہی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اسکا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔۔۔ آخر اسنے جھنجھلا کے مسرت بیگم کو ہی فون ملایا۔

آنٹی دائم کہاں ہے میں اسے کب سے فون کر رہی ہوں اسکا فون بند جارہا ہے۔۔۔۔ کال ریسیو ہوتے ہی انمول فکرمندی سے بولی۔

کیا مطلب بیٹا وہ آپ کو بتا کے نہیں گیا۔۔۔ مسرت بیگم نے چونک کے پوچھا۔

کیا مطلب کہاں گیا ہے وہ۔۔۔۔ انمول نے حیرت سے استفسار کیا۔

بیٹا وہ صبح ہی دبئی گیا ہے کہہ رہا تھا کوئی ضروری کام ہے آنے میں دو چار دن لگ جائیں گے۔۔۔مسرت بیگم نے بتایا تو اسنے بجھے دل کے ساتھ اوکے کہتے فون رکھ دیا۔

اب تم آؤ دائم میں بھی تم سے بات نہیں کروں گی۔۔۔ مجھ سے مل کے جانا تو دور تم مجھے بتا کے بھی نہیں گئے۔۔۔ اب تم آنا اور مجھے مناتے رہنا لیکن یاد رکھنا میں بھی نہیں مانوں گی۔۔ اونہہ۔۔۔ انمول فون بیڈ پہ پھیکتی کمرے سے نکل گئی۔

۔🌺🌺🌺

کیا ہوا انو یہاں اتنی اداس کیوں بیٹھی ہو۔۔۔ لان میں انو کو منہ لٹکائے بیٹھے دیکھ میشا اسکے ساتھ بیٹھتی وجہ پوچھنے لگی۔

مشی دائم دبئی چلا گیا ہے اور وہ بھی مجھے بغیر بتائے۔۔۔ اسنے آہستہ سے وجہ بتائی۔

تم اسکی اماں تھوڑی ہو جو تمہیں لازمی بتا کے جاتا۔۔۔ میشا نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیئے چھیڑا۔

مشی یار یہ مزاق نہیں ہے۔۔۔ وہ جب بھی کہیں جاتا تھا تو مجھ سے مل کے جاتا تھا اور اس بار ملنا تو دور مجھے ایک فون کر کے بھی بتا کے نہیں گیا۔۔۔ انمول نے آفسردگی سے کہا

چھوڑو یار اسے ہم ایک کام کرتے ہیں کہیں باہر گھومنے چلتے ہیں کیسا۔۔۔ میشا نے اسکا موڈ دیکھتے آئیڈیا دیا۔

مشی کیا وہ بدلتا جارہا ہے؟؟؟ انمول نے میشا کو دیکھ آہستگی سے سوال کیا۔

نہیں یار بس کام زیادہ ہوگا اس لیئے تمہیں بتانا بھول گیا ہے خیر تم چھوڑو اور اتھو ہم کہیں چلتے ہیں۔۔۔ میشا نے اسکا دھیان دائم سے ہٹانا باہا۔

میشا جانتی تھی انمول اپنے رشتوں کے لیئے کتنی پوزیسو ہے۔۔۔ چاہے ماں باپ ہوں بہن بھائی ہوں یا دوست اسے سب پرفیکٹ چاہئے ہوتا تھا۔۔۔ اور انمول اور دائم کی دوسری تو پھر بچپن سے تھی تو کیوں نا پر ہو دائم کی لاپروائی پہ اداس نا ہوتی۔۔۔ وہ تو ہمیشہ اسے ہر بات بتاتا تھا لیکن اب ناجانے اسے کہا کو گیا تھا۔

مجھے نہیں جانا کہیں بھی۔۔۔ اسنے فورن انکار کیا

مجھے کچھ نہیں سنا چلو جلدی سے اٹھ کے تیار ہو جاؤ جب تک میں بھائی کو چلنے کے لیئے راضی کرتی ہوں۔۔۔ میشا اسے کہتی اسکی سنے بغیر ابتسام کو چلنے پہ راضی کرنے کے لیئے بھاگ گئی۔

مشی یار مجھے مسٹر ڈریگن کے ساتھ نہیں جانا۔۔۔ مشی۔۔۔ انمول اسے آوازیں دیتی رہ گئی لیکن وہ تو ان سنی کرتی جاچکی تھی۔۔۔۔ تو چار و ناچار اسے بھی اٹھ کے جانا پڑا۔

۔🌺🌺🌺

بھائی۔۔۔ اجازت ملتے ہی میشا ابتسام کے کمرے میں داخل ہوتی اسے پکارنے لگی۔

ہممم بولو۔۔۔۔ ابتسام جو صوفے پہ بیٹھا لیپ ٹاپ میں آفس کا کوئی کام کر رہا تھا میشا کی آواز پہ نظر اٹھا کے اسے دیکھا۔

بھائی کیا آپ ہمیں کہیں باہر لے کے جاسکتے ہیں۔۔۔ میشا اسکے سامنے آتی انگلیاں مسل کے بولی۔

ہمیں؟؟؟؟ اسنے سوالیہ نظروں سے ایک آئیبرو آچکائے پوچھا۔

مجھے اور انو کو۔۔۔ وہ کیا ہے نا آج انو بہت اداس ہے تو اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیئے آپ پلیز ہمیں کہیں باہر لے کے چلیں گے۔۔۔ وہ وجہ بتاتی اسکے جواب کا انتظار کرنے لگی

اور اسکا موڈ کیوں ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ ابتسام کہتا واپس نظریں لیپ ٹاپ پہ مرکوز کر گیا۔

دائم بھائی دبئی چلے گئے ہیں اور وہ انو کو بتا کے نہیں گئے بس اس لیئے وہ اداس ہے کیونکہ آج سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کے دائم بھائی کہیں جائیں اور انو کو بتا کے نا جائیں۔۔۔ وہ دونوں بہت اچھے دوست ہیں اور ہر بات ایک دوسرے کو بتاتیں ہیں لیکن اس بار دائم بھائی بغیر بتائے ہی چلے گئے ہیں تو اسے یہ بات بلکل بھی اچھی نہیں لگی ہے۔۔۔ میشا نے تفصیل سے بتایا۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن تم لوگوں کے پاس صرف دس منٹ ہیں ۔۔۔ اگر دس منٹ میں تیار ہوجاتے ہو تو ٹھیک ہے ورنا پھر کوئی نہیں جائے گا۔۔۔ ابتسام نے کچھ سوچ کے ہامی بھر لی تو وہ خوش ہوتی تھینکیو کہتی جلدی سے بھاگ گئی۔

انو کیا تم اتنی چھوٹی بچی ہو کے تمہیں نہیں پتہ کہ ایک لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔۔۔ وہ سر جھٹک کے رہ گیا۔

جب سے وہ یہاں آیا تھا یا جب بھی وہ پاکستان آتا تھا دائم کو زیادہ تر انمول کے ساتھ ہی پاتا تھا۔۔۔ اور اس بار بھی جب وہ آیا تھا تو شروع شروع میں دائم زیادہ تر وقت ان کے گھر پہ ہی گزارتا تھا لیکن جب سے انمول کا فہد کے ساتھ رشتہ ہوا تھا دائم نے آنا جانا بہت کم کر دیا تھا۔۔۔ ابتسام نے بہت بار اسے خاموش خاموش نوٹ کیا تھا لیکن وہ کبھی وجہ نہیں سمجھ پایا تھا۔۔۔ اور پھر جب ابتسام سے انو کا نکاح ہوا جب بھی دائم نہیں تھا وہ انو کو پالر سے چھوڑ کے ہی چلا گیا تھا۔۔۔

ابتسام نے دائم سے پوچھا بھی تھا کہ تم نکاح کے وقت کہاں تھے تو اسنے یہ کہہ کے ٹال دیا تھا کہ وہ وہیں تھا بس اسنے دیکھا نہیں ہوگا لیکن اب دائم کا انمول سے رویا ابتسام کے شک پہ یقین کی مہر لگا رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ دائم سے بات کر کے ہی کسی نتیجے پہ پہنچنا چاہتا تھا۔

۔🌺🌺🌺

میشا انمول کو زبردستی تیار کروا چکی تھی۔۔۔ اور اب اسے گھسیٹتی ہوئی اپنے ساتھ باہر لارہی تھی جہاں ابتسام گاڑی سے ٹھیک لگائے کھڑا انکا ہی انتظار کر رہا تھا۔

میشا اسے بتا چکی تھی کہ وہ لوگ پہلے چڑیا گھر جائیں گے اور پھر باہر ہی افطاری کریں گے۔۔۔۔انمول کا دل تو نہیں کر رہا تھا کہیں بھی جانے کا لیکن پھر بھی نخرے دیکھاتی آگئی تھی۔

کہاں جارہے ہو تم لوگ۔۔۔ حماد جو ابھی بلال صاحب کی فیکٹری سے واپس آیا تھا ان تینوں کو کہیں جاتے دیکھ پوچھ بیٹھا۔

چڑیا گھر۔۔۔ انمول نے عام سے لہجے میں کہا۔

کیا تمہیں پتہ نہیں ہے وہاں جانوروں کا جانا منا ہے۔۔۔ حماد نے شرارت سے چھیڑا۔۔۔

تو ہم آپ کو لے کے بھی نہیں جارہے۔۔۔ انمول کے سیریس انداز میں جواب دینے پہ جہاں حماد نے اسے گھورا تھا وہیں میشا اور ابتسام کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھری تھی۔

بڑا ہوں تم سے ادب سے بات کرو مجھ سے۔۔۔ حماد نے اسے گھورا تو اسنے آنکھیں گھمائیں۔

اور رشتے میں میں آپ سے بڑی ہوں۔۔۔ آپکی بھابھی ہوں تو آپ بھی مجھ سے ادب سے بات کریں سمجھیں ورنا اسکا انجام اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ انمول نے دھمکی دی۔

ورنا کیا کرلو گی تم۔۔۔ حماد لڑاکا عورتوں کی طرح کمرے پہ ہاتھ رکھتے چڑ کے پوچھنے لگا۔

زیادہ کچھ نہیں بس اپنی نند دو تین سال کے لیئے اپنے پاس ہی رکھ لوں گی۔۔۔ انمول نے سکون سے کہا تو حماد کی ساری اکڑ ختم ہوگئی۔

یار ایک تو تم بات بات پہ اپنی نند کو بیچ میں لے آتی ہو ۔۔۔ خیر چھوڑو یہ سب چلو چلیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔ انمول سے باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا تھا اس لیئے وہ بات بدلتا گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتے بیٹھ گیا۔

اگر آپ کو جانا ہے نا تو پیچھے بیٹھیں یہ میری جگہ ہے۔۔۔ انمول اسے آگے بیٹھتے دیکھ گھور کے بولی۔

نام لکھا ہے کیا تمہارا۔۔۔ حماد نے اسے زچ کرنا چاہا جو کے بہت مشکل کام تھا۔

میرے ہسبینڈ گاڑی چلائیں گے اور میں انکی بیوی ہوں تو میں ہی آگے بیٹھو گی۔۔۔ انمول نے گردن اکڑا کے کہا تو ابتسام اسکے اس طرح حق جتانے پہ دنگ رہ گیا۔۔۔ کہاں وہ اسے منہ بھی نہیں لگاتی تھی اور کہاں اب اس پہ حق جتا رہی تھی۔

حماد انو ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔. یہ اسکی ہی جگہ ہے۔۔۔ آپ پیچھے آجائیں۔۔۔حماد کو پھر سے کچھ کہنے کے لیئے منہ کھولتے دیکھ میشا نے جلدی سے کہا۔

تم کہتی ہو تو آجاتا ہوں۔۔۔ حماد احسان کرنے والے انداز میں انو کو دیکھتا باہر نکل کے پیچھے بیٹھ گیا۔۔۔ تو وہ لوگ بھی گاڑی میں بیٹھتے چڑیا گھر کے لیئے نکل گئے۔

۔🌺🌺🌺

گھومنے پھرنے کے بعد انمول کا موڈ کافی اچھا ہو گیا تھا۔۔۔ وہ لوگ افطاری کے بعد اب میشا کی فرمائش پہ ساحلے سمندر پہ آگے تھے۔۔۔

میشا اور حماد تو سمند کنارے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ٹہل رہے تھے جب کے انمول گاڑی کے بونٹ پہ بیٹھی آئسکریم کھا رہی تھی۔۔۔ساتھ ہی ابتسام بھی گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے وہیں اسکے پاس کھڑا آتی جاتی لہروں کو دیکھ رہا تھا۔

انو کو پانی میں جانے سے ڈر لگتا تھا اسکا ماننا تھا کہ کوئی کیڑا مکوڑا اسکے پیارے پیارے پاؤں پہ کاٹ سکتا ہے اس لیئے وہ پانی میں نہیں گئی تھی۔۔۔ جب کے وہیں ابتسام سے آئسکریم منگواتے وہیں بیٹھ کے انجوائے کر رہی تھی۔

بھائی باجی کے لیئے پھول لے لو۔۔۔ ایک چھوٹا بچہ ان لوگوں کے پاس آکے بولا۔

نہیں چاہیئے ۔۔۔ ابتسام نے انکار کرتے سامنے نظریں کیں۔

بھائی لے لو صرف 80رپے کا ہے۔۔ لے لو بھائی صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ اس بچے نے التجاہ کی۔

لاؤ دو دے دو۔۔۔۔ مسٹر ڈریگن پیسے دیں۔۔۔ انمول دو پھول لیتی ابتسام سے بولی۔

انو اس کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ ابتسام نے منا کرنا چاہا۔

رہنے دیں میں خودہی پیسے دے دوں گی ۔۔۔۔۔ انمول منہ بنا کہ کہتی بونٹ سے اترنے لگی کیونکہ اسکا بیگ گاڑی کے اندر تھا لیکن ابتسام نے روک دیا۔

رکو میں دیتا ہوں۔۔۔ ابتسام نے والٹ نکال کے دو سو رپے بچے کو دیئے۔

یہ بھی رکھ لو اور کچھ کھا لینا۔۔۔ انمول نے ایک اور سو کا نوٹ بچے کو دیا تو وہ خوشی سے لے کے چلا گیا۔

کیا ضرورت تھی اسے سو رپے اور دینے کی۔۔۔ یہ لوگ صرف پاگل بناتے ہیں لوگوں کو۔۔۔ ابتسام نے اسے گھورا۔

کبھی کبھی پاگل بھی بن جانا چاہیئے۔۔۔ یہ لوگ وہ ہیں جو بھیک نہیں مانگتے محنت کر کے کھماتے ہیں۔۔۔ اور اگر آج ہم نے تھوڑا زیادہ دے بھی دیا تو اللہ ہمیں ایک دن اس سے بھی زیادہ دے گا۔۔۔ انمول نے مسکرا کے کہا جب کے ابتسام اسے دیکھ کہ رہ گیا۔۔۔ اسے انو سے ایسی سمجھداری والی بات کی امید تو ہرگز نہیں تھی۔

وہ امپریس ہوا تھا اسکی سوچ سے۔۔۔ اسے تو آج تک صرف یہی لگا تھا کہ وہ لوگوں کو تنگ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتی۔۔۔ بہس کرنا تو جیسے اسکا پسند دیدا مشغلہ تھا۔۔۔ لیکن آج واقع خوشی ہوئی تھی اسے اسکی بات سن کے۔۔۔ لیکن یہ الگ بات تھی کہ اسنے کوئی ثاتر ظاہر نہیں کیا تھا۔۔۔ بس اسکی بات سنتے خاموشی سے سمندر کو دیکھ رہا تھا۔

بھائی چلیں اب تو کافی دیر ہوگئی ہے۔۔۔ حماد اور میشا ان دونوں کی طرف آئے۔

ہمم۔۔۔ ابتسام سر ہلاتا ٹیک چھوڑ سیدھا ہوا۔

یہ لو مشی ایک تمہارا ایک میرا۔۔۔ انو نے ایک پھول مشی کو دیکھا جو اسنے مسکرا کے تھام لیا۔

چلو اب بیٹھو گاڑی میں۔۔۔ ابتسام ڈرائورنگ سیٹ کی طرف جاتا بولا۔

آپ لوگ بیٹھیں ہم لوگ ابھی آئے۔۔۔ مشی تم میرے ساتھ آؤ۔۔۔ انمول چھلانگ لگا کے بونٹ سے اترتی میشا کو اپنے پیچھے آنے کا بولی۔

مگر جانا کہاں ہے۔۔۔ مشی نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔حماد اور ابتسام بھی اسے ناسمجھی سے دیکھ رہے تھے۔

ان سامنے کھڑی لڑکیوں کو ایک چھوٹی سی سزا دینے۔۔۔ انمول نے گاڑی سے تھوڑے فاصلے پہ کھڑی لڑکیوں کو دیکھ دانت پیس کے کہا۔۔۔ تو ان تینوں نے ایک ساتھ ادھر دیکھا۔۔۔ جہاں پانچ لڑکیاں بلکے آوارہ لڑکیاں کھڑی تھیں۔

انو یہاں کوئی تماشہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے بیٹھو خاموشی سے گاڑی میں۔۔۔ ابتسام نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

میں کوئی تماشہ نہیں لگاؤں گی ۔۔۔ صرف میرے شوہر پہ اپنی گندی نظریں رکھنے کی ایک چھوٹی سی سزا دوں گی۔۔۔۔ انمول کافی دیر سے ان لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی جو بار بار ابتسام کو بےباک نگاہوں سے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔ اور انمول کو یہ بات بلکل بھی گوارہ نہیں تھی کہ اسکے شوہر کو کوئی لڑکی آنکھ اٹھا کہ بھی دیکھے۔

انمول چپ کر کے گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔۔۔ اسکی بات اسنے ابتسام کو ایک انجانی سی خوشی بھی ہوئی تھی کہ انمول اسکے لیئے پوزیسو ہے لیکن وہ ساتھ انمول کو بھی جانتا تھا کہ وہ بغیر کسی کی پرواہ کیئے کسی سے بھی لڑنا شروع ہو سکتی تھی۔۔۔ اس لیئے اسے سختی سے روکنا ضروری تھا۔

مسٹر ڈریگن آپ فکر نہیں کریں میں کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کروں گی۔۔۔ بس تھوڑی دیر میں واپس آجاؤ گی پکاہ۔۔۔ چلو مشی۔۔۔ انمول ابتسام سے کہتی مشی کا ہاتھ پکڑے اسے ان لڑکیوں کی طرف لے گئی پیچھے ابتسام اور حماد سر جھٹکتے گاڑی میں بیٹھ کے انہیں دیکھنے لگے۔

مشی بس تمہیں ایک کام کرنا ہے۔۔۔ تم انہیں بس پانچ منٹ باتوں میں لگائے رکھو جب تک میں اپنا کام کرلوں گی اوکے۔۔۔۔ انمول نے اسے سمجھایا۔

مگر انو تم کرو گی کیا۔۔۔ میشا نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔ وہ جانتی تھی کسی اچھے کام کی تو امید انو سے کی نہیں جا سکتی تھی اسلیئے فکر مند ہوئی۔

بس تم دیکھتی جاؤ میں کرتی کیا ہوں۔۔۔ انمول شاطر مسکراہٹ چہرے پہ سجائے میشا کو ان لڑکیوں کے پاس بھیج خود دوسری طرف سے گھوم کے گاڑی کے پیچھے گئی۔

میشا نے بہت مشکلوں سے ان لڑکیوں کو باتوں میں لگایا ہوا تھا۔۔۔ وہ لڑکیاں کافی بولڈ تھی۔۔۔ میشا کو وہ کافی عجیب لگ رہیں تھیں لیکن مجبوری تھی انو نے کہا تھا تو اسے انہیں باتوں میں لگانا ہی تھا۔

کچھ منٹ ہی گزرے ہوں گے جب میشی کو اپنے سامنے کھڑی لڑکی کے پیچھے انو بیٹھی نظر آئی۔۔۔ انو کو دیکھتے میشا کی آنکھیں حیرت سے کھلیں تھیں۔۔۔ جو بڑی بے خوفی سے بیٹھی گاڑی کے ٹائروں سے ہوا نکال رہی تھی اور ساتھ ساتھ ٹائر میں سوراخ بھی کرتی جارہی تھی۔

آخر ان پانچوں لڑکیوں کا دھیان مشی پہ نا ہوتا تو یقیناً اب تک انو پکڑی جا چکی ہوتی۔

گاڑی میں بیٹھے حماد اور ابتسام دونوں کے لبوں پہ مسکراہٹ تھی۔۔۔ جہاں حماد اسکی حرکت پہ مسکرا رہا تھا وہیں ابتسام کو اچھا لگ رہا تھا کہ وہ اسکی وجہ سے یہ سب کر رہی ہے۔۔۔ پہلی بار تھا جو ابتسام کو اسکی شرارت سے کوئی فرق نہیں پڑھا تھا ورنا وہیں ہمیشہ کہتا تھا کہ انمول کو سوائے دوسروں کو پریشان کرنے کے اور کچھ نہیں آتا۔

ارے مشی تم یہاں کھڑی ہو میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں چلو چلیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔ بائے آپ لوگ انجوائے کریں۔۔۔ انو فٹافٹ اپنا کام مکمل کرتی میشی کا ہاتھ پکڑے ان لڑکیوں کو بائے کہتی وہاں سے نکل گئی۔

ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ انمول فرنٹ سیٹ پہ بیٹھتے ہی زور زور سے ہنسنے لگی۔

ماننا پڑے گا انو تمہارا دماغ بہت چلتا ہے۔۔۔ حماد نے داد دینی نظروں سے دیکھا جب کے ابتسام گاڑی اسٹاٹ کر چکا تھا۔

ہاہاہا ان بےچاریوں کو تو پتہ بھی نہیں ہے کہ انکے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔۔ مشی نے ہنس کے کہا۔

اونہہ یہ تو کچھ بھی نہیں اگر میرا بس چلتا اور مسٹر ڈریگن مجھے نہیں روکتے تو اپنے شوہر پہ گندیں نظریں رکھنے پہ میں انکی آنکھیں پھو،ڑ دیتی۔۔۔ انمول نے دانت پیس کے کہاں جیسے دانتوں کے نیچے ان لڑکیوں کو پیسا ہو۔

اسکی بات سنتے ابتسام نے مسکرا کے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ اور یہ پہلی بار تھا جب ابتسام انمول کی کسی بات پہ مسکرایا تھا۔

۔🌺🌺🌺